متفرق

جو مومنوں میں سے خلیفہ ہوتے ہیں ان کو اللہ ہی بناتا ہے

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ فرماتے ہیں: ’’کسی قسم کا خلیفہ ہو اس کا بنانا جنابِ الٰہی کا کام ہے آدمؑ کو بنایا تو اللہ نے، داؤدؑ کو بنایا تو اُس نے، ہم سب کو بنایا تو اُس نے۔ پھر حضرت نبی کریمؐ کے جانشینوں کو ارشاد ہوتا ہے وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسۡتَخۡلِفَنَّہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ کَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ۪ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَہُمۡ دِیۡنَہُمُ الَّذِی ارۡتَضٰی لَہُمۡ وَلَیُبَدِّلَنَّہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِہِمۡ اَمۡنًا(نور:۵۶)[ترجمہ:تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال بجا لائے اُن سے اللہ نے پختہ وعدہ کیا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسا کہ اُس نے اُن سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا اور اُن کے لئے اُن کے دین کو، جو اُس نے اُن کے لئے پسند کیا، ضرور تمکنت عطا کرے گا اور اُن کی خوف کی حالت کے بعد ضرور اُنہیں امن کی حالت میں بدل دے گا۔]

جو مومنوں میں سے خلیفہ ہوتے ہیں ان کو بھی اللہ ہی بناتا ہے۔ ان کو خوف پیش آتا ہے مگر خدا تعالیٰ ان کو تمکنت عطا کرتا ہے۔ جب کسی قسم کی بدامنی پھیلے تو اللہ ان کے لئے امن کی راہیں نکال دیتا ہے۔ جو اُن کا منکر ہو اس کی پہچان یہ ہے کہ اعمالِ صالحہ میں کمی ہوتی چلی جاتی ہے اور وہ دینی کاموں سے رہ جاتا ہے۔‘‘

(حقائق الفرقان، جلد ۱ صفحہ ۱۲۵و۱۲۶)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button