مکتوب

مکتوب مشرقِ بعید(جنوری۲۰۲۶ء)

(محمد فاتح ملک)

مشرقِ بعید کےتازہ حالات و واقعات کا خلاصہ

بیجنگ میں چین–کینیڈا قیادت کی تاریخی ملاقات

چین اور کینیڈا کے درمیان گذشتہ کئی برسوں سے جاری کشیدگی کے بعد، جنوری ۲۰۲۶ء میں دونوں ممالک نے ایک نئے عہد کا آغاز کیا ہے۔ کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے ۱۴ تا ۱۷؍جنوری ۲۰۲۶ء چین کا دورہ کیا، جو آٹھ سال بعد کینیڈا کے کسی وزیر اعظم کا چین کا پہلا دورہ تھا۔ کینیڈا کے وزیراعظم کے دورہ چین اور صدر شی جن کے ساتھ ملاقات نے بین الاقوامی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ بیجنگ کے گریٹ ہال آف دی پیپل میں ہونے والی اس ملاقات میں کئی اہم شعبوں پر اتفاق کیا گیا جن میں درج ذیل اہم ہیں۔

تجارتی ٹیرف میں بڑی کمی: کینیڈا نے چینی الیکٹرک گاڑیوں (EVs) پر عائد ۱۰۰فیصد ٹیرف کو ختم کر کے اسے محض ۶.۱% تک لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے بدلے میں، چین نے کینیڈا سے درآمد ہونے والے کینولا (Canola)، سمندری خوراک اور گوشت پر عائد پابندیاں اور بھاری محصولات یکم مارچ سے کم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان مصنوعات پر محصولات ۸۵ فیصد سے کم کر کے ۱۵ فیصد کرنےکا اعلان کیا ہے۔

نئی اسٹریٹجک شراکت داری: دونوں راہنماؤں نے ایک ’’روڈمیپ‘‘ پر دستخط کیے ہیں جس کا مقصد زراعت، توانائی، اور مالیات کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔

خارجہ مداخلت کا معاملہ: وزیراعظم مارک کارنی نے کینیڈا کے انتخابات میں مبینہ چینی مداخلت کے حساس معاملے پر بھی بات کی، جسے انہوں نے تعلقات کو ’’درست پٹڑی‘‘ پر لانے کے لیے ضروری قرار دیا۔

یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ (صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں) نے کینیڈا پر بھاری تجارتی محصولات عائد کر رکھے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ کینیڈا اپنی معیشت کو امریکہ پر انحصار سے نکال کر متنوع بنانا چاہتا ہے، جس کے لیے چین ایک اہم ترین منڈی ہے۔

یاد رہے کہ ۲۰۱۸ء میں ہواوے کی ایگزیکٹو مینگ وانژو کی گرفتاری اور اس کے جواب میں دو کینیڈین شہریوں کی حراست کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات ’’کولڈ وار‘‘ جیسی صورتحال کا شکار تھے۔ جسٹن ٹروڈو کے دور میں یہ تعلقات کم ترین سطح پر تھے، لیکن حالیہ ملاقات نے ان تلخیوں کو ختم کرنے کی راہ ہموار کر دی ہے۔نیز چین اور کینیڈا کے تعلقات کو مزید بہتر بنانے اور تجارت کو فروغ دینے کے لیے درج ذیل باتوں پر بھی اتفاق کیا گیا۔

یکم مارچ ۲۰۲۶ء سے کینیڈین کینولا کے لیے چینی مارکیٹ کے دروازے دوبارہ کھل جائیں گے۔

موسمِ گرما میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی پارٹنرشپ ورکنگ گروپ کا پہلا اجلاس کینیڈا میں منعقد ہوگا۔

چینی صدر اور برطانوی وزیر اعظم کی اہم ملاقات

جنوری ۲۰۲۶ء میں برطانیہ کے وزیرِاعظم سر کیئر سٹارمر نے چین کا ایک اہم چار روزہ سرکاری دورہ کیا ۔ بیجنگ میں یہ ملاقات اس لحاظ سے خاص تھی کہ یہ آٹھ سالوں بعد برطانیہ کے وزیرِاعظم کا چین کا پہلا دورہ تھا۔

اس ملاقات کے نتیجے میں دونوں ممالک نے متعدد اہم شعبوں میں تعاون پر اتفاق کیا ہے۔

ویزا فری انٹری کا اعلان: فروری کے پہلے ہفتے میں ہونے والے ایک بڑے اعلان کے مطابق، چین نے برطانوی شہریوں کے لیے ۳۰ دن تک ویزا فری سفر کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد سیاحت اور کاروباری رابطوں کو فروغ دینا ہے۔

