متفرق مضامین

جانوروں کی بقا کے راستے: دنیا بھر میں وائلڈ لائف کراسنگز

(نائلہ جمیل – کینیڈا)


سڑکیں جدیدانسانی معاشروں میں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں اور ترسیلِ مال و افراد کے لیے ناگزیر سمجھی جاتی ہیں۔ جیسے جیسے شہروں اور دیہات میں آبادی بڑھتی ہے، ویسے ویسےسڑکوں، پلوں، ریلوے لائنوں اور رہائشی علاقوں کی تعمیر میں بھی تیزی آتی ہے۔ تاہم اس ترقی کی ایک قیمت ہے، جو اکثر ہماری نظروں سے اوجھل رہتی ہے—اور وہ ہے سنگین ماحولیاتی مسائل اور جنگلی حیات پر اس کے گہرے اور دیرپا اثرات۔
متعدد سائنسی مطالعات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ سڑکیں قدرتی مسکن کو متاثر کر تے ہوئے، جانوروں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ بنتی ہیں اور جنگلی حیات کی ہلاکت کا اہم سبب ثابت ہوتی ہیں۔بعض تخمینوں کے مطابق، گاڑیوں کے ساتھ ہونے والے تصادم روزانہ ایک ملین سے زائد جانوروں کی جان لے لیتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ بڑی شاہراہیں اور دیگر ترقیاتی منصوبے جانوروں کی آبادیوں کو تقسیم کر دیتے ہیں اور ان کے قدرتی مساکن کو اس طرح ٹکڑوں میں بانٹ دیتے ہیں کہ بہت سی انواع کے لیے بقا ایک سنگین چیلنج بن جاتی ہے۔اپنے رہائشی علاقوں کے وسیع حصوں تک رسائی سے محرومی جنگلی حیات کے لیے خوراک تلاش کرنے، ساتھی ڈھونڈنے اور اپنی نسل کو برقرار رکھنے کے عمل کو نہایت دشوار بنا دیتی ہے۔ ان بڑھتے ہوئے ماحولیاتی مسائل کے پیشِ نظر، دنیا کے مختلف ممالک نے ایک مؤثرحل کی جانب توجہ دی ہے، جسے وائلڈ لائف کراسنگز کہا جاتا ہے۔1،2،3
یہ وائلڈ لائف کراسنگز جانوروں کو محفوظ طریقے سے اپنی رہائش گاہوں اور خوراک کے حصول کے لیےسفر کرنے کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ وائلڈ لائف کراسنگز بنیادی طور پر ایسی مخصوص حفاظتی راہیں ہیں جو سڑکوں یا دیگر ڈھانچوں کے اوپر یا نیچے بنائی جاتی ہیں تاکہ جانور بغیر کسی خطرے کے اپنی نقل و حرکت کر سکیں۔ یہ اقدامات نہ صرف جانوروں کی حفاظت کے لیے ضروری ہیں بلکہ انسانی زندگی اور معاشرتی ترقی کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔وائلڈ لائف کراسنگز کی اقساموائلڈ لائف کراسنگز کی اقسام میں اوور پاس اور انڈر پاس کراسنگز شامل ہیں۔ ان دونوں کی بھی ساخت اور ڈیزائن کے لحاظ سے مختلف اقسام ہیں جو درج ذیل ہیں۔
لینڈ اسکیپ پل (Landscape Bridge):
یہ بڑے سائز کے پل صرف جنگلی حیات کے لیے مخصوص طور پر تیار کیے جاتے ہیں۔ اپنی وسعت اور ساخت کی وجہ سے، ان سے مختلف اقسام کی جنگلی مخلوقات فائدہ اٹھاتی ہیں۔ ان پلوں کو اس طرح ڈیزائن کیا جاتا ہے کہ وہ ایمفیبیئنز(پانی اور خشکی دونوں میں رہنے والے جانور) اور رینگنے والے جانداروں کے لیے بھی موزوں ہوں۔
اوور پاس(Overpass):
ریلوے لائن یا سڑک کے اوپر جانوروں کے گزرنے کے لیے جو مخصوص راستے بنائے جاتے ہیں انہیں اوورپاس کہتے ہیں۔یہ ڈھانچے لینڈ اسکیپ برِج کے مقابلے میں نسبتاً چھوٹے ہوتے ہیں۔ ان کا مقصد چھوٹے سے بڑے تمام جانوروں کے لیے ایک محفوظ راستہ فراہم کرنا ہے۔ یہ خاص طور پر اُن علاقوں میں مؤثر ثابت ہوتے ہیں جہاں مختلف اقسام کی جنگلی حیات پائی جاتی ہیں اور انہیں سڑکیں عبور کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ قدرتی ماحول کی مماثلت سے ان کو گھاس، درختوں اور پودوں سے ڈھکا جاتا ہے تاکہ جانوروں کو قدرتی مسکن جیسا ماحول فراہم کیا جاسکے۔
