الفضل ڈائسجٹ
اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔
سیرت النبی ﷺ (صداقت و امانت)
اللہ تعالیٰ نے آنحضورﷺ کو پہلے تمام انبیاء کا مصدّق قراردیا ہے۔ یہ بلند مقام اُسی کو مل سکتا ہے جو خود بھی صداقت کے بلند ترین مقام پر فائز ہو۔ آپؐ کی صداقت و امانت کے حوالے سے ایک مضمون ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ کے ’’سیرت خیرالوریٰؐ نمبر‘‘ برائے نومبرو دسمبر ۲۰۱۲ء میں مکرم حافظ محمود احمد طاہر صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
عام زندگی میں تو اکثر لوگ سچ ہی بولتے ہیں مگر اصل امتحان تب ہوتا ہے جب سچ بولنے سے مشکلات پیدا ہونے کا خدشہ ہو۔ آنحضورﷺ کی زمانۂ نبوت کی زندگی ایسے ہی امتحانات سے عبارت ہے۔ جبکہ آپؐ کی بعثت سے پہلے کی زندگی کو بھی اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے صادق القول ہونے کے ثبوت میں پیش فرمایا ہے۔ (یونس:۱۷)۔ چنانچہ ہرقل شاہ روم نے بھی جب عرب سے آنے والے قافلے میں شامل ابوسفیان کو دربار میں طلب کیا اور آنحضورﷺ کے بارے میں تحقیق کی غرض سے یہ سوال پوچھا کہ کیا اس مدعیٔ نبوت پر اس کی پہلی زندگی میں کبھی جھوٹ بولنے کا الزام لگا ہے؟ ابوسفیان نے جواب دیا: بالکل نہیں۔ ہرقلؔ نے کہا کہ میرا بھی یہی خیال تھا کیونکہ یہ ممکن نہیں ہوسکتا کہ اُس نے لوگوں کے ساتھ تو کبھی جھوٹ نہ بولا ہو اور خدا پر جھوٹ بولنے لگ جائے۔
اصل فضیلت وہی ہے جس کی گواہی دشمن بھی دے۔ چنانچہ ابوجہل بھی کہا کرتا تھا کہ اے محمد! ہم تجھے جھوٹا نہیں کہتے بلکہ تُو جو تعلیم لایا ہے اُس کی تکذیب کرتے ہیں۔
جب آنحضورﷺ کو اپنے رشتہ داروں کو اسلام کا پیغام پہنچانے کا حکم ہوا تو آپؐ نے مکّہ سے باہر نکل کر صفا پہاڑ پر چڑھ کر لوگوں کو بلایا۔ جب سب آپؐ کے پاس جمع ہوگئے تو آپؐ نے فرمایا: بتاؤ کہ اگر مَیں تمہیں کہوں کہ دشمن اس پہاڑ کی اوٹ سے نکلنے والا ہے تو کیا تم میری بات سچ مانوگے؟ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ آپؐ کو سچ بولتے ہی دیکھا ہے۔ لوگوں کی تصدیق کے بعد آپؐ نے انہیں پیغام حق پہنچایا۔
حدیث مبارکہ ہے: سچ اختیار کرو۔ سچ نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور نیکی جنت میں لے جاتی ہے۔ انسان سچ بولتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے ہاں صدیق لکھا جاتا ہے۔ جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ فسق و فجور کا باعث بنتا ہے جو آگ کی طرف لے جاتا ہے اور جھوٹ کا عادی اللہ کے ہاں کذاب لکھا جاتا ہے۔
ایک عورت نے ایک بار آنحضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر پوچھا کہ میری ایک سوتن ہے، کیا یہ جھوٹ ہوگا اگر مَیں اُس کو جلانے کے لیے بتاؤں کہ مجھے شوہر نے فلاں فلاں چیز دی ہے؟ فرمایا: جو نہیں دیا گیا تو اُس کا دکھاوا کرنے والا جھوٹ کے دو جامے پہننے والے کی طرح ہے۔
حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے قیام کے لیے بھی سچ بولنا انتہائی ضروری چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شرک اور جھوٹ سے اجتناب کا ایک ہی جگہ ذکر فرمایا ہے۔ آنحضورﷺ سچ کو قائم کرنے اور بچوں میں اس کو راسخ کرنے کے لیے کتنا خیال رکھا کرتے تھے اس کا پتہ اس واقعہ سے لگتا ہے کہ عبداللہ بن عامرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریمﷺ ایک دفعہ ہمارے گھر تشریف لائے۔ مَیں اُس وقت کم سِن تھا۔ مَیں کھیلنے کے لیے جانے لگا تو میری امّی نے کہا عبداللہ! ادھر آؤ مَیں تمہیں ایک چیز دوں گی۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تم اسے کچھ دینا چاہتی ہو؟ میری ماں نے جواب دیا کہ ہاں مَیں کھجور دوں گی۔ آپؐ نے فرمایا: اگر واقعی تمہارا یہ ارادہ نہ ہوتا اور صرف بچے کو بلانے کے لیے ایسا کہا ہوتا تو تمہیں جھوٹ بولنے کا گناہ ہوتا۔ (ماخوذ از خطبات مسرور جلد۳صفحہ۵۰۳)
حضرت ابوبکرؓ نے بیان فرمایا کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا:کیا مَیں تمہیں سب سے بڑے گناہ نہ بتاؤں؟ ہم نے عرض کیا : جی ضرور بتائیں۔ فرمایا: اللہ کا شریک ٹھہرانا، والدین کی نافرمانی کرنا۔ آپؐ تکیے کا سہارا لیے ہوئے تھے، جوش میں آکر بیٹھ گئے اور بڑے زور سے فرمایا: دیکھو! تیسرا بڑا گناہ جھوٹ بولنا اور جھوٹی گواہی دینا ہے۔ آپؐ نے اس بات کو اتنی دفعہ دہرایا کہ ہم نے چاہا کاش! حضورؐ خاموش ہوجائیں۔
آنحضورﷺ ایک بار ایک شخص کے پاس سے گزرے جو بازار میں غلّہ بیچ رہا تھا۔ جب آپؐ نے غلّے کے برتن کے اندر ہاتھ ڈالا تو معلوم ہوا کہ نیچے کا غلّہ گیلا تھا۔ آپؐ نے فرمایا: دھوکہ فریب ہمارا شیوہ نہیں۔
آنحضورﷺ نہ صرف امین مشہور تھے بلکہ دشمن بھی اپنی امانتیں آپؐ کے پاس رکھواتا تھا۔ مکّہ سے ہجرت کرتے وقت آپؐ نے وہ امانتیں حضرت علیؓ کے سپرد کیں تاکہ اُن کو مالکوں کے سپرد کرکے پھر مدینہ آئیں۔
اللہ تعالیٰ کا پیغام بھی آپؐ کے پاس امانت تھی جس کا حق آپؐ نے ایسا ادا کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے احساسِ ذمہ داری کو ان الفاظ میں یاد فرمایا: کیا تُو اس احساس سے خود کو ہلاک کرلے گا کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے۔ (الشعراء:۴)
غزوۂ خیبر میں جب قلعہ قموص کا محاصرہ جاری تھا تو ایک یہودی رئیس کا گلہ بان مسلمان ہوگیا۔ اُس نے پوچھا کہ یہ بکریاں فلاں رئیس کی امانت ہیں، ان کا کیا کروں؟ آپؐ نے فرمایا: ان کا منہ قلعے کی طرف کرکے ہانک دو، خداتعالیٰ ان کو خود مالک کے پاس پہنچادے گا۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور قلعہ والوں نے بکریاں قلعے میں داخل کرلیں۔ حالتِ جنگ میں امانت کا ایسا نمونہ آنحضورﷺ سے ہی ممکن تھا۔
ایک بار آنحضورﷺ نے ایک شخص کو صدقہ وصول کرنے پر مامور فرمایا۔ جب وہ لَوٹ کر آیا تو کہنے لگا کہ یہ آپؐ کا مال ہے اور یہ مجھے تحفے میں ملا ہے۔ اس پر آنحضورﷺ منبر پر کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد کے بعد فرمایا: کیا حال ہے اُس عامل کا جس کو مَیں مقرر کرتا ہوں۔ پھر وہ کہتا ہے یہ تمہارا مال ہے اور یہ مجھے تحفہ ملا ہے۔ وہ اپنے ماں باپ کے گھر کیوں نہ بیٹھ رہا، پھر دیکھتے کہ اُس کو ہدیہ ملتا ہے یا نہیں۔ قسم ہے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمدؐ کی جان ہے کوئی تم میں سے ایسا مال نہیں لے گا مگر قیامت کے روز اپنی گردن پر لادکر اُس کو لائے گا۔ … پھر آپؐ نے دو مرتبہ فرمایا کہ یا اللہ! مَیں نے تیرا حکم پہنچادیا۔