تجارتی معاہدات: دونوں راہنماؤں نے ۱۰ بڑے حکومتی معاہدوں پر دستخط کیے، جن میں مالیات (Finance)، تعلیم، صحت اور فوڈ سیفٹی کے شعبے شامل ہیں۔ خاص طور پر ’’تجارت برائے خدمات‘‘ (Trade in Services) کے حوالے سے ایک مشترکہ مطالعہ شروع کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔

کلین انرجی پارٹنرشپ: برطانیہ اور چین نے قابلِ تجدید توانائی اور ’’لوکاربن ٹیکنالوجی‘‘ میں تعاون کا ایک نیا فریم ورک تیار کیا ہے تاکہ موسمیاتی تبدیلی کے عالمی چیلنجز سے مل کر نمٹا جا سکے۔

جرائم کے خلاف تعاون: غیر قانونی تارکین وطن کی روک تھام کے لیے انسانی اسمگلروں کے زیرِ استعمال کشتیوں کے انجنوں کی سپلائی روکنے اور منشیات (Synthetic Opioids) کی اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ کریک ڈاؤن پر بھی اتفاق کیا گیا۔

یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی مسابقت عروج پر ہے ۔ اس لیے اس ملاقات کو عالمی سطح پر کافی پزیرائی ملی۔ کچھ تجزیہ کاروں نے اس کو برطانیہ کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی اور امریکہ کے مقابلے میں یورپ اور چین کے ساتھ تعلقات میں توازن قرار دیا ہے۔وزیراعظم اسٹارمر نے جہاں معاشی تعاون پر زور دیا وہاں انہوں نے واضح کیا کہ تائیوان کے معاملے پر برطانیہ کی دیرینہ پالیسی برقرار ہے، جبکہ ہانگ کانگ کو دونوں ممالک کے درمیان ایک معاشی پل کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

جاپان کی وزیرِاعظم کا ملک میں قبل از وقت انتخابات کا اعلان

جاپان کی وزیرِاعظم سانائے تاکائچی نے ۱۹؍جنوری ۲۰۲۶ء کو اعلان کیا کہ وہ ایوانِ زیریں (Diet) کو تحلیل کر دیں گی اور ۸؍فروری ۲۰۲۶ء کو عام انتخابات کرائیں گی، حالانکہ اصل طور پر انتخابات اکتوبر ۲۰۲۸ء تک متوقع تھے۔ جاپان کی وزیراعظم سنائے تاکائچی نے اپنی حکومت کے لیے عوامی مینڈیٹ حاصل کرنے اور معاشی پالیسیوں کو نئی جلا بخشنے کے لیے ملک میں قبل از وقت عام انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے۔

تاکائچی جنہیں جاپان کی ’آئرن لیڈی‘ کہا جاتا ہے، جاپان کی پہلی خاتون وزیر اعظم ہیں اور اکتوبر ۲۰۲۵ء میں انہوں نے وزیر اعظم کا عہدہ پہلی دفعہ سنبھالا تھا۔ عہدہ سنبھالنے کے بعد تاکائچی کی مقبولیت کا گراف ۷۰ فیصد تک پہنچ گیا تھا اور وہ اس مقبولیت کو پارلیمنٹ میں واضح اکثریت میں بدلنا چاہتی ہیں۔

وزیراعظم نے مہنگائی کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے اشیائے خورونوش پر Consumption Tax کو عارضی طور پر معطل کرنے کا وعدہ کیا ہے، جس کے لیے وہ عوام کی براہِ راست حمایت چاہتی ہیں۔نیز علاقائی تناؤ (خصوصاً چین اور تائیوان کے تناظر میں) کے باعث وہ دفاعی بجٹ میں اضافے اور قومی سلامتی کی نئی پالیسی پر مہرِ تصدیق کروانا چاہتی ہیں۔ اس وقت جاپان میں بجلی، گیس اور خاص طور پر چاول کی قیمتوں میں اضافہ ووٹرز کے لیے تشویش کا باعث ہے۔مہنگائی کے ساتھ ساتھ دفاعی پالیسی اور معاملات میں بھی تاکائچی کو کافی سخت مخالفت کا سامنا ہے۔

