امیر المومنین سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکا جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ برطانیہ 2025ء کے اختتامی اجلاس سے بصیرت افروز خطاب
’’خدا تعالیٰ کا شکر کرو۔ اس نے اپنے فضل سے اس وقت اس نور کو نازل کیا ہے مگر تھوڑے ہیں جو اس نور سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔‘‘(حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام)
آج کل کے نام نہاد علماء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ نعوذ باللہ آپ نے مسیح اور مہدی کا دعویٰ کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی … آپؑ کا تو اعلان ہی یہ ہے کہ میں نے جو کچھ پایا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی برکت سے پایا اور میرا دعویٰ تو عین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کی پیشگوئیوں کے مطابق ہے
آج ہر احمدی کی ذمہ داری ہے کہ اسلام کی خوبصورت تعلیم کو دنیا میں پھیلائے اور اپنے عمل سے بھی اس کو پھیلائے
احمدی تو جو قربانیاں دے رہے ہیں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو دنیا میں پھیلانے اور اسلام کی اشاعت کے لیے ہی دے رہے ہیں
مجھے ایسا نشان دیا گیا ہے جو آدم سے لے کر اس وقت تک کسی کو نہیں دیا گیا۔ غرض میں خانہ کعبہ میں کھڑا ہو کر قسم کھا سکتا ہوں کہ یہ نشان میری تصدیق کے لیے ہے نہ کہ کسی ایسے شخص کی تصدیق کے لیے جس کی ابھی تکذیب نہیں ہوئی اور جس پر شور تکفیر اورتکذیب اور تفسیق نہیں پڑااور ایسا ہی میں خانہ کعبہ میں کھڑا ہو کر حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ اس نشان سے صدی کی تعیین بھی ہو گئی ہے (حضرت مسیح موعودؑ)
میں احمدیوں کو بھی کہتا ہوں بعض دفعہ تبلیغ میں جوش میں آ کے بعض غلط باتیں کر جاتے ہیں۔ کسی احمدی کا یہ کام نہیں کہ جیسی زبان مخالفین استعمال کر رہے ہیں ہم بھی وہ زبان استعمال کریں۔ ہماری طرف سے ہمیشہ نرمی، پیار محبت اور اسلام کی خوبصورت تعلیم دی جانی چاہیے
جب ہم اپنے اندر حقیقی انقلاب پیدا کریں گے تب ہی ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حقیقی مددگار بن سکیں گے اورحقیقی مددگار بن کر دنیا کو اسلام کی آغوش میں لانے والے بن سکیں گے۔ خدا تعالیٰ کی وحدانیت کو دنیا میں قائم کرنے والے بن سکیں گے اوردنیا کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے لانے والے بن سکیں گے
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشادات کی روشنی میں مسیح محمدیؑ کے ظہور کے لیے ضرورتِ زمانہ کا پورا ہونا اور احمدیوں کی ذمہ داریاں
امیر المومنین سیدنا حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکا جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ برطانیہ 2025ء کے اختتامی اجلاس سے بصیرت افروز خطاب
(فرمودہ 27؍ جولائی 2025ء بروز اتوار بمقام حدیقۃ المہدی (جلسہ گاہ) آلٹن ہمپشئر۔ یوکے)
(خطاب کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)
أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ- بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
آج کل کے نام نہاد علماء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ نعوذ باللہ آپ نے مسیح اور مہدی کا دعویٰ کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی
جبکہ یہ ایک ایسا جھوٹا الزام ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں۔ بے بنیاد ہے۔ اگر ان لوگوں میں ذرا بھی شرم اور حیا ہو تو آپؑ کے لٹریچر کو پڑھیں، غور کریں، دیکھیں کہ آپ نے کیا فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ اس بارے میں کیا فرماتا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس بارے میں کیا فرماتے ہیں۔
آپؑ کا تو اعلان ہی یہ ہے کہ میں نے جو کچھ پایا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی برکت سے پایا اور میرا دعویٰ تو عین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کی پیشگوئیوں کے مطابق ہے۔
مجھے اللہ تعالیٰ نے اسلام کی اشاعت کے لیے مقرر کیا ہے اور میں احیائے دین کے لیے آیا ہوں۔ آخری زمانہ میں جس مسیح و مہدی کے آنے کی خبر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دی اور جس شخص کے آنے کی خبر اللہ تعالیٰ نے دی، جس نے اسلام کی خوبصورت تعلیم کو دوبارہ دنیا میں ظاہر کر کے دنیا کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے لانا تھا میں تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے وہی دعویٰ کرنے والا ہوں۔ مَیں نے اپنی طرف سے نہ کوئی نئی چیز بنائی ہے، نہ کوئی افتراء کیا ہے، نہ کوئی جھوٹا دعویٰ کیا ہے۔ آپ نے اعلان فرمایا کہ تم مجھے جھوٹا اور دکانداری چمکانے والا کہتے ہو۔ بتاؤ! کیا مسلمانوں کی حالت یہ نہیں کہ ہر طرف سے ان میں بگاڑ پیدا ہو چکا ہے؟ مسلمانوں کی عملی حالت کمزور ہو چکی ہے۔ مخالف ہر طرف سے اسلام پر حملے کر رہا ہے۔ اس زمانے کے حالات کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم نے جو نشانیاں بتائی تھیں وہ پوری ہورہی ہیں۔ عمومی طور پر دنیا خدا تعالیٰ سے دُور ہوتی چلی جا رہی ہے۔ اب بھی اگر کسی ایسے مصلح کی ضرورت نہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت پا کر اسلام کی خوبصورت تعلیم کو پھیلانے آیا ہو، جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں آپ کی خوبصورت تعلیم کو دنیا میں پھیلانا ہے تو پھر وہ شخص کب آئے گا؟ آپ نے کھل کر زمانے کے حالات کی وضاحت فرمائی کہ یہ وہی زمانہ ہے جس میں یہ حالات ظاہر ہو رہے ہیں اور زمانے کی ضرورت ایک مصلح کو پکار پکار کر بلا رہی ہے۔ قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیاں زمانے کی حالت کا نقشہ کھینچ رہی ہیں۔ مسیح موعود کے دعوے کے ساتھ خدا تعالیٰ کی تائیدات و نصرت نظر آ رہی ہیں لیکن اس کے باوجود تم سمجھنا نہیں چاہتے۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ جس وقت آپؑ نے دعویٰ کیا اس وقت اسلام پر غیر مذاہب اور خاص طور پر عیسائیت کی طرف سے ایسے تابڑ توڑ حملے ہو رہے تھے کہ کئی لاکھ مسلمان برصغیر ہندو پاکستان میں ہی عیسائی ہو گئے تھے۔آپؑ نے فرمایا کہ کیا اب بھی کسی ایسے مصلح کے آنے کی ضرورت نہیں جو اسلام کی خوبصورت تعلیم کو دنیا میں رائج کرے؟ اور اسلام کی خوبصورت تعلیم کی ضرورت کو دوبارہ واضح طور پر بیان کرے۔ اس کی خوبصورتی دکھائے۔ اس کی چمک دکھائے اور لوگوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے لے کر آئے۔ اسلام پر ہر طرف سے حملے ہو رہے ہیں بلکہ آج کل بھی ہم دیکھتے ہیں کہ یہ حملے بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں ۔گو کہ ان کا طریق بدل گیا ہے لیکن افریقہ میں اور بعض اور دوسرے ممالک میں تو اسلام پر یہ حملے مذہب کے طور پر ہو رہے ہیں، عیسائیت کی طرف سے ہو رہے ہیں اور اب بھی لوگ دین سے ہٹ رہے ہیں، دہریت کی طرف جارہے ہیں یا مذہب اسلام کو چھوڑ رہے ہیں۔ خواہ ظاہر کریں یا نہ کریں لیکن جب
مخفی طور پر لوگوں سے پوچھا جائے تو بے شمار ایسے مسلمان ہیں جن کا جب سروے کیا گیا تو ایسا ڈیٹا سامنے آیا کہ سب برملا کہتے ہیں ان کا خدا تعالیٰ سے کوئی تعلق نہیں۔ اور نہ اسلام سے ان کو خاص تعلق ہے بلکہ صرف نام کے مسلمان ہیں لیکن نہ تو مسلمانوں کے لیڈروں کو کوئی فکر ہے نہ ہی علماء کو۔
ہر کوئی صرف اپنی کرسی بچانے میں لگا ہوا ہے۔ جن مسلمان ممالک کو اللہ تعالیٰ نے دولت سے نوازا ہے وہ بھی اس طرف کوئی توجہ نہیں دے رہے اور وہ مسلمان ممالک جہاں دولت کم ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں بہرحال حکومت سے نوازا ہے وہ بھی اپنی کرسی بچانے کے لیے لگے ہوئے ہیں، لوگوں کو، ایک دوسرے کو قتل کر رہے ہیں۔ اپنے مفادات کی خاطر مسلمان مسلمان کو مار رہا ہے۔ اسی لیے غیروں کو بھی جرأت پیدا ہو رہی ہے کہ وہ مسلمانوں پرظلم کرتے چلے جا رہے ہیں اور اخباروں میں خبریں پڑھیں تو یہی نظارے ہم آج کل ہر طرف دیکھ رہے ہیں۔ لوگ دین کو بھول بیٹھے ہیں۔ تبلیغ کا درد کسی میں نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا پیغام دنیا میں پہنچانے اور لوگوں کو حقیقی مسلمان بنانے کی فکر نہیں ہے۔ اگر فکر ہے تو ایک شخص کو ہے اور تھی اور اس نے اپنی جماعت میں بھی فکر قائم کی لیکن اسے ماننے کو یہ تیار نہیں۔
اسی دور کا نقشہ کھینچتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ’’اے مسلمانو! جو اولو العزم مومنوں کے آثار باقیہ ہواور نیک لوگوں کی ذریت ہو انکار اور بدظنی کی طرف جلدی نہ کرو اور اس خوفناک وبا سے ڈرو جو تمہارے اردگرد پھیل رہی ہے اور بے شمار لوگ اس کے دام فریب میں آگئے ہیں۔ تم دیکھتے ہو کہ کس قدر زور سے دین اسلام کے مٹانے کے لیے کوشش ہو رہی ہے۔ کیا تم پر یہ حق نہیں کہ تم بھی کوشش کرو۔
اسلام انسان کی طرف سے نہیں کہ تا انسانی کوششوں سے برباد ہو سکے۔ مگر افسوس ان پر ہے کہ جو اس بیخ کنی کے لیے درپے ہیں اور پھر دوسرا افسوس ان پر ہے جو اپنی عورتوں اور اپنے بچوں اور اپنے نفس کی عیاشیوں کے لیے تو ان کے پاس سب کچھ ہے مگر اسلام کے حصے کا ان کی جیب میں کچھ بھی نہیں۔ ‘‘
اسلام کی عظمت کے لیے کچھ خرچ کرنے کو تیار نہیں، کچھ کوشش کرنے کو تیار نہیں۔ آپ فرماتے ہیں ’’کاہلوتم پر افسوس! کہ آپ تو تم اعلائے کلمۂ اسلام اور دینی انوار کے دکھلانے کی کچھ قوت نہیں رکھتے مگر خدا تعالیٰ کے قائم کردہ کارخانہ کو بھی جو اسلام کی چمکار ظاہر کرنے کے لیے آیا ہے شکر کے ساتھ قبول نہیں کرسکتے ‘‘یعنی مسیح موعودؑ نے جو دعویٰ کیا ہے، جن کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کو چمکانے کے لیے بھیجا ہے اسے قبول نہیں کر رہے بلکہ اس کی مخالفت کر رہے ہو۔’’آج کل اسلام اس چراغ کی طرح ہے جو ایک صندوق میں بند کر دیا جائے یا اس چشمہ شیریں کی طرح ہے جو خس وخاشاک سے چھپا دیا جائے ‘‘جس سے تم فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔
آپؑ نے فرمایا ’’…اسلام تنزل کی حالت میں پڑا ہے ‘‘کچھ تو فکر کرو، کچھ تو خوف کرو۔ ’’اس کا خوبصورت چہرہ‘‘ عمومی طور پر مسلمانوں کی حالت دیکھ کر’’ دکھائی نہیں دیتا۔ ‘‘ یہاں یو کے میں بھی ایک سروے کروایا گیا تھا۔ جو رپورٹیں یہاں آتی ہیں، ان کے مطابق یوکے میں یہاں کے لوگ جن ہجرت کرنے والے امیگرینٹس کے سب سے زیادہ خلاف ہیں وہ مسلمان ہیں۔ اسلام کے متعلق ان میں غلط تصور پیدا کر دیا گیا ہے۔ کچھ تو ان لوگوں نے تصور پیدا کر دیا ہے جویہاں آنے والے ہیں۔ ان کے عمل بھی ٹھیک نہیں اور کچھ بعض نام نہاد مسلمانوں کے جو لیڈر ہیں انہوں نے غلط تعلیم کی وجہ سے یہ تصور پیدا کر دیا ہے۔ اسلام مخالف لوگوں کا جواب ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ اسلام کی تعلیم تو شدت پسندی کی تعلیم ہے اور یہ لوگ قانون کو توڑنے والے اور فساد پیدا کرنے والے اور اخلاقی قدروں کو پامال کرنے والے ہیں۔ یہ تصور قائم ہو گیا ہے۔ اس لیے مغربی دنیا خلاف ہے کہ ان کو مسلمانوں میں جیسا کہ میں نے کہا اسلام کا صحیح نمونہ نظر نہیں آ رہا۔ پس آپؑ فرماتے ہیں کہ’’ …مسلمانوں کا فرض تھا کہ اس کی محبوبانہ شکل دکھلانے کے لیے جان توڑ کرکو شش کرتے اور مال کیا بلکہ خون کو بھی پانی کی طرح بہاتے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ وہ اپنی غایت درجے کی نادانی سے اس غلطی میں بھی پھنسے ہوئے ہیں کہ کیا پہلی تالیفات کافی نہیں۔‘‘ اسلام کے بارے میں جو کچھ لکھا گیا، جو علم ہمارے پاس ہے، جو پرانے علماء کہہ گئے ہیں وہ کافی ہے۔ ’’نہیں جانتے کہ جدید فسادوں کو دور کرنے کے لیے جو جدید در جدید پیرایوں میں ظاہر ہوتے جاتے ہیں مدافعت بھی جدید طورکی ہی ضروری ہے۔اورنیز ہرایک زمانہ کی تاریکی پھیلنے کے وقت میں جو نبی اور رسول اور مصلح آتے رہے کیا اس وقت پہلی کتابیں نہیں تھیں۔‘‘ ایک تو ان کے عمل ایسے نہیں جن کے ذریعے سے اسلام کی خوبصورتی دکھائیں۔ پھر اس بات پر خوش ہیں کہ ہماری تعلیم مکمل ہے۔ وہ نہیں جانتے کہ اس خوبصورت تعلیم کی مزید چمک دکھانے کے لیے ہی اللہ تعالیٰ مصلح بھیجتا ہے اور اس زمانے میں بھی اس نے اپنے وعدے کے مطابق بھیجا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ
مخالفین کے جو اعتراضات ہیں وہ بھی نئی طرز کے ہیں۔ نئے پیرائے میں اعتراضات کیے جاتے ہیں۔ ان کے ردّ کے لیے بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے معلم کی ضرورت تھی اور ہے جو قرآنی تعلیم کی روشنی میں ان کے اعتراضات کے مطابق جوابات دے
لیکن مولوی اور نام نہاد علماء اس سے عامة المسلمین کو دور لے جا رہے ہیں، بھٹکا رہے ہیں، غلط قسم کا تاثر دے رہے ہیں۔
بہرحال آپ اس بات کو سمجھاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’سو بھائیو یہ تو ضروری ہے کہ تاریکی پھیلنے کے وقت میں روشنی آسمان سے اترے۔ ‘‘ بعض بظاہر دین کی خدمت کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن جس طرح تعلیم دیتے ہیں وہ شدت کی تعلیم ہے۔ اسلام کی تعلیم تو پیار اور محبت سے پھیلانے کی تعلیم ہے اور اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے فرستادوں کے ساتھ جڑنا ضروری ہے۔ آپؑ نے فرمایا ’’… خدا تعالیٰ سورة القدر میں بیان فرماتا ہے بلکہ مومنین کو بشارت دیتا ہے کہ اس کا کلام اور اس کا نبی لیلة القدر میں آسمان سے اتارا گیا ہے اور ہر ایک مصلح اور مجدد جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے وہ لیلة القدر میں ہی اترتا ہے۔ تم سمجھتے ہو کہ لیلة القدر کیا چیز ہے؟ لیلةالقدر اس ظلمانی زمانہ کا نام ہے جس کی ظلمت کمال کی حد تک پہنچ جاتی ہے اس لیے وہ زمانہ بالطبع تقاضا کرتا ہے کہ ایک نور نازل ہو جو اس ظلمت کو دور کرے۔ اس زمانہ کا نام بطور استعارہ کے لیلة القدر رکھا گیا ہے مگر درحقیقت یہ رات نہیں ہےیہ ایک زمانہ ہے جو بوجہ ظلمت رات کا ہم رنگ ہے۔ نبی کی وفات یا اس کے روحانی قائم مقام کی وفات کے بعد جب ہزار مہینہ جو بشری عمر کے دور کو قریب الاختتام کرنے والا اور انسانی حواس کے الوداع کی خبر دینے والا ہے گزر جاتا ہے تو یہ رات اپنا رنگ جمانے لگتی ہے تب آسمانی کارروائی سے ایک یا کئی مُصلحوں کی پوشیدہ طور پر تخم ریزی ہو جاتی ہے جو نئی صدی کے سر پر ظاہر ہونے کے لیے اندر ہی اندر طیار ہو رہتے ہیں۔ اسی کی طرف اللہ جل شانہ اشارہ فرماتا ہے کہلَیۡلَۃُ الۡقَدۡرِ ۬ۙ خَیۡرٌ مِّنۡ اَلۡفِ شَہۡرٍ ؕ۔(القدر:4) یعنی اس لیلة القدر کے نور کو دیکھنے والا اور وقت کے مصلح کی صحبت سے شرف حاصل کرنے والا اس اسّی برس کے بڈھے سے اچھا ہے جس نے اس نورانی وقت کو نہیں پایا۔‘‘ ہزار مہینہ اسّی بیاسی سال کی عمر بنتی ہے۔ فرمایا ’’اگر ایک ساعت بھی اس وقت کو پا لیا ہے تو یہ ایک ساعت اس ہزار مہینے سے بہتر ہے جو پہلے گزر چکے۔کیوں بہتر ہے؟ اس لیے کہ اس لیلة القدر میں خدا تعالیٰ کے فرشتے اور روح القدس اس مصلح کے ساتھ رب جلیل کے اذن سے آسمان سے اترتے ہیں نہ عبث طور پر بلکہ اس لیے کہ تا مستعد دلوں پر نازل ہوں اور سلامتی کی راہیں کھولیں۔ سو وہ تمام راہوں کے کھولنے اور تمام پردوں کو اٹھانے میں مشغول رہتے ہیں یہاں تک کہ ظلمتِ غفلت دور ہو کر صبح ہدایت نمودار ہو جاتی ہے۔‘‘
(فتح اسلام،روحانی خزائن جلد3صفحہ31تا33)
ہم جماعت میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے دیکھتے ہیں جیسا کہ میں نے کل رپورٹ میں بھی ذکر کیا تھا کہ سینکڑوں ہزاروں لوگ ہر سال احمدیت قبول کرتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت میں داخل ہوتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں داخل ہوتے ہیں۔