آنحضورﷺ نے ایک بار تین مسافروں کا حال سنایا جو ایک غار میں پھنس گئے تھے اور پھر انہوں نے اپنے نیک اعمال کا واسطہ دے کر دعا کی۔ اُن میں سے ایک نے یوں عرض کیا کہ اے میرے اللہ! مَیں نے کچھ مزدور رکھے تھے اور کام لینے کے بعد اُن کو مزدوری ادا کردی۔ البتہ ایک آدمی نے مزدوری کم سمجھتے ہوئے نہ لی اور ناراض ہوکر چلاگیا۔ مَیں نے اُس کی یہ رقم کاروبار میں لگادی۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں بہت برکت دی۔ کچھ مدّت کے بعد وہ شخص آیا کہ مجھےمیری مزدوری دے دو۔ مَیں نے وہ سب گائیں، بکریاں اور اونٹ اُس کو دے کر کہا کہ یہ تیری مزدوری ہے۔ وہ کہنے لگا: اللہ کے بندے! اگر مزدوری نہیں دیتے تو نہ دو مگر مذاق تو نہ کرو۔ مَیں نے کہا کہ مَیں تجھ سے مذاق نہیں کررہا، یہ تیرا ہی مال ہے جو مَیں نے کاروبار میں لگایا تھا اور وہ بڑھتا رہا۔ اس پر وہ خوشی خوشی سارا مال ہانک کر لے گیا۔ اے میرے اللہ! اگر مَیں نے یہ کام صرف تیری رضا کی خاطر کیا تھا تو اس مصیبت سے ہمیں رہائی بخش۔ چنانچہ اس دعا کی برکت سے باقی ماندہ پتھر بھی سرک گیا اور وہ تینوں باہر نکل آئے۔
جناب شردھے پرکاش دیوجی اپنی کتاب ’’سوانح عمر حضرت محمد صاحب بانی اسلام‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’انہوں نے یمن وغیرہ کے اطراف میں سوداگری کے لیے سفر کیے جن سے اُن کی دیانتداری و ایمانداری، سچائی اور خوش اطواری اس درجے ظاہر ہوئی کہ لوگوں نے اُن کو صادق و امین کا خطاب دیا۔ ‘‘ (صفحہ۲۴۔ ایڈیشن دہم)
………٭………٭………٭………
آنحضور ﷺ کی طہارت و پاکیزگی
ماحول کا انسانی طبائع پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ طہارت و پاکیزگی دو ایسی صفات ہیں جو انسان کے اشرف المخلوقات ہونے اور لقاء الٰہی کے حصول کے لیے اختیار کرنا ضروری ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یقیناً اللہ کثرت سے توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور پاک صاف رہنے والوں سے بھی محبت کرتا ہے۔ (البقرۃ:۲۲۳)
آنحضور ﷺ نے صفائی کو اتنی اہمیت دی کہ امّت کو نصیحت فرمائی: صفائی نصف ایمان ہے۔ آپؐ کی طہارت و پاکیزگی کے حوالے سے ایک مضمون ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ کے ’’سیرت خیرالوریٰؐ نمبر‘‘ برائے نومبرو دسمبر ۲۰۱۲ء میں مکرم اسفندیار منیب صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
آنحضورﷺ کا لباس سادہ مگر ہمیشہ صاف ستھرا ہوتا تھا۔ آپؐ سفید لباس پہننا پسند فرماتے تھے۔ حدیث میں آتا ہے کہ سفید لباس پہنا کرو کیونکہ یہ زیادہ پاک و صاف ہوتا ہے۔ نیز فرمایا: اپنے لباس کو صاف ستھرا اور درست رکھا کرو۔