انتخابات کے لیے مہم ۲۷؍جنوری سے شروع ہے، جس میں ایوانِ نمائندگان کے ۴۶۵ ارکان منتخب کیے جائیں گے۔ ایل ڈی پی (LDP) کے پاس اس وقت ۱۹۹ نشستیں ہیں اور جاپان انوویشن پارٹی کے ساتھ اتحاد کے ذریعے حکومت کر رہی ہے۔حالیہ جائزوں کے مطابق وزیراعظم کی جماعت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (LDP) اور اس کی اتحادی جماعتوں کو بھاری اکثریت ملنے کا امکان ہے۔ ایل ڈی پی اور جاپان انوویشن پارٹی (JIP) کے اتحاد کو ۴۶۵ نشستوں والے ایوان میں ۳۰۰ سے زائد نشستیں ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

مغربی جاوا میں قیامت خیز لینڈ سلائیڈنگ

انڈونیشیا کے ضلع ویسٹ بانڈونگ (West-Bandung) کے گاؤں پاسیر لانگو (Pasirlangu) میں ۲۴؍جنوری ۲۰۲۶ء کو علی الصبح آنے والی لینڈ سلائیڈنگ نے پورے علاقے کو ملبے تلے دبا دیا۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق، ۱۲؍دنوں تک جاری رہنے والے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے بعد ہلاکتوں کی کل تعداد ۸۵؍تک پہنچ گئی ہے، جبکہ درجنوں مکانات مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں۔ کئی افراد ابھی بھی لاپتا ہیں اور مقامی حکام ان کی تلاش میں مصروف ہیں۔ امدادی اور ریسکیو ٹیموں نے ہزاروں امدادی کارکن، فوج، پولیس اور رضا کاروں کی مدد سے ملبے تلے پھنسے افراد کی تلاش جاری رکھی ہوئی ہے۔

یہ حادثہ مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً ۲:۳۰ بجے پیش آیا جب گاؤں والے گہری نیند سو رہے تھے۔ ماؤنٹ بورنگرنگ کی ڈھلوانوں سے آنے والے مٹی اور چٹانوں کے بڑے تودوں نے سیکنڈوں میں ۵۰ سے زائد مکانات کو دفن کر دیا۔ بعض مقامات پر کیچڑ کی گہرائی ۸ میٹر (۲۶ فٹ) تک ریکارڈ کی گئی۔ ماہرینِ ارضیات اور حکام نے اس تباہی کی دو بڑی وجوہات بتائی ہیں۔

شدید بارشیں: جنوری کے مہینے میں ہونے والی غیرمعمولی مون سون بارشوں نے پہاڑی مٹی کو انتہائی کمزور کر دیا تھا۔

جنگلات کی کٹائی: ماؤنٹ بورنگرنگ پر جنگلات کو کاٹ کر سبزیوں کے باغات اگانے کی وجہ سے زمین کی پکڑ ختم ہو گئی تھی، جس نے قدرتی ڈھال کو غیر محفوظ بنا دیا۔

تھائی لینڈ میں ٹرین پر کرین گرنے کا خوفناک حادثہ

تھائی لینڈ کے صوبے ناکھون راتچاسیما میں ایک دلخراش واقعے میں تعمیراتی کرین مسافر ٹرین پر گر گئی، جس کے نتیجے میں کم ازکم ۳۰ افراد جاں بحق اور ۶۹ سے زائد زخمی ہو گئے۔ یہ حادثہ بدھ، ۱۴؍جنوری ۲۰۲۶ء کی صبح مقامی وقت کے مطابق ۹ بج کر ۱۳ منٹ پر ضلع سکھیو (Sikhio) میں پیش آیا۔

حکام کے مطابق، یہ ٹرین (ایکسپریس ٹرین نمبر ۲۱) بنکاک سے اوبن راتچاتھانی کی طرف جا رہی تھی اور اس میں تقریباً ۱۹۵ مسافر سوار تھے۔ٹرین جب سکھیو اسٹیشن کے قریب سے گزر رہی تھی، تو اوپر موجود ہائی اسپیڈ ریلوے کے تعمیراتی ٹریک پر کام کرنے والی ایک بڑی اوور ہیڈ کرین، کنکریٹ کے بھاری سلیب سمیت، نیچے سے گزرتی ہوئی ٹرین پر آ گری۔کرین کے گرنے سے ٹرین کی آخری دو بوگیاں مکمل طور پر کچلی گئیں اور ٹرین پٹڑی سے اتر گئی۔ ٹرین تقریباً ۱۲۰ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی تھی، جس کی وجہ سے تصادم اتنا شدید تھا کہ ایک بوگی کے دو ٹکڑے ہو گئے اور اس میں آگ بھڑک اٹھی۔

