حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

آنحضرتﷺ کی نظر میں مسکینوں کا مقام

مسکینوں کا مقام آنحضرتﷺکی نظر میں کتناتھا، اس کا اندازہ اس حدیث سے کریں ۔حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ آنحضرتﷺسے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مساکین سے محبت کیاکرو۔ یہ حضرت ابوسعید خدری کہہ رہے ہیں کہ پس مَیں نے رسول اللہﷺکو یہ دعا کرتے ہوئے سناہے کہ اَللّٰھُمَّ اَحْیِنِیْ مِسْکِیْنًا وَاَمِتْنِیْ مِسْکِیْنًا وَاحْشُرْنِیْ فِی زُمْرَۃِ الْمَسَاکِیْن ۔ یعنی اے اللہ مجھے مسکینی کی حالت میں زندہ رکھ،مجھے مسکینی کی حالت میں موت دے اورمجھے مسکینوں کے گروہ ہی سے ا ٹھانا۔(سنن ابن ماجہ۔ کتاب الزھد۔ باب مجالسۃ الفقراء)

پس ہر احمدی کو بھی وہی راہ اختیار کرنی چاہئے،ان راہوں پر قدم مارنا چاہئے جن پر ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفیﷺ چل رہے ہیں۔ہر ا حمدی کو اپنے آپ کو مسکینوں کی صف میں ہی رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے کیونکہ یہی عہد بیعت ہے کہ مسکینی سے زندگی بسر کروںگا۔

ایک روایت میں آتاہے۔ حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ جعفرؓ بن ابی طالب مساکین سے بہت محبت کرتے تھے ۔ان کی مجلسوں میں بیٹھتے تھے ۔ وہ ان سے باتیں کرتے اور مساکین ان سے باتیں کرتے ۔ چنانچہ رسول اللہﷺ حضرت جعفر کو ابوالمساکین کی کنیت سے پکارا کرتے تھے ۔ (سنن ابن ماجہ۔ کتاب الزھد۔ باب مجالسۃ الفقرائ)

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: ’’اگر اللہ تعالیٰ کو تلاش کرنا ہے تو مسکینوںکے دل کے پاس تلاش کرو۔ اسی لیے پیغمبروں نے مسکینی کا جامہ ہی پہن لیا تھا۔ اسی طرح چاہیے کہ بڑی قوم کے لوگ چھوٹی قوم کو ہنسی نہ کریں اور نہ کوئی یہ کہے کہ میرا خاندان بڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم میرے پاس جو آئوگے تو یہ سوال نہ کروں گا کہ تمہاری قوم کیا ہے۔ بلکہ سوال یہ ہو گا کہ تمہارا عمل کیا ہے۔ اسی طرح پیغمبر خدا نے فرمایا ہے اپنی بیٹی سے کہ اے فاطمہؓ خداتعالیٰ ذات کو نہیں پوچھے گا۔ اگر تم کوئی برا کام کروگی تو خدا تعالیٰ تم سے اس واسطے درگزر نہ کرے گا کہ تم رسول کی بیٹی ہو۔ پس چاہیئے کہ تم ہر وقت اپنا کام دیکھ کر کیا کرو‘‘۔(ملفوظات۔ جدید ایڈیشن۔ جلد سوم۔ صفحہ۳۷۰)

پھر آپؑ فرماتے ہیں:’’اہل تقویٰ کے لیے یہ شرط تھی کہ وہ غربت اور مسکینی میں اپنی زندگی بسر کرے یہ ایک تقویٰ کی شاخ ہے جس کے ذریعہ ہمیں غضب ناجائز کا مقابلہ کرنا ہے۔ بڑے بڑے عارف اور صدیقوں کے لیے آخری اور کڑی منزل غضب سے ہی بچنا ہے۔ عجب و پندار غضب سے پیدا ہوتا ہے۔ اور ایسا ہی کبھی خود غضب عجب و پندار کا نتیجہ ہوتا ہے کیونکہ غضب اس وقت ہو گا جب انسان اپنے نفس کو دوسرے پر ترجیح دیتا ہے۔ ‘‘ (رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء۔ صفحہ۴۹)

آپ ؑفرماتے ہیں:’’ تم اگر چاہتے ہو کہ آسمان پر تم سے خدا راضی ہو تو تم باہم ایسے ایک ہو جائو جیسے ایک پیٹ میں سے دو بھائی۔ تم میں سے زیادہ بزرگ وہی ہے جو زیادہ اپنے بھائی کے گناہ بخشتا ہے اور بدبخت ہے وہ جو ضد کرتا ہے اور نہیں بخشتا سو اس کا مجھ میں حصہ نہیں۔‘‘(کشتی نوح۔ روحانی خزائن۔ جلد۱۹۔ صفحہ۱۲۔۱۳)

