تازہ ترین: ۴۸ویں جلسہ سالانہ کینیڈا کا پہلا دن

آج بتاریخ ۱۰؍جولائی ۲۰۲۶ء بروز جمعۃ المبارک جماعت احمدیہ کینیڈا کے ۴۸ویں جلسہ سالانہ کا پہلا روز تھا۔ یہ جلسہ کینیڈا کے سب سے بڑے شہر ٹورانٹو سے مُتَّصِل مسی ساگا (Mississauga)شہر کے معروف انٹرنیشنل سنٹر میں منعقد ہورہا ہے۔ آج دن کا آغاز صبح چار بجے مقامی مساجد میں باجماعت نمازِ تہجد سے ہوا جس کے بعد پونے پانچ بجے نماز فجر ادا کی گئی نیز درس دیےگئے۔
۲۰۰۰ سے زائد کارکنان نے مسلسل وقارِ عمل کرتے ہوئے صرف تین دن کے قلیل وقت میں مردانہ و زنانہ جلسہ گاہ، کھانے کے تین ہال، بازار، بک اسٹور، درجنوں انتظامی دفاتر، بیسیوں بوتھ اور بازار کے ساتھ ساتھ، ایم ٹی اے اسٹوڈیوز، لائیو ٹرانسمیشن، سوشل میڈیا، ٹرانسلیشن بوتھ، نمائشیں اور پارکنگ سمیت درجنوں دوسرے شعبہ جات بروقت تیار کیے ہیں۔ تمام شاملین کے لیے کھانا مشن ہاؤس سے ملحقہ لنگرخانہ سے تیار ہوکر ٹرکوں میں انٹرنیشنل سنٹر آتا ہے۔ جہاں پر اس کو دوبارہ چیک کیا جاتا ہے کہ آیا وہ مقامی قوانین کے معیار پر پورا اترتے ہیں۔

ساڑھے بارہ بجے احباب جماعت کو حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے آج کے ارشاد فرمودہ خطبہ جمعہ کی ریکارڈنگ دکھائی اور سنائی گئی۔ جس کے بعد ڈیڑھ بجے مکرم عبدالرشید انور صاحب مربی سلسلہ نے خطبہ جمعہ دیا اور نمازِ جمعہ وعصر پڑھائی۔ بعدازاں احبابِ جماعت کھانے کے لیے ہال نمبر۳ و ۴ میں تشریف لے گئے۔ مستورات کے لیے الگ ہال میں کھانے کاانتظام کیا گیا ہے۔

سوا تین بجے جلسہ گاہ میں ایک پریس کانفرنس کا انتظام کیا گیا جس میں مقامی، قومی، بین الاقوامی اور مختلف ثقافتی، ٹی وی چینلز، ریڈیو اسٹیشنز اور اخبارات کے نمائندوں نے شرکت کی۔

صحافیوں کے سوالوں کے جواب دینے کے لیے مکرم لال خان ملک صاحب امیر جماعت کینیڈا کے ہمراہ مہمان خصوصی مکرم سید عامر سفیر صاحب چیف ایڈیٹر ریویو آف ریلیجنز، مکرم رضوان میاں صاحب افسرجلسہ سالانہ اور مکرم آصف خان صاحب نیشنل سیکرٹری امورِ خارجیہ موجود تھے۔
مکرم امیرصاحب نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ اس وقت دُنیا میں نفرت اور انتہاء پسندی بڑھ رہی ہے۔ لیکن یاد رہے کہ نفرت کو نفرت سے ختم نہیں کیا جاسکتا بلکہ نفرت کو صرف محبت اور امن سے ہی ختم کیا جاسکتا ہے اور آج جماعت احمدیہ مسلمہ ۲۰۰ سے زائد ممالک میں محبت اور امن کا پیغام پھیلانے کے لیے پوری کوشش کررہی ہے اور آج کا جلسہ بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔

مکرم عامر سفیر صاحب نے کہا کہ آج کے انتہاء پسند دور میں درست اور ایمان دارانہ صحافت کی ضرورت ہمیشہ سے بڑھ کر ہے۔
مکرم افسر صاحب جلسہ سالانہ نے کہا کہ کینیڈا میں پہلے جلسہ سالانہ میں ۵۰۰ احباب شامل ہوئے تھے اور اس جلسہ پر ہم ۲۵۰۰۰ خواتین و حضرات کی توقع کررہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ میں اس جلسہ سالانہ کا انچارج ہوں مگر اس جلسہ کی تمام تر کامیابی کا کریڈٹ ان ۵۰۰۰ رضاکاروں کو جاتا ہے جو اس جلسہ کو کامیاب کرنے کے لیے دن رات انتھک محنت کررہے ہیں۔
بعدازاں اس پینل نے مختلف صحافیوں کی طرف سے پوچھے گئے سوالوں کے جوابات تفصیل سے دیے۔
پریس کانفرنس کے معاً بعد جلسہ سالانہ کینیڈا کا رسمی آغاز شام ساڑھے چار بجے تقریب پرشم کشائی سے ہوا۔ مولانا سہیل مبارک احمد شرما صاحب مشنری انچارج و نائب امیر جماعت کینیڈا نے لوائے احمدیت جبکہ مکرم امیر صاحب کینیڈا نے کینیڈین پرچم لہرایا۔

آج کے پہلے اجلاس کا باقاعدہ آغاز مکرم مشنری انچارج صاحب کی زیر صدارت تلاوتِ قرآن کریم سے ہوا۔ مکرم حافظ منصف اِنعام صاحب نے سورۃ الاحزاب کی آیات ۷۰ تا ۷۴ کی تلاوت کی جس کا انگریزی ترجمہ مکرم طہٰ احمدصاحب نے جبکہ اردو ترجمہ مکرم کامران اشرف چودھری صاحب نے کیا۔ بعدازاں مکرم رامِش احمد صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منظوم کلام
اسلام سے نہ بھاگو، راہِ ہدیٰ یہی ہے
اَے سونے والو جاگو! شمس الضحٰی یہی ہے
کے چند اشعار ترنم سے سنائے جس کا انگریزی ترجمہ مکرم ضرغام ناصر نے پڑھا۔
جماعت کینیڈا کی خوش نصیبی ہے کہ امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ازراہِ شفقت احبابِ جماعت کینیڈا کے لیے اس جلسہ پر ایک خصوصی پیغام ارسال فرمایا ہے۔ مکرم امیر صاحب کینیڈا نے احبابِ جماعت کو یہ بابرکت پیغام بزبان انگریزی پڑھ کر سنایا اور بعدازاں اس کا اردو ترجمہ بھی پیش کیا۔

اس بابرکت پیغام کے بعد مکرم عبدالنور عابد صاحب مربی سلسلہ و پروفیسر جامعہ احمدیہ کینیڈا نے ’’قبولیتِ دُعا: ہستی باری تعالیٰ کے موجود ہونے کی زبردست دلیل‘‘ کے عنوان پر تقریر کی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں رسول اللہﷺ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قبولیتِ دُعا کے کئی ایمان افروز واقعات سنائے۔
بعدازاں مکرم مشنری انچارج صاحب نے اپنی مختصر پریزنٹیشن میں بتایا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا تھا کہ اس دور میں شیطان مختلف پہلوؤں سےقابض ہونے کی کوشش کررہا ہے جس سے بچنے کے لیے مندرجہ ذیل تین دعائیں روزانہ کریں۔
( پہلی دعا ۲۰۰ مرتبہ اور دوسری اور تیسری دعا روزانہ ۱۰۰، ۱۰۰ بار پڑھیں)
سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ، اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
ترجمہ: اللہ ہر عیب سے پاک ہے اور تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں۔ اللہ عظمت والا ہے۔ اے اللہ! حضرت محمد ﷺ اور آپؐ کی آل پر رحمتیں نازل فرما۔
أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ رَبِّي مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ
ترجمہ: میں اللہ، جو میرا رب ہے، سے اپنے تمام گناہوں کی بخشش مانگتا ہوں اور اسی کی طرف توبہ کرتا ہوں۔
رَبِّ كُلُّ شَيْءٍ خَادِمُكَ، رَبِّ فَاحْفَظْنِي وَانْصُرْنِي وَارْحَمْنِي
ترجمہ: اے میرے رب! ہر چیز تیرے تابع ہے۔ اے میرے رب! میری حفاظت فرما، میری مدد فرما اور مجھ پر رحم فرما۔
مکرم مشنری انچارج صاحب نے تمام احبابِ جماعت سے درخواست کی کہ وہ بھی ان کے ساتھ یہ دعائیں دہرائیں، لہذا تمام شاملین جلسہ نے یہ دُعائیں یک زبان دہرائیں۔

