حضور انور کے ساتھ ملاقات

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والی ناصرات الاحمدیہ اور واقفاتِ نَو کے ایک وفد کی ملاقات

ایک گھنٹے سے زیادہ سکرین ٹائم نہیں ہونا چاہیےاور اس میں بھی اچھے پروگرام دیکھو، فضول قسم کے پروگرام نہ دیکھو جو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔
جب تمہیں گندی چیز نظر آئے تو اِستغفار پڑھ لیا کرو توتم بچ جاؤ گی

مورخہ ١۲؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء، بروزاتوار، امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والی ناصرات الاحمدیہ اور واقفاتِ نَو کے ایک وفد کو شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ یہ ملاقات اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں منعقد ہوئی۔ مذکورہ وفد نے خصوصی طور پر اس ملاقات میں شرکت کی غرض سے آئرلینڈ سے برطانیہ کا سفر اختیار کیا۔جب حضورِانور مجلس میں رونق افروز ہوئے تو آپ نےتمام شاملینِ مجلس کو السلام علیکم کا تحفہ عنایت فرمایا۔

بعد ازاں دورانِ ملاقات شاملینِ مجلس کو حضورِانور کی خدمت اقدس میں اپنا تعارف اورمختلف سوالات پیش کرنے نیز ان کے جواب کی روشنی میں حضورانور کی زبانِ مبارک سے نہایت پُرمعارف، بصیرت افروز اور قیمتی نصائح پر مشتمل راہنمائی حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔

ایک شریکِ مجلس نے سوال کیا کہ طبّی ادارے تحقیق اور تعلیم دونوں مقاصد کے لیے عطیہ شدہ جسموں سے بہت فائدہ اُٹھاتے ہیں، کیا احمدیوں کو خواہ وہ مرد ہوں یا عورت اپنے جسم عطیہ کرنے چاہئیں؟

اس پر حضورِانور نے فرمایا کہ وہ اپنے بعض اعضا عطیہ کر سکتے ہیں یا پورا جسم بھی عطیہ کر سکتے ہیں، لیکن جب تجربہ یا طبّی عمل مکمل ہو جائے، تو وہ جسم لواحقین کو واپس کر دیا جائے، پھر لواحقین اسے دفن کر سکتے ہیں۔ اس میں کوئی ہرج نہیں، اگر یہ کام انسانیت اور عوام الناس کے فائدے کے لیے کیا جا رہا ہو، تو یہ بالکل جائز ہے۔

ایک ناصرہ نے سوال کیا کہ کیا فرشتوں کو ابدی زندگی حاصل ہے؟

اس پر حضورِانور نے فرمایا کہ دنیا میں تو کوئی چیز بھی اللہ کے علاوہ forever نہیں ہے، کتنی دیر angels کو رکھنا ہے، اللہ جانتا ہے۔ لیکن نسبتاً دیکھا جائے تو فرشتے انسانی زندگی کے مقابلے میں گویا ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔

ایک لجنہ ممبر نے سوال کیا کہ ہم، ہم عمروں کے دباؤ، سوشل میڈیا کے منفی اثرات اور دجّالی حملوں کے دوران اپنے ایمان میں مضبوطی کیسے قائم رکھ سکتے ہیں؟

اس پر حضورِ انورنے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ سوشل میڈیا دیکھنا بند کرو۔ بایں ہمہ استفسار فرمایا کہ نماز، قرآنِ کریم اور اس کا ترجمہ پڑھتی ہو اور اس میں بعض باتیں سمجھ آتی ہیں؟ نیز دجّال کا جو سوال اُٹھاتا ہے، ان کے questions تم تلاش کرتی ہو؟

