مکتوب شمالی امریکہ(فروری۲۰۲۶ء)
بر اعظم شمالی امریکہ کےچند اہم واقعات و تازہ حالات کا خلاصہ
امریکہ کی قدیم روایت: گراؤنڈ ہاگ ڈے
ہر سال ۲؍فروری کو امریکہ اور کینیڈا میں ’’گراؤنڈ ہاگ ڈے‘‘ (Groundhog Day)منایا جاتا ہے۔
یہ روایتی تقریب مقامی باشندوں Aboriginals کے ایک قدیم عقیدے پر مبنی ہے جس کے مطابق گراؤنڈ ہاگ (جو ایک پہاڑی گلہری نما جانور ہے اور شمالی امریکہ میں پایا جاتا ہے ) کا طرزِ عمل موسمِ سرما کے بقیہ ایام کی پیشگوئی کرتا ہے۔ روایت کے مطابق اگر یہ جانور اپنے بِل سے نکل کر اپنا سایہ دیکھ لے تو سمجھا جاتا ہے کہ سردی چھ ہفتے مزید جاری رہے گی اور اگر سایہ نظر نہ آئے تو بہار جلد آنے کی توقع کی جاتی ہے۔ اس موقع پر ایک خاص تقریب کا اہتمام کیا جاتا ہے اور روایتی طور پر ایک گراؤنڈ ہاگ کو اپنی بِل سے نکالا جاتا ہے۔ اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے کچھ عوام بھی جمع ہوتی ہے۔
چنانچہ کینیڈا اور امریکہ کے مختلف شہروں میں یہ تقریب منعقد ہوئی۔ کینیڈا اور امریکہ کے بعض حصوں میں گراؤنڈہاگ نے اپنا سایہ نہیں دیکھا، جس کی تعبیر یہ کی گئی کہ ان علاقوں میں بہار نسبتاً جلد آسکتی ہے۔تاہم بعض دیگر علاقوں میں گراؤنڈہاگ نے اپنا سایہ دیکھ لیا اور اس سے یہ سمجھا گیا کہ ابھی سردی کے کچھ دن اَورباقی رہیں گے۔
یہاں یہ بات یاد رہے کہ یہ دن محض رسم کے طور پر منایا جاتا ہے اور اب اس کا رواج بہت کم ہے۔ ان پیش خبریوں کی کوئی حقیقت نہیں سمجھی جاتی۔ بس تفریح کے نام پر یہ شغل کیا جاتا ہے۔
یہ دن آج بھی شہروں اور قصبوں میں ایک خوشگوار اور ثقافتی طور پر مضبوط روایت کے طور پر منایا جاتا ہے، جہاں کمیونٹی تقریبات، تفریحی سرگرمیوں اور صدیوں پرانی موسمی علامت کا امتزاج دیکھنے میں آتا ہے۔
غیر معمولی سردی اور برفباری
ماہِ فروری میں کینیڈا اور امریکہ میں سردیوں کا موسم غیرمعمولی طور پر شدید اور طویل رہا۔ ماہرینِ موسمیات کے مطابق اس شدید سردی کی ایک بڑی وجہ قطبی خطّے کی نہایت سرد ہواؤں کا جنوب کی طرف غیر معمولی حد تک سرایت کرنا تھا، جس کے نتیجے میں درجۂ حرارت کئی علاقوں میں لمبے عرصے تک اوسط سے نمایاں طور پر کم ریکارڈ کیا گیا۔ مجموعی طور پر متعدد خطوں میں درجۂ حرارت معمول سے تقریباً ۲ تا ۶؍ڈگری سینٹی گریڈ کم رہا۔
کینیڈا کے وسطی اور مشرقی حصوں، خصوصاً اونٹاریو، کیوبیک اور اٹلانٹک صوبوں میں جہاں فروری کا عمومی اوسط درجۂ حرارت عموماً منفی ۳؍ سے منفی ۸؍ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان ہوتا ہے، اس سال متعدد شہروں میں بعض دن پارہ منفی ۲۰؍سے منفی ۳۰؍ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا۔ تیز ہوا کی رفتار کی وجہ سے جسم کو محسوس ہونے والا اصل درجۂ حرارت (جسے عرفِ عام میں windchill کہتے ہیں ) بعض مقامات پر منفی ۳۵؍ڈگری یا اس سے بھی کم ہو گیا، جس نے سردی کی شدت کو مزید خطرناک بنا دیا۔
اسی طرح امریکہ کے شمال مشرقی علاقوں، بشمول نیوانگلینڈ، نیویارک اور نیوجرسی میں شدید سردی اور برفانی طوفانوں کا سلسلہ جاری رہا۔ فروری کے تیسرے ہفتے میں بعض مقامات پر ۶۰ تا ۹۰؍سینٹی میٹر تک برف باری ریکارڈ کی گئی۔ چند ریاستوں میں ہنگامی حالت نافذ کی گئی اور سفری پابندیاں عائد کی گئیں۔
