خلاصہ خطبہ جمعہ

جود و سخا کی روشنی میں آنحضورﷺ کے اخلاقِ فاضلہ کا دل آویز تذکرہ۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۱۲؍جون ۲۰۲۶ء

٭… آنحضورﷺ ان دعائیہ کلمات کے ساتھ دعا کیا کرتے کہ اے اللہ! مَیں بخل سے، سستی سے، بدترین عمر سے اور قبر کے عذاب سے اور زندگی اور موت کے فتنےسے تیری پناہ مانگتا ہوں

٭… تھیلی کامنہ باندھ کر نہ رکھا کرو ورنہ تم سے روک لیا جائے گا (حدیث نبویﷺ)

٭… گنتے نہ رہا کرو، ورنہ اللہ بھی گِن گِن کر دے گا (حدیث نبویﷺ)

٭… آنحضورﷺ نے فرمایا کہ دو عادتیں مومن میں نہیں ہوسکتیں ایک بخل اور دوسری بدخُلقی۔ فرمایا ظلم سے بچو… بخل اور حرص سے بچو یقیناً بخل نے تم سے پہلوں کو ہلاک کیا تھا۔ کسی بندے کے دل میں حرص و بخل اور ایمان اکٹھے نہیں ہوسکتے

٭… حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ آنحضرتﷺ کی یہ حالت تھی کہ آپ کے پاس جو کچھ ہوتا وہ سخاوت کردیا کرتے تھے

خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۱۲؍جون ۲۰۲۶ء بمطابق ۱۲؍احسان ۱۴۰۵؍ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے

اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ۱۲؍جون ۲۰۲۶ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔ جمعہ کي اذان دينےکي سعادت مولانا فیروز عالم صاحب کے حصے ميں آئي۔

تشہد،تعوذ ،سورة الفاتحہ ،سورةالبقرۃ کی آیت ۲۷۵ اور سورۃ الذّاریات کی آیت ۵۲ کی تلاوت کے بعد حضورِانور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:

پہلی آیت جو مَیں نے پڑھی ہے وہ سورۃ البقرہ کی ہے جس کا ترجمہ ہے کہ جو لوگ اپنے مال رات اور دن پوشیدہ بھی اور ظاہر بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرتے رہتے ہیں ان کے لیے اُن کے ربّ کے پاس اُن کا اجر محفوظ ہے اور نہ تو انہیں کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

دوسری آیت سورۃ الذّاریات کی ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اور اُن کے مالوں میں مانگنے والوں کا بھی حق تھا اور جو مانگ نہیں سکتے تھے اُن کا بھی حق تھا۔

آج مَیں آنحضرتﷺ کے جود و سخا کے اسوے کے متعلق کچھ روایات کروں گا۔ ان روایات سے پتا چلتا ہے کہ آپؐ کا اپنا عمل کیا تھا اور آپؐ نے کس طرح باربارمومنوں کو اس حوالےسے توجہ دلائی ہے۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ضرورت مندوں کی ضروریات پورا کرنے کی طرف بہت توجہ دلائی ہے۔ آنحضرتﷺ نے بھی اس طرف نہ صرف اپنے ارشادات سے بلکہ اپنے عملی نمونے سے بھی بہت توجہ دلائی ہے۔

حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ

آنحضورﷺ ان دعائیہ کلمات کے ساتھ دعا کیا کرتے کہ اے اللہ! مَیں بخل سے، سستی سے، بدترین عمر سے اور قبر کے عذاب سے اور زندگی اور موت کے فتنےسے تیری پناہ مانگتا ہوں۔

اسی طرح اس حوالے سے یہ دعا بھی مذکور ہے کہ

اے اللہ! مَیں تیری پناہ لیتا ہوں فکر اور غم سے، عاجزی اور سستی سےاور بزدلی اور کنجوسی سے اور قرضے کے زیادہ ہونے سےاور لوگوں کے غلبے سے۔

اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کے متعلق آپؐ نے یہ نصیحت فرمائی ہے کہ