ان کو جب ہدایت ملتی ہے تو وہ قبول کرتے ہیں ضد نہیں کرتے۔ پس ہر ایک کو چاہیے کہ ضد کرنے کی بجائے ان حالات پر غور کرے اور پھر دیکھے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کیا چاہتا ہے اور ہم اسلام کی خوبصورتی کس طرح ظاہر کر سکتے ہیں اور اس کے لیے اس شخص کی تلاش کریں جس کوخدا تعالیٰ نے بھیجا ہے اور مستعد دل بنیں۔ آپؑ نے فرمایا اے مسلمانو !غور سے ان آیات کو پڑھو کس قدر خداتعالیٰ اس زمانے کی تعریف بیان فرماتا ہے جس میں ضرورت کے وقت پر کوئی مصلح دنیا میں بھیجا جاتا ہے یعنی اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ فِيْ لَيْلَۃِ الْقَدْرِ(القدر:2)کہ دیکھو اور سمجھو کہ کیا تم ایسے زمانے کا قدر نہیں کرو گے؟ کیا تم خدا تعالیٰ کے فرمودہ کو بنظر استہزاء دیکھو گے؟ یہ تو بڑے شرم کی بات ہے۔
پھر آپؑ نے فرمایا کہ ’’یہ زمانہ ایسا زمانہ تھا جو طبعاً چاہتا تھا کہ جیساکہ مخالفوں کے فتنہ کا سیلاب بڑے زور سے چاروں پہلوؤں پر حملہ کرنے کے لیے اٹھا ہے ایسے ہی مدافعت بھی چاروں پہلوؤں کے لحاظ سے ہو اور اس عرصہ میں چودھویں صدی کا آغاز بھی ہو گیا۔ اس لیے خدا نے چودھویں صدی کے سر پر اپنے وعدہ کے موافق جو اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ۔ (الحجر:10)ہے اس فتنہ کی اصلاح کے لیے ایک مجدد بھیجا۔ مگر چونکہ ہر ایک مجدد خدا تعالیٰ کے نزدیک ایک خاص نام ہے اور جیسا کہ ایک شخص جب ایک کتاب تالیف کرتا ہے تو اس کے مضامین کے مناسب حال اس کتاب کا نام رکھ دیتا ہے ایسا ہی خدا تعالیٰ نے اس مجدد کا نام خدمات ِمفوضہ کے مناسب حال مسیح رکھا کیونکہ یہ بات مقرر ہو چکی تھی کہ آخری زمانے کے صلیبی فتنوں کی مسیح اصلاح کرے گا۔‘‘ آپ کا جو زمانہ تھا اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں یہ فتنہ انتہا کو پہنچا ہوا تھا اور کھلے طور پر مخالفت ہوتی تھی لیکن اب خاموشی سے اور نئے طریقوں سے اسلام کی مخالفت ہو رہی ہے۔ انہوں نے وہ طریقہ اختیار نہیں کیا۔ نئے طریقے ایجاد کرنے شروع کر دیے ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام مخالف طاقتیں کیا زور اسلام کو ختم کرنے کے لیے نہیں لگا رہیں۔کیا ہمیں یہ نظر نہیں آتا؟ لیکن مسلمان دنیا اس کو سمجھتی نہیں اس کا علاج کوئی جنگ و جدل نہیں بلکہ اس کا علاج یہ ہے کہ اسلام کی خوبصورت تعلیم سے دلوں کو فتح کر کے انہیں خدا کا بندہ بنایا جائے۔ جو مخالفین ہیں انہی کے دلوں میں اسلام کی عظمت پیدا کی جائے۔
آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’پس جس شخص کو یہ اصلاح سپرد ہوئی ضرور تھا کہ اس کا نام مسیح موعود رکھا جائے۔ پس سوچو کہ یَکْسِرُ الصَّلِیْبَ‘‘ یعنی صلیب کو توڑنے ’’کی خدمت کس کے سپرد ہے؟ ‘‘یہ مسیح موعود ہی کے سپرد ہے ’’اور کیا اب یہ وہی زمانہ ہے یا کوئی اورہے؟ سوچو خدا تمہیں تھام لے۔‘‘
(ایام الصلح روحانی خزائن جلد14 صفحہ 289-290)
اس وقت کے حالات کے مطابق آپؑ نے بڑی درد اور فکر سے اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے اور یہ باتیں ہم آج بھی دیکھ رہے ہیں کہ گو بظاہر مذہبی طور پر اس طرح مخالفت نہیں کی جا رہی ۔کہا یہی جاتا ہے کہ مذہبی مخالفت نہیں ہے لیکن یہ بھی ایک دجالی چال ہے اور اَور طریقوں سے اسلام پر حملے کئے جا رہے ہیں۔
پھر آپؑ
ضرورتِ زمانہ اور مصلح کے آنے کی اہمیت
کے بارے میں ایک جگہ بیان فرماتے ہیں ’’آیا یہ امر ثابت ہے یا نہیں کہ آنے والا مسیح موعود اسی زمانہ میں آنا چاہیے جس میں ہم ہیں‘‘ فرمایا ’’…صحیح بخاری میں جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ کہلاتی ہے، لکھا ہے کہ مسیح موعود کسرِ صلیب کے لیے آئے گا اور ایسے وقت میں آئے گا جب ملک میں ہر ایک پہلو سے بے اعتدالیاں قول اور فعل میں پھیلی ہوئی ہوں گی۔ سو اَب اس نتیجہ تک پہنچنے کے لیے غور سے دیکھنے کی بھی حاجت نہیں کیونکہ ظاہر ہے کہ عیسائیت کا اثر لاکھوں انسانوں کے دلوں پر پڑ گیا ہے ‘‘اور اب اگر کھلے طور پر نہیں تو اندرونی طور پر اس کی ایسی مخالفتیں ہو رہی ہیں کہ ہمیں نظر نہیں آتا۔ جس طرح میں نے ابھی کہا کہ کس طرح اسلام پر حملے ہو رہے ہیں ’’اور ملک اباحت کی تعلیموں سے متاثر ہوتا جاتا ہے۔ صدہا آدمی ہر ایک خاندان میں سے نہ صرف دین اسلام سے ہی مرتد ہو گئے ہیں بلکہ جناب سیّدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت دشمن بھی ہو گئے ہیں۔‘‘ مختلف اوقات میں اور آج کل بھی جو ڈیٹا سامنے آتا ہے اس سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ہر ملک میں لوگ شدّت پسند ملاؤں کی حرکتوں کی وجہ سے اسلام کی تعلیم سے دُور ہٹ رہے ہیں اور آپؑ نے فرمایا کہ اسلام کے ردّ میں بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں۔ کئی کتابیں ایسی ہیں جو گالیوں سے پُر ہیں اور ان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کو گالیاں دی گئی ہیں۔ آپؑ نے فرمایا کہ اگر ہم دیکھیں تو گزشتہ تیرہ سو سال میں ہمیں اس قسم کی مخالفت اور اسلام پر ایسے حملے نظر نہیں آتے جو آج کل اسلام کو مٹانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ کتابیں شائع کی گئی ہیں، تقریریں کی گئی ہیں۔ دیگر کوششیں کی گئیں اور یہ سب کچھ اسی پیش گوئی کے مطابق ہے جو تیرھویں صدی میں ہونا تھا، تبھی مسیح موعود نے آنا تھا۔ جو لوگ تاریخ سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ کس طرح آپؑ کے دعوے کے زمانے میں مسلمان دین چھوڑ کر تثلیث یا دہریت کی گود میں جا رہے تھے بلکہ اب بھی نام نہاد پڑھا لکھا طبقہ عملی طور پر جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے اسلام سے دور ہٹ رہا ہے۔ بعض مجلسوں میں وہ اپنے آپ کو مسلمان کہلاتے ہوئے شرم محسوس کرتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کی توہین میں کتابیں لکھی جا رہی ہیں، نعرے لگائے جا رہے ہیں۔ کیوں؟ اس لیے کہ ان لوگوں میں جو نام نہاد علماء ہیں اس کا جواب اسلام کی خوبصورت تعلیم پیش کرکے دینے کی طاقت نہیں ہے۔ یہ لوگ اسلام کی خوبصورت تعلیم کو خوبصورت کر کے کیوں نہیں دکھاتے؟ دعوے تو بڑے کرتے ہیں۔ اس لیے کہ یہ کام اللہ تعالیٰ نے اب اپنے بھیجے ہوئے کے سپرد کیا ہے اور آپ کی جماعت کے سپرد کیا ہے کہ اس کا جواب دیں۔
پس
آج ہر احمدی کی ذمہ داری ہے کہ اسلام کی خوبصورت تعلیم کو دنیا میں پھیلائے اور اپنے عمل سے بھی اس کو پھیلائے۔
بہرحال آپؑ فرماتے ہیں لہٰذا عقل سلیم اس بات کی ضرورت کو مانتی ہے کہ ایسے پُرخطر زمانے کے لیے جس میں عام طور پر زمین میں بہت جوش مخالفت کا پھوٹ پڑا ہے اور مسلمانوں کی اندرونی زندگی بھی ناگفتہ بہ حالت تک پہنچ گئی ہے کوئی مصلح صلیبی فتنوں کی فرو کرنے والا اور اندرونی حالات کو پاک کرنے والا پیدا ہو اور تیرہویں صدی کے پورے سوبرس کے تجربے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ان زہریلی ہواؤں کی اصلاح جو بڑے زور سے چل رہی ہے اور عام وبا کی طرح ہر ایک شہر اور گاؤں سے کچھ نہ کچھ اپنے قبضے میں لا رہی ہے ہر ایک معمولی طاقت کا کام نہیں کیونکہ یہ مخالفانہ تاثیرات اور ذخیرہ اعتراضات خود ایک معمولی طاقت نہیں بلکہ زمین نے اپنے وقت پر ایک جوش مارا ہے اور اپنے تمام زہروں کو بڑی قوت کے ساتھ اگلا ہے اس لیے اس زہر کی مدافعت کے لیے آسمانی طاقت کی ضرورت ہے۔ فرمایا کہ وہ اسی دلیل سے روشن ہو گیا کہ یہی زمانہ مسیح موعود کے ظہور کا زمانہ ہے۔ یہ بات بڑی سریع الفہم ہے۔ جلد اور آسانی سے سمجھ آنے والی ہے۔ اس کو ایک بچہ بھی سمجھ سکتا ہے کہ جس حالت میں علّتِ غائی مسیح کے آنے کی کسر صلیب ہے اور آج کل مذہب صلیب اس جوانی کے جوشوں میں ہے جس سے بڑھ کر اس کی قوتوں کی نشوونما اور اس کے حملوں کی تاریخ ہیبت نما ہوناممکن نہیں تو پھر اگر اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی مدافعت نہ ہوتی تو پھر اس کے بعد کس وقت کا انتظار ہے۔
آپؑ نے فرمایا چودھویں صدی میں سے سترہ برس گزر گئے۔ جب آپ نے فرمایا تھا اس وقت سترہ برس گزرے تھے۔ تو اس صورت میں اگر اب تک مسیح نہیں آیا تو ماننا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ کی مرضی ہے کہ اَور سو برس تک یا اس سے بھی زیادہ اسلام کو نشانہ توہین اور تحقیر رکھے۔
(ماخوذ از تحفہ گولڑویہ روحانی خزائن جلد17 صفحہ 128 تا 130)
کیا مسلمان یہی سمجھتے ہیں؟ آپؑ نے ایک شعر میں بھی فرمایا تھا کہ
’’وقت تھا وقتِ مسیحا نہ کسی اَور کا وقت
میں نہ آتا تو کوئی اَور ہی آیا ہوتا‘‘
آنا تو بہرحال تھا جیسا کہ آپ نے بیان فرمایا۔ اب تو اس بات کو بھی سو سال گزر گئے ہیں جب آپؑ نے یہ فرمایا تھا۔ ابھی تک یہ انتظار کر رہے ہیں یا پھر یہ کہتے ہیں کہ اب اس نے آنا ہی کوئی نہیں۔ پس غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ابھی تک مسیح موعود نہیں آیا اور اسلام کی حالت کی طرف کسی کو توجہ پیدا نہیں ہو رہی۔ جو نام نہاد مسلمان یہ کہتے ہیں کہ ہم اسلام کا دفاع کر رہے ہیں۔ بہت سارے یہ دعویٰ کرنے والے ہیں لیکن ان کا دفاع کیا ہے؟ ہر جگہ اسلام کی تحقیر کی جا رہی ہے۔ کیا خدا تعالیٰ اپنا وعدہ پورا نہیں کرے گا؟ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیاں پوری نہیں ہوں گی؟ ہوں گی اور ضرور ہوں گی لیکن جن کی نظر دیکھنے کی ہو وہ دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ کس طرح پوری فرما رہا ہے۔ بعض لوگ اور گروہ اسلام کی خدمت کے نام پر کام ضرور کر رہے ہیں لیکن وہ اسلام کی خدمت تشدّد اور جنگ سے کرنا چاہتے ہیں لیکن ہتھیار وہ پھر بھی اپنے مخالفین سے مانگتے ہیں۔ یہی ہمیں آج کل نظر آ رہا ہے۔ یا اگر تھوڑے بہت ہتھیار کسی اسلامی ملک میں بن بھی رہے ہیں تو اس قابل نہیں ہوتے کہ دشمن کے جدید ہتھیاروں کا مقابلہ کرسکیں۔ پھر ہتھیاروں کے لیے بھی ان کو غیروں کی طرف جھکنا پڑتا ہے۔ ایسی چیزکا پھر کیا فائدہ۔
اگر دفاع کرنا چاہتے ہیں تو یا تو خود اپنے اندر جرأت پیدا کریں اور ہر لحاظ سے اسلام کا دفاع کریں۔ آج کل اسلام پر اور مسلمان ملکوں پر جو حملے ہو رہے ہیں کون ہے جو ان کی حمایت کرتا ہے۔ وہ ایک دوسرے کے حق میں بولنا بھی نہیں چاہتے۔ فلسطینیوں کے حق میں کون بول رہا ہے!
