عید کی حقیقی خوشی
عید میں ایک روز باقی تھا ۔ گھر میں صفائی اور تیاری کا شور تھا۔ بچے اپنے اپنے پروگرام بنا رہے تھے۔
محمودجوش سےبولا: دادی جان! اس بار میں نے ابو سے کہہ دیا تھا کہ مجھے عیدی میں نئی سائیکل چاہیے میرے سب دوست دیکھتے رہ جائیں گے۔ اور اپنی عیدی سے اُسے اور سجاؤں گا۔
احمد: اور میں اپنی ساری عیدی جمع کر کے نیا ویڈیو گیم لوں گا۔
گڑیا ( لاڈ سے): مجھے تو بس آئی پیڈ چاہیے ۔
دادی جان ان سب کی باتیں سُن کر مسکرا رہی تھیں،اور اُن کی آنکھوں میں شفقت تھی۔
دادی جان: میرے پیارے بچو!کیا تم جانتے ہو کہ ہمارے نبی ﷺ عید اور خوشی کے دن کیسے گزارتے تھے؟
بچے (ایک ساتھ): کیسے دادی جان؟
دادی جان: ہما رے پیارے نبی کر یمﷺ اِس دن صفا ئی کا خا ص اہتمام کرتے، مسواک کرتے غسل فر ماتے اور خو شبو کا استعما ل کرتے اور صا ف ستھرا لبا س پہنتے اگر میسر ہو تا تو نیا لبا س پہنتے۔ایک دفعہ ہمارے پیارے نبی ﷺ عید کی نماز پڑھنے جارہے تھے کہ انہوں نے دیکھا کہ انصار کے سارے بچے کھیل رہے تھے مگر ایک بچہ کونے میں بیٹھا ر ورہا تھا، آپؐ اس کے پاس گئے اور فرمایا کہ بیٹا !تم کیوں رو ر ہے ہو او ران بچوں کے ساتھ کیوں نہیں کھیل رہے، وہ بچہ آپ ﷺ کو نہیں پہچانتا تھا کہنے لگا۔ اے شخص! مجھے میرے حال پر چھوڑ دو، میرے والد رسول الله ﷺ کے ساتھ گئے تھے اور ایک غزوہ میں شہید ہو گئے ہیں۔ جب میں نے ان بچوں کو کھیلتے ہوئے دیکھا جن کے باپ زندہ ہیں او رانہوں نے نئے کپڑے پہنے ہوئے ہیں تو میں دکھی ہوگیا اس لیے رو پڑا، آپ ﷺ نے اس کا ہاتھ پکڑا او رکہا: کیا تو اس چیز پر راضی نہیں کہ میں تیرا باپ ہوں، عائشہ تیری ماں ہو، فاطمہ تیری بہن ہو، علی تیرے چچا ہوں، حسن وحسین تیرے بھائی ہوں؟! اب بچے نے پہچان لیاکہ یہ رسول الله ﷺ ہیں، اس نے کہا: یا رسول الله میں کیسے اس پر راضی نہ ہوں، آپ ﷺ نے اسے اٹھایا اور گھر لے آئے، اسے اچھا لباس پہنایا، اسے کھانا کھلایا۔ یہ بچوں کے پاس ہنستا مسکراتا ہوا آیا۔ بچوں نے جب اسے اس حال میں دیکھا تو کہا: ابھی تو تم رورہے تھے، اب کیا ہوا کہ تم خوش ہو؟ اس نے کہا کہ میں بھوکا تھا،میرا پیٹ بھر گیا، میں بے لباس تھا،مجھے کپڑے مل گئے ہیں، میں یتیم تھا رسول اللهؐ میرے باپ، عائشہؓ میری ماں بن گئیں اورآخر تک تمام قصہ سنایا۔
محمود: واہ کیا خوش قسمت بچہ تھا ۔
کچھ دیر بعد گڑیا نے سوال کیا۔
گڑیا: دادی جان، کیا آپ ﷺ بچوں سے بہت خوش ہوتے تھے؟
دادی جان (خوش ہو کر): بہت زیادہ۔ ایک عید کے دن مدینہ میں کچھ بچیاں دف بجا رہی تھیں۔ تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں روکنا چاہا تو آپ ﷺ نے فرمایا: “انہیں رہنے دو، ہر قوم کی عید ہوتی ہے اور یہ ہماری عید ہے۔” یعنی آپ ﷺ نے بچوں کی جائز خوشی کو پسند فرمایا۔
احمد: یعنی عید پر خوش ہونا بھی سنت ہے؟
دادی جان: بالکل، مگر ایسی خوشی جو دوسروں کے لیے تکلیف نہ بنے۔
گڑیا: دادی جان، اگر ہمارےآس پاس کوئی بچہ عید پر اداس ہو تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
دادی جان: ہمیں اس کے سر پر ہاتھ رکھنا چاہیے، اسے اپنے ساتھ شامل کرنا چاہیے۔ آپﷺ یتیم بچوں کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے اور فرماتے کہ جو یتیم کی کفالت کرے گا وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔ آپ کو پتا ہے ناں آجکل کتنے ہی بچے غزہ فلسطین میں ایسے ہیں جن کے پاس شاید پہننے کے لیے کپڑے بھی نہیں ہیں اور بھی دنیا کے مختلف ممالک میں لاکھوں بچے ہیں جن کو پیٹ بھر کر کھانا بھی میسر نہیں ہے تو ہمیں ان کی مدد کرنی چاہیے ناں ۔
