اجتماع لجنہ اماءاللہ کینیڈا ۲۳تا۲۴/ اگست۲۰۲۵ء کی جھلکیاں اور ماضی کی حسین یادیں
ایک بار پھر نیشنل اجتماع لجنہ اماء اللہ کینیڈا میں شمولیت کا وقت آگیا۔میرے لیے یہ اجتماع ہمیشہ ملاقاتوں، یادوں اور روحانی خوشی کے حسین امتزاج کا دن ہوتا ہے۔ جہاں نہ صرف روحانی مائدہ میسر آتا ہے بلکہ جسمانی مائدہ ( لنگرکا کھانا) بھی اپنی انوکھی لذت عطا کرتا ہے۔ کبھی تو یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کون سا ذائقہ زیادہ خوشگوار ہے۔ یہ انسان کی اپنی کیفیت قلب پر بھی منحصر ہوتا ہے لیکن اجتماع کا ہر پہلو اپنی ایک انوکھی اور منفرد خوشبو اور اثر رکھتا ہے۔
میری اجتماعات کے ساتھ تعلق کی تاریخ میرے بچپن سے شروع ہوتی ہے جب میں قادیان میں ناصرات کے اجتماعات میں سفید لباس پہنے منظم گروپس میں بیٹھتی اور مقابلہ جات میں حصہ لیتی۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ یہ ایک چھوٹی سی فوج ہے۔جو لجنہ اماء اللہ دنیا کو فتح کرنے کے لیے تیار کر رہی ہے۔ کم سے کم میرا معصوم ذہن یہ سوچا کرتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ اُن دنوں مالی حالات کی تنگی کی وجہ سے نہ تو ہم کو اجتماعات پر کھانا ملتا تھا نہ ہی کوئی چائے کا انتظام ہوتا تھا۔ ہم اپنے اپنے گھر دوپہر کا کھانا کھانے جاتے اور بھاگ کر واپس پروگرام میں شا مل ہو جاتے۔ لیکن کیا اس کمی نے لجنہ اور ناصرات کے جوش اور ولولہ کو کبھی کم کیا ؟ ہرگزنہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمیں کبھی اس کمی کا احساس تک نہیں ہوا۔ مائیں فخر سے اپنی بیٹیوں کو دیکھتیں کہ وہ بہترین تربیت حاصل کر رہی ہیں جو آئندہ زندگی میں ان کے کام آئےگی۔ یہی وہ بے لوث جذبہ تھا جس سے اجتماعات کی بنیادیں مضبوط ہوئیں اور اُس ماحول نے ہماری روحوں پر انمٹ نقش چھوڑے۔الحمدللہ
وقت کے ساتھ ساتھ حالات تبدیل ہوتے گئے۔آج کے اجتماع کا تجربہ ان ابتدائی دنوں سے بہت مختلف تھا۔جب لجنہ ابھی اپنے پاؤں پر کھڑی ہونے کی بھر پور کوشش کر رہی تھی۔ آج اجتماع کے لیے مسجد بیت الاسلام ٹورانٹو کے وسیع و عریض میدان میں بڑے بڑے خیمے نصب تھے۔ مرکزی خیمہ اتنا بڑا تھا کہ چار سے پانچ ہزا رخواتین بآسانی اُس میں بیٹھ سکتی تھیں۔ ما ئیں اپنی سہیلیوں کے ساتھ باتوں میں مصروف بھول گئیں کہ وہ چھوٹے چھوٹے بچے بھی ساتھ لائی ہیں۔جو کھلی جگہ کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے اٹکھیلیاں کرنے میں مصروف تھے اور ہماری سیکرٹری تعلیم بڑے تحمل اور پیار سے اعلان کر رہی تھیں کہ مائیں اپنے بچوں کو اپنے ساتھ بٹھائیں۔ تاکہ اجتماع کا تقدس قائم رہے۔ یہ درخواست با اثر تھی کہ نہیں لیکن میں سوچتی ہوں کہ یہ بھی اجتماع کی تربیت کا حصہ ہے۔یہی موقع ہے کہ جب ہم آئندہ نسل کو نظم وضبط، احترام اور حدود کی پاسداری کا سبق سکھاتے ہیں۔
اس اجتماع کی خوبصورتی یہ تھی کہ منتظمین نے ہر طبقہ فکر اور ہر ذوق کا خیال رکھتے ہوئے تعلیمی مقابلہ جات کے ساتھ دوسرے خیموں میں مختلف موضوعات پر سیمینار کا اہتمام کیا ہوا تھا مثال کے طور پر:
۱۔سیلف ڈیفینس
۲۔ ٹراما ریکوری Trauma Recovery
۳۔گھر سے چھوٹا کا روبار شروع کرنا
۴۔ مہاجر والدین کے لیے بچوں کی تربیت کے مسائل
۵۔ بڑی عمر کی عورتوں کے لیے ہڈیوں کے امراض کے مسائل۔وغیرہ