اور اگر کوئی فکر ہے تو صرف یہ کہ احمدیوں کو ختم کرو۔ اسی بات پر زور ہے۔ ان کے نزدیک یہی ناموسِ رسالت کے لیے ضروری ہے کہ احمدیوں کو ختم کر دیا جائے۔ یہ عقل کے کورے نہیں جانتے کہ
احمدی تو جو قربانیاں دے رہے ہیں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو دنیا میں پھیلانے اور اسلام کی اشاعت کے لیے ہی دے رہے ہیں۔
آپؑ نے اصل جہاد کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: ’’اس کسر صلیب سے میری مراد وہ طریق جہاد اور کشت و خون نہیں جو حال کے اکثر علماء کا مد نظر ہے کیونکہ وہ لوگ تمام خوبیوں کو جہاد اور لڑائی پرہی ختم کربیٹھے ہیں اور میں اس بات کا سخت مخالف ہوں کہ مسیح یا اَور کوئی دین کے لیے لڑائیاں کرے۔‘‘
(تحفہ گولڑویہ۔ روحانی خزائن جلد17 صفحہ 130)
ہاں مسلمانوں پر حملے ہوتے ہیں، ملکوں پر حملے ہوتے ہیں وہاں دفاع کرنا جائز ہے اور کرنا بھی چاہیے لیکن یہ کہنا کہ دین پر حملے ہو رہے ہیں تو دین کے نام پر آج کل اس طرح حملے کوئی نہیں ہو رہے۔ مختلف طریقے ہیں۔ جو طریقہ دشمن استعمال کر رہا ہے وہی آپ استعمال کر رہے ہیں۔ جو اسلام کے شدید مخالف ہیں وہ بھی بڑی ہوشیاری سے یہی بات کرتے ہیں کہ ہم اسلام پر حملے نہیں کر رہے بلکہ ان لوگوں پر حملے کر رہے ہیں جو غلط حرکتیں کرتے ہیں۔
پس ان دجالی چالوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اسلام کی خوبصورت تعلیم کو دنیا میں پھیلایا جائے اور دنیا کو بتایا جائے کہ لوگ سب دجالی چالیں چل رہے ہیں، کچھ ہوش سے دیکھو اور انصاف سے کام لو۔
یہی وہ طریقہ ہے جو ہم اختیار کر سکتے ہیں۔ ہتھیاروں سے جنگ کب تک کرتے رہیں گے۔ ہاں جیسا کہ میں نے کہا اگر ملکوں پر حملہ ہو تو دفاع ضروری ہے۔ اس کے لیے پھر ان کو تیار ہونا چاہیے لیکن وہ بھی تیار نہیں۔
پھر آپؑ نے فرمایا ’’دوسری دلیل وہ بعض احادیث اور کشوف اولیائے کرام و علمائے عظام ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ مسیح موعود اور مہدی معہود چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہوگا۔ چنانچہ حدیث اَلْاٰیَاتُ بَعْدَالْمِأَتَیْن کی تشریح بہت سے متقدمین اور متأخرین‘‘ پرانے اور نئے علماء ’’نے یہی کی ہے جو مِأَتَیْن کے لفظ سے وہمِأَتَیْن مراد ہیں جو اَلْف کے بعد ہیں یعنی ہزار کے بعد۔ اسی طرح پر معنی اس حدیث کے یہ ہوئے کہ مہدی اور مسیح کی پیدائش جو آیات کبریٰ میں سے ہے تیرہویں صدی میں ہوگی اور چودھویں صدی میں اس کا ظہور ہوگا۔ یہی معنے محققین علماء نے کیے ہیں اور انہی قرائن سے انہوں نے حَکم کیا ہے‘‘یہی فیصلہ کیا ہے ’’کہ مہدی معہود کا تیرھویں صدی میں پیدا ہو جانا ضروری ہے تا چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہو سکے۔ چنانچہ اسی بنا پر اور نیز کئی اَور قرائن کےرو سے بھی مولوی نواب صدیق حسن خان صاحب مرحوم اپنی کتاب حجج الکرامہ میں لکھتے ہیں کہ میں بلحاظ قرائنِ قویہ گمان کرتا ہوں کہ چودھویں صدی کے سر پر مہدی معہود کا ظہور ہوگا۔اور ان قرائن میں سے ایک یہ ہے کہ تیرھویں صدی میں بہت سے دجالی فتنے ظہور میں آ گئے ہیں۔ آپؑ فرماتے ہیں ‘‘اب دیکھو کہ اس نامی مولوی نے جو بہت سی کتابوں کا مؤلف بھی ہے کیسی صاف گواہی دے دی کہ چودھویں صدی ہی مہدی اور مسیح کے ظاہر ہونے کا وقت ہے اور صرف اسی پر بس نہیں کی بلکہ اپنی کتاب میں اپنی اولاد کو وصیت بھی کرتا ہے کہ اگر میں مسیح موعود کا زمانہ نہ پاؤں تو تم میری طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا السلام علیکم مسیح موعود کو پہنچا دو۔ ’’ لیکن آپؑ نے یہ بھی لکھا ہے کہ اگر یہ زندہ ہوتا تو تب شاید یہ بھی مولویوں کی طرح مخالفت کرتا۔ ‘‘کیا ان مولویوں نے چودھویں صدی کے آنے پر کچھ غور بھی کی؟ کچھ خوف خدا اور تقویٰ سے بھی کام لیا؟ کون سا حملہ ہے جو نہیں کیا‘‘ انہوں نے ’’کون سی تکذیب اور توہین ہے جو ان سے ظہور میں نہیں آئی اور کونسی گالی ہے جس سے زبان کو روکے رکھا۔ ‘‘انہوں نے’’ اصل بات یہ ہے کہ جب تک کسی دل کو خدا نہ کھولے کھل نہیں سکتا اور جب تک وہ قادر کریم خود اپنے فضل سے بصیرت عنایت نہ کرے تب تک کوئی آنکھ دیکھ نہیں سکتی۔‘‘
(تحفہ گولڑویہ۔ روحانی خزائن جلد17 صفحہ 130۔131)
آپؑ دار قطنی کی ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں یہ ’’اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مہدی معہود چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہوگا۔ وہ حدیث یہ ہے کہ اِنَّ لِمَھْدِیِّنَاآیٰتَیْن۔‘‘ اس کا ’’ترجمہ تمام حدیث کا یہ ہے کہ
ہمارے مہدی کے لیے دو نشان ہیں جب سے زمین و آسمان کی بنیاد ڈالی گئی وہ نشان کسی مامور اور مرسل اور نبی کے لیے ظہور میں نہیں آئے اور وہ نشان یہ ہیں کہ چاند کا اپنی مقررہ راتوں میں سے پہلی رات میں اور سورج کا اپنے مقررہ دنوں میں سے بیچ کے دن میں رمضان کے مہینہ میں گرہن ہوگا۔