ملٹی یوز اوور پاس (Multi-use Overpass):
یہ اوور پاس عموماً جنگلی حیات کی گزرگاہوں میں سب سے چھوٹے ہوتے ہیں اور انسان و جانور دونوں کے مشترکہ استعمال کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ یہ زیادہ تر اُن علاقوں میں مؤثر ہوتے ہیں جہاں انسانی سرگرمیاں پہلے سے جاری ہوں۔ ایسے ڈھانچے اُن جانوروں کے لیے خاص طور پر فائدہ مند ہوتے ہیں جو انسانی شور و حرکت کے عادی ہوتے ہیں اور انسانی موجودگی کے باوجود اپنی فطری سرگرمیاں جاری رکھ سکتے ہیں۔
کینوپی کراسنگ(Canopy Crossing):
یہ گزرگاہیں خاص طور پر اُن درختوں پر رہنے والی یا نیم درختی انواع کے لیے بنائی جاتی ہیں جو اپنی نقل و حرکت کے لیے درختوں کی چھتری یا شاخوں کا سہارا لیتی ہیں۔ یہ ڈھانچے اُن جانوروں کی ضروریات پوری کرتے ہیں جو زمینی سفر کے لیے موزوں جسمانی ساخت نہیں رکھتے اور عموماً کھلے یا غیر جنگلاتی علاقوں کو عبور کرنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔
تتلیوں اور پرندوں کے لیے گرین روف (Green Roofs):
گرین روف وائلڈ لائف کراسنگ کی ایک جدید اور مؤثر قسم ہے جو عموماً سڑکوں یا پلوں کے اوپر تعمیر کی جاتی ہے اور قدرتی مناظر سے ہم آہنگ ہوتی ہے۔ گرین روف کراسنگز خاص طور پر چھوٹے جانوروں، پرندوں، تتلیوں اور کیڑوں کے لیے مفید ثابت ہوتی ہیں، جبکہ یہ ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے، شور اور آلودگی کو کم کرنے اور شہری علاقوں میں سبزہ بڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
انڈرپاس(Underpass):
یہ ایسی سرنگیں ہیں جو سڑک، پل یا ریلوے کے نیچے تعمیر کی جاتی ہیں جنہیں ایکو پیسجز بھی کہا جاتا ہے۔ان کی مختلف اقسام درج ذیل ہیں۔
وئیاڈکٹز (Viaducts):
یہ انڈر پاس میں سب سے بڑے ڈھانچے ہوتے ہیں۔ یہ ایسےلمبے، پل جیسےڈھانچےہیں جو عام طور پر محرابوں کی ایک قطار پر مشتمل ہوتے ہیں، اور جس کے ذریعے سڑک یا ریلوے کو کسی وادی یا نشیبی علاقے کے اوپر سے گزارا جاتا ہے۔انہیں گرین برج بھی کہاجاتاہے۔روایتی وئیاڈکٹز انسانوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جب کہ جنگلی حیات کے لیے مخصوص وئیاڈکٹز ایسےبڑے ڈھانچے ہوتے ہیں جو خاص طور پر اس مقصد کے لیے تعمیر کیے جاتے ہیں کہ جانور شاہراہوں کو محفوظ طریقے سے عبور کر سکیں جیسا کہ ملائیشیا اور یوٹا (امریکہ) جیسے مقامات پر دیکھا جا سکتا ہے۔
بڑے ممالیہ جانوروں کے انڈر پاس (Large Mammal Underpass):
یہ وئیاڈکٹز کے مقابلے میں چھوٹے مگر جنگلی حیات کے لیے مخصوص طور پر ڈیزائن کیے جاتے ہیں۔ ان کا مقصد بڑے ممالیہ جانوروں کے لیے محفوظ گزرگاہ فراہم کرنا ہے، تاہم درمیانے اور چھوٹے جانور بھی ان راستوں سے بخوبی فائدہ اٹھاتے ہیں۔
ملٹی یوز انڈر پاس(Multi-use Underpass):
