نظم
حمد و ثنا اسی کو جو ذات جاودانی
حمد و ثنا اسی کو جو ذات جاودانی
ہمسر نہیں ہے اس کا کوئی نہ کوئی ثانی
باقی وہی ہمیشہ غیر اس کے سب ہیں فانی
غیروں سے دل لگانا جھوٹی ہے سب کہانی
سب غیر ہیں وہی ہے اک دل کا یارجانی
دل میں میرے یہی ہی سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
احباب سارے آئے تونے یہ دن دکھائے
تیرے کرم نے پیارے یہ مہرباں بلائے
یہ دن چڑھا مبارک مقصود جس میں پائے
یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
مہماں جو کر کے الفت آئے بصد محبت
دل کو ہوئی ہے فرحت اور جاں کو میری راحت
پر دل کو پہنچے غم جب یاد آئے وقت رخصت
یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ
(محمود کی آمین روحانی خزائن جلد 12 صفحہ319-321)
