حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

مومن کا امتحان اس کو مزید صیقل کرنے کے لیے ہے

ایک چیز یہ بھی یاد رکھنی چاہئے کہ خدا تعالیٰ کے مامور کو ماننے والے، زندگی حاصل کرنے والے اور زندگیاں دینے والوں کو قربانیاں بھی دینی پڑتی ہیں اور مامور کے ساتھ شامل ہونے والے ہر قسم کی قربانی کے لئے تیار ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کی قربانیاں ضائع نہیں ہوں گی۔ ان کو قربانیوں کی اہمیت کا پتا ہوتا ہے۔ اس لئے وہ بعض دفعہ اپنی اس ظاہری زندگی کو روحانی زندگی کے لئے قربان کر دیتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وقت میں بھی ایسے تھے جنہوں نے اپنے خاندان، رشتے دار، مال، کاروبار حتی کہ جان تک کی قربانی دی۔ ماننے والوں کو جذبات کی، رشتے داروں کی، مالوں کی تو اکثر قربانی دینی پڑتی ہے لیکن جان کی قربانیاں دینے والے بھی ہوتے ہیں۔ تو ان میں ایسے تھے جنہوں نے یہ سب کچھ قربان کیا لیکن اپنی روحانی زندگی پر موت نہیں آنے دی۔ اور آج بھی سینکڑوں ہزاروں ایسے ہیں جو قربانیاں دیتے ہیں۔ جذبات کی قربانی ہے، مال کی قربانی ہے، رشتوں کی قربانی ہے۔ یہ سب قربانیاں وہ خوشی سے دے رہے ہیں اور جان کی قربانیاں بھی بعض جگہوں پہ دے رہے ہیں۔ بعض ایسے ہیں جو احمدیت قبول کرتے ہیں، اسلام کے حقیقی زندگی بخش پیغام کو قبول کرتے ہیں تو ساتھ ہی ان کے لئے مشکلات اور مصائب کا دَور شروع ہو جاتا ہے لیکن وہ اس کی پرواہ نہیں کرتے۔ روحانی زندگی کو ظاہری زندگی پر ترجیح دیتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ یہ لوگ مختلف تکالیف میں سے گزرتے ہیں، بہت تنگ کیا جاتا ہے لیکن پرواہ نہیں کرتے۔ ایسی مشکلات سے گزرنے والوں کی اب تو جماعت کی تاریخ میں بے شمار مثالیں ہیں۔

(خطبہ جمعہ ۱۵؍ اگست ۲۰۱۴ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۲۹؍اگست ۲۰۱۴ء)

یہ اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ کھرے اور کھوٹے میں فرق کرنے کے لئے آزماتا ہے۔ کبھی کسی قسم کے امتحان سے گزارتا ہے اور کبھی کسی اور قسم کے امتحان سے گزارتا ہے۔ یہ امتحان ایمان میں جو مضبوط لوگ ہیں ان کے تعلق میں اضافہ کرتا ہے۔ ان کا مضبوط ایمان بڑھا دیتا ہے اور جو کمزور اور معترض ہیں جو کہ کسی نہ کسی رنگ میں اعتراض میں مصروف رہتے ہیں، وہ لوگ ہر جماعت میں کچھ نہ کچھ ہوتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر اعتراض ہوتے ہیں۔ چھوٹے عہدےداروں پر اعتراض ہوتے ہیں۔ بڑے عہدے داروں پر اعتراض ہوتے ہیں اور پھر یہ اعتراض جو شروع ہوتے ہیں تو بڑھتے بڑھتے ان لوگوں کے ایمان کے لئے بھی خطرہ اور ابتلا بن جاتے ہیں اگر اللہ کا خاص فضل نہ ہوتو پھر بعضوں پہ ایک صورت ایسی بھی آ جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ جماعت کی صداقت پر ہی شک کرنے لگ جاتے ہیں۔ اسی طرح مخالفین کی طرف سے تکالیف اور دشمنیاں کمزور ایمان والوں کو ابتلاؤں میں ڈال دیتی ہیں۔ پس مومن کا امتحان اس کو مزید صیقل کرنے کے لئے ہے۔ اس کو خدا تعالیٰ کا قرب دلانے کے لئے ہے اور من حیث الجماعت، جماعت کے لئے کامیابی کے نئے راستے کھولنے کے لئے ہے، نہ کہ مغلوب کرنے کے لئے۔

(خطبہ جمعہ یکم اکتوبر ۲۰۱۰ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل۲۲؍اکتوبر ۲۰۱۰ء)

مزید پڑھیں: دنیا کے کونے کونے میں قادیان کی شہرت ہے

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button