نماز جنازہ حاضر و غائب

نمازِ جنازہ حاضر و غائب

مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریر کرتے ہیں کہ حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۳؍جنوری ۲۰۲۶ء بروز ہفتہ بارہ بجے بعد دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر مکرمہ نسیمہ بیگم خان صاحبہ اہلیہ مکرم مولود احمد خان صاحب (سابق امام مسجد فضل لندن) اور مکرم راجہ عبدالرحیم صاحب ابن مکرم راجہ عبد القدیر صاحب مرحوم (آف Southmead۔یوکے) کی نماز جنازہ حاضر اور چھ مرحومین کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔

نماز جنازہ حاضر

۱۔مکرمہ نسیمہ بیگم خان صاحبہ اہلیہ مکرم مولود احمد خان صاحب (سابق امام مسجد فضل لندن)

22؍دسمبر2025ء کو 93 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ مئی 1956ء میں اپنے مبلغ سلسلہ شوہر کے ساتھ لندن (یوکے) آئیں۔ مرحومہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ حضرت ماسٹر اللہ دتہ صاحب رضی اللہ عنہ کی پوتی اور حضرت ماسٹر محمد حسن آسان صاحب رضی اللہ عنہ کی بہو اور مکرم مسعود احمد دہلوی صاحب (سابق ایڈیٹر الفضل ربوہ )کی بھابھی تھیں۔ مرحومہ نے 2017ء میں بینن میں مسجد تعمیر کروانے کی توفیق پائی۔ 2007ء میں فریضہ حج ادا کرنے کی بھی سعادت حاصل کی۔ بڑی عبادت گزار اور غرباء کی دل کھول کر مالی مدد کرنے والی ایک مخلص، نیک اور باوفا خاتون تھیں۔ غریب بچیوں کی شادیوں پر بھی خرچ کرتیں اور تحریک جدید اور ہیومینٹی فرسٹ میں بہت کھلے دل سے باقاعدگی سے حصہ لیتی رہیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں تین بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ مکرم عرفان خان صاحب (آف جرمنی) کی چچی تھیں۔

۲۔مکرم راجہ عبدالرحیم صاحب ابن مکرم راجہ عبد القدیر صاحب مرحوم (آف Southmead۔یوکے)

28؍دسمبر2025ء کو 63 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت نبی بخش صاحب رضی اللہ عنہ کے پوتے تھے۔ مرحوم 2009ء میں یوکے آئے تھے۔ صوم وصلوٰۃ کے پابند، بڑے ملنسار، خدا ترس، متقی اور خلافت کے ساتھ گہرا عقیدت کا تعلق رکھنے والے مخلص انسان تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹی اور چار بیٹے شامل ہیں۔ آپ مکرم نصیرالدین ہمایوں صاحب (عملہ حفاظت خاص) کے ماموں تھے۔

نماز جنازہ غائب

۱۔مکرم عبد المنان لون صاحب (آف ناصر آباد کشمیر۔ انڈیا)

25؍نومبر 2025ء کو 81 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم صوم و صلوٰۃ اور تلاوت قرآن کریم کے پابند، تہجد گزار،غریب پرور، مہمان نواز، جفاکش، منکسر المزاج، بڑے مستجاب الدعابزرگ تھے۔ نماز تہجد اور تلاوت قرآن مجید میں بھی بڑے باقاعدہ تھے۔ رمضان میں حتّی المقدور اعتکاف کی بھی توفیق ملتی رہی اور حج بیت اللہ کی بھی سعادت پائی۔ خلافت سے والہانہ عقیدت اور محبت کا تعلق تھا۔ حضورانو ر کا خطبہ جمعہ اور خطابات بڑی پابندی کے ساتھ سنتے تھے۔ آپ نے لمبا عرصہ مختلف جماعتی اور تنظیمی عہدوں پر خدمت کی توفیق پائی۔ ایک مستعد داعی الی اللہ بھی تھے۔ جماعتی لٹریچر کا بڑا گہرا مطالعہ تھا۔بڑے علم دوست اور باذوق انسان تھے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹی اور چار بیٹے شامل ہیں۔ دو بیٹے واقف زندگی ہیں۔ ایک بیٹے مکرم جاوید احمد لون صاحب (مربی سلسلہ) بطور ناظر دیوان صدرا نجمن احمد یہ قادیان میں خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔

۲۔مکرم چودھری عبدالرشید صاحب (آف شیخو پوره۔ حال ٹورانٹو۔ کینیڈا)

