تازہ ترین: ۴۸ویں جلسہ سالانہ کینیڈا کا دوسرا دن

آج مورخہ ۱۱؍جولائی۲۰۲۶ء بروز ہفتہ جماعت احمدیہ کینیڈا کے ۴۸ویں جلسہ سالانہ کا دوسرا روز تھا۔ حسبِ معمول دن کا آغاز صبح چار بجے مقامی مساجد اور نماز سینٹرز میں نمازِ تہجد سے ہوا، جس کے بعد پونے پانچ بجے نمازِ فجر ادا کی گئی اور درس کا اہتمام کیا گیا۔
دوسرے روز کے پہلے اور جلسہ سالانہ کے دوسرے اجلاس کا باقاعدہ آغاز، زیرِصدارت مکرم ہادی علی چودھری صاحب نائب امیر جماعت کینیڈا، تلاوتِ قرآن کریم سے ہوا۔ مکرم سید مبشر احمد صاحب نے سورۃ الحجرات کی آیات ۱۲ تا ۱۴ کی تلاوت کی، جس کا انگریزی ترجمہ مکرم عمر عبداللہ چوہدری صاحب نے جبکہ اردو ترجمہ مکرم انیق احمد صاحب مربی سلسلہ نے پیش کیا۔ اس کے بعد مکرم عاقِل بٹ صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاکیزہ منظوم کلام
تقویٰ یہی ہے یارو کہ نخوت کو چھوڑ دو
کبر وغرور و بخل کی عادت کو چھوڑ دو
سے چنیدہ اشعار ترنم سے سنائے جن کا انگریزی ترجمہ مکرم کامران راجپوت صاحب نے پیش کیا۔

اس اجلاس کی پہلی تقریر مکرم زبیر افضل صاحب، ایڈیشنل سیکرٹری تربیت و وقفِ جدید نو مبائعین، نے ’’مصروف زندگی میں پانچ وقت کی نماز: بوجھ یا باعثِ برکت؟‘‘ کے عنوان پر کی۔ انہوں نے ہمارے پیارے آقا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی پاکیزہ سیرت اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے واقعات کی روشنی میں نماز کی اہمیت اور ضرورت واضح کی۔

بعد ازاں مکرم نجیب اللہ ایاز صاحب مربی سلسلہ ’’تجسس اور غیبت: معاشرتی بدامنی کی جڑ‘‘ کے موضوع پر تقریر کی۔ انہوں نے مختلف مثالوں سے واضح کیا کہ غیبت کی برائی صرف انفرادی برائی نہیں ہے بلکہ یہ پورے معاشرہ کی پستی اور تباہی کا باعث بن جاتی ہے۔ نیز آج کے ڈیجیٹل دور میں تجسس اور غیبت کی برائیاں قوموں اور نسلوں کو تباہ کررہی ہیں اور ہمیں ان سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہے۔ جو کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا اللہ تعالیٰ اُس کی پردہ پوشی اس دُنیا میں بھی اور دوسری دُنیا میں بھی کرے گا۔

اس تقریر کے بعد مکرم عبدالسمیع گوندل صاحب مربی سلسلہ نے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کا منظوم کلام
دو گھڑی صبر سے کام لو ساتھیو! آفتِ ظلم و جور ٹل جائے گی
آہِ مومن سے ٹکرا کے طوفان کا، رُخ پلٹ جائے گا، رُت بدل جائے گی
نہایت پُرسوز آواز میں ترنم میں سنایا۔ اس نظم کے دوران جلسہ گاہ بار بار نعروں سے گونجتی رہی۔
بعدازاں مکرم عمیر خان صاحب مربی سلسلہ نے ’’اسلام میں پاکدامنی اور حیا کا تصور‘‘ کے عنوان پر تقریر کی۔ انہوں نے مختلف رپورٹس اور خبروں کی روشنی میں بتایا کہ اس وقت بہت سی شیطانی قوتیں، تنظیمیں، ادارے مختلف طریقوں سے خصوصاً آن لائن، بے حیائی، بے شرمی اور فحاشی پھیلانے کی بھرپور کوششیں کررہی ہیں۔ اپنی حیا اور عِفّت کی حفاظت کے لیے قرآنی تعلیم اور سنتِ رسول اللہﷺ کی پیروی کرنے سے ہی ہم تباہی کے اس گڑھے میں گرنے سے بچ سکتے ہیں۔