یہ موضوعات زندگی کے ہر پہلو سے تعلق رکھتے تھے۔خدا کے فضل سے یہ اجتماع اب محض روحانی ہی نہیں بلکہ عملی پہلوؤں سے بھی خواتین کی زندگیوں کو سنوارنے کا ذریعہ بن چکا ہے۔
ہم ایک تیز رفتار دنیا میں جی رہے ہیں۔جہاں صبر کم اور توجہ کی مدت مختصر ہے۔ جب ناصرات کے تقریری مقابلہ میں ۱۴ بچیوں نے ایک ہی مضمون پریکے بعد دیگرے تقریریں شروع کیں اور یکسانیت محسوس ہونے لگی تو لوگ آسانی سے باہر جاسکتے تھے۔ تازہ ہوا کا مزا لیں یا کسی سیمینار میں شریک ہوں یا محض ماحول کے خوشگوار مناظر سے لطف اندوز ہوں۔ رنگ برنگے کپڑوں میں ملبوس خواتین ملنے ملانے میں مصروف، مائیں اپنے بچّوں کو Strollers میں گھما رہی تھیں یا بچوں کے پیچھے بھاگ رہی تھیں۔ قریب ہی سات سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے Inflatable Castle کا انتظام تھا۔ تاکہ بچے اپنی توانائی نکال سکیں۔ اور ناصرات کے لیے الگ جسمانی سرگرمیوں کے لیے انتظام موجود تھا۔
Rock climbingخاص طور پر بڑوں اور چھوٹوں کے لیے کشش کا موجب رہی۔بڑی عمر کی لجنہ ممبر بھی خوشی خوشی اوپر تک چڑھ گئیں اور اپنی صحت اور قوت کا مظاہرہ کیا۔ یہ منظر اس بات کی علامت تھا کہ اجتماع ہر عمر کی خاتون کے لیے خوشی اور آزادی کا ایک محفوظ ماحول مہیا کر رہا تھا۔
اجتماع کا بازار بھی اپنی ایک الگ دنیا تھی۔قطار در قطار اسٹالز پر پاکستانی ملبوسات، زیورات، کتابیں اور لذیذ کھانے دستیاب تھے۔ نان پکوڑ ے سے لے کر قلفی اور پیزا وغیرہ۔ مگر میرے نزدیک ضیافت کے کھانے کا کوئی مقابلہ نہیں۔ ضیافت کے وسیع انتظامات کو دیکھو تو لگتا ہے کہ یہ کسی جادو سے کم نہیں۔گویا الٰہ دین کا چراغ ہو۔ ایک لمحہ ہوتا ہے کہ ہزاروں عورتیں قطاروں میں کھڑی کھانے کا انتظار کر رہی ہیں اور کچھ ہی دیر میں کھانے کا ہال خالی ہے اور سب سیر ہو کر کھا چکی ہیں۔کبھی کبھی تو حدسے زیادہ سیرہو چکی ہیں۔ مبارکباد کی مستحق ہیں وہ رضا کار خواتین جو حوصلہ اور خوش اخلاقی سے کھانا پیش کرتی ہیں اور ضیافت ہال کی صفائی کا انتظام کرتی ہیں اور پسِ پردہ وہ مرد حضرات جو سخت محنت اور محبت سے لذیذ کھانے تیار کرتے ہیں۔جن کے نام بھی ہمیں معلوم نہیں وہ ہماری دعا اور شکریہ کے حق دار ہیں۔ یہ خدا کا فضل اور احسان ہے کہ کھانا ہمیشہ وافر، لذیذ اور بھر پور ہوتا ہے۔
الحمد للہ!
ایسے اجتماعات ہماری جماعت کے کردار کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔سبحان اللہ۔خلافت کی تربیت کے اثرات ہر جگہ جھلکتے ہیں۔ پُر امن ماحول،محبت، مہمان نوازی اور نظم و ضبط سے لبریز یہ اجتماع ہمارے ایمان کو تازہ کرتا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ ایک مومن دوسرے مومن کا آئینہ ہوتا ہے۔ یہ حدیث نہایت گہری حکمت رکھتی ہے۔ جب ہم دوسروں میں کوئی خامی دیکھیں تو ہمیں اپنے آپ پر غور کرنا چاہیے کہ اگر وہی آئینہ ہمارے سامنے رکھا جائے تو ہم کیسے دکھائی دیں گے اور اس سے بھی بڑھ کر کہ ہماری اولاد ہمیں کس طرح دیکھ رہی ہے۔
یہ اجتماع در اصل ایک یاد دہانی ہے کہ ہم کہاں سے اُٹھے،کہاں تک پہنچےاور کہاں جاناہے۔ میرے لیے یہ دن ماضی کی کم مایہ مگر حسین یادوں، جماعت کی موجودہ ترقیات کے نظاروں اور اللہ تعالیٰ کے حضور شکر گزاری کے حسین احساسات کے امتزاج کا دن تھا۔الحمد لله
مزید پڑھیں: حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے خصوصی پیغام بر موقع سالانہ اجتماع لجنہ اماءاللہ ہالینڈ ۲۰۲۴ء کا اردو مفہوم