5؍جولائی 2025ء کو 89 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ مرحوم کے تایا مکرم فضل دین صاحب کےذریعہ ہوا۔ جن کا نام ربوہ کے نقشہ بنانے والوں میں بھی شامل ہے۔ آپ نے قائد خدام الاحمدیہ شہر اور ضلعی سطح پر سیکرٹری تحریک جدید اور سیکرٹری دعوت الی اللہ کے فرائض سرانجام دیے۔ جب تک شیخو پورہ میں رہے آپ کا گھر نماز سنٹر رہا۔ آپ نماز باجماعت کے پابند، مہمان نواز، چندوں کی ادائیگی میں باقاعدہ اور ایک پُر جوش داعی الی اللہ تھے۔ تبلیغ کا سلسلہ کینیڈا آکر بھی جاری رکھا۔ آپ محکمہ انہار سے بطور سپرنٹنڈنٹ (گزٹڈ آفیسر) ریٹائرڈ ہوئے۔ ہمیشہ اور ہر جگہ اپنا تعارف احمدیت کے حوالے سے کروایا۔ دفتری ماحول میں تعصب کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن ہمیشہ بڑی حکمت کے ساتھ حالات کا مقابلہ کیا اور تبلیغ کے میدان میں کبھی بزدلی نہیں دکھائی۔ گذشتہ چوبیس سال سے کینیڈا میں مقیم تھے۔ جہاں مختلف جماعتی دفاتر میں جا کر خدمت کی توفیق پاتے رہے۔ اپنے حلقہ (Rexdale) کے نائب صدر کے طورپر بھی خدمت کی توفیق پائی۔ آپ ایک نافع الناس وجود تھے۔ آپ کے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ رہتی۔ اپنے حلقہ احباب میں بڑے ہر دلعزیز وجود تھے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ تین بیٹے اور چھ بیٹیاں شامل ہیں۔

۳۔مکرمہ نوید السحر جٹالہ صاحبہ اہلیہ مکرم رمضان الحق جٹالہ صاحب (کیلیفورنیا، امریکہ)

8؍دسمبر2025ء کو بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ مکرم چودھری محمد شریف صاحب مرحوم (سابق امیر ضلع لودھراں) کی بیٹی تھیں۔ مرحومہ لجنہ اماءاللہ کے کاموں میں بہت شوق اور باقاعدگی سے حصہ لیتی تھیں۔ آپ کو مقامی لجنہ میں مختلف عہدوں پر خدمت کی بھی توفیق ملی۔ کئی سال جلسہ سالانہ ویسٹ کوسٹ امریکہ میں جلسہ گاہ کے سٹیج کی تزئین و آرائش کے کام میں بھی خدمت کی توفیق پائی۔ مرحومہ نمازوں اور روزوں کی باقاعدگی سے پابندی کرتی تھیں اور رمضان میں متعددمرتبہ اعتکاف کی بھی سعادت حاصل کی۔ تلاوتِ قرآنِ کریم سے خاص شغف تھا اور صبح و شام باقاعدگی سے تلاوت کیا کرتی تھیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ابتدائی صحابہ کرام کے واقعات پڑھنا اور انہیں دوسروں تک پہنچانا مرحومہ کی نمایاں خصوصیات تھیں۔ چندہ جات باقاعدگی سے اور بروقت ادا کرتی تھیں۔خلافت سے گہری محبت اور اطاعت کا تعلق تھا۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں میاں کے علاوہ دو بیٹے شامل ہیں۔

۴۔مکرم چودھری منظور احمد گوندل صاحب (میر پور خاص۔ سندھ)

19؍نومبر2025ء کو بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت چودھری علی محمد گوندل صاحب رضی اللہ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ آپ پنجوقتہ نماز وں اور تلاوت قرآن کریم کے پابند، تہجد گزار، خدا سے بے پناہ پیار کرنے والے اور حدود الله کی سختی سے پابندی کرنے والے نیک مخلص انسان تھے۔ آپ کو اپنے گاؤں گوٹھ احمدیہ (عمر کوٹ) میں مسجد بنوانے کی بھی توفیق ملی۔ خاندان میں اگر کہیں دیکھتے کہ کسی کے مالی حالات خراب ہیں تو خاموشی سے اس کی مدد کر دیتے۔ گھر میں کام کرنے والوں کا خاص خیال رکھتے اور وقتاً فوقتا ًان کی طرف اضافی رقم بھجواتے رہتے تھے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں دو بیٹیاں اور چار بیٹے شامل ہیں۔ آپ مکرم مبشر احمد گوندل صاحب (کارکن امیر صاحب آفس لندن) کے ماموں تھے۔

۵۔مکرم چودھری نذر احمد صاحب (کوٹ عبد المالک ضلع شیخوپورہ)

28؍نومبر 2025ء کو بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ نے اپنی والدہ کے ساتھ 9سال کی عمر میں بیعت کی توفیق پائی۔ مرحوم پنجوقتہ نمازوں کے پابند، ہمدرد، ملنسار، مخلص اور باوفا انسان تھے۔ خلافت کے ساتھ گہرا فدائیت کا تعلق تھا۔ آپ نے کوٹ عبد المالک کی جماعت کے صدر اور دیگر مختلف شعبہ جات میں خدمت کی توفیق پائی۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا اور دوبیٹیاں شامل ہیں۔

۶۔مکرمہ طاہرہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم منیر احمد صاحب (منہائم نارتھ جرمنی)

10؍دسمبر 2025ء کو 71 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ بڑی نیک سیرت، خوش اخلاق، سادہ مزاج، غریب پرور اور صابرہ و شاکرہ خاتون تھیں۔ خلافت اور جماعت سے گہرا تعلق تھا۔ قرآنِ کریم سے بڑالگاؤ تھا۔ آپ نے تجوید و ترجمہ کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی اور 67 سال کی عمر میں معلمہ بننے کی توفیق پائی اور باقاعدگی سے قرآنِ کریم کی تعلیم دیتی رہیں۔ بیماری کے دوران بھی آن لائن قرآن کلاسز جاری رکھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں میاں کے علاوہ تین بیٹے اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔

اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button