بچوں کا الفضل

گلدستہ معلومات

حکایت
اچھا کام کرنے میں بھی خدا تعالیٰ کی رضامدّنظر رہے

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ’’انسان کو اپنے تمام کاموں میں ہمیشہ یہ امر ملحوظ رکھنا چاہیے کہ اچھے سے اچھا کام کرنے میں بھی خدا تعالیٰ کی رضا کو مدّنظر رکھے۔ورنہ وہی نیکی اس کے لئے ہلاکت اور عذاب کا باعث بن جائےگی۔بے شک حج ایک بڑی نیکی ہے لیکن اگر کوئی شخص محض اس لئے حج پر جاتا ہے کہ اس کا لوگوں میں اعزاز بڑھ جائے یا رسم و رواج کے ماتحت جاتا ہے یا اس لئے جاتا ہے کہ لوگ اُسے حاجی کہیں تو وہ اپنا پہلا ایمان بھی مٹا کر آئےگا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ سردی کا موسم تھا۔کسی ریل کے اسٹیشن پر کوئی اندھی بڑھیا گاڑی کے انتظار میں بیٹھی تھی۔اس کے پاس کوئی کپڑا بھی نہ تھا سوائے ایک چادر کے جو اُس نے پاس رکھی ہوئی تھی۔تاکہ جب گاڑی میں بیٹھنے کے بعد تیز ہوا کی وجہ سے سردی محسوس ہو تو اوڑھ لے۔اُس نے وہ چادر پاس رکھی ہوئی تھی اور تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد وہ اُسے ٹٹول لیتی تھی۔ایک شخص اس کے پاس سے گذرا اور اُس نے سوچا کہ یہ تو اندھی ہے اور پھر اندھیرا بھی ہو چکا ہے۔اس لئے اگر میں یہ چادر اٹھا لوں تو نہ اس کو پتہ لگے گا اور نہ پا س کے لوگوں کو پتہ لگے گا۔اس پر اُس نے چپکے سے وہ چادر کھسکا لی۔بڑھیا چونکہ بار بار اُسے ٹٹولتی تھی اُسے پتہ لگ گیا کہ کسی نے چادر اٹھالی ہے۔اُس نے جھٹ آوازیں دینی شروع کر دیں کہ اے بھائی حاجی میری چدر دے دو۔میں اندھی غریب ہوں اور میرے پاس اور کوئی کپڑا نہیں۔وہ شخص فوراً واپس مڑا اور اُس نے چادر تو آہستہ سے اُس کے ہاتھ میں پکڑا دی مگر کہنے لگا۔مائی یہ تو بتائو تمہیں کس طرح پتہ لگا کہ میں حاجی ہوں۔وہ بڑھیا کہنے لگی بیٹا ! ایسے کام سوائے حاجیوں کے اور کوئی نہیں کر سکتا۔میں اندھی کمزور اور غریب ہوں، سردی کا موسم ہے اور میں بالکل اکیلی ہوں۔ایسی حالت میں میرا ایک ہی کپڑا چُرانے کی کوئی عادی چوربھی جرأ ت نہیں کر سکتا۔یہ ایسا کا م ہے جسے حاجی ہی کر سکتا ہے۔ ‘‘

(تفسیر کبیرجلد 8 صفحہ 159 جدید ایڈیشن)

٭…٭…٭

سوال جواب از ملاقات

بعض مسلمان ہم سے کیوں نفرت کرتے ہیں؟

٭… جامعہ احمدیہ کینیڈا کے ایک طالب علم نے سوال کیا کہ بعض مسلمان ہم سے کیوں نفرت کرتے ہیں؟

حضور انور نے فرمایا کہ تم ان سے محبت کرو، اس لئے کہ وہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتے ہیں۔ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ پڑھتے ہیں۔ اس لئے

ہمیں ان سے نفرت تو کوئی نہیں ۔ ہاں ان کے غلط کاموں سے نفرت ہے۔ کسی شخص سے نہیں۔

اگر وہ ایسا کرتے ہیں۔ تو انہیں کہو، تمہارا کام تمہارا عمل تمہارے ساتھ ہے لیکن ہم تو تمہارے ساتھ اس لئے نفرت نہیں کریں گے کہ تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھنے والے ہو۔ جوہمیں بہت پیارے ہیں۔

٭…٭…٭

قرآن کریم کا سب سے پرانا نسخہ

٭… ایک طالب علم نے سوال کیا۔ قرآن کریم کا سب سے پرانا نسخہ کہاں ہے؟

حضور انور نے فرمایا کہ یہ تو مجھے پتہ نہیں کہ کدھر ہے۔ لیکن بعض پرانے نسخے ترکی کے میوزیم میں موجود ہیں۔ ابھی انہیں برمنگھم میں ایک نسخہ ملا ہے۔ قرآن کریم کے بعض لکھے ہوئے حصے انہیں ملے ۔ جن پر جب تحقیق کی گئی تو پتہ لگا کہ وہ ساتویں صدی کے ہیں۔ یہ تو مختلف جگہوں پر ہیں۔

