متفرق مضامین

وہ بھی ایک عورت تھی جس کا نام عائشہ ؓتھا(حصہ دوم)

(منصورہ طاہر بلوچ ۔ عمرکوٹ)

[تسلسل کے لیے دیکھیں الفضل انٹرنیشنل ۸؍اپریل۲۰۲۶ء]

آیت مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِکُمۡ وَلٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ۔ (الاحزاب:۴۱) کے حوالے سے حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ فرماتے ہیں: آج خاتم النبّیین کا مسئلہ ہمارے اور غیر احمدیوں کے درمیان مابہ النزاع مسئلہ ہے۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع نبی آسکتے ہیں لیکن غیر احمدی یہ کہتے ہیں کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دروازہ ہمیشہ کیلئے بند ہے اور کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آسکتا۔ اور اسی اختلاف کی وجہ سے سالہا سال سے ہمارے اور ان کے درمیان یہ جھگڑا چلا آتا ہے۔ اس جھگڑے کو ایک عورت نے کیا اچھا حل کیا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اس خطرہ کو محسوس کیا کہ لوگ اس غلطی میں مبتلا نہ ہو جائیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔ کیوں کہ آپ یہ جانتی تھیں کہ خود رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد ایک نبی کے آنے کی پیشگوئی فرمائی ہے اور قرآن کریم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ پیشگوئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت دوبارہ ہوگی۔ اور آپ یہ بھی جانتی تھیں کہ مُردے دوبارہ زندہ نہیں ہوتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بروز ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اس بات کو سمجھ گئیں۔ لیکن بعض دوسرے جلیل القدر صحابہ اس بات کو نہ سمجھ سکے۔ (الازھار لذوات الخمار صفحہ ۴۲۶)

پھر فرماتے ہیں: عورتوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور مرد و عورت برابر ہیں اور مردوں کی طرح وہ بھی ترقی کے مدارج طے کر سکتی ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک بیوی کے متعلق فرمایا ہے خُذُوْا نِصْفَ دِیْنِکُمْ مِنْ ھَذِہِ الْحُمَیْرَاءِ یعنی نصف دین عائشہؓ سے سیکھو۔اور ہم دیکھتے ہیں حضرت عائشہ ؓنے ایسے ایسے اہم امور میں مردوں کی راہنمائی کی ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔ رسول کریمؐ کی باتوں کو سمجھنے میں انہیں کمال حاصل تھا۔ بسا اوقات مردوں کی عقل وہاں تک نہ پہنچتی تھی جہاں ان کا دماغ پہنچ جاتا تھا۔

ایک لطیفہ مشہور ہے کہ رسول کریمﷺ کے خاندان میں ایک میت ہوگئی اور غالباً حضرت علیؓ کے بھائی لڑائی میں شہید ہوگئے۔ عورتوں کو سخت صدمہ تھا وہ بَین کرنے لگیں اور چونکہ یہ بات منع ہے اس لیے کسی نے آکر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ جاکر ان کو منع کرو۔ اس نے منع کیا مگر وہ نہ رکیں۔ اسلام اس وقت ابتدائی حالات میں تھا اور عورتوں کی تربیت مکمل نہ ہوئی تھی۔ اس نے پھر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آ کر عرض کیا کہ وہ باز نہیں آتیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ فَاحِثُ فِی اَفوَاهِهِنَّ التُّرَابَ یعنی ان کے منہ پر مٹی ڈالو۔ اس شخص نے واقعی مٹی اٹھائی اور جا کر ان کے منہ پر ڈالنی شروع کر دی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو علم ہوا تو آپ نے اُس شخص کو ڈانٹا اور فرمایا تم مرد ہو لیکن اتنی عقل نہیں رکھتے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا مطلب سمجھو۔ آپ کا مطلب یہ تھا کہ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو یہ نہیں کہ واقعی ان پر مٹی ڈالو۔ تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نہایت فہیم عورت تھیں۔ (الازھار لذوات الخمارصفحہ ۲۷۰-۲۷۱)