یعنی انہی دنوں میں جبکہ مہدی اپنا دعویٰ دنیا کے سامنے پیش کرے گااور دنیا اس کو قبول نہیں کرے گی آسمان پر اس کی تصدیق کے لیے ایک نشان ظاہر ہوگا اور وہ یہ کہ مقررہ تاریخوں میں جیسا کہ حدیث مذکورہ میں درج ہیں سورج چاند کا رمضان کے مہینہ میں جو نزولِ کلام الٰہی کا مہینہ ہے گرہن ہوگا اور ظلمت کے دکھلانے سے خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ اشارہ ہوگا کہ زمین پر ظلم کیا گیا اور جو خدا کی طرف سے تھا اس کو مفتری سمجھا گیا۔ اب اس حدیث سے صاف طور پر چودھویں صدی متعین ہوتی ہے کیونکہ کسوف و خسوف جو مہدی کا زمانہ بتلاتا ہے اور مکذبین کے سامنے نشان پیش کرتا ہے وہ چودھویں صدی میں ہی ہوا ہے۔ اب اس سے زیادہ صاف اور صریح دلیل کونسی ہوگی کہ کسوف خسوف کے زمانہ کو مہدی معہود کا زمانہ حدیث نے مقرر کیا ہے اور یہ امر مشہود محسوس ہے‘‘ اس کی گواہی دے رہا ہے ’’کہ یہ کسوف خسوف چودھویں صدی ہجری میں ہی ہوا اور اسی صدی میں مہدی ہونے کے مدعی کی سخت تکذیب ہوئی۔پس ان قطعی اور یقینی مقدمات سے یہ قطعی اور یقینی نتیجہ نکلا کہ مہدی معہود کا زمانہ چودھویں صدی ہے اور اس سے انکار کرنا امور مشہودہ محسوسہ بدیہیہ کا انکار ہے۔‘‘
(تحفہ گولڑویہ۔ روحانی خزائن جلد17 صفحہ 132-133)
سب ایسی باتوں کا انکار ہے جو ظاہر و باہر ہیں اور کھلی طور پر ظاہر ہو رہی ہیں۔ آپؑ نے ایک جگہ فرمایا کہ ’’ان تیرہ سو برسوں میں بہتیرے لوگوں نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا مگر کسی کے لیے یہ آسمانی نشان ظاہر نہ ہوا۔‘‘ کہتے ہیں کہ یہ جھوٹا ہے۔ مجھے اگر تم جھوٹا کہہ رہے ہو تو پھر جو پہلے بھی دعوے کرتے رہے ہیں ان کے لیے یہ نشان ظاہر کیوں نہیں ہوا۔ میرے لیے نشان ظاہر ہوا پھر بھی تم مجھے جھوٹا کہتے ہو۔ یہ تو آسمانی نشان تھا ’’بادشاہوں کو بھی جن کو مہدی بننے کا شوق تھا ‘‘ان میں بھی ’’یہ طاقت نہ ہوئی کہ کسی حیلہ سے اپنے لیے رمضان کے مہینے میں خسوف کسوف کرا لیتے۔ بے شک وہ لوگ کروڑہا روپیہ دینے کو تیار تھے اگر کسی کی طاقت میں بجز خداتعالیٰ کے ہوتا کہ ان کے دعوے کے ایام میں رمضان میں خسوف کسوف کر دیتا۔ مجھے اس خدا کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے میری تصدیق کے لیے آسمان پر یہ نشان ظاہر کیا ہے اور اس وقت ظاہر کیا ہے جبکہ مولویوں نے میرا نام دجال اور کذاب اور کافر بلکہ اَکْفَرْ ‘‘یعنی بہت بڑا کافر’’ رکھا تھا۔ یہ وہی نشان ہے جس کی نسبت آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں بطور پیشگوئی یہ وعدہ دیا گیا تھا ‘‘کہ ’’قُلْ عِنْدِیْ شَھَادَةٌ مِّنَ اللّٰہِ فَھَلْ اَنْتُمْ مُؤْمِنُوْنَ۔ قُلْ عِنْدِیْ شَھَادَةٌ مِّنَ اللّٰہِ فَھَلْ اَنْتُمْ مُسْلِمُوْنْ۔ یعنی ان کو کہہ دے کہ میرے پاس خدا کی ایک گواہی ہے کیا تم اس کو مانو گے یا نہیں۔ پھر ان کو کہہ دے کہ میرے پاس خدا کی ایک گواہی ہے کیا تم اس کو قبول کرو گے یا نہیں۔ یاد رہے کہ اگرچہ میری تصدیق کے لیے خدا تعالیٰ کی طرف سے بہت گواہیاں ہیں اورایک سو سے زیادہ وہ پیشگوئی ہے جو پوری ہو چکی جن کے لاکھوں انسان گواہ ہیں۔ مگر اس الہام میں اس پیشگوئی کا ذکر محض تخصیص کے لیے ہے۔ یعنی
مجھے ایسا نشان دیا گیا ہے جو آدم سے لے کر اس وقت تک کسی کو نہیں دیا گیا۔ غرض میں خانہ کعبہ میں کھڑا ہو کر قسم کھا سکتا ہوں کہ یہ نشان میری تصدیق کے لیے ہے نہ کہ کسی ایسے شخص کی تصدیق کے لیے جس کی ابھی تکذیب نہیں ہوئی اور جس پر شور تکفیر اورتکذیب اور تفسیق نہیں پڑااور ایسا ہی میں خانہ کعبہ میں کھڑا ہو کر حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ اس نشان سے صدی کی تعیین بھی ہو گئی ہے
کیونکہ جبکہ یہ نشان چودھویں صدی میں ایک شخص کی تصدیق کے لیے ظہور میں آیا تو متعین ہو گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مہدی کے ظہور کے لیے چودھویں صدی ہی قرار دی تھی کیونکہ جس صدی کے سر پر یہ پیشگوئی پوری ہوئی وہی صدی مہدی کے زمانے کے لیے ماننی پڑی تا دعویٰ اور دلیل میں تفریق اور بُعد پیدا نہ ہو۔‘‘
(تحفہ گولڑویہ۔ روحانی خزائن جلد17صفحہ 142تا144)
آپؑ نے فرمایا کہ علمائے اسلام کا پہلے یقینی طور پر یہی عقیدہ تھا کہ مسیح موعود چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہوگا اور اس پر آپ نے اپنی کتاب تحفہ گولڑویہ میں اور دو اَور کتابوں میں بھی پیشگوئیوں کی تفصیل بھی لکھی ہے، جنہیں یہ لوگ بزرگ مانتے ہیں ان کی باتیں بھی لکھی ہیں لیکن اس کے باوجود یہ لوگ مسیح موعود کو ماننے کے لیے تیار نہیں جس کی ضرورت کا زمانہ خود اعلان کر رہا ہے۔
آپ فرماتے ہیں کہ ’’اے بندگان خدا !آپ لوگ جانتے ہیں کہ جب امساکِ باران ہوتا ہے اور ایک مدت تک مینہ نہیں برستا تو اس کاآخر ی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کنویں بھی خشک ہونےشروع ہو جاتے ہیں۔ پس جس طرح جسمانی طور پر آسمانی پانی بھی زمین کے ہاتھوں میں جوش پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح روحانی طور پر جو آسمانی پانی ہے یعنی خدا کی وحی۔وہی سفلی عقلوں کو تازگی بخشتاہے۔ سو یہ زمانہ بھی اس روحانی پانی کا محتاج تھا۔
میں اپنے دعویٰ کی نسبت اس قدر بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ میں عین ضرورت کے وقت خدا کی طرف سے بھیجا گیا ہوں۔ ‘‘
(پیغام صلح۔ روحانی خزائن جلد23 صفحہ 486)