اس غیر معمولی سردی اور شدید برف باری نے روزمرہ زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ تعلیمی ادارے عارضی طور پر بند کیے گئے، متعدد پروازیں منسوخ ہوئیں، بعض اہم سڑکیں بند کرنا پڑیں، اور ہزاروں گھروں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔ توانائی کے نظام پر دباؤ بڑھ گیا اور حرارتی ضروریات پوری کرنے کے لیے قدرتی گیس اور بجلی کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
سرمائی اولمپکس میں شمالی امریکہ کے ممالک کی کارکردگی
امسال سرمائی اولمپک کھیلیں مورخہ ۶ تا ۲۲؍فروری ۲۰۲۶ء اٹلی کے دو شہروں میلان اور کورٹینا میں منعقد ہوئیں۔ ان مقابلوں میں ۹۰؍سے زائد ممالک کے تقریباً تین ہزار کھلاڑیوں نے ۱۵؍کھیلوں کے ۱۰۹؍مقابلہ جات میں حصہ لیا۔ ان کھیلوں کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ مردوں کی آئس ہاکی میں۲۰۱۴ء کے اولمپکس کے بعد پہلی مرتبہ شمالی امریکہ کی معروف و مشہور نیشنل ہاکی لیگ (NHL) کے تمام نمایاں کھلاڑیوں نے مکمل شرکت کی۔
کینیڈا، امریکہ اور میکسیکو نے اولمپکس میں اپنی اپنی ٹیمیں بھجوائیں، تاہم نمایاں کارکردگی بالخصوص کینیڈا اور امریکہ کی رہی۔
امریکہ نے مجموعی طور پر۳۳؍تمغے ( ۱۲؍تلائی ، ۱۲؍ سِلور اور ۹؍برانز) حاصل کیے، اور مجموعی تعداد کے اعتبار سے ناروے کے بعد تمام ممالک میں سے دوسرے نمبر پر رہا۔
کینیڈا نے ۵؍تلائی ، ۷؍سِلور اور ۹؍ برانزتمغے جیت کر مجموعی طور پر ۲۱؍تمغے حاصل کیے اورتمام ممالک میں گیارھویں پوزیشن حاصل کی۔
میکسیکو نے بھی تاریخ رقم کی جب اس کے ایک کھلاڑی نے figure skating میں برانز تمغہ حاصل کیا، جو سرمائی اولمپکس کی تاریخ میں میکسیکو کا پہلا تمغہ تھا۔ یہ کامیابی میکسیکو کے لیے سرمائی کھیلوں کے میدان میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔
مردوں کی آئس ہاکی: امریکہ نے ۴۶؍سال بعد اولمپک تلائی تمغہ حاصل کر لیا
شمالی امریکہ کے کھیلوں کے شائقین کے لیے سرمائی اولمپکس ۲۰۲۶ء کاغالباً سب سے اہم اور سنسنی خیز مقابلہ ۲۲؍فروری ۲۰۲۶ء کو کھیلا جانے والا مردوں کی آئس ہاکی کا تلائی تمغے کا میچ تھا، جس میں امریکہ نے کینیڈا کو اوور ٹائم میں ۲-۱؍کے سکور سے شکست دی۔ اضافی وقت شروع ہونے کے صرف ۱ منٹ اور ۴۱؍سیکنڈ بعد امریکہ کی ٹیم کے کھلاڑی Jack Hughes نے فیصلہ کن گول سکور کیا۔ اگرچہ میچ کے بیشتر حصہ میں کینیڈا کی ٹیم امریکہ کے کھلاڑیوں سے نمایاں طور پر بہتر کھیل رہی تھی تاہم امریکہ کے گول کیپر نے نہایت اعلیٰ کارکردگی دکھاتے ہوئے کینیڈا کی ۴۲؍میں سے ۴۱؍شاٹس روک کر اپنی ٹیم کی کامیابی میں بنیادی کردار ادا کیا۔
یہ جیت امریکہ کی ہاکی ٹیم کے لیے غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس کے ذریعے امریکہ نے مردوں کی آئس ہاکی میں ۱۹۸۰ء کے بعد پہلی مرتبہ اولمپک تلائی تمغہ حاصل کیا۔ اس طرح ۴۶ سال کے طویل وقفے کے بعد امریکہ دوبارہ اس کھیل میں اولمپک چیمپئن بنا، جو اس کی ہاکی تاریخ میں ایک یادگار سنگِ میل سمجھا جا رہا ہے۔
کینیڈا اور امریکہ کے درمیان آئس ہاکی میں عرصۂ دراز سے رقابت پائی جاتی ہے۔ دونوں ممالک متعدد عالمی مقابلوں میں ایک دوسرے کے مدِ مقابل آتے رہے ہیں، اور ان کے درمیان مقابلے نہایت دلچسپ اور بلند معیار کے ہوتے ہیں۔ دونوں ممالک کی ٹیمیں دنیا کی بہترین آئس ہاکی ٹیمیں شمار کی جاتی ہیں۔