اس اجلاس کی آخری تقریر مولانا ہادی علی چودھری صاحب نائب امیر جماعت احمدیہ مسلمہ کینیڈا نے ’’خلافتِ احمدیہ: اسلام کی اخلاقی اور روحانی اقدار کی محافظ‘‘ کے موضوع پر کی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت اسلامی دُنیا کی کوئی حکومت، تنظیم یا شخص، مسلمان قوم کے کردار کو درست کرنے کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ یہ عظیم الشان مقصد صرف اور صرف خلافتِ احمدیہ مسلمہ کے ذریعہ ہی پورا ہوسکتا ہے۔

اس تقریر کے بعد اجلاس میں کھانے اور نماز کے لیے وقفہ ہوگیا۔ اس وقفہ میں مختلف پروفیشنل ایسوسی ایشنز کے اجلاسات بھی منعقد ہوئے۔

تیسرا اجلاس: جلسہ سالانہ کے مقاصد میں سے ایک مقصد یہ ہے کہ ’’جو بھائی اس عرصہ میں اس سرائے فانی سے انتقال کر جائے گا اس جلسہ میں اس کے لیے دعائے مغفرت کی جائے گی۔‘‘ چنانچہ جلسہ سالانہ۲۰۲۵ء سے جلسہ سالانہ۲۰۲۶ء کے دوران وفات پاجانے والے احباب ِجماعت کے نام اسکرین پر دکھائے گئے۔ ۴ بجے نمازِ ظہرو عصر ادا کی گئی جس کے بعد مولانا داؤد احمد حنیف صاحب سابق پرنسپل جامعہ احمدیہ کینیڈا کی زیرِ صدارت جلسہ سالانہ کے تیسرے اجلاس کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ قرآن کریم سے ہوا۔ مکرم Ismail Afolabilصاحب نے سورۃ بنی اسرائیل کی آیات ۳۵ تا ۴۰ کی تلاوت کی، جس کا انگریزی ترجمہ مکرم Ishaq Fonseca صاحب مربی سلسلہ نے جبکہ اردو ترجمہ مکرم نوین انجم صاحب اور فرانسیسی ترجمہ مکرم نبیل احمد مرزا صاحب مربی سلسلہ نے پیش کیا۔

اس کے بعد مکرم مدثر احمد شمیم صاحب نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ کے منظوم کلام
عہدشکنی نہ کرو، اہلِ وفا ہوجاؤ
اہلِ شیطاں نہ بنو، اہلِ خدا ہوجاؤ
سے چند اشعار ترنم سے سنائے جن کا انگریزی ترجمہ مکرم نور چوہدری صاحب نے پیش کیا۔
جلسہ سالانہ کے اس اجلاس میں ہرطبقۂ زندگی سے مہمان بھی تشریف لاتے ہیں۔ ان مہمانوں میں وفاقی و صوبائی وزرا، قومی و صوبائی پارلیمنٹ ممبرز، اپوزیشن لیڈر، کئی شہروں کے میئرز، کونسلرز، مقامی پولیس، صوبائی پولیس OPP، قومی پولیسRCMP کے اعلیٰ افسران سمیت متعدد معززین شامل تھے۔ مکرم آصف خان صاحب سیکرٹری امورِ خارجیہ جماعت کینیڈا نے چنیدہ مہمانوں کا تعارف کروایا اور چند مہمانوں کو مختصر خطاب کرنے کی دعوت دی۔

سب سے پہلے میئر آف مسی ساگا (Mississauga) محترمہ Carolyn Parrish صاحبہ تین کونسلرز کے ہمراہ سٹیج پر تشریف لائیں اور مختصر خطاب کیا۔ یاد رہے کہ یہ جلسہ مسی ساگا شہر میں ہی ہورہا ہے۔