اثبات میں جواب سماعت فرمانے کے بعد حضورِانور کے مزید دریافت فرمانے پر سائل نے عرض کیا کہ وہ تھرڈ ایئر سیکنڈری سکول میں پڑھتی ہے۔ جس پر حضورِانور نے فرمایا کہ Introduction to the Study of the Holy Quran کتاب ہے، اس کو پڑھو، اس سے آپ کا ایمان مضبوط ہو گا۔کیونکہ اس میں دنیا کے different religions کے متعلق بات کی گئی ہے اور پھر اسلام کے بارے میں کہ وہ سچا مذہب کیوں ہے، اور کتاب کے آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ درج ہے کہ وہ کیوں ظاہر ہوئے، اللہ تعالیٰ نے انہیں اس زمانے میں کیوں مبعوث فرمایا؟ تو وہ سارے questions، جو تمہارے ذہن میں دجّال پیدا کرتا ہے، وہ آ جائیں گے۔ اور اگر کوئی ایسے ہوں جو تمہیں نہ ملیں، تو تم اپنے مربی سے پوچھ لو۔ اگر وہاں سے جواب نہ ملے، تو مجھے لکھ کے جواب پوچھ لو۔ نیز تاکید فرمائی کہ یقین رکھو کہ اسلام فائنل مذہب ہے۔ اس کے علاوہ اَور کوئی مذہب نہیں ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیینؐ، last law-bearing prophet، آخری شرعی نبی ہیں۔ تو یہ یقین رکھو اور پھر اپنا مذہبی علم زیادہ کرو، پھر تم جواب دے سکو گی۔

ایک شریکِ مجلس نے عرض کیا کہ بعض اوقات خوف کی وجہ سے ہمیں اپنی ماؤں سے سچ بات کہنا مشکل محسوس ہوتا ہے، اس حوالے سے راہنمائی طلب کی کہ ہم کس طرح اپنے اندر یہ عادت پیدا کر سکتے ہیں کہ ہم ہمیشہ سچ بولیں، چاہے اس کے نتیجے میں ڈانٹ ہی کیوں نہ پڑے؟

اس پر حضورِانور نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ ایسے کام نہ کرو جو اُمّی سے چھپانے ہیں اور اگر تم نے ایسا کوئی غلط کام کردیا ہے توپھر ہمیشہ سچ بولو کیونکہ انسان کو سچا ہونا چاہیے۔ اللہ میاں کہتا ہے کہ سچائی ضروری ہے۔ کیونکہ اگر تم سچ نہیں بول رہی، جھوٹ بول رہی ہو، غلط بیانی کر رہی ہو، تو اس کا مطلب ہے تم اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتی۔ تم سمجھتی ہو کہ تم جھوٹ سے بچ جاؤ گی یعنی کہ جھوٹ کو تم نے خدا سمجھ لیا، حالانکہ اگر تم نے غلط کام کیا ہے اور تمہیں وہ غلط بات لگے تو پھر اس کا اعتراف کرو اور کہو کہ مَیں آئندہ یہ غلط کام نہیں کروں گی۔

اسی طرح توجہ دلائی کہ اگر تم سمجھتی ہو کہ یہ کام آپ کے مطابق صحیح تھا تو پھر اپنے والدین یا اُمّی سے کیوں چھپاتی ہو؟ آپ کھل کر ان کو بتائیں کہ میرے سے یہ غلطی ہو گئی ہے۔ ہمیشہ یہ پکّا ارادہ کرو کہ اگر مَیں غلط کام کروں گی اور جھوٹ بولوں گی تو اللہ میاں ناراض ہوگا، اور میں نے اللہ تعالیٰ کو ناراض نہیں کرنا، جب یہ سوچو گی تو پھر ہمیشہ سچ بولوگی۔

مزید برآں حضورِانور نے سچائی اپنانے کی اہمیت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک پُرمعنی ارشادِ مبارک کی روشنی میں نہایت حکمت کے ساتھ اُجاگر فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک شخص نے کہا کہ میری بہت ساری بُرائیاں ہیں، مَیں کیا کروں، ایک بُرائی مَیں چھوڑ سکتا ہوں، مجھے بتائیں کہ مَیں کون سی بُرائی چھوڑوں؟ آپؐ نے فرمایا کہ جھوٹ بولنا چھوڑ دو، صرف سچ بولنا ہے۔ اور اس نے جب سچ بولنا شروع کیاتو ایک بُرائی کرنے لگا۔ پھر خیال آیا کہ مَیں سچ بولوں گا، مجھے شرمندگی ہوگی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے پوچھیں گے کہ تم نے یہ کیا، مَیں کہوں گا کہ ہاں! تو پھر شرمندگی ہو گی اور اگر نہیں کہوں گا تو جھوٹ ہو گا۔ پھر دوسری بُرائی کرنے لگا، پھر اس کو یہ خیال آیا، پھر تیسری بُرائی کرنے لگا، اس طرح وہ کرتا چلا گیا کہ آخر اس نے ساری بُرائیاں چھوڑ دیں۔ تو جھوٹ سب سے بڑی بُرائی ہے، اس بات کو یقینی بناؤکہ کبھی جھوٹ نہیں بولنا۔

