خلاصہ خطبہ جمعہ

سچائی اور راستبازی: حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی سیرت مبارکہ کا ایک درخشاں پہلو۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۸؍مئی ۲۰۲۶ء

٭… ہزاروں کو میں نے اس سلسلے میں دیکھا کہ جسے بھی قانونی مشورہ کے تحت اپنے بیان کو بدلنے کی ضرورت پیش آئے اس نے بلا تامل اپنا بیان بدل لیا۔ لیکن میں نے اپنی عمر میں صرف مرزا صاحب ہی کو دیکھا ہے جنہوں نے سچ کے مقام سے قدم نہیں ہٹایا(مولوی فضل دین صاحب)

میں دنیا میں راستی کو قائم کرنے کے لیے آیا ہوں، میں ہرگز جھوٹ نہیں بولوں گا خواہ مجھے پھانسی دے دی جائے۔ میں عبدالحمید کو جانتا ہوں۔

وہ قادیان میں آیا کرتا تھا میں اس سے ہرگز انکار نہیں کر سکتا خواہ کچھ ہو جائے(حضرت مسیح موعودؑ)

٭… حضرت صاحبؑ نے چہرہ اٹھا کر دیکھا، میں نے دل میں کہا کہ آپؑ صادق ہیں ۔ پھر تھوڑی دیر کے بعد سر اٹھا کر دیکھا، میں نے کہا :اٰمَنَّا ۔یعنی میں نے مان لیا۔ تیسری دفعہ پھر دیکھا تو کہتے ہیں کہ مَیں قربان ہی ہو گیا (ایک روایت)

٭… اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اس حقیقت کو سمجھتے ہوئے سچائی پرقائم رہنے والے ہوں اور ہمیشہ سچائی کے اعلیٰ معیار پر عمل کرنے والے ہوں

خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۸؍مئی ۲۰۲۶ء بمطابق ۸؍ہجرت ۱۴۰۵؍ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے

اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ ۸؍مئی ۲۰۲۶ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔ جمعہ کي اذان دينےکي سعادت مولانا فیروز عالم صاحب کے حصے ميں آئي۔

تشہد،تعوذ اورسورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

حضرت مسیح موعودؑ کی سیرت بیان کرتے ہوئے آپؑ کی صداقت کے معیار کے کچھ حوالے اور واقعات بیان کیے تھے۔ آج بھی چند ایک واقعات بیان کروں گا۔

حضرت مسیح موعودؑ پر ایک مقدمہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کی طرف سے اقدامِ قتل کا دائر ہوا تھا۔ یہ انتہائی خطرناک مقدمہ تھا۔ آپؑ فرماتے ہیں یہ مقدمہ ایسا خطرناک تھا کہ پھانسی کی سزا بھی ہو سکتی تھی۔یہود کی طرف سے رومی عدالت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر کیے جانے والے مقدمے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس قسم کا مقدمہ مجھ پر بھی ہوا تھا ۔مسیح علیہ السلام کے خلاف تو یہودیوں نے مقدمہ کیا تھا مگر اس سلطنت میں میرے خلاف جس نے مقدمہ کیا وہ معزز پادری تھا اور ڈاکٹر بھی تھا ۔ جس نے مجھ پر اقدامِ قتل کا مقدمہ بنایا اور اس نے شہادت پوری طرح بہم پہنچائی یہاں تک کہ مولوی محمد حسین بٹالوی جو اس سلسلے کا سخت مخالف دشمن ہے وہ شہادت دینے کے واسطے عدالت میں آیا اور جہاں تک اس سے ہو سکا اس نے میرے خلاف شہادت دی۔ اور پورے طور پر مقدمہ میرے خلاف ثابت کرنے کی کوشش کی۔

یہ مقدمہ کپتان ڈگلس ڈپٹی کمشنر گورداس پور کے اجلاس میں تھا۔ آپؑ فرماتے ہیں تمام شہادتیں میرے خلاف بڑے زور شور سے دی گئیں۔ ایسی حالت اور ایسی صورت میں کوئی قانون دان اہل رائے بھی نہیں کہہ سکتا کہ میں بری ہو سکتا ہوں۔