جماعت کینیڈا کا مرکزی مشن ہاؤس اور مسجد بیت السلام شہر ’’وان‘‘ (Vaughan) میں واقع ہے جہاں کے میئر محترم Steven Del Duca صاحب چار کونسلرز کے ہمراہ سٹیج پر تشریف لائے اور بڑے خلوص سے کہا کہ وہ جماعت کی خدمات، خصوصاً ہسپتال کی تعمیر کے منصوبے اور ہیومنٹی فرسٹ کی خدمات کی دِل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔

ٹورانٹو شہر کے شمال میں واقع شہر بریڈفورڈ میں احمدیہ جماعت کینیڈا نے ۲۴۶ ایکڑ کی زمین خریدی ہوئی ہے جہاں پر قبرستان کی تعمیر کا آغاز ہوچکا ہے اور مستقبل میں جلسہ گاہ تعمیر کرنے کا ارادہ ہے۔ ان شاء اللہ۔ یہاں کے میئر محترم James Leduc صاحب نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ انہیں امید ہے کہ یہ جلسہ مستقبل میں ان کے شہر میں منعقد ہوا کرے گا اور وہ اس کے لیے بہت پُرجوش ہیں۔

برمپٹن شہر میں احمدی احباب کی ایک کثیر تعداد رہتی ہے اور مسجد مبارک بھی یہی واقع ہے جہاں کئی سرکاری تقریبات بھی منعقد ہوتی ہیں۔ یہاں کے میئر Patrick Brown پانچ کونسلرز کے ہمراہ سٹیج پر تشریف لائے اور حاضرین سے پُرجوش خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ برمپٹن کے احمدیوں کو جلسہ سالانہ میں شرکت میں آسانی پیدا کرنے کے لیے مسجد مبارک سے انٹرنیشنل سنٹر تک برمپٹن پبلک ٹرانسپورٹ کی بسیں چلائی جارہی ہیں۔

اس موقع پر مکرم سیکرٹری صاحب نے مزید کئی مہمانوں کا تعارف کروایا نیز ویڈیو پیغامات سنائے گئے،جس کے بعد مکرم ڈاکٹر توصیف خان صاحب، نیشنل سیکرٹری تعلیم، نے’’قرآنِ مجید میں موجود سائنسی حقائق‘‘ کے موضوع پر تقیر کی اور درجنوں مثالوں سے ان سائنسی ایجادات اور دریافتوں کا ذکر کیا جن کے بارہ میں قرآن کریم نے چودہ سو سال پہلے ہی خبر دے دی تھی۔

اس تقریر کے بعد سیکرٹری صاحب امورِ خارجیہ نے مزید چند مہمانوں کا تعارف کروایا اور انہیں خطاب کی دعوت دی۔ Treasury Board کے صدر محترم شفقت علی نے کئی دوسرے پارلیمنٹ ممبرز کے ہمراہ خطاب کیا اور جماعت احمدیہ کی خدمات کا بھرپور اعتراف کیا۔ ان کے ہمراہ تشریف لانے والے کینیڈین پارلیمنٹ کے ممبر محترم Yvan Baker صاحب جو Parliamentary Friendship Association of The Ahmadiyya Muslim Jamaat کے Co-Chair بھی ہیں، نے حاضرین سے خطاب کیا۔ وہ وزیراعظم کینیڈا محترم Mark Carney صاحب کا جماعت احمدیہ کینیڈا کے لیےتحریری پیغام لائے تھے جو انہوں نے صدرِ اجلاس مولانا داؤد احمد حنیف صاحب سابق پرنسپل جامعہ احمدیہ کینیڈا کو پیش کیا۔