آٹھویں شرط بیعت

’’یہ کہ دین اور دین کی عزت اور ہمدردی اسلام کو اپنی جان اور اپنے مال اور اپنی عزت اور اپنی اولاد اور اپنے ہر یک عزیز سے زیادہ تر عزیز سمجھے گا۔‘‘

دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد ایک ایسا عہد ہے کہ جماعت کا ہر وہ فرد جس کا جماعت کے ساتھ باقاعدہ رابطہ ہے، اجلاسوں اور اجتماعوں وغیرہ میں شامل ہوتا ہے وہ اس عہد کو بار ہاد ہراتا ہے۔ہر اجتماع اور ہر جلسہ وغیرہ میں بھی بینرز لگائے جاتے ہیں اور اکثر ان میں یہ بھی ہوتا ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔کیوں اس بات کو اتنی اہمیت دی گئی ہے ، اس لئے کہ اس کے بغیر ایمان قائم ہی نہیں رہ سکتا۔اس پر عمل کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔اس لئے اس کے حصول کے لئے ہر وقت، ہر لحظہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے رہنا چاہئے۔اس کا فضل ہی ہو تو یہ اعلیٰ معیار قائم ہوسکتا ہے۔تو ہم جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے شامل ہیں۔ہمارے لئے تو اللہ تعالیٰ اس طرح حکم فرماتا ہے۔قرآن شریف میں آیا ہے۔ وَمَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِیَعۡبُدُوا اللّٰہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ۬ۙ حُنَفَآءَ وَیُقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَیُؤۡتُوا الزَّکٰوۃَ وَذٰلِکَ دِیۡنُ الۡقَیِّمَۃِ (سورة البينه آیت۶)۔اور وہ کوئی حکم نہیں دیئے گئے سوائے اس کے کہ وہ اللہ کی عبادت کریں، دین کو اُس کے لئے خالص کرتے ہوئے ، ہمیشہ اس کی طرف جھکتے ہوئے ، اور نماز کو قائم کریں اور زکوۃ دیں۔اور یہی قائم رہنے والی اور قائم رکھنے والی تعلیمات کا دین ہے۔پس نمازوں کو قائم کرنے سے یعنی با جماعت اور وقت پر نماز پڑھنے سے، اس کی راہ میں خرچ کرنے سے ،غریبوں کا خیال رکھنے سے بھی ہم صحیح دین پر قائم ہو سکتے ہیں۔اور ان تعلیمات کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنا سکتے ہیں، اپنی زندگیوں پر لاگو کر سکتے ہیں جب ہم اللہ کی عبادت کریں گے ، اس کی دی ہوئی تعلیم پر عمل کریں گے تو اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق دیگا ، ہمارے ایمانوں کو اس قدر مضبوط کر دے گا کہ ہمیں اپنی ذات، اپنی خواہشات، اپنی اولادیں، دین کے مقابلے میں ہیچ نظر آنے لگیں گی۔تو جب سب کچھ خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کیلئے ہو جائے گا اور ہمارا اپنا کچھ نہ رہے گا تو اللہ تعالیٰ پھر ایسے لوگوں کو ضائع نہیں کرتا۔وہ ان کی عزتوں کی بھی حفاظت کرتا ہے ، ان کی اولادوں کی بھی حفاظت کرتا ہے، ان میں برکت ڈالتا ہے، ان کے مال کو بھی بڑھاتا ہے اور ان کو اپنی رحمت اور فضل کی چادر میں ہمیشہ لپیٹے رکھتا ہے اور ان کے ہر قسم کے خوف دور کر دیتا ہے۔جیسا کہ فرمایا: بَلٰی ٭ مَنۡ اَسۡلَمَ وَجۡہَہٗ لِلّٰہِ وَہُوَ مُحۡسِنٌ فَلَہٗۤ اَجۡرُہٗ عِنۡدَ رَبِّہٖ ۪ وَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَلَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ (البقره آیت ۱۱۳)۔نہیں نہیں، سچ یہ ہے کہ جو بھی اپنا آپ خدا کے سپر د کر دے اور وہ احسان کرنے والا ہو تو اس کا اجراسکے ربّ کے پاس ہے اور اُن (لوگوں) پر کوئی خوف نہیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

(شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں صفحہ ۱۳۶تا۱۴۰)

مزید پڑھیں: شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button