ایک لجنہ ممبر نے راہنمائی طلب کی کہ کسی بھی قسم کےمنفی جذبات جیسے کہ غصّہ، حسد یا تکبر پر قابو پانے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟

اس پر حضورِانور نے استفہامیہ انداز میں دریافت فرمایا کہ negative emotions کیوں آتے ہیں؟ نیز تلقین فرمائی کہ نماز پڑھا کرو۔پہلے تو پانچ نمازیں پڑھو، کم ازکم ایک نماز میں سجدہ کیا کرو کہ الله تعالیٰ مجھے negative emotions اور نہ ہی کسی قسم کے خیال آئیں۔

حضورِانور نے نہایت حکیمانہ انداز میں اِن جذبات کی جڑ اور ان کے تدارک کا بلیغ روحانی نسخہ بیان فرمایا کہ اس کے علاوہ جب ایسی باتیں آئیںتو اِستغفار پڑھ لیا کرو، کسی پر غصّہ چڑھے تو اِستغفار پڑھو۔ غصّہ چھپانا بڑی ضروری چیز ہے اور jealousy تو ہونی ہی نہیں چاہیے۔ یہ ساری بُرائیاں ہیں۔ یہ صرف جذبات ہی نہیں ہیں بلکہ بُری عادات بھی ہیں اور اللہ کے نزدیک گناہ شمار ہوتے ہیں۔

آخر میں حضورِانور نے اس اَمر کی اہمیت کو بھی اُجاگر فرمایا کہ تم نے گناہ چھوڑنے ہیں، anger ہو، jealousyہو یا pride ہو، تو ان ساری چیزوں کو چھوڑنا ہے۔ اِستغفار زیادہ پڑھو تو آپ ہی ٹھیک ہو جائے گا۔ اپنے آپ کو نہ سمجھو کہ مَیں کچھ چیز ہوں۔اس لیےحضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے ؂

بدتر بنو ہر ایک سے اپنے خیال میں

شاید اسی سے دخل ہو دارالوصال میں

کہ تم اپنے آپ کو سب سے کم سمجھو۔پھر نہ jealousy ہوگی نہ anger ہوگا نہ pride ہوگی اور اس سے پھر اللہ تعالیٰ ملتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ دعائیں بھی سنتا ہے۔ اب یہ سوچ لو کہ تم نے اللہ کو ملنا ہے یا اپنے جو vicious desires ہیں، ان کو پورا کرنا ہے۔

شاملینِ مجلس میں سے ایک ناصرہ نے انتہائی معصومیت سے حضورِانور سے سوال کیا کہ آپ کو کس عمر میں والدین سے جیب خرچ ملنا شروع ہوا، کتنا جیب خرچ لیا کرتے تھے اور آپ اپنا جیب خرچ کس طرح خرچ فرمایا کرتے تھے؟

اس پر حضورِانور نے کمال شفقت اور محبّت بھرے انداز میں فرمایا کہ ہمیں تو کبھی regular money ملتی ہی نہیں تھی، تمہاری طرح تو نہیں تھے کہ عیاشیاں کرتے۔ نیز جیب خرچ ملنے کی بابت اپنےایّامِ طفولیت کی دلفریب عملی تربیتی مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ کبھی کبھی امّاں ابّا نے دے دیا، عید پر پیسے آ گئے، تو ہم نے اپنی امّاں کے پاس reserve کرادیے اور پھر آہستہ آہستہ ان سے لیتے رہے یا کبھی ضرورت ہوئی تو اُمّی سے مانگ لیا کہ پیسے دیں۔ اور اس کے بعد جو میرے پیسے ہوتے تھے جو کسی نے تحفہ دیا یا عید پر عیدی آئی، تو ہماری اُمّی نے کہاکہ ان کو میرے پاس reserveرکھو اور اپنا تحریکِ جدید اور وقفِ جدید کا چندہ تم نے اس میں سے دینا ہے، تو ہم اس میں سے دیا کرتے تھے۔