مگر خدا تعالیٰ نے جیسے مقدمے سے پہلے مجھے اطلاع دی اسی طرح یہ بھی قبل از وقت ظاہر کر دیا تھا کہ میں اس میں بری ہوں گا۔

کپتان ڈگلس کو مدعی کے بیان پر کچھ شبہ تھا اس لیے اس نے عبدالحمید کو پولیس افسرکپتان لیمارچند کے سپرد کیا کہ دوبارہ تفتیش کرو۔ کپتان نے عبدالحمید کو بلایا اور اس کو کہا کہ سچ بیان کر۔ عبدالحمید اس پر بھی وہی قصہ جو اس نے پہلے پیش کیا تھا وہی کہتا رہا ۔کپتان صاحب نے سختی سے کہا کہ اصل بات بیان کر۔ اس پر اس نے اصلیت کھول دی اور صاف اقرار کیا کہ مجھے دھمکا کر یہ بیان کرایا گیا تھا۔ لیکن مجھے ہرگز ہرگز مرزا صاحب نے قتل کے لیے نہیں بھیجا۔ کپتان اس بیان کو سن کر خوش ہوا اور اس نے ڈپٹی کمشنر کو تار دیا کہ ہم نے مقدمہ نکال لیا ہے۔

فرماتے ہیں کہ اس وقت کورٹ میں مَیں دیکھتا تھا کہ ڈپٹی کمشنر اصلیت کے کھل جانے سے بڑا خوش تھا اور ان عیسائیوں پر اسے سخت غصہ تھا جنہوں نے میرے خلاف جھوٹی گواہی دی۔

اس نے مجھے کہا کہ آپ ان عیسائیوں پر مقدمہ کر سکتے ہیں۔ مگر چونکہ میں مقدمہ بازی سے متنفر ہوں میں نے یہی کہا کہ میں مقدمہ نہیں کرنا چاہتا۔ میرا مقدمہ آسمان پر دائر ہے۔

اسی مقدمے میں حضرت مسیح موعود ؑکی راستبازی اور اعلیٰ اخلاق کا بیان اس موقع پر پیش ہونے والے ایک غیر از جماعت وکیل مولوی فضل دین صاحب کا بیان ہے ۔وہ کہتے ہیں : میرے دل میں مرزا صاحب کی بہت عظمت ہے۔ میں ان کا مقام و مرتبہ بہت عظیم الشان سمجھتا ہوں۔ اگرچہ ان کے دعاوی کے متعلق علم نفس کی رو سے ،یہ مانتا ہوں کہ ان کو سمجھنے میں غلطی ہو لیکن وہ بہر حال ایک نیک انسان ہیں۔

یہی روایت حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحبؓ سے ایک ہندو لالہ دینہ ناتھ نے بیان کی کہ ایک مجلس میں مولوی فضل دین صاحب کی موجودگی میں کسی نے ان کی ایسے رنگ میں مخالفت کی جو شرافت اور اخلاق کے پہلو سے گری ہوئی تھی۔یہ سن کر مولوی فضل دین صاحب مرحوم کو بہت جوش آگیا۔ انہوں نے بڑے جذبہ سے کہا کہ میں مرزا صاحب کا مرید نہیں ہوں۔ ان کے دعاوی پر میرا اعتقاد نہیں ۔ لیکن مرزا صاحب کی عظیم الشان شخصیت اور اخلاقی کمال کا میں گواہ ہوں۔میں وکیل ہوں اور ہر قسم کے طبقہ کے لوگوں کے مقدمات میرے پاس آتے ہیں۔

ہزاروں کو میں نے اس سلسلے میں دیکھا کہ جسے بھی قانونی مشورہ کے تحت اپنے بیان کو بدلنے کی ضرورت پیش آئے اس نے بلا تامل اپنا بیان بدل لیا۔لیکن میں نے اپنی عمر میں صرف مرزا صاحب ہی کو دیکھا ہے جنہوں نے سچ کے مقام سے قدم نہیں ہٹایا۔

