حدیث نبویﷺ میں لیکھرام سے متعلق پیشگوئی کا ذکر
’’اس پیشگوئی کی عظمت حدیث نبویؐ کی رُو سے بھی ثابت ہوتی ہے، کیونکہ ایک حدیث نبویؐ کا منشا یہ ہے کہ مسیح موعود کے زمانے میں ایک شخص قتل کیا جائے گا ۔اور آسمانی آواز جو رمضان میں آئے گی، گواہی دے گی کہ وہ شخص غضب الٰہی سے مارا گیا ۔ اور شیطان آواز دے گا کہ وہ مظلوم مارا گیا ، حالانکہ اس کا مارا جانا مسیح کے لیے بطور نشان کے ہوگا۔ سو ایسا ہی ظہور میں آیا‘‘(حضرت مسیح موعودؑ)
یہ ۱۹۵۱ء کے رمضان کی بات ہے۔ خاکسار اُن دنوں گجرات اپنے بعض عزیزوں کے ہاں گیا ہوا تھا۔ مکرم و محترم ملک عبد الرحمٰن خادم صاحب احمدیہ مسجد میں، جو اب غیراحمدیوں کے قبضے میں ہے۔ ایک پارے سے کچھ زائد درس القران دے رہے تھے۔ خاکسار کو روزانہ لمبا فاصلہ پیدل طے کرکے ان کی اقتدا میں نمازِ فجر ادا کرنے کے بعد درس القران سننے کا موقع ملا۔ خاکسار ان کے طرز بیان سے بہت متاثر ہوا۔
محترم خادم صاحب قد آور وجہیہ شخصیت کے مالک تھے۔ اچکن اور کُلّے والی دودھ کی طرح سفید پگڑی پہنے تشریف لاتے۔ اور قرآنِ کریم کے مطالب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علمِ کلام اور حضرت مصلح موعودؓ کی تفسیر کبیر کی روشنی میں نہایت دلکش انداز میں بیان فرماتے۔ گاہے گاہے مضمون سے متعلق کوئی لطیفہ بھی بیان کر دیتے جس سے محفل کشتِ زعفران ہو جاتی۔

محترم خادم صاحب کا ایک غیر احمدی وکیل دوست بھی درس سننے آتا جس سے بعض اوقات کسی تشریح پر بحث بھی چِھڑ جاتی تو محترم خادم صاحب اپنی خدا داد ذہانت سے ایسا مسکت جواب دیتے کہ وکیل صاحب کو سرتسلیم خم کرنا پڑتا۔
ایک دن درس کے دوران آپ نے بیان کیا کہ قتلِ لیکھرام کی پیشگوئی احادیث نبویہ میں بھی بیان ہوئی ہے۔ یہ بات اُس وقت خاکسار کے لیے بالکل نئی اور نہایت دلچسپ تھی۔ آپ نے پیشگوئی کے الفاظ عربی میں پڑھے اور پھر تشریح کی اور اسے قتل لیکھرام سے متعلق پیشگوئی پر منطبق کر کے دکھایا۔ اس وقت خاکسار میڑک کا طالبعلم تھا۔
بعد میں جب عاجز تعلیم الاسلام کالج لاہور میں ایف ایس سی میں داخل ہوا تو محترم خادم صاحب کو خط لکھا کہ حدیث شریف میں بیان کردہ قتل لیکھرام سے متعلق پیشگوئی کے اصل الفاظ خاکسار کو تحریر کر کے بھجوائیں۔ انہوں نے کمال مہربانی سے فوراًوہ الفاظ لکھ کر خاکسار کو بھجوا دیے جو عاجز نے زبانی یاد کر لیے۔ اور اب تک وہ الفاظ خاکسار کو زبانی یاد ہیں۔ جو درج ذیل ہیں: ’’وَفِیْ آخِرِ النَّھارِ صَوْتُ اللَّعِیْنِ اِبْلِیْسَ یُنَادِیْ ألَا اِنَّ فُلَانًا قَدْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا۔ یُشْکِلُ عَلَی النَّاسِ وَ یُفْتِنُھُمْ۔ فَکمْ فِی الْیَومِ مِنْ شاکٍّ تَحَیَّرَ۔ فَاِذَا سَمِعْتُمُ الصَّوْتَ فِی رَمَضَانَ یَعْنِی الاَ وَّلَ فَلَا تشُکُّوْا۔ اِنَّہٗ صَوْتُ جِبْرِیْلَ ۔ وَعَلَامَۃُ ذٰلِکَ أنَّہٗ یُنَادِیْ بِاسْمِ الْمَھْدِیِّ وَاسْمِ اَبِیْہِ۔‘‘