اگلی تقریر مکرم اعزاز احمد خان صاحب مربی سلسلہ نے ’’The Holy Prophet MuhammadSA: The Liberator of Mankind‘‘ کے بابرکت موضوع پر انگریزی میں کی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں رسول کریم حضرت محمد ﷺ کی سیرت سے کئی واقعات سنائے۔
آج کی آخری تقریر مکرم مشنری انچارج صاحب نے ’’سچائی: پُر امن معاشرے کی بنیاد‘‘ کے موضوع پر کی۔
اس تقریر کےبعد اعلانات ہوئے اور دُعا کےبعد حاضرین کھانے کے ہال اور مارکیوں میں تشریف لے گئے۔ جہاں بزرگوں اور بچوں کے لیے الگ الگ کھانے کا انتظام کیا گیا تھا۔
آج کی تمام کارروائی کا رواں ترجمہ انگریزی، اردو، فرانسیسی، عربی اور بنگلہ زبانوں میں دستیاب تھا۔ جبکہ ایم ٹی اے کینیڈا نے MTA8 کے ذریعہ جلسہ کی ساری کارروائی براہِ راست نشر کی جو یوٹیوب پر بھی دیکھی جاسکتی تھی۔ سوشل میڈیا کی ٹیمیں بھی سارا دن مصروف رہیں۔
مستورات نے جلسہ کی تمام کارروائی مردانہ جلسہ گاہ سے براہ راست نشر ہونے والی ویڈیو فیڈ کے ذریعہ اپنے ہال میں ملاحظہ کی۔
انٹرنیشنل سنٹر کے وسط میں کھلی جگہ پر شام بھر، لوائے احمدیت لہراتا رہا جس کے ساتھ کینیڈین اور دوسرے کئی ممالک کے جھنڈے بھی دیدہ زیب منظر پیش کرتے رہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک مارکی میں وسیع بک اسٹور قائم کیا گیا ہے جہاں پر احباب کی علمی پیاس بجھانے کے لیے ہر قسم اور ضرورت کی۳۰۰سے زائد جماعتی کُتب دستیاب ہیں۔ بُک اسٹال کے بعد عارضی بازار ہے جہاں پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے احباب نے عارضی اسٹالز لگائے ہوئے ہیں۔ یہ اسٹالز جلسہ کی کارروائی شروع ہوتے ہی بند ہوجاتے ہیں اور کارروائی کے اختتام پر دوبارہ کھل جاتے ہیں۔
شعبہ تبلیغ کے تحت ایک خوبصورت نمائش کا انتظام کیا گیا ہے جس میں قرآن پاک کے تراجم نہایت خوبصورتی سے سجائے گئے ہیں۔ مرکزی جلسہ گاہ کے باہر ایک بازار بھی لگایا گیا تھا جہاں پر خریدو فروخت کے درجنوں اسٹالز نیز مختلف جماعتی شعبوں کے تحت بھی اسٹالز لگائے گئے ہیں۔ آج موسم کافی گرم تھا اور درجہ حرارت ۳۰ ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب رہا۔
جلسہ کا پہلا روز اب اختتام کو پہنچ گیا ہے اور احباب اب اپنی اپنی رہائش گاہوں کی طرف واپس روانہ ہورہے ہیں تاکہ آج رات آرام کرکے کل صبح تازہ دم ہوکر پھر جلسہ میں واپس آسکیں۔ جبکہ سینکڑوں رضاکار ساری رات ڈیوٹی پر رہیں گے تاکہ صفائی، سیکورٹی اور کل کے پروگرام کے لیے مکمل اور بروقت تیاری ہوسکے۔ اس کے علاوہ مشن ہاؤس سے ملحق لنگرخانہ میں بھی کھانے کی تیاری رات بھر جاری رہے گی۔ ان شاء اللہ