مارٹن کلارک کے مقدمہ میں مَیں نے ان کے لیے ایک قانونی بیان لکھا اور ان کی خدمت میں پیش کیا۔انہوں نے اسے پڑھ کر کہا اس میں تو جھوٹ ہے۔ میں نے کہا کہ ملزم کا بیان حلفی نہیں ہوتا اور قانوناً اسے اجازت ہے کہ جو چاہے وہ بیان کرے۔ اس پر آپؑ نے فرمایا کہ قانون نے تواسے یہ اجازت دے دی ہے مگرخدا تعالیٰ تو اجازت نہیں دیتا ۔پس میں صحیح صحیح امر پیش کروں گا۔پھر ہم نے ان سے کہا کہ آپ صرف یہ کہہ دیں کہ میں عبد الحمید کو نہیں جانتا باقی ہم سنبھال لیں گے۔ حضرت مسیح موعود ؑنے ہماری ساری تجاویز کو سن کر فرمایا کہ

میں دنیا میں راستی کو قائم کرنے کے لیے آیا ہوں، میں ہرگز جھوٹ نہیں بولوں گا خواہ مجھے پھانسی دے دی جائے۔ میں عبدالحمید کو جانتا ہوں۔ وہ قادیان میں آیا کرتا تھا میں اس سے ہرگز انکار نہیں کر سکتا خواہ کچھ ہو جائے۔

ہم نے عرض کی کہ جھوٹ نہ بولنا چاہیں تو گول مول بات کر دیں مگر حضورؑ نے فرمایا :مَیں تو ایسا بھی نہیں کر سکتا ۔

خدا نے مجھے دنیا میں اپنا نمونہ پیش کرنے کے لیے بھیجا ہے ۔میں جان بچانے کی خاطر ایسا نمونہ پیش کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں ۔اگر سچ بولتے ہوئے ہماری جان بھی جائے تو تب بھی ہم کامیاب ہو گئے۔

جب حضور کا بیان عدالت میں ہوا تو حضورؑ نے صاف طور پر بیان کر دیا کہ میں عبدالحمید کو جانتا ہوں ۔اس طرح ہم نے یقین کر لیا کہ اب رہائی ناممکن ہے مگر خدا کی نصرت اس مقدمے میں حضور کو جو نصیب ہوئی یہ دیکھ کر ہم حیران ہو گئے کہ خدا نے کس طرح سے اپنے مامور کی مدد کی اور وہ اس سنگین مقدمےمیں باعزت طور پر بری ہو کر کامیاب ہوئے۔

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ لکھتے ہیں کہ ۱۹۱۶ء میں مسٹر والٹر سلسلہ احمدیہ کے متعلق تحقیق کرنے کے لیے قادیان آئے۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ مجھے بانی سلسلہ کے کسی پرانے صحابی سے ملایا جائے۔اس وقت منشی اروڑے خان صاحبؓ مرحوم قادیان میں تھے۔ والٹر صاحب کو منشی صاحب کے ساتھ ملوایا گیا ۔مسٹر والٹر نے منشی صاحبؓ سے رسمی گفتگو کے بعد یہ دریافت کیا کہ آپ پر جناب مرزا صاحب کی صداقت کی کس دلیل نے سب سے زیادہ اثر کیا ؟

منشی صاحبؓ نے جواب دیا کہ میں زیادہ پڑھا لکھا آدمی نہیں اور زیادہ علمی دلیلیں نہیں جانتا مگر مجھ پر جس بات نے سب سے زیادہ اثر کیا وہ حضرت صاحب کی ذات تھی۔ آپ سے زیادہ سچا ، زیادہ دیانتدار اور خدا پر زیادہ ایمان رکھنے والا شخص میں نے نہیں دیکھا ۔انہیں دیکھ کر کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ شخص جھوٹا ہے۔باقی میں تو ان کے منہ کا بھوکا تھا۔ مجھے زیادہ دلیلوں کا علم نہیں۔