یہ دیکھیں الفضل میں حضور انور کا ارشاد آیا ہے کہ حضور ایدہ اللہ نے خطبہ عید الفطر فرمودہ 16؍جون 2018ء میں فرمایا کہ ’’اپنے بچوں میں بھی یہ عادت ڈالیں کہ جو اُن کے بڑے انہیں عید کے روز عیدی دیتے ہیں
اس میں سے کچھ نہ کچھ دنیا کے غریب بچوں کے لیے بھی دیں۔یہ ابھی سے بچوں کو عادت ڈالیں گے تو یہ عادت مستقبل میں ان کو جہاں خدمت خلق اور خرچ کرنے والا بنائے گی، لوگوں سے ہمدردی کرنے والا بنائے گی وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل کا مالک بناتے ہوئے ان کی زندگی کی مشکلات میں ان مشکلات سے بچانے والا بھی بنائے گی۔ نیکیوں پر قائم رہنے والے ہوں گے۔پس یہ جاگ اگلی نسلوں میں بھی لگتی چلی جانی چاہئے اور یہی عید کی حقیقی خوشیاں ہیں۔‘‘
احمد (سوچتے ہوئے): آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں دادی جان میں نے تو اِس بارے میں سوچا ہی نہیں۔
محمود: میں نے بھی نہیں ۔(شرمندگی سے سر جھکا کر )
گڑیا کی آنکھیں نم ہو گئیں: اس کا مطلب ہے کہ ہمیں ان کو اپنی خوشیوں میں شامل کرنا چاہیے۔تب ہی ہماری حقیقی عید ہوگی ۔
دادی جان: بالکل یہی بات تو میں تم تینوں سے کہنا چاہ رہی تھی مجھے خوشی ہے کہ میرے بچوں کو جلدی سمجھ آگئی ۔
محمود (پُرعزم لہجے میں): دادی جان، میں سائیکل پھر لے لوں گا، عیدی کے پیسے کسی ضرورتمند کو دے دیں گے۔
احمد: میں بھی اپنی عیدی میں سے آدھا حصہ نکالوں گا۔ ویڈیو گیم بعد میں بھی آ سکتا ہے۔
گڑیا: مجھے بھی نئے tabکی ضرورت نہیں ہے پرانے والا اچھا خاصا تو کام کررہا ہے میں بھی عیدی کے پیسے غزہ کے بچوں کے لیے بھیج دوں گی ۔
دادی جان کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔وہ بولیں: میرے بچو! یہی اسوۂ انسانِ کاملﷺ ہے۔خوشی صرف لینے میں نہیں، دینے میں ہے۔
اگلے روز عید کی نماز پر جانے سے قبل بچوں نے اپنی تمام عیدی اکٹھی کی تو ابو جان بھی ان کے جذبے سے متاثر ہوئے اور مزید رقم اس میں شامل کر دی۔سب بچوں نے یہ تمام رقم ہیومینٹی فرسٹ کے انچارج صاحب کو دیتے ہوئے کہا کہ ہماری طرف سے ہمارے ضرورت مند بہن بھائیوں کے لیے عید کا تحفہ ہے آپ انہیں بتا دیں کہ ان کے بھائی احمد اور محمود اور بہن گڑیا نے اُن کے لیے تحائف بھجوائے ہیں ۔
سیکرٹری صاحب نے بھی رقم لیتے ہوئے خوشی اور جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ۔شاباش بچو! آج آپ نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی نصیحت پر عمل کرکے دکھایا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو اس کا بہترین اجر دے گا ان شاء اللہ ۔
نماز پڑھ کر واپس آتے ہوئے تینوں بچوں کے چہرے خوشی سے چمک رہے تھے ۔
احمد :دادی جان! آج جو خوشی محسوس ہورہی ہے وہ ویڈیو گیم خریدنے سے کبھی نہیں ملنی تھی ۔
محمود: سچ، آج سمجھ آیا کہ اپنی خوشی میں دوسروں کو شامل کرنے سے کیسی خوشی ملتی ہے ۔
دادی جان (اطمینان سے) :بالکل میرے بچو۔ اور اب آپ سب کے لیے میری طرف سے سرپرائز عیدی۔ محمود کے لیے سائیکل، احمد کے لیے ویڈیو گیم اور گڑیا کے لیے آئی پیڈ۔
تینوں بچےخوش اور حیران ہوکر جزاکم اللہ کہتے ہوئے دادی جان کو لپٹ گئے۔
(درثمین احمد۔ جرمنی)
