متفرق

اے چھاؤں چھاؤں شخص! تری عمر ہو دراز

ڈائری مکرم عابد خان صاحب سے ایک انتخاب

(خلافت کے زیرِ سایہ ۔برکات و راہنمائی کے لمحات ۲۰۲۴ءتا۲۰۲۵ء۔ حصہ اوّل)

تعارف ۔ ایک سنہری دہائی کے بعد آزمائش کے موسم

گذشتہ ایک برس کے دوران مَیں یہ شمار کرنے سے ہی قاصر ہوں کہ کتنے لوگوں نے مجھ سے اس بابت دریافت کیا کہ مَیں کب حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ذاتِ بابرکات کے بارے میں اپنے مشاہدات اور تجربات پر مشتمل کوئی اور ’’personal account‘‘ یا ’’ڈائری‘‘ تحریر کرنے والا ہوں۔ ہر بار اس سوال کے جواب میں میرے دل میں دو متضاد احساسات نے بیک وقت جنم لیا۔ایک طرف ان کی دلچسپی پر اظہارِ شکرگزاری اور دوسری طرف اس بات پر شرمندگی کہ مَیں ایک سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود کچھ بھی تحریر نہ کر پایا تھا۔

میری تحریر کردہ بیشتر ڈائریاں گذشتہ دہائی کے دوران شائع ہوئیں، اور جب مَیں اس زمانے کی طرف نگاہ ڈالتا ہوںتو مجھے ۲۰۱۰ء کی گرمیوں میں ایک قریبی دوست اور مُحسن کی جانب سے کی گئی ایک نصیحت یاد آ جاتی ہے۔یہ تقریباً اسی وقت کے آس پاس کی بات ہے کہ جب حضورِ انور نے پہلی مرتبہ مجھے روزانہ کی بنیاد پر ملاقات کے لیے حاضر ہونے کی ہدایت فرمائی تھی۔یہ بات معلوم ہونے پر میرے دوست نے مجھے نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک دن تم اس زمانے کو اپنی زندگی کا سنہرا دَور سمجھ کر یاد کرو گے۔ اس لیے ہر دن حضورِ انور سے سیکھنے کی کوشش کرواور ان ایام کی قدر کرتے ہوئے انہیں دل وجان سے عزیز رکھنا، چاہے جب تک بھی یہ سعادت میسّر آئے۔

ماضی پر نگاہ دَوڑاتے ہوئے یہ نصیحت نہایت بصیرت افروز اور اہم ثابت ہوئی۔ ۲٠١٠ء سے ٢٠٢٠ء تک کا دس سالہ عرصہ ایک ایسی دہائی تھی کہ جس میں اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسے طریقوں سے نوازا کہ جن کا تصوّر مَیں کبھی خواب میں بھی نہیں کر سکتا تھا۔ ذاتی طور پر یہی وہ عرصہ تھا کہ جس دوران اللہ تعالیٰ نے مجھے اور میری اہلیہ کو ہمارے تین بچوں کی نعمت سے نوازا۔

سب سے بڑھ کر یہ ایک ایسا منفرد عرصہ تھا جس میں مجھے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی صحبتِ قُدسی میں، خواہ برطانیہ میں یا متعدد غیر ملکی دَوروں کے دوران، بے شمار گھنٹے گزارنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ اس وقت کی بہت سی یادیں اور خاص لمحات میرے دل پر نقش ہیں کہ اگر مَیں اپنی پوری زندگی بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے میں گزار دوں تب بھی ایسا ممکن نہ ہو سکے گا۔

پیچھے مڑ کر دیکھتے ہوئے ٢٠٢٠ء کے اوائل میں پھیلنے والی کووِڈ۔۱۹ کی عالمی وبا ایک نئے دَور کا آغاز ثابت ہوئی۔ مسلسل برکتوں کے ایک طویل عرصے کے بعد اس نے میرے اور بےشمار دیگر لوگوں کے لیے صبر اور آزمائش کا ایک نیا مرحلہ متعارف کروایا۔ یہ اُداسی بھرا وقت تھا۔ درحقیقت یہ وہ وقت تھا کہ جب چونکا دینے والی اور تکلیف دہ خبریں اکثر سامنے آتی رہیں۔ یہ ایک ایسا عرصہ بھی تھا جس دوران میرے بھانجے اور ساتھی سیّد طالع احمد گھانا میں سفر کے دوران شہید ہو گئے۔ اس واقعے نے مجھے دل و جان سے ہلا کر رکھ دیا اور میرے لیے یہ شدید جذباتی صدمے کا سبب بنا۔

جب کووِڈ کی پابندیوں نے دنیا کے بیشتر حصّوں کو مفلوج کر کے رکھ دیاتو حضورِ انور کے ساتھ میری ملاقاتیں بھی اچانک محدود ہو گئیں۔

مجھے یاد ہے کہ جب پہلے لاک ڈاؤن کی شدّت عروج پر تھی تو ہمیں پتا چلا کہ حضورِ انور اپنے گھر میں پھسلنے کے باعث زخمی ہو گئے ہیں۔اس وقت جو صدمہ اور تکلیف محسوس ہوئی اسے بیان کرنا مشکل ہے۔