یہ کہہ کر منشی صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یاد میں اس قدر بے چین ہو گئے کہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اور روتے روتے ان کی ہچکی بندھ گئی۔ مسٹر والٹر کا چہرہ بالکل سفید ہو گیا ۔ انہوں نے اپنی کتاب احمدیہ موومنٹ میں اس واقعے کا خاص طور پر ذکر بھی کیا اور لکھا کہ

جس شخص نے اپنی صحبت میں اس قسم کے لوگ پیدا کیے ہیں اسے ہم کم از کم دھوکے باز نہیں کہہ سکتے۔

مرزا رحیم بخش صاحب بیان کرتے ہیں کہ مجھے ایک احمدی شخص ملا ۔چند باتیں ہوئیں ۔ میں قائل ہو گیا ۔رات کوخواب آئی کہ ہم چاروں بھائی ایک پہاڑ کی غار میں بھولے ہوئے ہیں ،راستہ نہیں ملتا۔پھر میں ایک طرف سے چڑھ کر اوپر آ گیا ہوں ۔میں نے دیکھا کہ ریل چل رہی ہے مگر گاڑی زمین سے بہت اونچی ہے ۔میں حیران ہوں کہ کیسے چڑھوں ۔ایک شخص کھڑا ہے ،کہتا ہے کہ نیچے جو رسی آسمان سے لٹکی ہوئی ہے اس کو پکڑو۔ اوپر چڑھ سکتے ہو۔ کہتے ہیں صبح ابراہیم صاحب میرے پاس آئے ۔میں نے خواب سنائی توانہوں نے قرآن کریم نکال لیا اور واعتصموا بحبل اللّٰہ دکھایا کہ اشارہ ہے کہ اللہ کی رسی کو پکڑ لو ۔میں نے بیعت کا خط لکھ دیا۔ جواب آیا کہ بیعت منظور ہے مگر قادیان میں ضرور آؤ۔

کہتےہیں میں امرتسر سٹیشن سے بٹالہ والی گاڑی میں بیٹھا تو دو تین بوڑھےسکھ ساتھ بیٹھ گئے۔ مجھے پوچھا کہ کہاں جاتے ہو؟میں نے کہا قادیان۔انہوں نے کہا مرزے کے قادیان ؟ میں نے کہا ہاں۔ میں نے حضرت صاحب کے بارے میں پوچھا کہ وہ کیسے ہیں ؟تو اپنی عقل کے مطابق کہنے لگے کہ بڑا مشہور ہے وہ خدائی کا دعویٰ کرتا ہے۔ میں نے ویسے ہی شرارتاً کہا کہ میں مرزا کو جانتا ہوں سیالکوٹ میں وہ اور میرا باپ دونوں ملازم تھے وہ مل کر بھنگ پیتے تھے ۔ میں نے ویسے ہی مذاق میں کہہ دیا ۔اس پر سکھوں نے کہا کہ میاں! یہ ہرگز مت کہو۔وہ تو ایک سادھو آدمی ہے اور نہایت صادق اور امین آدمی ہے ۔وہ ایسا مشہور ہے کہ لوگ اس کی مثال پیش کیا کرتے ہیں۔ کوئی سچ بولے تو ہمارے ہاں لوگ کہتے ہیں کہ کیا تُو مرزا غلام مرتضیٰ کا لڑکا ہے ۔یہ تو مثال بن چکا ہے ۔ایک نے کہا وہ ہمارے ساتھ بچپن میں کھیلتا تھا ۔ہم اس لیے ادب کرتے تھے کہ رئیس کا بیٹا ہے۔پھر ان میں تبدیلی آتی گئی اور اندر ہی اندر رہنے لگے۔یعنی گوشہ نشین ہو گئے اور اندر ہی جادو پکاتا رہا(وہ یہ سمجھتے تھے) اور اندر بیٹھ کر، قادیان کے چار چار میل پر اس نے جادو کر دی۔کسی مذہب کا کوئی شخص اس کے پاس آئے تو وہ اس کے مذہب سے اپنے آپ کو سچا ثابت کر کے دکھا دیتا ہے اور کہتا ہے کہ میں آسمانوں سے آیاہوں۔ کہتے ہیں کہ میں نے ان سے یہ باتیں سن لیں ۔جب میں قادیان مہمان خانے اترا تو تین چار لڑکے تھے۔میں نے آزمانے کے لیے ان سے سختی سے کلام کیا مگر میری سختی کے مقابلے میں بڑی نرمی اور اخلاق سے پیش آئے۔ قادیان میں بہت سخت گرمی تھی۔ میں نے واپس جانا چاہا تو ایک عرب ملا ۔اس نے کہا اب آئے ہو تو حضرت صاحبؑ دیکھے بغیر واپس نہ جانا۔یہ زمانہ پھر ہاتھ نہ آئے گا ۔ اسی دوران اذان ہو گئی تو میں نے سوچا نماز پڑھ لوں۔ نماز کے بعد حضورؑ مجلس میں بیٹھ گئے۔سرنیچے کیا ہوا تھا ۔ میں سامنے کھڑا تھا اور میری داڑھی مونچھ کچھ نہ تھی۔میں نے دل میں کہا کہ جب تک میں اس شخص کا چہرہ نہیں دیکھوں گا یقین نہیں کروں گا۔ تھوڑی دیر کے بعد

