آسٹریلیا (رپورٹس)جلسہ سالانہ

تازہ ترین: جماعت احمدیہ آسٹریلیا کے ۳۸ویں جلسہ سالانہ کا دوسرا دن

(ثاقب محمود عاطف۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل آسٹریلیا)

غیر از جماعت مہمانوں کے لیے خصوصی اجلاس۔ ممبرز آف پارلیمنٹ کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے مہمانوں کی شرکت

وزیر اعظم آسٹریلیا عزت مآب انتھونی البنیزی ( The Hon. Anthony Albanese) اور اٹارنی جنرل آسٹریلیا عزت مآب مشعل رولینڈ (The Hon. Michelle Rowland) کے تہنیتی پیغامات

دوسرے دن کی حاضری 3190 رہی۔

(۳؍اکتوبر ۲۰۲۶۔ مسجد بیت الھدی سڈنی آسٹریلیا، نمائندہ الفضل انٹر نیشنل) الحمد للہ آج جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ آسٹریلیا کے دوسرے دن کا آغاز باجماعت نماز تہجد سے ہوا۔

دوسرا اجلاس: آج صبح ساڑھے دس بجے جلسہ سالانہ کے دوسرے اجلاس کا آغاز ہوا۔ مکرم محمد خلیل شیخ صاحب، نائب امیر دوئم نے اس اجلاس کی صدارت کی۔ مکرم آدرش محمود صاحب نے قرآن کریم کی سورہ الاحزاب کی آیات 42 تا48 کی تلاوت کی اور مکرم نور الدین عباس صاحب نے اسکا انگریزی ترجمہ پیش کیا۔ مکرم آصف خان صاحب نے حضرت مسیح موعود کے پاکیزہ منظوم کلام پیش کیا اور اسکا انگریزی ترجمہ مکرم محمد فیضان صاحب نے پڑھا۔ آج کے اجلاس کی پہلی تقریر ’’تبلیغ کے موثر طریق اور ہماری ذمہ داریاں‘‘ کے موضوع پر مکرم احمد ناصرالدین زکریا صاحب نے انگریزی زبان میں کی۔ ’’نظام وصیت کے ذریعہ نظام نوکا قیام‘‘ کے موضوع پر مکرم عطاءالرحمن مقبول صاحب نے انگریزی میں کی۔ اس کے بعد مکرم عصمت اللہ صاحب نے حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے کلام ’’بہار آئی ہے دل وقف یار کر دیکھو‘‘ پیش کیا۔ اس کے بعد مکرم ملک عمران احمد صاحب نے ’’خدمت دین کو اک فضل الٰہی جانو‘‘ کے موضوع پر اردو میں تقریر کی۔ اس اجلاس کی آخری تقریر ’’ایک مثالی اسلامی عائلی زندگی‘‘ کے موضوع پر ڈاکٹر عامر محمود صاحب نے انگریزی میں تقریر کی۔ اعلانات کے بعد نماز ظہر و عصر ادا کی گئیں اور ظہرانہ کے لیے وقفہ ہوا۔

تیسرا اجلاس: سہ پہر تین بجے جلسہ سالانہ کا تیسرا اجلاس مکرم بشیر خان صاحب، نیشنل صدر جماعت نیوزی لینڈ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ مکرم حافظ وقاص نعیم باجوہ صاحب نے تلاوت قرآن کریم جبکہ اس کا انگریزی ترجمہ محمد حامی کلیم صاحب نے پیش کیا۔ مکرم رضی الرحمن صاحب نے حضرت مصلح موعودؓ کا منظوم کلام بڑھتی رہے خدا کی محبت خدا کرے پیش کی اور اس کا انگریزی ترجمہ ایمان نور صاحب نے پیش کیا۔ اس اجلاس میں دو تقاریر ہوئیں۔ مکرم امتیاز احمد نوید صاحب مربی سلسلہ نے اتحاد، اخوت اور باہمی احترام کے موضوع پر اردو میں تقریر کی اور مکرم محمد مصلح دین چانڈیو صاحب نے انگریزی میں موجودہ دور میں بدلتی اخلاقی اقدار اور مشکلات کے موضوع پر تقریر کی۔ اعلانات اور اس کے بعد گیسٹ سیشن کیلئے تیاری کی گئی۔ شام سوا جار بجے ایم ٹی اے آسٹریلیا نے بک اسٹال کی لائیو کوریج کی۔ اس دوران احباب جماعت کی ایک بڑی تعداد نے کتب خریديں۔