آپ کی تحریر شکستہ تھی اس میں لفظ تحیر اچھی طرح پڑھا نہ گیا تھا۔ خاکسار نے حدیث شریف کا متن طلب کیا تھا۔ لہٰذا آپ نے بغیر ترجمے کے متن ارسال فرمایا۔
ترجمہ: اور دن کے آخری حصے میں ابلیس لعین کی آواز اعلان کرے گی کہ سنو!فلاں شخص قتل کر دیا گیا جبکہ وہ مظلوم تھا۔یہ آواز لوگوں کو مشکل اور ابتلا میں ڈالے گی۔ اس دن کئی شک کرنے والے متحیر ہوں گے۔لیکن جب تم رمضان میں بلند ہونے والی آواز – یعنی پہلی آواز – کو سنو تو اس میں شک نہ کرنا۔ یہ جبریلؑ کی آواز ہوگی۔ اور اس کی علامت یہ ہے کہ مہدی کے نام اور اسے باپ کے نام پر بلند ہوگی۔
یاد رہے کہ لیکھرام دن کے آخری حصے میں قتل ہوا تھا۔ جس پر ہندوؤں اور دیگر مخالفینِ احمدیت نے واویلا کیا تھا کہ لیکھرام مظلوم کو حضرت مرزا صاحب نے قتل کروا دیا ہے۔ جس سے کئی شک میں پڑے اور ابتلا میں آئے۔ لیکن اِس سے پہلی آواز جو رمضان میں بلند ہوئی تھی وہ حضرت جبریلؑ کی آواز تھی۔
وہ پہلی آواز رمضان والی جو جبریلؑ کی آواز تھی، وہ کیا تھی؟ حضرت مسیح موعودؑ اپنی کتاب برکات الدعا کے صفحہ ۳۳ پر بیان فرماتے ہیں: ’’آج ۲ اپریل ۱۸۹۳ء مطابق ۱۴ ماہ رمضان ۱۳۱۰ھ ہے۔ صبح کے وقت تھوڑی سی غنودگی کی حالت میں مَیں نے دیکھا کہ ایک وسیع مکان مین بیٹھا ہوں اور چنددوست بھی میرے پاس موجود ہیں۔ اتنے میں ایک شخص قوی ہیکل مہیب شکل گویا اس کے چہرے سے خون ٹپکتا ہے میرے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔ میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ ایک نئی خلقت اور شمائل کا شخص ہے، گویا انسان نہیں، ملائک شِداد و غِلاظ میں سے ہے، اور اس کی ہیبت دِلوں پرطاری تھی، اور میں اس کو دیکھتا ہی تھا کہ اُس نے مجھ سے پوچھا لیکھرام کہاں ہے، اور ایک شخص کا نام لیا کہ وہ کہاں ہے۔ تب میں نے اُس وقت سمجھا کہ یہ شخص لیکھرام اوردوسرے شخص کی سزا دہی کے لیے مامور کیا گیا ہے۔ مگر مجھے معلوم نہیں رہا کہ وہ دوسرا شخص کون ہے۔ ہاں یقینی طور پر یاد ہے کہ وہ دوسرا شخص انہی چند آدمیوں میں سے تھا جن کی نسبت میں اشتہار دے چکا ہوں۔ اور یہ یک شنبہ کا دن ۴ بجے صبح کا وقت تھا۔ فالحمد للہ۔‘‘(تریاق القلوب روحانی خزائن جلد ۱۵، صفحہ ۳۹۴)
