مکتوب شمالی امریکہ(مارچ ۲۰۲۶ء)
بر اعظم شمالی امریکہ کےچند اہم واقعات و تازہ حالات کا خلاصہ
آرکٹک خطے کی طرف دنیا کی توجہ اور کینیڈا کی حکومت کی حکمتِ عملی
مارچ ۲۰۲۶ء کے دوران کینیڈا نے اپنے شمالی علاقوں، خصوصاً آرکٹک(arctic) خطے، کے حوالے سے ایک اہم اور دُور رس پالیسی کی طرف پیش رفت کی۔ ماضی میں یہ خطہ اپنی جغرافیائی دُوری اور شدید موسمی حالات کے باعث نسبتاً پس منظر میں رہا، تاہم گذشتہ چند سال میں ماحولیاتی تبدیلیوں (climate change) کے نتیجے میں اس کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔
قطبی برف(polar ice) کے تیزی سے پگھلنے کی وجہ سے نہ صرف نئے بحری راستے کھلنے لگے ہیں بلکہ اس خطے کے قدرتی وسائل اور تجارتی امکانات دنیا کی بڑی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔
ان حالات کے پیش نظر کینیڈا کی حکومت نے اس خطے میں اپنی خودمختاری کو مستحکم بنانے کے لیے دفاعی نگرانی بڑھانے اور انفراسٹرکچر کو بہتر کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔
ان منصوبوں کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ شمالی علاقوں اور مقامی باشندوں (indigenous peoples) کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے وہاں رہائش، آمد و رفت اور رابطے کے نظام کو بہتر بنایا جائے۔
پس آرکٹک اب محض ایک برفانی خطہ نہیں بلکہ ایک ایسا مقام بن چکا ہے جہاں ماحولیاتی تبدیلی، عالمی سیاست اور اقتصادی مفادات ایک دوسرے سے جڑ کر ایک نئی صورتحال پیدا کر رہے ہیں۔
موسمی تضادات: ایک ہی مہینے میں گرمی اور شدید برف باری
شمالی امریکہ میں مارچ کا مہینہ موسمی اعتبار سے غیر معمولی رہا۔ ایک طرف امریکہ کے کئی علاقوں میں ریکارڈ حد تک گرمی دیکھی گئی، اور دوسری طرف کینیڈا اور اس برِّ اعظم کے دیگر حصوں میں شدید برفباری اور منجمد بارش (freezing rain) کے واقعات پیش آئے۔
کینیڈا کے متعدد علاقوں میں برفباری نے معمولاتِ زندگی کو بہت متاثر کیا۔ بہت سے مقامات میں برف کی موٹی تہیں جمع ہو گئیں، سڑکوں پر آمد و رفت محدود ہو گئی، تعلیمی ادارے عارضی طور پر بند کر دیے گئے اور بجلی کی فراہمی میں بھی خلل پیدا ہوا۔
اس کے برعکس امریکہ کے جنوبی اور وسطی علاقوں میں درجۂ حرارت معمول سے بہت زیادہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے موسم بہار کی علامات وقت سے پہلے ظاہر ہونے لگیں۔
ماہرینِ موسمیات کے مطابق یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب صرف درجۂ حرارت میں اضافے تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے موسمی نظام کو غیرمتوازن بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب ایک ہی وقت میں مختلف خطوں میں ایک دوسرے سے بالکل مختلف اور بعض اوقات متضاد موسمی حالات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔
دلچسپ سالانہ کالج باسکٹ بال ٹورنامنٹ کا انعقاد
مارچ کا مہینہ شمالی امریکہ میں کھیلوں کے حوالے سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، اور ۲۰۲۶ء میں منعقد ہونے والا کالج باسکٹ بال ٹورنامنٹ، جسے عام طور پر ’’مارچ میڈنیس‘‘(March Madness) کہا جاتا ہے، ایک بار پھر لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔
یہ ٹورنامنٹ امریکہ کی نیشنل کالج ایتھلیٹک ایسوسی ایشن (NCAA) کے زیرِ اہتمام منعقد ہوتا ہے، جس میں ملک بھر کی ۶۰ سے زائد یونیورسٹی ٹیمیں حصہ لیتی ہیں۔ اس مقابلے کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں غیر متوقع نتائج اور کمزور سمجھی جانے والی ٹیموں کی اچانک کامیابیاں عام ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے اسے ’’مارچ میڈنیس‘‘ کہا جاتا ہے۔
اس سال کے مقابلوں کی ایک نمایاں خصوصیت غیرمتوقع نتائج اور کمزور سمجھی جانے والی ٹیموں کی شاندار کارکردگی رہی۔ میچز آخری لمحات تک دلچسپ رہے، اور کئی ٹیموں نے خلافِ توقع کامیابی حاصل کی۔ بالآخر مردوں کے مقابلوں میں University of Michigan نے University of Connecticut کو شکست دے کر چیمپئن شپ حاصل کیا، جبکہ خواتین کے مقابلوں میں University of South Carolina نے Stanford University کو ہرا کر ٹائٹل جیت لیا۔