حضرت مصلح موعودؓ کو لجنہ اماء اللہ کی دینی تعلیم کی بہت فکر تھی۔ مگر آج ہم معاشرے پر نظر ڈالیں تو اکثر دیکھا جاتا ہے کہ دنیاوی تعلیم کو بہت اہمیت دی جاتی ہے مگر دینی تعلیم کے بارے میں عموماً یہ سوچ لیا جاتا ہے کہ دنیاوی تعلیم کے بعد دینی تعلیم بھی سیکھ لیں گے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح دین کو دنیا پر مقدم رکھنا چاہیے اسی طرح دینی علم کو بھی دنیاوی علم پر ترجیح دینا ضروری ہے۔ یہ بات درست ہے کہ دنیاوی علم بھی خدا تعالیٰ کی عطا کردہ ایک نعمت ہے مگر دنیاوی تعلیم دینی تعلیم کے بغیر بےکار ہے۔ اس بارے میں حضرت مصلح موعودؓ ایک اور جگہ فرماتے ہیں: آج کل ہمارے ملک میں بھی اعلیٰ تعلیم پانے کا فیشن ہے اور ڈگریاں حاصل کرنے کا بھی۔ میں نہیں سمجھتا کہ سکندر یا تیمور کو ملک فتح کرنے کا اتنا شوق ہوگا جتنا کہ آجکل کے ماں باپ لڑکیوں کو اعلیٰ ڈگریاں دلانے کے شائق ہیں… آج کل عورتوں میں ڈگریاں پانے کا جنون پیدا ہو رہا ہے۔ وہ سمجھتی ہیں کہ ہم مہذّب نہیں کہلا سکتیں جب تک کہ کوئی علمی ڈگری ہمارے پاس نہ ہو۔ مگر یہ اُن کی جہالت کا ثبوت ہے۔ (الازھار لذوات الخمار صفحہ ۲۸۳)

پھر فرمایا: ہمیں یہ دیکھنا چاہیئے کہ ہمیں کن علوم کی ضرورت ہے ہمیں علمِ دین کی ضرورت ہے کوئی لڑکی اگر ایم۔اے پاس کرلے اور اس کو تربیت اولاد یا خانہ داری نہ آئے تو وہ عالم نہیں جاہل ہے۔ ماں کا پہلا فرض بچوں کی تربیت ہے اور پھر خانہ داری ہے۔ جو حدیث پڑھے، قرآن کریم پڑھے وہ ایک دیندار اور مسلمان خاتون ہے۔ اگر کوئی عورت عام کتابوں میں ترقی حاصل کرے تاکہ وہ مدرس بن سکے یا ڈاکٹری کی تعلیم سیکھے تو یہ مفید ہے کیونکہ اس کی ہمیں ضرورت ہے لیکن باقی سب علم لغو ہیں۔

میں کہتا ہوں بی۔اے۔ ایم۔اے ہو کر کرو گی کیا ؟ میں اپنی جماعت کی عورتوں کو کہتا ہوں کہ دین سیکھو اور روحانی علم حاصل کرو۔ حضرت رابعہ بصری یا حضرت عائشہ صدیقہؓ کے پاس ڈگریاں نہیں تھیں دیکھو !حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے علمِ دین سیکھا اور وہ نصف دین کی مالک ہیں۔ مسئلہ نبوت میں جب ہمیں ایک حدیث کی ضرورت ہوئی تو ہم کہتے ہیں کہ جاؤ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سیکھو۔ (الازھار لذوات الخمار صفحہ ۲۸۶)

پھر فرماتے ہیں: پہلے زمانہ کی عورتوں کے متعلق یہ کہنا کہ وہ بڑی پارسا اور پرہیزگار تھیں ہم اُن جیسے کام کہاں کر سکتی ہیں کم حوصلگی اور کم ہمتی ہے۔ بہت عورتیں ہیں جو کہتی ہیں کہ کیا ہم عائشہؓ بن سکتی ہیں کہ کچھ کوشش کریں۔ انہیں خیال کرنا چاہیے کہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کس طرح عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنیں۔ انہوں نے کوشش کی، ہمت دکھائی تو عائشہ بن گئیں۔ اب بھی اُن جیسا بننے کیلئے ہمت اور کوشش کی ضرورت ہے۔ (الازھار لذوات الخمار صفحہ ۱۹)

(جاری ہے)

مزید پڑھیں: تم شکر کرو کہ ایک شخص کے ذریعہ تمہاری جماعت کا شیرازہ قائم ہے

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button