اس سے پہلے کینیڈا کو امریکہ کے مقابلے میں عمومی برتری حاصل رہی تھی۔ چنانچہ ۲۰۱۰ء کے سرمائی اولمپکس جو وینکوور، کینیڈا میں منعقد ہوئے، ان میں تلائی تمغہ کے میچ میں کینیڈا نے امریکہ کو اوور ٹائم میں ۳-۲؍سے شکست دی تھی۔ اس میچ میں کینیڈا کے بہترین کھلاڑی سِڈنی کرازبی (Sidney Crosby)جو دنیا بھر میں آئس ہاکی کے بہترین کھلاڑیوں میں سمجھے جاتے ہیں نے فیصلہ کن گول کیا تھا، جو کینیڈین ہاکی کی تاریخ کے یادگار ترین لمحات میں شمار کیا جاتا ہے اور آج بھی قومی فخر کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
اسی طرح ۲۰۰۲ء کے اولمپکس میں بھی کینیڈا نے امریکہ کو فائنل میں شکست دی تھی۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک عالمی چیمپئن شپ اور دیگر بڑے بین الاقوامی مقابلوں میں بارہا ایک دوسرے کے مقابل آئے ہیں۔
سیاہ فام تاریخ کا مہینہ
فروری کا مہینہ شمالی امریکہ میں نہ صرف سردیوں کا مہینہ ہوتا ہے بلکہ سماجی لحاظ سے بھی ایک اہم وقت ہوتا ہے، کیونکہ اسی مہینے میں بلیک ہسٹری منتھ (Black History Month) منایا جاتا ہے۔ یہ مہینہ سیاہ فام قوموں کی تاریخ، ان کی محنتوں ، قربانیوں اور علمی و تہذیبی خدمات کو یاد کرنے اور انہیں قومی تاریخ میں ان کا مقام دینے کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔
بلیک ہسٹری منتھ کی بنیاد بیسویں صدی کے اوائل میں رکھی گئی۔ ۱۹۱۵ء میں’’Association for the Study of Negro Life and History‘‘ قائم کیا گیا ، جس کا مقصد سیاہ فام افراد کی تاریخ کو تحقیق اور تدریس کے ذریعے محفوظ اور نمایاں کرنا تھا۔ اس علمی تحریک کے نتیجے میں ۱۹۲۶ء میں سیاہ فام احباب کی تاریخ کا ہفتہ (Negro History Week) کا آغاز کیا گیا، تاکہ تعلیمی اداروں میں باقاعدہ طور پر سیاہ فام تاریخ کو شامل کیا جائے۔
بعد ازاں ۱۹۷۶ء میں، جو امریکہ کی دو سو سالہ قومی تقریبات کا سال تھا، اس ہفتے کو بڑھا کر پورے فروری کے مہینے پر محیط کر دیا گیا اور یوں بلیک ہسٹری منتھ کو قومی سطح پر تسلیم کیا گیا۔
کینیڈا میں بلیک ہسٹری منتھ کو باضابطہ قومی حیثیت ۱۹۹۵ء میں ملی۔
بلیک ہسٹری منتھ کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ قومی تاریخ کو اس کی مکمل وسعت کے ساتھ دیکھا جائے۔ لمبے عرصے تک تعلیمی نصاب اور قومی بیانیے میں سیاہ فام برادریوں کی خدمات کو یا تو محدود انداز میں پیش کیا گیا یا نظر انداز کیا گیا۔ یہ مہینہ اس خلا کو پُر کرنے کی ایک سنجیدہ اور منظم کوشش ہے۔
فروری کے دوران کینیڈا اور امریکہ میں سرکاری و غیر سرکاری سطح پر مختلف پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔ یونیورسٹیوں میں لیکچرز، میوزیم میں نمائشیں، تاریخی دستاویزات کی پیشکش، ادبی نشستیں، موسیقی اور ثقافتی پروگرام اس مہینے کا حصہ بنتے ہیں۔ سکولوں میں خصوصی سبق اور دیگر سرگرمیوں کے ذریعے بچوں کو تاریخی شعور فراہم کیا جاتا ہے۔
یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ بلیک ہسٹری منتھ محض ایک رسمی یادگاری مہینہ نہیں بلکہ سال بھر جاری رہنے والی تعلیمی اور سماجی کوششوں کی علامت ہے۔