صوبائی محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق، جاں بحق ہونے والے ۳۰؍افراد میں ایک جرمن اور ایک جنوبی کوریائی شہری بھی شامل ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ایئر کنڈیشنڈ بوگیوں کے خودکار دروازے (Automatic doors)جام ہوجانے اور کھڑکیاں نہ کھلنے کی وجہ سے مسافر اندر ہی پھنس کر رہ گئے، جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافہ ہوا۔ یہ حادثہ تھائی-چائنا ہائی اسپیڈ ریلوے منصوبے کے ایک حصے پر پیش آیا، جو چین کے ’’بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو‘‘ کا حصہ ہے اور بنکاک کو لاؤس کے ذریعے چین سے جوڑے گا۔ ابتدائی تخمینے کے مطابق، ٹرین کو پہنچنے والا نقصان ۱۰۰ ملین باہت (تقریباً ۳.۲ ملین ڈالر) سے زائد ہے۔

فلپائن کے صدر کے خلاف مواخذہ کی کارروائی

فلپائن میں صدر کے خلاف امپیچمنٹ کی کارروائی ایوانِ نمائندگان (House of Representatives) میں شروع ہو چکی ہے۔ ۱۹؍جنوری ۲۰۲۶ء کو صدر مارکوس جونیئر (Ferdinand “Bongbong” Marcos Jr)کے خلاف پہلی باضابطہ مواخذے کی درخواست ایوانِ نمائندگان میں جمع کرائی گئی۔ یہ درخواست وکیل Andre de Jesus نے دائر کی، جسے اقلیتی رکنِ پارلیمنٹ جیٹ نسائے نے اسپانسر کیا۔

درخواست میں صدر پر کئی سنگین الزامات عائد کیے گئے، جن میں درج ذیل شامل ہیں۔

صدر پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے سابق صدر روڈریگو دوتیرتے کی گرفتاری اور انہیں بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے حوالے کرنے کی اجازت دے کر ملک کے خودمختار نظام کی خلاف ورزی کی۔ مالی بدعنوانی کے حوالے سے ان پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے حکومت کے فلڈ کنٹرول منصوبوں (سیلاب سے بچاؤ کے پروجیکٹس) میں اربوں روپے کے کِک بیکس وصول کیے ہیں اور مالی بے ضابطگیاں کی ہیں۔ درخواست میں یہ الزام بھی لگایا گیا کہ صدر ماضی میں ممنوعہ اشیاء (Drugs) کے استعمال میں ملوث رہے ہیں، جس کی وجہ سے وہ ملک چلانے کے لیے نااہل ہیں۔ عوامی فنڈز کے غلط استعمال اور غیر آئینی بجٹ دفعات کو ویٹو نہ کرنے کا الزام بھی ان پر ہے۔

پہلی تحریک کے چند روز بعد، ۲۲؍جنوری ۲۰۲۶ء کو بائیں بازو کے اتحاد Makabayan Coalition نے ایک اور علیحدہ مواخذے کی درخواست دائر کی۔ اس درخواست میں ’’BBM پیرامیٹرک فارمولا‘‘ کے تحت انفراسٹرکچر فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم اور ’’گھوسٹ پراجیکٹس‘‘ کے ذریعے بدعنوانی کو بنیاد بنایا گیا۔

یہ کارروائی در اصل فلپائن کے دو طاقتور سیاسی خاندانوں (مارکوس اور دوتیرتے) کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کا نتیجہ ہے۔ نائب صدر سارہ دوتیرتے کے خلاف بھی مواخذے کی کارروائی چل رہی تھی جسے سپریم کورٹ نے جنوری میں غیر آئینی قرار دے کر روک دیا، جس کے فوراً بعد صدر مارکوس کے خلاف یہ جوابی سیاسی حملہ دیکھا گیا۔ صدر کے دفتر (Malacañang) نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں ’’سیاسی ڈرامہ‘‘ اور ملک کی ترقی سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا۔

فلپائن کے قانون کے مطابق، ایک بار مواخذے کی کارروائی شروع ہو جائے تو اگلے ایک سال تک صدر کے خلاف کوئی نئی مواخذے کی تحریک پیش نہیں کی جا سکتی۔ اس طرح صدر مارکوس نے جنوری ۲۰۲۷ء تک کے لیے سیاسی تحفظ حاصل کر لیا ہے۔

مزید پڑھیں: اصلاحِ نفس

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button