حدیث نبویؐ میں یہ ذکر ہے کہ وَعَلَامَۃُ ذٰلِکَ أنَّہٗ یُنَادِیْ بِاسْمِ الْمَھْدِیِّ وَ اسْمِ اَبِیْہِ کہ اس کی علامت یہ ہے کہ وہ آواز مہدی کے نام اور اس کے باپ کے نام پر بلند ہوگی۔ سب کو معلوم ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے یہ پیشگوئی فرمائی اور اس وجہ سے فرمائی تھی کہ لیکھرام آپؑ کے روحانی باپ آنحضورﷺ کے بارے میں نہایت غلیظ زبان استعمال کرتا تھا۔
محترم خادم صاحب نے غالباً اس حدیث کا حوالہ درج نہیں کیا تھا شاید اتنا لکھا کہ نُعَیْم بِنْ حَمَّاد۔
یہ تو ۱۹۵۰ء کی دہائی کی بات ہے۔ بعد میں جب مطالعہ کچھ وسیع ہوا تو ریویو آف ریلیجنز (اردو) کے نومبر ۱۹۰۸ء کے شمارے میں حضرت مولانا شیر علی صاحبؓ کامضمون اس حدیث کے بارے میں ملا۔ اس میں حوالہ یوں بیان کیا گیا تھا: رواہ نعیم بن حماد (بحوالہ مِسْک العارف صفحہ۳۰)پھر جب مطالعہ اور بڑھا تو معلوم ہوا کہ اس حدیث نبویؐ کا ذکر حضرت مسیح موعودؑ نے اپنی کتاب تِریاق القلوب، روحانی خزائن نمبر ۱۵ صفحہ ۴۰۲ کے حاشیے میں یوں فرمایا ہے:’’اس پیشگوئی کی عظمت حدیث نبویؐ کی رُو سے بھی ثابت ہوتی ہے، کیونکہ ایک حدیث نبویؐ کا منشا یہ ہے کہ مسیح موعود کے زمانے میں ایک شخص قتل کیا جائے گا ۔اور آسمانی آواز جو رمضان میں آئے گی ، گواہی دے گی کہ وہ شخص غضب الٰہی سے مارا گیا ۔ اور شیطان آواز دے گا کہ وہ مظلوم مارا گیا ، حالانکہ اس کا مارا جانا مسیح کے لیے بطور نشان کے ہوگا۔ سو ایسا ہی ظہور میں آیا، کیونکہ برکات الدعا کے آخری صفحہ ٹائیٹل پیج سے ظاہر ہے آسمانی آواز نے ۱۴ ماہ رمضان ۱۳۱۰ھ کو لوگوں کو مطلع کیا کہ ایک فرشتہ لیکھرام کے قتل کے لیے مامور کیا گیا ہے۔ اور شیطان نے سچائی کے دشمنوں کے دلوں میں ہو کر یہ آواز دی کہ لیکھرام مظلوم مارا گیا۔ سو یہ پیشگوئی مجھ میں اور رسول اللہ ﷺ میں مشترک ہے، اس لیے عظیم الشان ہے۔ منہ‘‘
محترم خادم صاحب اگر چہ عاجز کو تو نہیں جانتے تھے مگر خاکسار ان کی خدمت دین سے بہت متاثر تھا، سکول اور کالج لائف میں عاجز خادم صاحب کی پاکٹ بک ہمیشہ ساتھ رکھتا تھا اور اس میں سے اختلافی مسائل سے خوب مستفید ہوتا ۔ اور خدا کے فضل سے طالبعلمی کے زمانے میں غیر احمدی طلبہ کے اعتراضات سے کبھی مرعوب نہیں ہوا ۔
۱۹۵۳ء کے فسادات کے بعد جب انکوائری کمشن مقرر ہوا تو جماعت احمدیہ کی طرف سے حضرت مصلح موعودؓ نے محترم خادم صاحب کو جماعت کا ترجمان (Spokesman) مقرر فرمایا۔ آپ جسٹس منیر اورجسٹس کیانی کے سامنے بطور ترجمان جماعت احمدیہ پیش ہوئے۔ حوالوں وغیرہ کے لیے آپ کی مدد کی خاطر حضور ؓنے بعض علماء مقرر فرمائے۔ خاکسار ان دنوں لاہور میں .F.Sc کا طالبعلم تھا اور یہ کارروائی سننے عدالت کے کمرے میں موجود رہتا۔ اندر آنے کی سب کو کھلی اجازت تھی۔ بہت لوگ اندر جگہ نہ پانے کی وجہ سے باہر کھڑے ہو کر کارروائی سنتے تھے۔
