متفرق شعراء

ہر حال میں ہم آپؐ کے قدموں پہ چلے ہیں

اک عمر گزاری تھی جہاں پیارے نبیؐ نے
صد شکر کہ آ پہنچی ہوں میں مکے مدینے

نا کردہ گناہوں پہ اسیری بھی ہے دیکھی
دشنام طرازی کی اذیت بھی ہے جھیلی

اللہ کا گھر، مروہ، صفا دیکھ رہی ہوں
اب ثور، حرا اور قبا دیکھ رہی ہوں

بچوں کے لیے چین سے مشکل ہے پڑھائی
ممکن نہیں مردوں کے لیے کرنا کمائی

منسوب جو آقاؐ سے ہے ہر چیز یہاں ہے
یا رب یہ حقیقت ہے یا خوابوں کا سماں ہے

معمول کے اجلاس اور جلسے نہیں ہوتے
ہم عید بقر عید بھی رہ جاتے ہیں روتے

خوش بو مرے محبوب کی وادی میں بسی ہے
سانسوں کی مہک ساری فضاؤں میں رچی ہے

روزوں پہ‘ نمازوں پہ ہے قربانی پہ قدغن
وہ پہلی سی رونق نہیں خاموش ہے گلشن

بھر آیا ہے دل دیکھ کے یہ گنبد خضرا
اپنا بھی وہی حال ہے جو آپؐ پہ گزرا

ربوہ کی اداسی کو تو دیکھا نہیں جاتا
آقا نہ ہوں اس بستی میں سوچا نہیں جاتا

دل کرتا ہے ہر زخم یہاں کھول کے رکھ دوں
جو حال ہمارا ہے وہ سب آپؐ سے کہہ دوں

ہر حال میں ہم آپؐ کے قدموں پہ چلے ہیں
صبر اور دعاؤں سے سبھی درد سہے ہیں

احمدؑ کے غلاموں پہ بہت ظلم ہوا ہے
وہ چرکے لگائے ہیں کہ دل چیر دیا ہے

جو آپؐ کا اسوہ ہے وہی پیش نظر ہے
اصحاب محمدؐ کی طرح ہاتھوں پہ سر ہے

اللہ سے محبت کی سزا دیتے ہیں یہ لوگ
کلمہ جو پڑھیں جرم بنالیتے ہیں یہ لوگ

پرچم لیے توحید کا پر عزم کھڑے ہیں
اس رہ میں جگر پارے بھی قربان کیے ہیں

حد درجہ جہالت نے جما رکھا ہے ڈیرا
نفرت نے، تعصّب نے ہے ہر شخص کو گھیرا

بیواؤں یتیموں نے بہت صبر کیا ہے
ماؤں نے بڑے حوصلے سے درد سہا ہے

کتنی ہی مساجد کو ہے بے دردی سے توڑا
اور گنبد و محراب نہ مینار ہے چھوڑا

ہر یاس و الم رو بخدا کرتے ہیں آقاؐ
ہرحال میں ہم صلے علیٰ پڑھتے ہیں آقاؐ

پابندی ہے اذان پہ مشکل ہے گزارا
تالے ہوں مساجد پہ یہ کیسے ہو گوارا

اس دور مصائب میں بھی ہمت نہیں ہاری
تبلیغ کا، تعلیم کا ہر کام ہے جاری

روحانی خزائن پہ بھی پابندی سنا دی
قرآن بھی رکھ سکتے نہیں قید لگا دی

ہاں ضبط کا یارا نہ رہا روضے پہ آ کر
اللہ سے فریاد ہے روداد سنا کر

فہرست بہت لمبی ہے جو خون بہے ہیں
اور اس سے کہیں بڑھ کے ہیں جو زخمی ہوئے ہیں

انسان ہے بے بہرہ اسے راہ ہدیٰ دے
اسلام کا رستہ مری دنیا کو دکھا دے

قبروں کو اکھاڑا گیا توڑے گئے کتبے
وہ ظلم کہ قبروں سے نکالے گئے مردے

ہر قوم اسی چشمے سے سیراب ہو مولا
اب دین محمدؐ ہی فتحیاب ہو مولا

(امۃالباری ناصر ۔ امریکہ)

مزید پڑھیں: سورج تو ہے پہ آنکھ میں بینائی بھی تو ہو

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button