اسی طرح جیب خرچ کے مصرف کی بابت اپنے معمولاتِ بچپن کا مزید ذکر کرتے ہوئے بیان فرمایا کہ چندہ دے دیتے تھے۔ جو پیسے ہوتے تھے، اس میں سے اطفال کا چندہ دیتا تھا۔ باقی جو بچ جاتے تھے، کبھی کبھی ضرورت ہوتی تھی، تو مانگ لیتا تھا۔ جب میرے پیسے ختم ہو جاتے تھے، تو پھر اُمّی سے کہتا تھا کہ مجھے اَور دیں، جہاں سے مرضی دیں، مَیں نے خرچ کرنے ہیں۔ اگر وہ مان جاتی تھیں، تو دے دیتی تھیں، نہیں تو مَیں چُپ کر کے بیٹھ جاتا تھا اور لڑتا نہیں تھا۔

ایک شریکِ مجلس نے دریافت کیا کہ حضورِانور نے کبھی فلسطین کے تنازعے کے حوالے سے بنیامین نیتن یاہو یا کسی اَور عالمی راہنما کو خط لکھا ہے؟

اس پر حضورِانور نے عالمی لیڈران کو لکھے گئے خطوط کے پسِ منظر میں واضح فرمایا کہ ان کو بھی لکھا تھا۔ World Crisis and the Pathway to Peace میں وہ خط چھپے ہوئے ہیں۔ سب کو مَیں نے لکھا تھا، لیکن انہوں نے کوئی reply نہیں کیا۔ یہاں کا جو ہمارا پرائم منسٹر کیمرون تھا، مجھے تو صر ف اس نے reply دیا تھا اور ایک اَور نے دیا تھا۔ باقی تو امریکن پریذیڈنٹ اوباما تھا، وہ بھی reply کرنے لگا تھا، توپھر اس کی ٹیم نے روک دیا تھا کہ reply نہ کرنا۔

ایک ناصرہ نے سوال کیا کہ مَیں ٹیکنالوجی کے مسلسل استعمال سے کیسے دُور رہ سکتی ہوں تا کہ یہ میری پڑھائی پر اثرانداز نہ ہو؟

اس پر حضورِانور نے فرمایا کہ کون سی ٹیکنالوجیاں ہیں، آجکل کمپیوٹر، سیل فون، یہ چیزیں ہیں۔ یہ تو ویسے ہی اب آسٹریلیا اور بعض اَورملکوں میں یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم ایک law پاس کرنے لگے ہیں کہ جو پندرہ سال سے کم عمر کے لوگ ہیں، وہ سیل فون اور انٹرنیٹ وغیرہ استعمال نہیں کریں گے، ان پرban ہو جائے گا۔ سکولوں میں بھی banہو جائے گا، کیونکہ اِن کا جو potential ہے، دماغی capability ہے، wisdom ہے، وہ لوگوں میں کم ہو رہی ہےاس لیے وہ بند کر رہے ہیں۔

حضورِانور نے تلقین فرمائی کہ ایک تو یہ ہے کہ سکرین ٹائم تمہارا صرف ہر روزone hour ہونا چاہیے۔ چاہے وہ ٹی وی دیکھو یا انٹرنیٹ دیکھو۔ اور سکول سے جو تمہیں کام ملتا ہے، وہ بھی تم انٹرنیٹ یا آئی پیڈ پر ہاتھ سے ہی کرتے ہو۔ تو بس ایک گھنٹے سے زیادہ سکرین ٹائم نہیں ہونا چاہیے اور اس میں بھی اچھے پروگرام دیکھو، فضول قسم کے پروگرام نہ دیکھو جو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ جب تمہیں گندی چیز نظر آئے تو اِستغفار پڑھ لیا کرو توتم بچ جاؤ گی۔ انسان میں determination ہونی چاہیے، تمہاری determination ہو گی، پکّا ارادہ ہو گا تو پھر تم چھوڑو گی، اگر تم ہر چیز کوcasually لو گی، تو پھر کچھ نہیں ہو گا۔

ایک سوال حضورِانور کی خدمتِ اقدس میں یہ پیش کیا گیا کہ مسلمان حج کے موقع پر اپنے سر کیوں منڈواتے ہیں، اور کیا پہلے عمرہ کی ادائیگی کے بعد بھی سر منڈوانا چاہیے؟