تھیلی کامنہ باندھ کر نہ رکھا کرو ورنہ تم سے روک لیا جائے گا۔

فرمایا :

گنتے نہ رہا کرو، ورنہ اللہ بھی گِن گِن کر دے گا۔

فرمایا: سخاوت کرنے والا اللہ کے قریب ہے، جنت کے قریب ہے لوگوں کے قریب ہے اور آگ سے دُور ہے۔ جبکہ بخیل اللہ سے جنت سے لوگوں سے دُور ہے لیکن آگ کے نزدیک ہے۔ جنت میں دھوکا باز، بخیل اور احسان جتانے والا داخل نہ ہوگا۔ مومن سادہ لوح اور سخی ہوتا ہے جبکہ فاجر دھوکا دینے والا اور رذیل ہے۔

ایک موقع پر نصیحت کرتے ہوئے آپؐ نے فرمایا کہ اے ابنِ آدم! تیرا اپنی ضرورت سے زائد مال خرچ کرنا تیرے لیے بہتر ہے۔ تیر ااس کو روک رکھنا تیرے لیے برا ہے،بقدرِ ضرورت روک رکھنے پر ملامت نہیں کی جائے گی۔ تُو اس سے شروع کر جس کی پرورش تیرے ذمہ ہے۔ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔

ایک دفعہ آنحضورﷺ حضرت بلالؓ کے پاس تشریف لائے ان کے پاس کھجور کی ایک ڈھیری جمع تھی جو انہوں نے نبی ﷺ اور آپؐ کے مہمانوں کے لیے جمع کر رکھی تھی۔ آنحضورﷺ نےحضرت بلال ؓکو مخاطب کرکے فرمایا کہ کیا تم اس سے نہیں ڈرتے کہ اس ذخیرے پر جہنم کی گرم لپیٹ آپہنچے۔ پھر آپؐ نے فرمایا کہ اے بلال! خرچ کرتے چلے جاؤ۔ خدائے ذوالعرش کے ہوتے ہوئے فقر و فاقہ سے مت ڈرو۔

ایک موقعے پر آنحضورﷺ نے فرمایا کہ

مَیں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں دینے والا تو اللہ ہے۔

جودوسخا کی صفت آپؐ میں بعثت سے قبل بھی پائی جاتی تھی، جس کی گواہی ہم حضرت خدیجہؓ کے اس بیان میں پڑھتے ہیں جو پہلی وحی کے موقعے پر انہوں نے دی تھی۔

آپؓ نے فرمایا تھا کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ بخدا! اللہ آپؐ کو کبھی رسوانہیں کرے گا ۔آپؐ صلہ رحمی کرتے ہیں، عاجز کا بوجھ اٹھاتے ہیں، وہ نیکیاں کرتے ہیں جو معدوم ہوچکی ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حقیقی مصائب میں مدد کرتے ہیں۔

آنحضورﷺ نے فرمایا کہ دو عادتیں مومن میں نہیں ہوسکتیں ایک بخل اور دوسری بدخُلقی۔ فرمایا ظلم سے بچو… بخل اور حرص سے بچو یقیناً بخل نے تم سے پہلوں کو ہلاک کیا تھا۔ کسی بندے کے دل میں حرص و بخل اور ایمان اکٹھے نہیں ہوسکتے۔

حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ

رسول اللہﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ حسین تھے، لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھی، لوگوں میں سب سے زیادہ بہادر تھے۔

آپؐ نے فرمایا کہ

اللہ سب سخاوت کرنے والوں سے زیادہ سخاوت کرنے والا ہے اور مَیں بنی آدم میں سب سے زیادہ سخاوت کرنے والا ہوں۔