الحمدللہ! حضورِانور نے جلد ہی اپنے زخموں سے مکمل صحت یابی حاصل کی۔ آپ کے ذاتی ہمت، وقار اور خلافت کے فرائض کی انجام دہی میں ثابت قدمی نے پوری جماعت کے لیے ایک مثال قائم کی۔ تاہم آپ کی ثابت قدمی، عاجزی اور مثالی کردار کے باوجود، خلافتِ احمدیہ کے خلاف آن لائن پھیلائی گئی نفرت اور مخاصمانہ جھوٹ کی سطح نے، جس میں حضورِ انور کے ذاتی طرزِ عمل اور شخصیت کو بھی نشانہ بنایا گیا، ایسی حدود عبور کیں کہ جس کی نظیر نہیں ملتی۔

مَیں نے ذاتی طور پر مشاہدہ کیا ہے کہ حضورِ انور ہمیشہ اللہ تعالیٰ اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے مشن کی خاطر اپنی تمام تر ذاتی دلچسپیوں کو پسِ پشت رکھتے ہیں۔ ایسے میں یہ دیکھنا کہ ان کے خلاف ایسے بدنیّتی پر مبنی حملے کیے جا رہے ہیں، میرے لیے انتہائی دکھ اور اذیّت کا سبب رہا اور آج بھی ہے۔اکثر جب حضورِانور کے کردار پر غیر منصفانہ حملے اپنے عروج پر ہوتے تھے تو مَیں اپنے آپ کو بے چین اور پریشان محسوس کرتا۔ تاہم ہمیشہ کی طرح جب بھی مَیں حضورِ انور سے ملاقات کرتا تو آپ مجھے تسلّی دیتے کہ مجھے نہیں فرق پڑتا کہ مخالفین مجھے گالیاں دیں یا میرے بارے میں جھوٹ پھیلائیں۔ بلکہ مَیں تو اسے اللہ تعالیٰ کا فضل سمجھتا ہوں۔کیونکہ ہر ایک گالی یا جھوٹ جو وہ میرے بارے میں بولیںممکن ہےاس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ میرا کوئی گناہ یا کمزوری معاف کر دے۔

اسی عرصے کے دوران حضورِ انور کی صحت کا متاثر ہونا بھی مشاہدے میں آیا۔ دراصل ڈاکٹروں کی تجویز پر حضورانور نے اپریل ٢٠٢٤ء میں ایک طبّی پروسیجر(procedure) کرایا۔ جہاں زیادہ تر لوگ آرام اور مکمل صحت یابی کے لیے کئی ہفتے لیتے ہیں وہاں حضورِ انور فوراً ہی اپنے دفتر اور فرائض منصبی کی انجام دہی کی جانب واپس لَوٹ آئے۔

البتہ عمر اور حالات کے تقاضوں کے نتیجے میں حالیہ برسوں میں حضورِ انور کے غیر ملکی دورے کم ہو گئے ، لیکن اس کے باوجود جماعت کے ساتھ حضور کا رابطہ کسی بھی طور پر کم نہیں ہوا۔ اس کے برعکس احمدیوں کو یہ سعادت حاصل ہوئی کہ وہ حضورِ انور سے ورچوئل ملاقاتوں کے ذریعے راہنمائی حاصل کر سکیں۔

مزید برآں کووِڈ پابندیوں کے خاتمے کے بعدہر ہفتے احمدی، چاہے ذاتی طور پر ہوں یا وفود کی شکل میں، اسلام آباد کا سفر کرتے ہیں تاکہ حضورِ انور سے شرفِ ملاقات حاصل کر سکیں اور ان کی مبارک اِقتدا میں نماز یں ادا کر سکیں۔

جو وفود یا گروپس حضورِ انور سے ملاقات کرتے ہیں، انہیں باقاعدگی سے ایم ٹی اے کے پروگرامThis Week with Huzoorمیں دکھایا جاتا ہے اور اخبار الحکم اور الفضل میں رپورٹ کیا جاتا ہے۔ یہی اصل وجہ ہے کہ مَیں نے ان واقعات کے بارے میں لکھنے میں ہچکچاہٹ محسوس کی ہے جو پہلے ہی کسی حد ّتک نشر یا رپورٹ ہو چکے ہیں۔

لہٰذا مَیں اس ڈائری میں گذشتہ سال کے چند ایسے واقعات پر توجہ دوں گا جو ظاہر کرتے ہیں کہ حضورِ انور کس طرح جماعت کی راہنمائی فرماتے ہیں اورغیروں کو اسلام کا حقیقی پیغام پہنچاتے ہیں۔نیز مَیں کچھ ذاتی یادیں بھی شیئر کروں گا کہ جو حالیہ ملاقاتوں سے وابستہ ہیں۔

یہ کسی بھی صورت میں حضورِ انور کی تمام ترسرگرمیوں یا ملاقاتوں کا احاطہ نہیں ہے۔ مثال کے طور پر مَیں نے جلسہ ہائے سالانہ برطانیہ، مختلف جماعتی پروگرامز جو حضورِ انور کی بابرکت معیّت میں منعقد ہوئے، یا اس سال ہونے والی درجنوں گروپ ملاقاتوں کا ذکر نہیں کیا، اور نہ ہی مَیں نے اس سال ہونے والی اعلیٰ شخصیات، ممبرانِ پارلیمنٹ اور سفراء کے ساتھ ملاقاتوں کا ذکر کیا ہے۔بلکہ میرا مقصد صرف چند حالیہ واقعات یا مشاہدات پیش کرنا ہے جو خلیفۂ وقت کی حکمت، وقار اور غیر معمولی شفقت کی عکاسی کرتے ہیں، جنہیں دیکھنے کی سعادت مجھے حاصل ہوئی۔

(جاری ہے)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: کیا امیرعبد الرحمٰن اور امیر حبیب اللہ کاجذبۂ جہاد احمدیوں کو شہید کرانے کا باعث بنا تھا؟

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button