اس پر حضورِانور نےفرمایا کہ حج اور عمرہ میں سر shave کرنا چاہیے، لیکن قرآنِ شریف میں یہ لکھا ہوا ہے کہ اگر تمہارے سر پر کوئی بیماری ہے تو اُوپر سے ذرا سے بال کاٹ دو، بالکل shave نہ کرو اور عمرے میں بھی یہی ہے کہ بال shaveبھی کر سکتے ہیں اور ذرا سے کاٹ بھی سکتے ہیں۔ یہ دونوں چیزیں جائز ہیں۔ یہ حالات پر depend کرتا ہے۔ shave کر لو تو اچھا ہے۔ اس طرح سے انسان اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں totally submit کر دیتا ہے، اس لیے یہ ایک gesture ہے جو انسان ظاہر کرتا ہے۔

ایک شریکِ مجلس نے سوال کیا کہ کم عمر میں تہجد کی نماز پڑھنے کی عادت پیدا کرنے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟

اس پر حضورِانور نے فرمایا کہdetermination، کہ مَیں نے اتنے بجے اُٹھنا ہے اور تہجد پڑھنی ہے، تو اُٹھو اور تہجد پڑھ لو۔ اگر انسان کہے کہ مجھے نیند آ رہی ہے، نہیں اُٹھنا، سویا ہوا ہوں، تو پھر ٹھیک ہے اس طرح عادت نہیں بنے گی۔ اس لیے حدیث میں بھی آیا ہے کہ جلدی سو جاؤ تا کہ تم جلدی اُٹھ کے تہجد اور نماز پڑھ سکو۔تمہارے انگلش میں ایک proverb(ضرب المثل) بھی ہے کہ

Early to bed and early to rise, makes a man healthy, wealthy and wise.

حضورِانور نے اس ضرب المثل کی روشنی میں فرمایا کہ پس اگر healthy, wealthy and wise بننا ہے، تو اس کے لیےپھر تہجد پڑھنا بھی ضروری ہے۔

ایک ناصرہ نے حضورِانور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ مجھے آپ کے جمعہ کے خطبات کو سمجھنا مشکل لگتا ہے، کیونکہ مَیں سارے الفاظ نہیں سمجھ پاتی، حالانکہ میں گھر میں اُردو بولتی ہوں۔ نیز راہنمائی کی درخواست کی کہ مَیں آپ کے خطبات اور تقریروں کو بہتر رنگ میں سمجھنے کے لیے کیا کر سکتی ہوں؟

اس پر حضورِانور نے توجہ دلائی کہ اب تو ایم ٹی اے پر ایک“Friday Sermon for Kids” پروگرام آتا ہے، اس میں اس کی summary، gist اور important points، وہ بچوں کے لیول کے اُوپر آ کے بتا دیتے ہیں۔ تم خطبہ کے بعد وہ پروگرام ایم ٹی اے پردیکھ لیا کرو یا weekend پر یا اگلے weekend پر دیکھ لیا کرو، تو ساری باتیں وہ بتا دیتے ہیں، پھر آپ اسےبآسانی سمجھ سکتی ہیں۔

ایک شریکِ مجلس نے سوال کیا کہ میں کس طرح معلوم کر سکتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے راضی ہے؟

اس پر حضورِانور نے فرمایا کہ تمہیں پتا ہے کہ تم کون سے اچھے کام کرتی ہو اور کون سے بُرے، کون سے اچھے اعمال ہیں اور کون سے بُرے؟ جب تم اچھے کام کرو، تو اللہ میاں کہتا ہے کہI am pleased with you اور اگر تم بُرے کام کرو، تو وہ کہتا ہے کہ I am not۔

ذاتی محاسبہ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے حضورِانور نے فرمایا کہ تم خود ہی اپنے آپ کو judge کر لیا کرو کہ اگر آپ نے جھوٹ بولا تو یہ ایک بُرا عمل ہے، اللہ آپ سے خوش نہیں ہو گا۔ اگر ہر حالت میں سچ بولو گی، تو اللہ آپ سے خوش ہو گا۔ حضورِانور نے اس نصیحت کا اعادہ فرمایا کہ تم خود ہی اپنے آپ کو judgeکر لیا کرو، کسی اَور کوjudgeکرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

