کلام امام الزمان علیہ الصلاۃ والسلام

غیب پر ایمان لانا مومن کی ابتدائی حالت کا اظہار ہے

یادرکھو کہ متّقی کی صفات میں سے پہلی صفت یہ بیان کی یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡغَیۡبِ یعنی غیب پر ایمان لاتے ہیں۔یہ مومن کی ایک ابتدائی حالت کا اظہار ہے کہ جن چیزوں کو اس نے نہیں دیکھا ان کو مان لیا ہے۔غیب اللہ تعالیٰ کا نام ہے اور اس غیب میں بہشت، دوزخ، حشر اجساد اور وہ تمام امور جو ابھی تک پردہ غیب میں ہیں شامل ہیں۔اب ابتدائی حالت میں تو مومن ان پر ایمان لاتا ہے لیکن ہدایت یہ ہے کہ اس حالت پر اُسے ایک انعام عطا ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کا علم غیب سے انتقال کر کے شہود کی طرف آجاتا ہے اور اس پر پھر ایسا زمانہ آ جاتا ہے کہ جن باتوں پر وہ پہلے غائب کے طور پر ایمان لاتا تھا وہ ان کا عارف ہو جاتا ہے اور وہ امور جو ابھی تک مخفی تھے اس کے سامنے آ جاتے ہیں اور حالتِ شہود میں انہیں دیکھتا ہے پھر وہ خدا کو غیب نہیں مانتا بلکہ اسے دیکھتا ہے اور اس کی تجلّی سامنے رہتی ہے غرض اس غیب کے بعد شہود کا درجہ اسے عطا کیا جاتا ہے جیسے ایمان کے بعد عرفان کا مرتبہ ملتا ہے۔وہ خدا تعالیٰ کو اسی عالم میں دیکھ لیتا ہے اور اگر اس کو یہ مرتبہ عطا نہ ہوتا تو پھر يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ کے مصداق کو کوئی ہدایت اور انعام عطا نہ ہوتا۔اس کے لئے قرآن شریف گویا موجب ہدایت نہ ہوتا۔مگر ایسا نہیں ہوتا اور اس کے لئے ہدایت یہی ہے کہ اس کے ایمان کو حالتِ غیب سے منتقل کر کے حالتِ شہود میں لے آتا ہے اور اس پر دلیل یہ ہے مَنْ كَانَ فِي هَذِہٖٓ اَعْمٰى فَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى (بنی اسرائیل: ۷۳) یعنی جو اس دنیا میں اندھا ہے وہ دوسرے عالم میں بھی اندھا اُٹھایا جاوے گا۔اس نابینائی سے یہی مراد ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کی تجلّی اور ان امور کو جو حالتِ غیب میں ہیں اسی عالم میں مشاہدہ نہ کرے اور یہ نا بینائی کا کچھ حصّہ غیب والے میں پایا جاتا ہے لیکن ہُدًی لِّلۡمُتَّقِیۡنَ کے موافق جو شخص ہدایت پالیتا ہے اس کی وہ نا بینائی دور ہو جاتی ہے اور وہ اس حالت سے ترقی کر جاتا ہے اور وہ ترقی اس کلام کے ذریعہ سے یہ ہے کہ ایمان بالغیب کے درجہ سے شہود کے درجہ پر پہنچ جاوے گا اور اس کے لئے یہی ہدایت ہے۔

(تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد۲ صفحہ ۱۳، ۱۴)

مزید پڑھیں: سائل کو کسی حال میں بھی نہ جھڑکو

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button