٭…٭…٭

حضور انور کی وقفِ نو سے امید

٭… ایک طالب علم نے سوال کیا۔ آپ کو کینیڈا کے وقفِ نو سے کیا اُمید ہے؟

اس پر حضور انور نے فرما یا کہ جب تمہارے پیدا ہونے سے پہلے تمہاری ماں نے تمہیں وقف کیا تھا کس بات پر کیا تھا۔ اسی بات پر کیا تھا جو حضرت مریمؑ کی والدہ نے کہا تھا کہ میں اللہ تعالیٰ کی خاطر بیٹی دیتی ہوں یا جو بھی بچہ پیدا ہو۔ امید یہی تھی کہ وہ دین کی خدمت کرنے والے ہوں۔ اللہ سے تعلق ہو اور دین کی خدمت کرنے والے ہوں۔ دنیا کی طرف دیکھنے والے نہ ہوں۔

اس لئے وقفِ نَو کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ انہوں نے اپنی زندگی دین کے لئے وقف کی ہے۔

اس کے لئے ضرورت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرو۔ دین سیکھو، دین کیا ہے۔ قرآن کریم اور اس کا ترجمہ پڑھو۔ صرف اس کو حفظ کرنا کافی نہیں۔ اس کا ترجمہ تشریح تفسیر بھی آنی چاہئے۔ پھر اس کو اپنی زندگی کا حصہ بناؤ پھر اس کے مطابق تبلیغ کرو۔

٭…٭…٭

خواب کی اہمیت

٭… ایک طالب علم نے سوال کیا۔ جب کوئی انسان خواب دیکھتا ہے۔ تو اس کو کتنی اہمیت دینی چاہئے؟

اس پر حضور انور نے فرمایا کہ بعضوں کو خواب دیکھنے کا شوق ہوتا ہے۔ ایک لطیفہ مشہور ہے کہ کوئی کسی کو اپنی خواب سنا رہا تھا تو وہ عورت کہتی کہ ٹھہرو میں ایک گھنٹہ کے بعد تمہیں ملوں گی۔ ایک گھنٹہ بعد آکر اس نے کہا کہ میں نے بھی یہ خواب دیکھ لی ہے۔ نفسیات دان کہتے ہیں کہ ہر ایک انسان رات میں تین چار خواب دیکھتا ہے۔ بعضوں کو یاد رہ جاتی ہے اور بعضوں کو نہیں یاد رہتی۔ لیکن بعض ایسی خوابیں ہوتی ہیں جن میں ایک پیغام ہوتا ہے۔ ایک شوکت ہوتی ہے۔ وہ یاد بھی رہ جاتی ہے اور اس کا دل پر اثر بھی ہوتا ہے۔ بعض لوگ خوابیں لکھتے ہیں کہ درود پڑھتے ہوئے دیکھا یا قرآ ن شریف پڑھتے سنا۔ جب جاگ آتی ہے تو وہی پڑھ رہے ہوتے ہیں۔

بعض خوابیں تعبیر طلب ہوتی ہیں۔ ہر ایک کوان کی تعبیر بھی نہیں آتی ۔ ہر ایک تعبیر بھی نہیں کر سکتا۔

اس لئے حضرت مصلح موعودؓ نے ایک اچھا نسخہ بتایا ہے کہ بے شک تمہارے پر خواب کا اچھا اثر ہے یا برا اگر یاد رہتی ہے تو صدقہ دے دیا کرو۔ زیادہ تردّد کرنے کی ضرورت نہیں۔

اگر سمجھتے ہو کہ ایسی خواب ہے جو جماعتی رنگ کی ہے، اس میں کوئی پیغام ہے تو مجھے لکھ دیا کرو۔

٭…٭…٭

پسندیدہ شوق

٭… ایک طالب علم نے سوال کیا کہ آپ کا پسندیدہ شوق کیا ہے؟

اس پر حضور انور نے فرمایا کہ کیا بتاؤں کیا شوق ہے۔ اب تو کوئی شوق رہا ہی نہیں۔ اب تو تم لوگوں سے مل کر ہی سارے شوق پورے ہو جاتے ہیں۔ لیکن اگر کبھی بھی مجھے موقعہ ملے۔ اگر چند گھنٹے فارغ ہو جاؤں توشکار کا شوق ہے۔ شوٹنگ کر لیتا ہوں۔

(الفضل انٹرنیشنل 06؍جنوری 2017ء)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button