متفرق شعراء

سورج تو ہے پہ آنکھ میں بینائی بھی تو ہو

سورج تو ہے پہ آنکھ میں بینائی بھی تو ہو
سچی طلب ہو جذبے میں سچائی بھی تو ہو

اس درجہ اضطراب پہ دعویٰ ہے عشق کا
کچھ حوصلہ ہو صبر و شکیبائی بھی تو ہو

پھر حال دل سنے نہ سنے ثانوی سا ہے
اس کی نگہ میں اپنی پذیرائی بھی تو ہو

کیسے کسی کے درد کا احساس ہو تمہیں
لفظوں کی چوٹ دل پہ کبھی کھائی بھی تو ہو

کہنے کا لطف تب ہے مخاطب میں جذب ہو
ان بے حسوں میں تھوڑی سی دانائی بھی تو ہو

مقبول ہو گی دل کی دعا آسمان پر
کچھ آنکھ درد و سوز سے دھندلائی بھی تو ہو

پھر خود بخود ہی دل میں اترتی ہے دل کی بات
کچھ علم و آگہی سے شناسائی بھی تو ہو

لفاظی کام آتی ہے نہ لہجے کی لچک
شعروں میں وزن ہو کوئی گہرائی بھی تو ہو

(امۃالباری ناصر ۔ امریکہ)

مزید پڑھیں: پُروقار لہجہ

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button