چوتھا اجلاس: شام پانچ بجے جلسہ سالانہ کا چوتھا اجلاس مکرم امیر صاحب کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ یہ اجلاس خاص طور پر ہمارے غیر از جماعت مہمانوں کے لیے رکھا گیا تھا۔ اس اجلاس میں ممبرز آف پارلیمنٹ، مئیرز اور کونسلرز کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعاق رکھنے والے مہمانوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو مکرم محمد عطائے ربی ہادی صاحب مربی سلسہ نے کی اور اس کا انگریزی ترجمہ مکرم نکولس جیفری صاحب نے کیا۔ اس کے بعد مکرم امیر صاحب نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا اوردنیا بھر میں منعقد ہونے والے جلسہ سالانہ کی تاریخ کے بارہ میں مہمانوں کو بتایا۔

اسکے بعد مکرم عصمت اللہ صاحب نے حضرت مسیح موعود کے منظوم پاکیزہ کلام ’’حمد وثنا اسی کو جو ذات جاودانی‘‘ کے کچھ اشعار پڑھے اور اسکا رواں انگریزی ترجمہ مکرم کامران مبشر احمد صاحب مربی سلسلہ نے کیا۔ اس کے بعد مکرم صوفی عبدالحکیم صاحب نے امن اور اتحاد: وقت کی ضرورت کے موضوع پر انگریزی میں تقریر کی۔ مکرم رمضان شریف صاحب نے وزیر اعظم آسٹریلیا جناب انتھونی البینیزی اور اٹارنی جنرل آستٹریلیا کے پیغامات پڑھ کر سنائے۔

وزیر اعظم آسٹریلیا کا پیغام

یہ میرے لیے باعثِ مسرت ہے کہ میں جَلسہ سالانہ آسٹریلیا ۲۰۲۶ء میں شرکت کرنے والے احمدیہ مسلم کمیونٹی کے تمام افراد کو اپنی دلی نیک تمنائیں پیش کرتا ہوں۔ آپ کا ’’محبت سب کے لیے، نفرت کسی سے نہیں‘‘ کا پُرخلوص پیغام اسلام کی جانب سے رحم، ہمدردی اور برداشت کی تعلیمات کو نہایت خوبصورتی سے اجاگر کرتا ہے۔ یہ وہ اقدار ہیں جو ہمیشہ ہماری رہنمائی کرتی ہیں اور ہمارے مشترکہ مستقبل کی راہ روشن کرتی ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ یہی اقدار آسٹریلوی معاشرے کے بنیادی مزاج میں بھی گہری جڑیں رکھتی ہیں۔ یہی اقدار ہمیں ایک دوسرے کا خیال رکھنے اور ’’فیئر گو‘‘ یعنی سب کے ساتھ منصفانہ اور مساوی برتاؤ کے عظیم جذبے کے تحت ایک دوسرے سے جڑے رہنے کی ترغیب دیتی ہیں۔

آسٹریلیا بھر سے مسلمانوں کا یہ اجتماع ہمارے معاشرے میں ایمان کے پائیدار کردار کی عکاسی کرتا ہے، اور ساتھ ہی اس قیمتی تعلق اور برادری کے جذبے کو بھی اجاگر کرتا ہے جو مشترکہ عقیدے اور ورثے سے جنم لیتا ہے۔ یہ اجتماع آپ کی کمیونٹی کے آسٹریلیا کی قومی داستان میں قابلِ قدر مقام کا جشن بھی ہے، اور اس بات کا اعتراف بھی کہ آپ نے اپنی محنت، بلند عزائم اور وطن سے محبت کے ذریعے آسٹریلیا میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔

دعا ہے کہ سیکھنے اور غوروفکر کے یہ تین دن آپ کے ایمان کو مزید مضبوط کریں اور آپ کو اس کی عظیم ترین خوبیوں اور حکمت کے تحفے کو وسیع تر معاشرے تک پہنچانے کی تحریک دیں۔

آپ سب کو ایک بابرکت اور خوشگوار جَلسہ سالانہ کی دلی مبارک باد۔

انتونی البینیزی

وزیر اعظم آسٹریلیا

اسکے بعد Prue Carr نائب وزیر اعلی نیو ساوتھ ویلز نے تقریر کی۔ اسکے بعد ممبرز پارلیمنٹ وارن کربیWarren Kirby، اسٹیفن بالی Stephen Bali، سابق ممبر پارلیمنٹ ور امیگریشن منسٹر فلپ راڈکPhilip Ruddock اور دیگر مہمانوں نے تقاریر کیں اور بنی نوع انسان اور آسٹریلیا کے لئے جماعت کی خدمات کو سراہا۔ مکرم امیر صاحب نے سب مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور دعا کروائی۔ اس کے بعد سب مہمانوں کی خدمت میں عشائیہ پیش کیا گیا اور نماز مغرب اور عشا ادا کی گئیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button