مخالف علماء بھی عدالت میں حاضر کیے گئے۔ بعض لوہے کے ٹرنک (صندوق)بحث کرنے کے لیے جماعت احمدیہ کی کتب بھر کر لاتے۔ اِس کمیشن کا مقصد کسی کے لیے کوئی سزا تجویز کرنا نہ تھا بلکہ یہ معلوم کرنا تھا کہ کس کس جماعت کا ان فسادات میں کتنا حصہ ہے۔ حضرت مصلح موعودؓ کا بیان بھی دو دن ہوا تھا، مگر وہ in camera تھا۔ مگرہم لوگ باہر موجودرہتے تھے۔
خاکسارنے دیکھا کہ کس شان اور اعتماد سے محترم خادم صاحب نے ترجمانی کی اور مولویوں کے اعتراضات کے جوابات دیے کہ دل خوش ہو گیا۔ کسی کو سوال براہ راست زبانی کرنے کی اجازت نہ تھی۔ بلکہ سوال کرنے والا چٹ پر لکھ کر جج حضرات کو پہنچاتا تھا اور پھر جسٹس وہ سوال خادم صاحب سے کرتے اور آپ جواب دیتے۔ بعض باتیں دلچسپ بھی ہوئیں، جن کا بیان کرنا ضروری نہیں۔
محترم خادم صاحب کی جلسہ سالانہ پر ہمیشہ تقریر ہوا کرتی تھی اور بالعموم موضوع ’’احمدیت پر اعتراضات کے جوابات‘‘ ہوا کرتا ۔ آپ کی تقریر کے وقت پنڈال خوب بھرا ہوتا۔ اور نعرہ تکبیر سے فضا گونجتی رہتی۔ آپ علمی جواب کے ساتھ الزامی جواب جب دیتے تو اعتراض خس و خاشاک کی طرح ہوا میں اُڑ جاتا۔
ایک جلسہ سالانہ کے موقع پر جس میں عاجز بھی حاضر تھا، حضرت مصلح موعودؓ نے محترم خادم صاحب کو ’خالداحمدیت‘ کا خطاب دیا تھا۔ حضور ؓنے حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمسؓ ،مولانا ابو العطاء صاحب اور محترم خادم صاحب کو ’خالد احمدیت‘کے خطاب سے نوازا تھا۔
۳۱؍دسمبر ۱۹۵۷ء کو محترم خادم صاحب کی محض ۴۷؍سال کی عمر میں وفات ہوئی۔ خاکسار بہشتی مقبرہ ربوہ میں موجود تھا۔ دل سخت مغموم تھا کہ ایک نڈر بہادر مجاہد ہم سے جدا ہوا ۔ اگرچہ جذبات قابو میں تھے۔ مگر پھر بھی ایک بزرگ نے مجھ سے پوچھا :خادم صاحب آپ کے کیا لگتے تھے؟ عاجز نے غمزدہ الفاظ میں عرض کیا: احمدی بھائی تھے۔ خاکسار نے محترم خادم صاحب کی وفات پر الفضل میں مضمون لکھا تھا جس کا عنوان ’’۳۱ دسمبر‘‘ رکھا۔ وہ مضمون’’ مکرم ملک عبد الرحمن صاحب خادم کا ذکر خیر‘‘کے موضوع کے تحت شائع ہوا ۔
اللہ تعالیٰ محترم خادم صاحب کو اعلیٰ علیین میں جنت الفردوس میں اپنے قرب میں جگہ عطا فرمائے اور ہمیں بھی خلیفۃالمسیح ایدہ اللہ تعالیٰ کی زیر ہدایات مقبول خدمات کی توفیق سے نوازے۔ آمین
مزید پڑھیں: سالکِ روم کی نوٹ بک