یہ ڈھانچے انسان اور جنگلی حیات دونوں کے مشترکہ استعمال کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ ان کا سائز عام طور پر بڑے ممالیہ انڈر پاس سے چھوٹا ہوتا ہے۔ یہ اُن علاقوں میں مؤثر ثابت ہوتے ہیں جہاں انسانی سرگرمیاں اور جنگلی زندگی ایک ساتھ موجود ہوں۔ یہ ہر نوع کے لیے مثالی نہیں، مگر ایسے جانور ان سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں جو انسانی ماحول سے مانوس ہیں، جیسے شہری یا نیم شہری علاقوں کے عام النوع جانور۔
پانی کے بہاؤ والے انڈر پاس(Underpass with Waterflow):
یہ ڈھانچے پانی کے بہاؤ اور جانوروں کی نقل و حرکت دونوں کے تقاضوں کو مدنظر رکھ کر بنائے جاتے ہیں۔ درمیانے اور چھوٹے ممالیہ جانور عام طور پر ان انڈر پاسز سے فائدہ اٹھاتے ہیں، خاص طور پر جب ان کے اندر دریائی پودوں یا قدرتی آڑ کو برقرار رکھا گیا ہو۔
چھوٹے اور درمیانے جانوروں کے انڈر پاس(Small- to Medium-sized Mammal Underpass):
یہ جنگلی حیات کی گزرگاہوں میں سے نسبتاً چھوٹے ڈھانچے ہوتے ہیں۔ ان کا مقصد چھوٹے اور درمیانے درجے کے ممالیہ جانوروں کو محفوظ راستہ فراہم کرنا ہے۔
ترمیم شدہ کلورٹ(Modified Culvert):
یہ وہ گزرگاہیں ہیں جو دریاؤں، نالوں یا آبپاشی کے علاقوں میں پہلے سے موجود کراسنگز میں تبدیلی کے ذریعے بنائی جاتی ہیں۔ ان میں عموماً خشک پلیٹ فارم یا واک وے شامل کیے جاتے ہیں جو پانی کی بلند سطح سے اوپر تعمیر ہوتے ہیں تاکہ جانور آسانی سے گزر سکیں۔
ایمفیبیئن اور رینگنے والے جانوروں کے سرنگی راستے(Amphibian and Reptile Tunnels):
ان کو ہرپ ٹنلز بھی کہا جاتا ہے اور یہ سٹرک کے نیچے تعمیر کی جاتی ہیں۔ ان کے مختلف ڈیزائنز استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ رینگنے والے جانوروں جیسے مینڈک، ٹوڈز، اور سلامینڈر وغیرہ کی مخصوص ضروریات پوری کی جاسکیں۔4
وائلڈ لائف کراسنگزکے ڈیزائن کے اہم اصول:
مؤثر وائلڈ لائف کراسنگز کی تعمیر کے لیے مختلف اصولوں پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ان میں سب سے ضروری یہ اصول ہے کہ جانوروں کی قدرتی نقل و حرکت،رویّوں اور انسانی سہولت سب کو مدنظر رکھا جائے۔اس کے بعد مقام کا محتاط انتخاب، مناسب چوڑائی اور اونچائی، اور قدرتی اور علاقائی مناظروماحول کے ساتھ ہم آہنگی شامل ہیں۔ان کراسنگز کو ڈیزائن کرتے ہوئےبڑے ممالیہ، چھوٹے جانوروں، رینگنے والوں اور آبی حیات کی ضروریات کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔اس کے ساتھ مضبوط حفاظتی باڑکا انتظام ضروری ہے تاکہ جانور سڑک پر آنے کے بجائے کراسنگز کی طرف جاسکیں۔ ڈیزائن ایسا ہونا چاہیے جو ماحولیاتی توازن، جانوروں کی سلامتی اور انسانی تحفظ تینوں کو یکجا کرے، تاکہ یہ منصوبے طویل مدت تک مؤثر اور پائیدار ثابت ہوں۔
دنیا بھر میں وائلڈ لائف کراسنگزکی عملی مثالیں
۱۔ بینف نیشنل پارک ہائی وے اوورپاس، کینیڈا:(Banff National Park highway overpasses, Canada):
۱۹۸۰ءکی دہائی میں ٹرانس کینیڈا ہائی وے کی توسیع کے بعد جانوروں کے تحفظ کے لیے اوورپاسز، انڈرپاسز اور باڑ کا نظام قائم کیا گیا۔ ۱۹۹۶ ءسے۲۰۱۲ ءکے درمیان ۱۱ بڑی جنگلی انواع نے ان کراسنگز کو ڈیڑھ لاکھ سے زائد مرتبہ استعمال کیا، جو دنیا کا سب سے بڑا ایسا نظام ہے۔