حضرت صاحبؑ نے چہرہ اٹھا کر دیکھا ،میں نے دل میں کہا کہ آپؑ صادق ہیں۔ پھر تھوڑی دیر کے بعد سر اٹھا کر دیکھا ،میں نے کہا: اٰمَنَّا۔یعنی میں نے مان لیا۔ تیسری دفعہ پھر دیکھا تو کہتے ہیں کہ مَیں قربان ہی ہو گیا ۔

حضرت چودھری سر ظفر اللہ خان صاحبؓ نے بیان کیا ہے جب میں نے پہلی بار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی لاہور میں زیارت کی تھی ،میرے دل میں جو اثر اُس وقت ہوا وہ یہی تھا کہ یہ شخص صادق ہے اور جو کہتا ہے وہ سچ ہے اور ایک ایسی محبت میرے دل میں آپؑ کے متعلق اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈال دی گئی کہ وہی میرے لیے حضور علیہ السلام کی صداقت کی اصل دلیل ہے۔ میں گو اس وقت بچہ تھا لیکن اس وقت سے لے کر اب تک مجھے کسی وقت بھی کسی دلیل کی ضرورت نہیں پڑی ۔بعد میں متواتر ایسے واقعات رونما ہوتے رہے جو میرے ایمان کی مضبوطی کا باعث ہوئے کیونکہ میں نے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کو آپ کا چہرہ مبارک دیکھ کر ہی مانا تھا اور وہی اثر اب تک میرے لیے حضورؑ کے دعویٰ کی صداقت کا سب سے بڑا ثبوت ہے ۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں :

اب دیکھو خدا نے اپنی حجت کو تم پر اس طرح پر پورا کر دیا ہے کہ میرے دعویٰ پر ہزار ہا دلائل قائم کر کے تمہیں یہ موقعہ دیا ہے کہ تا تم غور کرو کہ وہ شخص جو تمہیں اس سلسلہ کی طرف بلاتا ہے وہ کس درجہ کی معرفت کا آدمی ہے اور کس قدر دلائل پیش کرتا ہے اور تم کوئی عیب، افترا یاجھوٹ یا دغا کا میری پہلی زندگی پر نہیں لگا سکتے تا تم یہ خیال کرو کہ جو شخص پہلے سے جھوٹ اور افترا کا عادی ہے یہ بھی اُس نے جھوٹ بولا ہوگا۔ کون تم میں ہے جو میری سوانح زندگی میں کوئی نکتہ چینی کر سکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اس حقیقت کو سمجھتے ہوئے سچائی پرقائم رہنے والے ہوں اور ہمیشہ سچائی کے اعلیٰ معیار پر عمل کرنے والے ہوں۔

٭…٭…٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button