اس کے بعد مزید چند ویڈیو پیغامات پیش کیے گئے۔ علاوہ ازیں مزید چند پارلیمنٹ ممبرز سٹیج پر تشریف لائے اور حاضرین سے خطاب کیا۔ بعد ازاں نیشنل ڈیموکریٹک اونٹاریو کی سربراہ اور صوبائی اپوزیشن لیڈر محترمہ Marit Stiles صاحبہ نے بھی حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے جماعتِ احمدیہ کی خدمات کا اعتراف کیا۔ Town of Halton Hills کی میئر محترمہ Ann Lawlor صاحبہ نے بھی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ جب وہ میئر منتخب ہوئیں تو احمدیہ مسلم جماعت کے ممبران ان کے پاس آئے اور ان سے پوچھا کہ احمدیہ جماعت شہر کے لوگوں کی کیا خدمت کرسکتی ہے؟ میئر صاحبہ نے کہا کہ یہ بات اُن کے لیے حقیقتاً خوشگوار حیرت کا باعث تھی کہ میئر سے کسی چیز کا مطالبہ کرنے کی بجائے اپنی خدمات پیش کی جائیں۔ آخر میں ’’Y‘‘ میڈیا کے سربراہ محترم Yudhvir Jaswal صاحب نے بتایا کہ وہ حال ہی میں امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے ملاقات کی سعادت حاصل کرنے کے لیے برطانیہ گئے تھے۔ انہوں نے حضورِ انور سے اپنی ملاقات کا انتہائی مثبت اور خوشگوار تجربہ بیان کیا۔
مہمانوں کی ان تقاریر کے بعد مکرم فرخ رحمان طاہر صاحب مربی سلسلہ نے ’’خدمت دین کو اک فضلِ الٰہی جانو‘‘ کے عنوان پر تقریر کی۔ اس کے بعد ڈاکٹر موعود بن طاہر صاحب، صدر احمدیہ مسلم لائرز ایسوسی ایشن آف کینیڈا، نے قرآنی ارشاد وَاَوۡفُوۡا بِالۡعَہۡدِ ۚ اِنَّ الۡعَہۡدَ کَانَ مَسۡـُٔوۡلًا(بنی اسرائیل: ۳۵) یعنی اپنے عہد کو پورا کرو۔ کیونکہ ہر عہد کی نسبت یقیناً ایک نہ ایک دن جواب طلبی ہوگی، کے حوالہ سے تقریر کی اور قرآنی تعلیم اور سنتِ نبویﷺ کی روشنی میں اس مضمون کو بیان کیا۔

