نماز جنازہ حاضر و غائب بتاریخ 13؍مارچ 2018ء
مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری اطلاع دیتے ہیں کہ بتاریخ13؍مارچ2018ء بروز منگل نماز ظہر سے قبل حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نےمسجد فضل لندن کے باہر تشریف لاکرمکرمہ درثمین شیخ صاحبہ (سکنتھورپ ۔یوکے) کی نماز جنازہ حاضر اور کچھ مرحومین کی نماز جنازہ غائب پڑھائی۔
نماز جنازہ حاضر
مکرمہ درثمین شیخ صاحبہ (سکنتھورپ۔یُوکے) 9مارچ 2018ء کو 58سال کی عمرمیںبقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّالِلٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت حاجی محمد صدیق صاحب (آف پٹیالہ ) کی پوتی تھیں۔ صوم وصلوٰۃ کی پابند، دعاگو، نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ آپ انگلستان میںواقع یونیورسٹی آفHullمیںبطور ایڈمنسٹریٹر کام کررہی تھیں۔ پسماندگا ن میں ایک بہن اور ایک بھائی یادگار چھوڑے ہیں۔
نماز جنازہ غائب
1۔مکرمہ امۃ الحفیظ عابدہ زیروی صاحبہ( اہلیہ مکرم حافظ مظفر احمد صاحب ۔ایڈیشنل ناظر اصلاح وارشاد مقامی ربوہ)26 فروری 2018 ءکو 70سال کی عمر میں وفات پا گئیں۔ اِنَّالِلٰہِ وَ اِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ مکرم صوفی خدا بخش زیروی صاحب مرحوم (واقف زندگی)کی بیٹی تھیں۔ آپ نے ایم ایس سی ریاضی کرنے کے بعد 1971ءسے جامعہ نصرت ربوہ میں بطور لیکچرار ملازمت کا آغاز کیا اور یہاں سے 2008ء میں بطور پرنسپل ریٹائرڈہوئیں۔آپ نے 1972ء سے لے کر 2017 ء تک مسلسل لجنہ اماء اللہ پاکستان کے مختلف شعبہ جات میں خدمت کی توفیق پائی۔1999ءمیں بطور نمائندہ لجنہ اماء اللہ جلسہ سالانہ برطانیہ میں شرکت کی۔ نمازوں میں باقاعدگی کا بہت خیال رکھتی تھیں۔ اپنے بچوں اور پوتوں کی تربیت میں بھی اس امر کا خاص خیال رکھا۔ جب تک صحت رہی رمضان کے روزے بھی باقاعدگی سے رکھتی تھیں۔چندےبڑی باقاعدگی سے ادا کرتیں اور دیگر مالی قربانیوں میں بھی حصہ لیتی تھیں۔ حضور کے خطبات باقاعدگی سے سنتی تھیں۔طبیعت میں نیکی اورخود داری بہت تھی اور اپنا بوجھ کسی پر ڈالنا پسند نہیں تھا۔ تمام بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی اور ان کی بہت اچھی تربیت کی۔ خلافت سے وفا اور محبت کا گہرا تعلق تھا۔ اپنی تکلیف دہ بیماری کا بڑے صبر اور حوصلہ سے مقابلہ کیا۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں میاں کے علاوہ ایک بیٹی اور تین بیٹے یادگار چھوڑے ہیں ۔آپ کے ایک بیٹے مکرم مظہر احمد صاحب مربی سلسلہ نور فاؤنڈیشن ربوہ میں خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔
2۔مکرم ملک منور احمد صاحب (گوجرانوالہ) 22جنوری 2018ء کو 71 سال کی عمر میںوفات پا گئے۔ اِنَّالِلٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ گوجرانوالہ شہر کے حلقہ اسلام آباد کے صدر جماعت کے طورپر خدمت کی توفیق پائی ۔ صوم و صلوٰۃ کے پابند، مالی تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے مخلص اور فدائی احمدی تھے۔ خلافت سے بےپناہ محبت تھی ۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹیاں اور تین بیٹے یادگار چھوڑے ہیں۔
