احمدی عورت کا اہم کردار اور اس کی ذمہ داریاں
عائلی مسائل اور ان کا حل
بچوں کوبد ظنیوں اور کدورتوں سے بچائیں
۲۷؍اگست۲۰۰۵ء کوجلسہ سالانہ جرمنی کے موقعہ پر خواتین سے خطاب میں حضور انور ایّدہ اللہ تعالیٰ نے احمدی خواتین کوذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئےفرمایا:’’ ایک عورت کیونکہ ایک بیوی بھی ہے، ایک ماں بھی ہے۔ اس وجہ سے اپنے خاوند کے لئےبھی مسائل کھڑے کررہی ہوتی ہے، اپنے بچوں کی تربیت بھی خراب کررہی ہوتی ہے۔ کیونکہ ان بد ظنیوں کا پھر گھر میں ذکر چلتا رہتا ہے۔ بچوں کے کان میں یہ باتیں پڑتی رہتی ہیں وہ بھی ان باتوں سے متاثر ہوتے ہیں، اثر لیتے ہیں۔ ان کی اٹھان بھی اس بدظنی کے ماحول میں ہوتی ہے اور یوں بڑے ہو کر وہ بھی اس وجہ سے اس برائی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ تو ایسی مائیں اس قسم کی باتیں بچوں کے سامنے کرکے جس میں فساد کا خطرہ ہو جو ایک دوسرے کے متعلق دلوں میں رنجشیں پیدا کرنے والی ہو، جو بدظنیوں میں مبتلا کرنے والی ہو، جن سے کدورتیں پیدا ہونے کا خطرہ ہو، جہاں اپنے بچوں کو برباد کررہی ہوتی ہیں وہاں جماعت کی امانتوں کے ساتھ بھی خیانت کررہی ہوتی ہیں‘‘۔ (مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۲۵؍ستمبر۲۰۱۵ء)
عورت بحیثیت بیوی
اپنے ایک خطبہ جمعہ میں حضور انور ایّدہ اللہ بنصرہ العزیزنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کی تشریح کرتے ہوئے ہر شخص کے نگران ہونے کے نتیجہ میں اُس پر عائد ہونے والی ذمہ داریوں کو بیان فرمایا۔ حضورانور نےفرمایا:’’پھر بیوی کو توجہ دلائی کہ خاوند کے گھر کی، اس کی عزت کی، اس کے مال کی اور اس کی اولاد کی صحیح نگرانی کرے۔ اس کا رہن سہن، رکھ رکھاؤ ایسا ہو کہ کسی کو اس کی طرف انگلی اٹھانے کی جرأت نہ ہو۔ خاوند کا مال صحیح خرچ ہو۔ بعضوں کو عادت ہوتی ہے بلا وجہ مال لٹاتی رہتی ہیں یا اپنے فیشنوں یا غیر ضروری اشیاء پر خرچ کرتی ہیں ان سے پرہیز کریں۔ بچوں کی تربیت ایسے رنگ میں ہو کہ انہیں جماعت سے وابستگی اور خلافت سے وابستگی کا احساس ہو۔ اپنی ذمہ داری کا احسا س ہو۔ پڑھائی کا احساس ہو۔ اعلیٰ اخلاق کے اظہار کا احساس ہو تاکہ خاوند کبھی یہ شکوہ نہ کرے کہ میری بیوی میری غیر حاضری میں (کیونکہ خاوند اکثر اوقات اپنے کاموں کے سلسلہ میں گھروں سے باہر رہتے ہیں ) اپنی ذمہ داریاں صحیح اد انہیں کر رہی اور پھر یہی نہیں، اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ خاوند کا شکوہ یا زیادہ سے زیادہ اگر سزا بھی دے گاتو یہ تو معمولی بات ہے۔ یہ تو سب یہاں دنیا میں ہو جائیں گی لیکن یاد رکھو تم جزا سزا کے دن بھی پوچھی جاؤ گی اور پھر اللہ بہتر جانتا ہے کہ کیا سلوک ہونا ہے۔ اللہ ہر ایک پہ رحم فرمائے‘‘۔ (خطبہ جمعہ فرمودہ ۶؍اپریل ۲۰۰۷ء بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن۔ مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۲۷؍اپریل ۲۰۰۷ء)
(ماخوذ از عائلی مسائل اور ان کا حل صفحہ۲۰۲تا۲۰۴)
مزید پڑھیں: حدیث نبویؐ میں سردار لشکر’’منصور‘‘والی پیشگوئی اور حضرت مسیح موعودؑ کے کشف کے مصداق



