لیلۃالقدر کو رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو
لیلۃ القدر کے بارے میں مختلف راویوں نے مختلف تاریخیں بتائی ہیں۔ کسی نے اکیس رمضان بتائی۔ کسی نے تیئس سے انتیس تک کی تاریخیں بتائیں۔ بعض اسی بات پر پکے ہیں کہ ستائیس یا انتیس لیلۃ القدر ہے۔ لیکن بہرحال عموماً اس بارے میں یہی روایت ہے کہ لیلۃ القدر کو رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو۔ آخری دس دنوں میں، دس راتوں میں تلاش کرو۔
بہرحال لیلۃ القدر ایک ایسی رات ہے جس کی ایک حقیقت ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس خاص رات کی معین تاریخ کا بھی علم دیا گیا جس میں ایک حقیقی مومن کو قبولیت دعا کا خاص نظارہ دکھایا جاتا ہے اور دعائیں بالعموم سنی جاتی ہیں۔ لیکن روایات سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ دو مسلمانوں کی ایک غلطی کی وجہ سے یہ معین تاریخ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھول گئی۔ اس ساعت کا علم ہونا، اس گھڑی کا علم ہونا کوئی معمولی چیز نہیں اور اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں قدرتی طور پر ایک خواہش پیدا ہوئی کہ اس کا جو علم خداتعالیٰ نے مجھے دیا ہے تو میں مومنین کی جماعت کو بھی بتاؤں۔ حدیث میں آتا ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ علم دیا گیا تو آپ خوشی خوشی گھر سے باہر آئے تا کہ لوگوں کو بھی اس کی اطلاع دیں اور وہ بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں مگر جب باہر تشریف لائے تو دیکھا دو مسلمان لڑ رہے ہیں۔ آپ ان کی لڑائی اور اختلاف مٹانے میں مصروف ہوئے تو اس کی تاریخ کی طرف سے آپ کی توجہ ہٹ گئی۔ لگتا ہے کافی وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں اشخاص کی صلح کرانے میں لگا یا معاملے کو سلجھانے میں لگا۔ بہر حال جب آپ دوبارہ اس طرف متوجہ ہوئے کہ میں تو لیلۃ القدر کی تاریخ بتانے آیا تھا تو آپ اس وقت تک وہ معین تاریخ بھول چکے تھے بلکہ حدیث میں ’بھلا دیا گیا‘ کے الفاظ بھی ہیں۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لکھا ہے کہ حدیث کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ بھولے ہی نہیں تھے بلکہ الٰہی تصرف سے اس گھڑی کی یاد اٹھا لی گئی تھی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس جھگڑے کی وجہ سے یا اختلاف کی وجہ سے اس گھڑی کا علم اٹھا لیا گیا ہے اس لئے اب معین تو نہیں لیکن اسے رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔
اس سے ایک بڑا اہم نکتہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان فرمایا ہے کہ وہ گھڑی جس کی مناسبت کی وجہ سے اسے لیلۃ القدر کہا گیا ہے وہ قومی اتحاد و اتفاق سے تعلق رکھتی ہے۔ پس یہ بڑا اہم نکتہ ہے۔ ہم حدیث سنتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ اگر وہ دونوں مسلمان نہ لڑتے تو یہ معین تاریخیں ہمیں پتا چل جاتیں۔ لیکن اس اہم بات کی طرف بہت کم توجہ ہوتی ہے کہ وہ گھڑی جس کی مناسبت سے اسے لیلۃ القدر کہا جاتا ہے وہ قومی اتفاق و اتحاد سے تعلق رکھتی ہے اور جس قوم میں سے اتحاد و اتفاق مٹ جائے اس سے لیلۃ القدر بھی اٹھا لی جاتی ہے۔
آج بڑے افسوس سے ہمیں یہ بھی کہنا پڑتا ہے کہ بہت سے مسلمان ممالک کی بدقسمتی ہے کہ ان میں اتفاق و اتحادنہیں رہا۔ رعایا رعایا سے لڑ رہی ہے۔ رعایا حکومت سے بھی لڑ رہی ہے اور حکومت رعایا پر ظلم کر رہی ہے۔ گویا نہ صرف اتفاق و اتحادنہیں رہا بلکہ ظلم بھی ہو رہا ہے۔ اور پھر ظلم پر زور بھی دیا جارہا ہے۔ پس اس اتفاق و اتحاد کی کمی کا نتیجہ ہے کہ غیروں کو بھی جرأت ہے کہ مسلمانوں کے خلاف جو چاہیں کریں۔ اور یہی وجہ ہے کہ اسرائیل بھی ظالمانہ طور پر اس وقت معصوم فلسطینیوں کو قتل کرتا چلا جا رہا ہے۔ اگر مسلمانوں میں اتفاق و اتحاد ہوتا اور وہ خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے والے ہوتے تو مسلمان ممالک کی اتنی بڑی طاقت ہے کہ پھر اس طرح ظلم نہ ہوتے۔ (خطبہ جمعہ ۲۵؍جولائی ۲۰۱۴ء، مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۱۵؍اگست ۲۰۱۴ء)
مزید پڑھیں: عذابِ نار سے بچنے کی دعا