ایک لجنہ ممبر نے حضورِانور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ بطور ایک نوجوان لڑکی کے مجھے بعض اوقات تعلیمی اور ذاتی ترقی کے دباؤ سے گھبراہٹ محسوس ہوتی ہے، مَیں کس طرح اللہ تعالیٰ کے میرے لیےمقرر کردہ منصوبے پر بھروسا کرنا سیکھ سکتی ہوں؟

اس پر حضورِانور نے انتہائی بصیرت افروز عملی راہنمائی عطا فرمائی کہ یہ یقین رکھو کہ نیک کام کرو، اللہ تعالیٰ سے دعا کرو، تو اللہ تعالیٰ سنتا ہے۔ اسی طرح تجویز فرمایا کہ جب اس طرح سے stress ہو، تو دو نفل پڑھ لیا کرو یا سجدے میں دعا کیا کرو اور کچھ charity نکال دیا کرو، کسی غریب کی مدد کر دیا کرو۔بہت ساری charity organisations ہیں، ان کو دے دیا۔ اپنے charity میں چندہ دے دیا،صدقہ دے دیا۔ There are a lot of things۔ جو غریبوں کی مدد کرنے کےلیے دے دو تو تمہارےheart کی satisfaction ہو گی۔

پھر درود شریف پڑھا کرواور زیادہ پریشر لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ تمہارا پہلا کام پڑھائی کرنا ہے۔

حضورِانور کے دریافت فرمانے پر سائل نے عرض کیا کہ وہ ان شاء الله ڈاکٹر بننا چاہتی ہیں۔یہ سماعت فرما کر حضورِانور نےفرمایا کہ پھر بغیر کسی tension کے پڑھائی کرو، اتناeasy بھی نہ ہو کہ آپ پاس ہو جاؤ گی۔وقت پر پڑھائی کرو اور اللہ سے دعا کرو۔ جو سکول میں پڑھو تو پھر گھر آکے اس کی revision کر لیا کرو۔ ساتھ کے ساتھ روزکا روز homeworkکرلو یا revision کر لو،تو تمہیں چیزیں یاد ہو جائیں گی۔ پھر جب تمہارے weekly یا monthly ٹیسٹ ہوں گےیا mock exams، ان سب میں تم پاس ہوتی جاؤ گی، تمہارے اچھے نمبر آئیں گے، تمہاری ایک مضبوط base ہو جائے گی۔

اسی طرح توکّل کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے سمجھایا کہ جب base اچھی ہو گی، تو تمہیں زیادہ tension لینے کی ضرورت نہیں ہے۔پھر الله پر توکّل کرو کہ مَیں نے اپنی capacity کے حساب سے جو محنت تھی وہ کر لی اور دعا جو تھی وہ بھی مَیں نے اللہ میاں سے کر لی، چیریٹی اور صدقہ بھی دے دیا، اب اللہ میاں تجھ پر مَیں نے اپنا معاملہ چھوڑ دیا ہے۔ پھر اگر اس طرح توکّل کرو، تو اللہ تعالیٰ ضائع نہیں کرتا، ان شاءاللہ پاس کر دے گا۔

مزید برآں حضورِانور نے غیر ضروری فکر اور پریشانی سے اجتناب برتنے کی بابت تلقین فرمائی کہ لیکن پریشان ہو کے ہر وقت گھومتے رہنا کہ مَیں کیا کروں، مَیں نے mathematics کا سوال کیا تھا، وہ ٹھیک تھا کہ غلط تھایا بیالوجی کا مَیں نے فلاں سوال کیا تھا، وہ ٹھیک تھا اور فلاں چیز ٹھیک تھی یا نہیں، تو سوچتی رہو گی تو دماغ پر اثر ہو جائے گا اور کچھ بھی حاصل نہیں ہو گا۔ آخر میں دوبارہ نصیحت فرمائی کہ relax رہو،محنت کرو، دعا کرو، صدقہ دے دو and that’s all، یہ توکّل ہے۔

ایک شریکِ مجلس نے راہنمائی کی درخواست کی کہ وہ اپنے دہریہ دوستوں کو کیا جواب دے، جب وہ یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر خدا ہے، تو پھر وہ دنیا میں ظلم کی اجازت کیوں دیتا ہے؟