روایات میں مذکور ہے کہ آنحضورﷺ رمضان میں بہت زیادہ سخاوت فرمایا کرتے اور خیر و بھلائی میں آپؐ تیز آندھی سے بھی زیادہ تیز ہوجایا کرتے۔ آپؐ فرماتے تھے کہ اگر میرے پاس تہامہ کے پہاڑوں کے برابر سونا ہوتا تو مَیں وہ سب تم میں تقسیم کردیتا اور تم مجھے جھوٹا یا بخیل نہیں پاؤ گے۔ فرمایا کہ مَیں پسند نہیں کرتا کہ میرے پاس اُحد پہاڑ جتنا سونا ہو اور تیسری رات گزر جائے کہ اُس میں سے ایک دینار بھی میرے پاس بچ جائے، سوائے اُس کے جو مَیں نے قرض اداکرنے کے لیے رکھ چھوڑا ہو۔ فرمایا:

جو بہت مالدار ہیں اور ضرورت مندوں پر خرچ نہیں کرتے وہی قیامت کے دن بہت نادار ہوں گے۔

ایک شخص نے آنحضورﷺ سے دو پہاڑوں کے درمیان جتنی بھی بکریاں تھیں سب مانگ لیں۔ آپؐ نے اسے وہ سب عطا فرمادیں۔ وہ اپنی قوم کے پاس گیا اور کہا کہ اے میری قوم! ایمان لے آؤ! خدا کی قَسم! محمد(ﷺ) تو اتنا دیتے ہیں کہ غربت کا ڈر نہیں رہتا۔

بعض اوقات کوئی شخص صرف دنیا کی خاطر بھی اسلام قبول کرتا تو اسے اسلام دنیا و مافیہا سے بڑھ کر محبوب ہوجاتا۔

آنحضورﷺ آنےوالے کل کےلیے کوئی شئے بچاکر نہ رکھتے۔ایک دفعہ نبی کریمﷺ نے عصر کی نماز پڑھائی اور جلدی سے گھر تشریف لے گئے اور پھر باہر تشریف لائے ۔ پوچھنے پر فرمایا کہ مَیں صدقے کے مال میں سے سونے کا ایک ٹکڑا گھر میں چھوڑ آیا تھا۔ مَیں نے پسند نہ کیا کہ یہ رات بھر میرے پاس موجود رہے اس لیے مَیں نے اسے تقسیم کردیا۔

حضرت ام سلمہؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور آپؐ کے چہرے کا رنگ بدلا ہوا تھا۔ مَیں نے سمجھا کہ کسی تکلیف یا درد کی وجہ سے ایسا ہوگا ۔ میں نےعرض کیا کہ یا رسول اللہﷺ! آپ کے چہرے کا رنگ بدلا ہوا ہے۔کیا یہ کسی تکلیف کی وجہ سے ہے؟ آنحضورﷺ نےفرمایا کہ نہیں! بلکہ اُن سات دیناروں کی وجہ سے ہے جو ہمارے پاس شام کو آئے تھے اور رات گزر گئی اور ہم نے انہیں خرچ نہیں کیا۔ مَیں انہیں بستر کے کونے میں بھول گیا تھا جب مجھے یاد آیا تو مجھے سخت تکلیف ہوئی ہے۔

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ آنحضرتﷺ کی یہ حالت تھی کہ آپ کے پاس جو کچھ ہوتا وہ سخاوت کردیا کرتے تھے۔

آنحضورؐ بہت حیا والے تھے۔ جب بھی آپؐ سے کچھ مانگا جاتا آپؐ عطا فرمادیتے۔ آپؐ عطا کرنے کے لحاظ سے سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے۔

ایک دفعہ آپؐ کے پاس ستّر ہزار درہم آئے ۔ یہ مال ایک چٹائی پر رکھا گیا ۔ آپؐ یہ مال تقسیم کرنے کےلیے کھڑے ہوئے کوئی سوالی ایسا نہ آیا جسے آپؐ نے خالی ہاتھ واپس کیا ہو یہاں تک کہ آپؐ نے سارا مال تقسیم فرمادیا۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: آنحضرتﷺ کی غلامی میں حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی عاجزی اور انکساری کے واقعات نیز اپنی جماعت کو عجز و انکسار اختیار کرنے کی نصیحت۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۵؍جون ۲۰۲۶ء

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button