3۔مکرمہ امتہ الجمیل صاحبہ اہلیہ مکرم محمد اشرف مبشر صاحب سدھو (ربوہ) 28 جنوری 2018ء کو سینیگال میں بقضائے الٰہی وفات پا گئیں۔ اِنَّالِلٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کا تعلق بہت مخلص گھرانے سے تھا۔ آپ کی دادی اور والد نے حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ پنجگانہ نمازوں کی پابند، تہجد گزار،چندوں میں باقاعدہ، بہت مخلص اور باوفا خاتون تھیں۔خلافت کے ساتھ گہرا عقیدت کا تعلق تھا۔ قرآن کریم کی تلاوت خود بھی بڑی باقاعدگی سے کرتی تھیں اور بچوں کو بھی اس کی تلقین کیا کرتی تھیں۔ اﷲ تعالیٰ کے فضل سے صاحبِ رؤیا و کشوف تھیں۔جماعتی کتب، رسائل اور اخبارات کا بڑے شوق سے مطالعہ کرتی تھیں۔ بہت غریب پرور تھیں۔ یتیم بچیوں کی شادیوں پر جہیز کا سامان بھی بنوا کر دیا کرتی تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔پسماندگان میں میاں کے علاوہ دوبیٹیاں اور چار بیٹے یادگار چھوڑےہیں۔آپ مکرم ناصر احمد صاحب سدھو(امیر ومشنری انچارج سینیگال) کی والدہ تھیں۔
4۔مکرم نعیم اللہ خالد صاحب(Frankenthal۔ جرمنی)31 جنوری 2018ء کو 80 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ اِنَّالِلٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت شیخ فضل احمد صاحب بٹالوی رضی اللہ عنہ کے داماد اور مکرم لئیق احمد صاحب طاہر ( مبلغ سلسلہ یوکے)کے بہنوئی تھے۔1984ء سے جرمنی میں مقیم تھےاور فرانکن تھال میں جماعت کا قیام آپ کے ذریعہ سے ہوا۔بہت بے نفس اور عاجز انسان تھے۔ ہر ایک سے پیار سے ملتے اور عزت سے پیش آتے تھے۔خلافت سے عشق کی حد تک پیار تھا اور خلیفۂ وقت کی ہرتحریک پر لبیک کہنے کی کوشش کرتے تھے۔ آپ اللہ کے فضل سے 3/1 حصہ کے موصی تھے۔
5۔مکرمہ فرحت الطاف صاحبہ اہلیہ مکرم وقار مصطفیٰ چوہدری صاحب (لاہور)5/6 فروری 2018ء کی درمیان رات کو تقریباً 73سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّالِلٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت مولانا شیرعلی صاحب رضی اللہ عنہ کے بڑے بھائی حضرت حافظ عبدالعلی صاحب رضی اللہ عنہ کی پوتی تھیں۔ بہت سی خوبیوں کی مالک، ملنسار ، مہمان نواز ، نیک اور مخلص خاتون تھیں۔دوسروں کے جذبات کا بڑی باریک بینی سے خیال رکھتی تھیں۔ حلقہ گلبرگ (لاہور) میں صدر لجنہ کے علاوہ سیکرٹری مال کے طور پر خدمت کی توفیق پائی ۔ اسی طرح شعبہ اصلاح وارشاد میں بھی خدمت بجالاتی رہیں۔ رسالہ مصباح میں مضامین بھی لکھا کرتی تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔پسماندگان میں چار بیٹیاں اور دو بیٹے یادگار چھوڑےہیں۔
6۔مکرمہ جمیلہ شہنازصاحبہ اہلیہ مکرم عبد الخالق لدھیانوی صاحب۔7 فروری 2018ء کو بقضائے الٰہی وفات پا گئیں۔ اِنَّالِلٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ صوم و صلوۃ کی پابند تھیں۔ اکثر ایک نماز کے بعد دوسری نمازکے انتظار میں رہتی تھیں۔ غریبوں کی ہمدرد، مہمان نواز اور سلیقہ شعارخاتون تھیں۔ کم آمدنی کے باوجود خدا کی راہ میں خرچ کرتی رہتی تھیں۔ پردہ کا خاص خیال رکھتی تھیں اور اپنی بچیوں کو بھی اس کی تلقین کیا کرتی تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔
7۔مکرمہ سائرہ احمد صاحبہ (Ottawa۔کینیڈا) 9فروری 2018ء کو تقریباً 36سال کی عمرمیںوفات پا گئیں۔ اِنَّالِلٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت محمد اسماعیل سرساویؓ کی پڑپوتی اور مکرم ماسٹر سعد اللہ صاحب کی پوتی تھیں۔ تقریباً تین سال تک کینسر کی بیماری کا بڑے صبر اور حوصلہ کے ساتھ مقابلہ کیا۔ کبھی ناامیدی یا مایوسی کا اظہار نہیں کرتی تھیں۔ وفات سے دو ماہ قبل جب آپ کو ڈاکٹروں نے بتایا کہ اب ان کے پاس بیماری کا کوئی علاج باقی نہیں رہا تو اس پر بڑے اطمینان سے جواب دیا کہ مجھے خدا کی ذات پر بھروسہ ہے ۔ مرحومہ نمازوں کی پابند ، انتہائی ملنسار، خوش مزاج اور حوصلہ مند خاتون تھیں۔
اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنی رضا کی جنتوں میں جگہ دے۔ نیز پسماندگان کو صبرجمیل عطا فرمائے۔ آمین
٭…٭…٭