اس پر حضورِانور نے استفہامیہ انداز میں دریافت فرمایا کہ اللہ نے کہاں ظلم کی اجازت دی ہے، اللہ تو کبھی بھی ظلم کی اجازت نہیں دیتا، ا للہ تو کہتا ہے کہ انصاف کرو۔ اللہ نے تو کہا ہے کہ جو unjust کرتے ہیں، مَیں ان کو سزا دوں گا، ان کو سزا ملے گی۔انہیں اللہ کے غضب سے خوفزدہ ہونا چاہیے۔

حضورِانور نے اسلام کے بلند معیارِ انصاف کو قرآنی تعلیم کی روشنی میں واضح فرمایا کہ اللہ میاں نے تو کہیں نہیں کہا کہ injustice کرو، اللہ تو کہتا ہے کہ تمہارا جسٹس کا لیول اور standard اتنا بلندہونا چاہیے کہ اگر تمہیں اپنے parents کے متعلق بھی صحیح بات کہنی پڑے اور اگر ان کو سزا بھی ملتی ہوتو کہو، اگر تمہارے اپنے siblings کے بارے میں کہنا پڑے، تب بھی کہو، کسی بڑے آدمی کے بارے میں کہنا پڑے، تو بے شک سچی بات کرو تاکہ جسٹس قائم ہو۔ قرآن شریف میں توبے شمار جگہ آیا ہے کہ انصاف کرو اور اگر تم نے انصاف نہ کیا تو تمہیں سزا دی جائے گی۔

عالمی انصاف کے پسِ منظر میں بڑی طاقتوں کے دُہرے معیاروں کی جانب حضورِانور نے توجہ مبذول کروائی کہ تو جو غیر احمدی ایسا کہتے ہیں، وہ صرف اسلام پر الزام لگاتے ہیں، اسلام تو کہتا ہے کہ There should be absolute justice۔ یہ ان کی جسٹس ہے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ ان سے پوچھو کہ تم جسٹس کر رہے ہو، اسرائیل فلسطینیوں کو مار کے جسٹس کر رہا ہے? وہ تو اس کو justify کر دیتے ہیں کہ انہوں نے یہ کیا یا وہ کیا، تو اس لیےجائز ہےIs it justice۔ تم چھوٹی ہو، باقی بڑی ہیں، شاید بڑوں کو سمجھ آ جائے۔ یہاں United Nations ہے، انہوں نے پانچ ملکوں کے لیے ویٹو پاور رکھی ہوئی ہے، کیا یہ انصاف ہے؟ کیونکہ اگر ان کے خلاف بات ہو، if they speak in favour of some country، تو باقی امریکہ یا رشیا یا چائنا، وہ اس کو ویٹو کر دیتے ہیں، کیونکہIt is not in their interest۔ تو جسٹس تو یہ لوگ نہیں کرتے۔ اسلام تو جسٹس کرتا ہے۔ اسلام تو بڑا حکم دیتا ہے کہ اپنے قریبیوں کے خلاف بھی اگر تمہیں بولنا پڑے تو تم بولو اور انصاف قائم کرو۔

آخر میں حضورِانور نےقرآنی دلائل اور اس پر مبنی اپنے فرمودات کے نوٹس دوسروں کو بطورحوالہ پیش کرنے کی نصیحت فرمائی کہ قرآنِ شریف میں کئی جگہ لکھا ہوا ہے، ان کو بتایا کرو کہ قرآنِ شریف پڑھو، اپنے ابّا سے کہو یا اُمّی سے کہو کہ تمہیں آیتیں نکال کے بتا دیں۔ مَیں نے اس پر بہت ساری تقریریں کی ہوئی ہیں، ان میں سے نوٹ لے لو، اَور جگہوں پر بھی بیان کیا ہوا کہ کس طرح peace قائم کر سکتے ہیں، کس طرح absolute justiceہو سکتا ہے، وہ پڑھ کے اور نوٹ کر کے بتایا کرو کہ یہ دیکھو، اللہ میاں تو یہ کہتا ہے۔

ایک لجنہ ممبر نے سوال کیا کہ کیا اللہ تعالیٰ بعض روحوں پر زیادہ بوجھ اس لیے ڈالتا ہے کہ وہ ان سے زیادہ محبّت کرتا ہے یا اس لیےکہ ان کو زیادہ طاقتور سمجھتا ہے؟