اس کے بعد تیسرے اجلاس کی کارروائی اپنے اختتام کو پہنچی۔ احبابِ جماعت ہال نمبر ۳ اور ۴ میں کھانا کھانے کے لیے تشریف لے گئے۔
اس جلسہ پر ریویو آف ریلیجنز نے شعبہ تبلیغ کینیڈا کے تعاون سے ’’Makkah: Journey to the Heart of Islam‘‘ کے موضوع پر ایک نمائش کا اہتمام کیا ہے جس میں قدِآدم پوسٹرز کے ذریعہ مکہ کی تاریخ، بُودوباش، اسلام کی آمد اور اس کے مختلف ادوار دکھائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ قرآنِ کریم کے تاریخی نسخے، مختلف خوشبوئیں نیز بیش قیمت اشیاء، مشاہدہ کے لئے رکھی گئی ہیں۔ یہ نمائش نہ صرف غیرمسلموں بلکہ مسلمانوں خصوصاً نوجوانوں کے نہایت دلچسپی کا باعث ہے۔
آج عمومی طور پر موسم گرم تھا تاہم دوپہر کے وقفہ میں ہلکے ہلکے بادل سورج کو ڈھانپتے رہے جس سے تپش میں کچھ کمی ہوگئی۔ بازار میں خوب گہماگہمی تھی۔
اجلاسِ مستورات
(رپورٹ: فائزہ ایوب )
ہفتہ کے روز بعد دوپہر مستورات کے لیے الگ اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں بفضل خدا تعالیٰ ۹۰۰۰سے زائد حاضری تھی۔ نمازِ ظہر و عصر کے بعد یہ اجلاس ٹھیک ۴:۲۰ پر تلاوتِ قرآن کریم سے شروع ہوا جو مکرمہ سعدیہ انجم صاحبہ نے پیش کی جس کے بعد مکرمہ عائشہ احمد صاحبہ نے اردو جبکہ مکرمہ مناہل احمد صاحبہ نے انگریزی ترجمہ پیش کیا۔ بعدازاں مکرمہ خولہ منصور رانجھا صاحبہ نے کلام حضرت اقدس مسیح موعودؑ ’’محاسن قرآن کریم‘‘ میں سے چند اشعار پیش کیے۔ جس کے بعد تقریبِ تقسیم انعامات منعقد ہوئی جس میں ۶۰ لجنہ ممبرات کو تعلیمی ایوارڈز دیے گئے۔
مزید برآں، عائشہ اکیڈمی و گرلز حفظ القرآن اسکول کینیڈا کی مندرجہ ذیل دو طالبات کو بھی ایوارڈ دیا گیا جنھوں نے اس سال قرآنِ کریم مکمل حفظ کرنے کی سعادت پائی:
1۔حافظہ عائزہ عرفان صاحبہ (والدین: مکرم عرفان سلام صاحب و محترمہ عائشہ عرفان صاحبہ)
2۔ حافظہ صلا چوہدری صاحبہ (والدین: مکرم عون احمد گورائیہ صاحب و محترمہ ثمینہ ناز صاحبہ)
اللہ تعالیٰ دونوں حافظات اور ان کے والدین کے لیے یہ اعزاز مبارک فرمائے اور انہیں قرآن کریم کی تعلیمات پر ہمیشہ عمل کرنے والا اور اس تعلیم کو دوسروں تک پہنچانے والا بنائے۔ آمین۔
اس موقع پر محترمہ دُرِّرحمٰن صاحبہ کو بھی اعزاز سے نوازا گیا۔ انہوں نے تین سالہ مبشرہ ڈپلومہ برائے Islamic Theology and Comprehensive Studies میں ۸۶ فیصد نمبروں کے ساتھ مکمل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں یہ اعزاز مبارک فرمائے۔ آمین۔
تقریبِ تقسیم انعامات کے بعد محترمہ دانیہ یعقوب صاحبہ، نیشنل صدر احمدیہ مسلم ویمن اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن، نے”Why Islam Ahmadiyyat?” کے موضوع پر تقریر کی۔ بعد ازاں محترمہ امۃ القیوم اعجاز صاحبہ، لوکل صدر احمدیہ ابوڈ آف پیس، نے اردو زبان میں ’’روحانی ترقی کے ذرائع‘‘ کے عنوان پر تقریر کی۔ اس تقریر کے بعد مکرمہ امان اللہ البراقی صاحبہ نے قصیدہ یا عین فیض اللہ والعرفان ترنم سے سنایا۔
بعدازاں Kayla Andersen Read صاحبہ نے ’’اسلام احمدیت کی قبولیت تک میرا روحانی سفر‘‘ کے عنوان سے اپنے روحانی تجربات لجنہ اور ناصرات کو سنائے۔
اس کے بعد محترمہ امتہ السلام ملک صاحبہ نیشنل معاونہ صدر، انچارج وصایا نے ’’صحابیاتؓ کے نمونہ پر چلنے کی کوشش کرو‘‘ کے موضوع پر تقریر پیش کی جس کے بعد محترمہ بارعہ محمود صاحبہ نے درثمین کی نظم ’’بشیر احمد، شریف احمد اور مبارکہ کی آمین“ میں سے چند اشعار ترنم سے پڑھ کر سنائے۔
آج کی آخری تقریر محترمہ نادیہ محمود صاحبہ نے ’’لجنہ اماء اللہ: خلافت کی سفیر‘‘ کے عنوان پر پیش کی جس میں انہوں نے ۲۰۲۵ء میں ۱۰۷ لجنہ اسٹوڈنٹس کی حضور انور سے ہونے والی بابرکت ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے اور حضور انور کی بیش قیمت ہدایات کا ذکر کرتے ہوئے اس بات کو واضح کیا کہ کس طرح لجنہ ممبرات اپنا عملی نمونہ اور خلافت کی کامل اطاعت دکھاتے ہوئے خلافت کی سفیر بن سکتی ہیں۔
بعد ازاں صدر صاحبہ نے اجتماعی دعا کروائی جس کے بعد آج کا مستورات کا اجلاس ۶:۵۰ پر اختتام پذیر ہوگیا اور مردانہ جلسہ گاہ کی کارروائی بذریعہ ویڈیو لنک دیکھی اور سنی گئی۔