یہ بات یاد رہے کہ ٹورنامنٹ صرف کھیل تک محدود نہیں بلکہ ایک ثقافتی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ دفاتر، تعلیمی اداروں اور گھروں میں لوگ ان مقابلوں میں بھرپور دلچسپی لیتے ہیں، اپنی پسندیدہ ٹیموں کے لیے پیش گوئیاں کرتے ہیں اور مجموعی طور پر ان میچز سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
گھڑیوں کی تبدیلی اور ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کے متعلق بحث
مارچ کے مہینے میں ایک ایسا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا جو بظاہر معمولی معلوم ہوتا ہے مگر اس کے اثرات ہر فرد کی روزمرہ زندگی پر پڑتے ہیں، اور وہ ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کا آغاز ہے۔
کینیڈا اور امریکہ کے بیشتر حصوں میں مارچ کے دوسرے اتوار کو گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے کر دی جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں شام کے اوقات لمبے ہو جاتے ہیں۔ اس نظام کے تحت دن کی روشنی کو زیادہ مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ طریقہ ابتدا میں توانائی بچانے اور کام بہتر بنانے کے لیے شروع کیا گیا تھا، مگر اب اس کی افادیت پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
کینیڈا میں اگرچہ زیادہ تر صوبے اس نظام پر عمل کرتے ہیں، تاہم بعض علاقوں، جیسے کہ کینیڈا کا وسطی صوبہ سسکیچیوان (Saskatchewan) کے بیشتر حصے،سال بھر ایک ہی وقت پر قائم رہتے ہیں اور گھڑیاں تبدیل نہیں کرتے۔ اسی طرح امریکہ میں بھی چند ریاستیں، خصوصاً ہوائی (Hawaii) اور ایریزونا (Arizona) کا بڑا حصہ، ڈے لائٹ سیونگ ٹائم پر عمل نہیں کرتا۔
امسال کینیڈا کے مغربی صوبہ برٹش کولمبیا نے اعلان کیا کہ وہ ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کو مستقل طور پر اختیار کرے گا اور سال میں دو مرتبہ گھڑیاں تبدیل کرنے کا سلسلہ ختم کر دیا جائے گا۔ اس فیصلے کے تحت مارچ میں گھڑیاں آگے کرنے کے بعد نومبر میں انہیں واپس نہیں کیا جائے گا، اور صوبہ سال بھر ایک ہی وقت پر قائم رہے گا۔
بہت سے لوگوں کے مطابق گھڑیوں کی اس تبدیلی سے نیند کے معمولات متاثر ہوتے ہیں، تھکن میں اضافہ ہوتا ہے اور بعض صورتوں میں صحت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ نیز کچھ لوگ شام کے طویل اوقات کو پسند کرتے ہیں، جو سماجی اور تفریحی سرگرمیوں کے لیے موزوں سمجھے جاتے ہیں۔
چنانچہ یہ موضوع ہر سال شمالی امریکہ کے عوام میں بحث کا حصہ بنتا ہے اور مختلف ریاستوں اور صوبوں میں اس نظام کو ختم کرنے یا مستقل بنانے کے حوالے سے غور و فکر جاری ہے۔
عید کے ڈاک ٹکٹ: شمالی امریکہ میں ثقافتی شناخت کا اظہار
اس مہینہ میں ایک قابلِ ذکر ثقافتی پہلو بھی نمایاں رہا، جب کینیڈا اور امریکہ کے ڈاک کے اداروں نے عید کے موقع پر خصوصی ڈاک ٹکٹ جاری کیے۔

کینیڈا میں Canada Post نے مارچ میں اپنی سالانہ روایت کو جاری رکھتے ہوئے ایسے ڈاک ٹکٹ جاری کیے جو اسلامی فنون اور ثقافتی علامتوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ ہر سال ان ٹکٹوں کا ڈیزائن تبدیل کیا جاتا ہے، جس کے ذریعے مختلف تہذیبی پہلوؤں کو اجاگر کیا جاتا ہے۔(ٹکٹ کی فوٹو منسلک ہے)
اسی طرح امریکہ میں United States Postal Service بھی لمبے عرصے سے عید کے ڈاک ٹکٹ جاری کرتی ہے، جن میں عموماً خوبصورت عربی خطاطی کے ذریعے’’عیدمبارک‘‘ کا پیغام خوشخطی میں پیش کیا جاتا ہے۔ یہ خطاطی معروف فنکار محمد زکریا کی ہے، جو کئی سالوں سے ان ٹکٹوں کو ڈیزائن کر رہے ہیں۔
یہ ڈاک ٹکٹیں شمالی امریکہ میں مذہبی اور ثقافتی تنوّع کو ظاہر کرتی ہیں اور وہاں کے باشندوں کی قومی شناخت کو اجاگر کرتی ہیں۔
مزید پڑھیں: ۲۵؍اپریل: ورلڈ پینگوئن ڈے