اس پر حضورِانور نے انبیاء کی مشکلات اور صبر کے بارے میں فرمایا کہ انبیاء سب سے زیادہ مشکلات برداشت کرتے ہیں۔ سوال کے نفسِ مضمون کی روشنی میں مزید وضاحت کرتے ہوئےآنحضرتؐ کی سیرتِ مبارکہ کی روشنی میں بیان فرمایا کہ ایک دفعہ ایک شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہاتھ لگایا، بڑا سخت جسم گرم تھا اور بخار تھا، لیکن آپ بیٹھے ہوئے آرام سے کام کر رہے تھے۔ اس نےپوچھا کہ آپؐ کو بھی بخار چڑھ جاتا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں! مجھے تم لوگوں سے زیادہ تکلیفیں ہوتی ہیں، بخار بھی چڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ نے میرے اندر طاقت رکھی ہوئی ہے اور پھر مجھے اس نے برداشت کی طاقت بھی دی ہوئی ہے، کیونکہ اللہ جانتا ہے، لیکن مَیں اپنے کام نہیں چھوڑتا۔

اسی طرح آنحضرتؐ کی صبر و استقامت کی بابت مزید بیان فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اس پر لکھا ہے کہ انبیاء کو مشکلات آتی ہیں اور بہت زیادہ آتی ہیں۔ مثال دی کہ مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی بیٹے پیدا ہوئے اور فوت ہوئے لیکن صبر کیا، جنگوں میں زخم لگے مگر صبر کیا، کوئی ایسی بات نہیں کی، جبکہ بعض دفعہ دوسرے ایسے مواقع پر ہائے ہائے کر دیتے ہیں، اظہار ہی نہیں کیا۔ بلکہ اُحد کی جنگ میں زخمی ہونے کے بعد بھی جب مدینہ واپس گئے، تو باوجود زخموں کے، ایک نماز کے بعد اگلی نماز میں آ گئے تھے۔

آخر میں الله کے پیاروں کی آزمائشوں کے پیچھے کارفرما حکمت کی جانب توجہ دلاتے ہوئے حضورِانور نے فرمایا کہ اللہ ان لوگوں کو طاقت دیتا ہے اور ان کی آزمائشیں دنیا کو بتانے کےلیے ہیں کہ دیکھو! یہ نہیں کہ جو اللہ کے پیارے ہیں، وہ آرام سے بیٹھے ہوئے ہیں، بڑی خوبصورتmattresses لگی ہوئی ہیں، comfortable بیڈز ہیں، cushion chairs ہیں اور اس پر بیٹھ کے آرام سے باتیں کر رہے ہیں، ان کو بھی تکلیفیں ہوتی ہیں تاکہ لوگوں کو بھی پتا لگے کہ وہ بھی ساری تکلیفوں سے گزرے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ اُن کو طاقت دیتا ہے۔

ملاقات کے اختتام پر حضورِ انورنے تمام شاملینِ مجلس کو از راہِ شفقت قلم کا تحفہ بطورِ تبرک بھی عطا فرمایا۔

مزید برآں شاملینِ مجلس میں سے ایک ناصرہ نے اپنی خطاطی حضورِانور کی خدمتِ اقدس میں بغرضِ دستخط پیش کرنے کی بھی سعادت حاصل کی۔اس پر حضورِانور نے انتہائی شفقت سے فرمایا کہ مَیں اس پر تمہارےقلم سے ہی دستخط کردیتا ہوں نیز بعد ازاں ازراہِ شفقت خطاطی پر دستخط فرما دیے۔ اسی دوران حضورِانور نے انتہائی محبّت بھرے انداز میں اس کے بہن بھائیوں کی تعداد کے بارے میں بھی دریافت فرمایا، اس کے عرض کرنے پر فرمایا کہ اچھا! تم دو بہن بھائی ہو، نیز مزید دریافت فرمایا کہ لڑتے ہو یا نہیں؟ جس پر ناصرہ نے انتہائی معصومیت اور سادگی سے عرض کیا کہ تھوڑا سا۔ اس پر حضورِانور سمیت تمام شاملینِ مجلس مسکرا دیے اور اس مختصر مکالمے سے خوب محظوظ ہوئے۔

آخر پر حضورِانور نے فرمایا کہ چلو جی السلام علیکم!

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: لہو رستی کلائیاں

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button