کئی روایات میں آتا ہے کہ آنحضورﷺ اپنے بالوں اور داڑھی کو بھی سنوار کررکھتے۔ سر اور داڑھی کے بالوں پر تیل بھی لگایا کرتے اور کنگھی کرتے تھے۔ آنحضورﷺ نے دانتوں کی صفائی پر بھی بےحد زور دیا۔ آپؐ خود بھی روزانہ ایک سے زیادہ بار مسواک کرتے۔ چنانچہ آپؐ کے دانت ہر وقت صاف اور فَمِ مبارک معطّر رہتا تھا۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آنحضورﷺ نے دس باتوں کو انسانی فطرت کا حصہ قرار دیا ہے: مونچھیں تراشنا، داڑھی رکھنا، مسواک کرنا، پانی سے ناک صاف کرنا، ناخن کٹوانا، انگلیوں کے پورے صاف رکھنا، بغلوں کے بال لینا، زیرناف بال لینا، استنجاء کرنا۔ دسویں بات مَیں بھول گئی شاید کھانے کے بعد کُلّی کرنا۔
وضو کی اہمیت بھی صفائی قائم رکھنے کے لیےہے۔ آنحضورﷺ نے فرمایا: وضو کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
جمعہ کے دن کو اسلام میں خاص اہمیت حاصل ہے۔ آنحضورﷺ نے ایک خطبہ جمعہ میں فرمایا: ’اے مسلمانو! اس دن کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے عید بنایا ہے۔ اس روز نہایا کرو اور مسواک ضرور کیا کرو۔ ‘ چنانچہ اس روز غسل کرنا، صاف لباس پہننا اور خوشبو لگانا سنّت ہے۔
آنحضورﷺ نے ماحول کی صفائی کی بھی تاکید فرمائی ہے۔ جگہ جگہ تھوکنے سے منع فرمایا۔ مجمع میں بدبودار چیز کھاکر آنے سے منع فرمایا۔ خوشبو لگانے کو پسند فرمایا۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ اپنی مساجد کو اپنے ناسمجھ بچوں، دیوانوں، خریدو فروخت یا لڑائی جھگڑا کرنے والوں اور شور سے محفوظ رکھو۔ مسجد کے دروازے کے باہر طہارت خانے بناؤ اور جمعہ وغیرہ کے موقع پر مساجد میں خوشبو کی دھونی دیا کرو۔
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: ’’اگر قرآن کو غور سے پڑھو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ خدا تعالیٰ کے بےانتہا رحم نے یہی چاہا ہے کہ انسان باطنی پاکیزگی اختیار کرکے روحانی عذاب سے نجات پاوے اور ظاہری پاکیزگی اختیار کرکے دنیا کے جہنم سے بچا رہے جو طرح طرح کی بیماریوں اور وباؤں کی شکل میں نمودار ہو جاتا ہے اور اس سلسلے کو قرآن شریف میں اول سے آخر تک بیان فرمایا گیا ہے جیسا کہ مثلاً یہی آیت اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیۡنَ وَیُحِبُّ الۡمُتَطَہِّرِیۡنَ صاف بتلا رہی ہے کہ تَوَّابِیۡن سے مراد وہ لوگ ہیں جو باطنی پاکیزگی کے لیے کوشش کرتے ہیں اور مُتَطَہِّرِیۡنَ سے وہ لوگ مراد ہیں جو ظاہری اور جسمانی پاکیزگی کے لیے جدوجہد کرتے رہتے ہیں۔ ‘‘ (ایام الصلح، روحانی خزائن جلد۱۴ صفحہ۳۳۷۔ ۳۳۸)
آپؑ نے یہ بھی فرمایا کہ ’’روحانی پاکیزگی چاہنے والوں کے لیے ظاہری پاکیزگی اور صفائی بھی ضروری ہے کیونکہ ایک قوت کا اثر دوسری پر اور ایک پہلو کا اثر دوسرے پر ہوتا ہے۔… جو شخص باطنی طہارت پر قائم ہونا چاہتا ہے وہ ظاہری پاکیزگی کا بھی لحاظ رکھے۔… ظاہری پاکیزگی اندرونی طہارت کو مستلزم ہے۔‘‘ (ملفوظات جلداوّل صفحہ۱۶۴)
………٭………٭………٭………
مزید پڑھیں: مکتوب مشرق بعید (ستمبر ۲۰۲۶ء)