Banff Wildlife crossings Canada


۲۔ ٹرٹل ٹنل وسکونسن، امریکہ(Turtle tunnel, Wisconsin, USA):
چھوٹے جانور، خصوصاً کچھوے، سڑک حادثات سے شدید متاثر ہوتے ہیں۔ وسکونسن میں ایک مصروف شاہراہ کے نیچے سرنگ تعمیر کرنے سے کچھووں کی ہلاکتیں نمایاں طور پر کم ہو گئیں۔
۳۔ کریب بریج اور ٹنلز، کرسمس آئی لینڈ: (Crab bridge and tunnels, Christmas Island):
بارش کے موسم کے آغاز پر لاکھوں سرخ کیکڑے سمندر کی طرف ہجرت کرتے ہیں۔ ان کے تحفظ کے لیے سرنگیں، حفاظتی دیواریں اور دنیا کا واحد ’’کریب برِج‘‘ تعمیر کیا گیا، جبکہ ہجرت کے دوران ٹریفک بھی محدود کی جاتی ہے۔



Crab bridge over tunnels, Christmas Island


۴۔ ٹائیگر انڈرپاس، انڈیا(Tiger Underpass, India) :
۲۰۱۹ءمیں تعمیر ہونے والی ایک بلند شاہراہ کے نیچے جانوروں کے لیے دنیا کا طویل ترین انڈرپاس بنایا گیا، جس سے شیروں سمیت کئی جنگلی انواع محفوظ طریقے سے نقل و حرکت کر رہی ہیں۔
۵۔مونکی کراسنگ، برازیل(Monkey crossing, Brazil) :
درختوں پر رہنے والے جانوروں کے لیے ایک کچی سڑک کے اوپر فضائی کراسنگ تعمیر کی گئی، تاکہ بندر اور دیگر انواع محفوظ رہ سکیں۔ یہ ایمیزون میں سڑک پکی ہونے سے پہلے بنائی جانے والی پہلی ایسی مثال ہے۔
اس کے علاوہ آسٹریلیا اور مختلف یورپی ممالک جیسے کہ نیدرلینڈز، جرمنی اور فرانس میں مختلف وائلڈ لائف کراسنگزقائم ہیں جن سے سٹرک پر ہونے والے حادثات میں نمایاں کمی آئی ہے اور مختلف مقامی جنگلی حیات کی بقا بھی ممکن ہوئی ہے۔
وائلڈ لائف کراسنگزکے فوائداور اسلامی تعلیمات:
اسلام امن اور سلامتی کا مذہب ہے اور یہ امن اور سلامتی صرف انسانوں تک محدود نہیں بلکہ تمام جاندار اس سلامتی کے دائرے میں شامل ہونے چاہئیں۔ سیرت ِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آپﷺ جانوروں کی بقا، حفاظت اور آرام کی طرف خصوصی توجہ فرماتے تھے۔ اسلامی تعلیمات کی رو سے نہ صرف جانوروں کے خوراک،پانی اور آرام کا خیال رکھنا چاہیے بلکہ ان کے فطری ماحول اور مسکن کی بقا اور تحفظ بھی ضروری ہے۔ قرآن کریم بھی زمین میں موجود مخلوقات اور ان کے مساکن میں توازن کو قائم کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔وائلڈ لائف کراسنگز کا قیام اسی توازن کو برقرار رکھنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔
وائلڈ لائف کراسنگز کے قیام سے جنگلی حیات اور انسانی معاشرے دونوں کو متعدد اہم فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ سب سے نمایاں فائدہ یہ ہے کہ جانور محفوظ انداز میں اپنی قدرتی رہائش گاہوں اور خوراک کے حصول کے لیے نقل و حرکت کر سکتے ہیں، جو ان کی بقا اور مقامی حیاتیاتی توازن کے برقرار رہنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، وائلڈ لائف کراسنگز سڑکوں پر جانوروں اور گاڑیوں کے تصادم میں نمایاں کمی کا باعث بنتی ہیں، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں جنگلی جانوروں کی آمد و رفت زیادہ ہوتی ہے، یوں انسانی جانوں کے ضیاع اور ہر سال ہونے والے لاکھوں ڈالر زکے مالی نقصانات سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔ مزید برآں، یہ کراسنگز جانوروں کو اپنی قدرتی رہائش گاہ کے مختلف حصوں تک بغیر رکاوٹ رسائی فراہم کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں مقامی پودوں اور جانوروں کے درمیان ماحولیاتی توازن برقرار رہتا ہے، خاص طور پر پرندوں، چھوٹے جانوروں اور شکاری انواع کے لیے۔ وائلڈ لائف کراسنگز شہری ترقی اور سڑکوں کی تعمیر کے دوران جنگلی حیات کو پہنچنے والے نقصانات کو کم کرنے میں بھی مؤثر کردار ادا کرتی ہیں اور اس طرح انسانی ترقی اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے درمیان ایک متوازن تعلق برقرار رہتا ہے۔ علاوہ ازیں، یہ کراسنگز سائنسی تحقیق کے لیے بھی قیمتی مواقع فراہم کرتی ہیں، جن کے ذریعے ماہرین حیاتیات اور ماہرین ماحولیات جانوروں کی نقل و حرکت، رویّوں اور آبادی کے رجحانات کا مطالعہ کر کے بہتر منصوبہ بندی کر سکتے ہیں اور مستقبل کے لیے زیادہ محفوظ اور پائیدار ماحول کی تشکیل میں مدد دے سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: OCD پرندہ۔ سیٹن باور برڈ کی حیرت انگیز کہانی

  1. Fahrig & Rytwinski (2009).Fahrig L, Rytwinski T. Effects of roads on animal abundance: an empirical review and synthesis. Ecology and Society. 2009;14(1):art21. doi: 10.5751/ES-02815-140121۔ ↩︎
  2. https://www.ecologyandsociety.org/vol14/iss1/art21/ ↩︎
  3. https://education.nationalgeographic.org/resource/wildlife-crossings/ ↩︎
  4. https://www.fhwa.dot.gov/clas/ctip/wildlife_crossing_structures/ch_4.aspx ↩︎

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button