آج کل کے مسلمانوں کے جو حالات ہیں، مَیں نے پہلے بھی ذکر کیا ہے، اس بات کا تقاضا ہی نہیں کر رہے کہ کسی مصلح کی ضرورت ہے بلکہ خود یہ پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ کوئی مصلح آنا چاہیے جو اسلام کی ڈوبتی کشتی کو سنبھالے لیکن جس کا دعویٰ ہے، جس کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے، جس کے بارے میں پیشگوئیاں پوری ہو رہی ہیں اس کو ماننے کو تیار نہیں۔
آپؑ نے فرمایا ’’اس وقت لوگ روحانی پانی کو چاہتے ہیں۔ زمین بالکل مر چکی ہے۔ یہ زمانہ ظَہَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم:42) کا مصداق ہو گیا ہے۔‘‘ فساد خشکی اور تری پر ظاہر ہو گیا ہے۔ ہر جگہ ظلمت اور ضلالت پھیل گئی ہے۔ خود غرضی زیادہ ہو گئی ہے۔ اور آج کل ہم یہی دیکھ رہے ہیں۔ کیا یہ ہر ایک کو نظر نہیں آ رہا۔ پھر بھی لوگ کہتے ہیں کہ یہ زمانہ نہیں آیا۔ آپ نے فرمایا کہ ’’یہ زمانہ تو ظَہَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم:42) کا مصداق ہو گیا ہے۔جنگل اور سمندر بگڑ چکے ہیں۔ جنگل سے مراد مشرک لوگ اور بحر سے مراد اہل کتاب ہیں۔ اس سے جاہل اور عالم بھی مراد ہو سکتے ہیں۔ غرض انسانوں کے ہر طبقہ میں فساد واقع ہو گیا ہے۔ جس پہلو اور جس رنگ میں دیکھو دنیا کی حالت بدل گئی ہے۔ روحانیت باقی نہیں رہی اور نہ ہی اس کی تاثیریں نظر آتی ہیں۔ اخلاقی اور عملی کمزوریوں میں ہر چھوٹا بڑا مبتلا ہے۔ خداپرستی اور خداشناسی کا نام و نشان مٹا ہوا نظر آتا ہے۔ اس لیے اس وقت ضرورت ہے کہ آسمانی پانی اور نورِ نبوت کا نزول ہو اور وہ مستعد دلوں کو روشنی بخشے۔
خدا تعالیٰ کا شکر کرو۔ اس نے اپنے فضل سے اس وقت اس نور کو نازل کیا ہے مگر تھوڑے ہیں جو اس نور سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔‘‘
(ملفوظات جلد 4صفحہ 444،ایڈیشن 1984ء)
فرمایا: یہ کہتے ہیں کہ عیسیٰ نے آسمان پر سے اترنا ہے اگر یہ صحیح ہے’’یہی وقت توہے جب اسےآسمان سے اترنا چاہیے ’’آسمان سے‘‘ اگر اترنا ہے ’’اس نے تو ‘‘کیونکہ تمہارے خیال میں ایک مفتری اور کاذب مدعی مسیح ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اگر فی الواقعہ یہی سچ ہے‘‘ کہ یہ جھوٹا ہے ’’کہ مسیح نے آسمان سے آنا ہے تو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اب اسے اتارے تاکہ دنیا گمراہ نہ ہو کیونکہ ایک کثیر جماعت تو مجھے مسیح موعود تسلیم کر چکی ہے۔ اگر اس وقت وہ نہ آیا تو پھر کب آئے گا؟ کیا ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کاذبوں اور مفتریوں کی مدد کرے ؟اگر ایسا کبھی ہوا ہے تو نظیر پیش کرو‘‘کوئی مثال پیش کرو۔ ’’اورپھر بتاؤ کہ راست بازوں کی سچائی کا کیا معیار ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد8 صفحہ 4-5،ایڈیشن 1984)
پس ہمارے مخالفین کو یہ بات سوچنے کی ضرورت ہے کہ اسلام میں بگاڑ پیدا کرنے کے لیے تو نعوذ باللہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو ماننے والے بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ اسلام میں بگاڑ پیدا ہوتا جائے اور ہر سال لاکھوں لوگ ان میں شامل بھی ہو رہے ہیں لیکن اسلام کے دفاع اور بچانے کے لیے خدا تعالیٰ کسی کو نہیں بھیج رہا۔
جو ان نام نہاد علماء کی کوششیں ہیں وہ بھی بالکل نہ ہونے کے برابر ہیں، رائیگاں ہیں بلکہ خود بدنام کر رہی ہیں اسلام کو۔ یہ نام نہاد علماء جو اپنے زعم میں دفاع کر رہے ہیں اور احمدیت کی مخالفت پر تلے ہوئے ہیں ان کی کوششوں سے اسلام کی خوبصورت تعلیم بد نام ہو رہی ہے۔ خود ان میں سے بعض انصاف سے کام لینے والے اس بات کو تسلیم کرتے ہیں اور اب مسلمانوں میں سے پڑھا لکھا طبقہ بھی یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو چکا ہے کہ علماء جو باتیں اور جس طرح کی حرکتیں کر رہے ہیں اس سے اسلام کی تعلیم واضح نہیں ہو رہی بلکہ یہ لوگ اسلام کی خوبصورت تعلیم پر زَد لگا رہے ہیں، اس کو داغ لگا رہے ہیں۔ پس ان کو کچھ ہوش اور عقل سے کام لینا چاہیے۔ ماننا یا نہ ماننا ایک علیحدہ بات ہے لیکن کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ گالیاں بھی دیں اور دوسروں کو مجبور کریں کہ گالیاں دو، نہیں تو تمہیں قتل کر دیا جائے گا۔ تم مسلمان نہیں ہو۔ یہی کچھ آج کل پاکستان میں مولوی کر رہا ہے۔ قرآن کریم نے تو فرعون کے مقابلے میں بھی حضرت موسیٰ کو کہا تھا کہ نرم زبان استعمال کرو لیکن یہ لوگ تو گالیوں پر تلے ہوئے ہیں اور گالیوں کے سوا ان کے پاس کچھ نہیں ہے۔ اور اس لحاظ سے گالیوں کے مقابلے میں ہم ان سے نہیں جیت سکتے ہیں۔ یہ اس معاملے میں جیت گئے ہیں لیکن یہاں ساتھ ہی
میں احمدیوں کو بھی کہتا ہوں کہ بعض دفعہ تبلیغ میں بعض جوش میں آ کے غلط باتیں کر جاتے ہیں۔ کسی احمدی کا یہ کام نہیں کہ جیسی زبان مخالفین استعمال کر رہے ہیں وہ زبان ہم بھی استعمال کریں۔ ہماری طرف سے ہمیشہ نرمی، پیار، محبت اور اسلام کی خوبصورت تعلیم دی جانی چاہیے۔
آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’یاد رکھوکہ میرے آنے کی دو غرضیں ہیں۔ ایک یہ کہ جو غلبہ اس وقت اسلام پر دوسرے مذاہب کا ہوا ہے گویا وہ اسلام کو کھاتے جاتے ہیں اور اسلام نہایت کمزور اور یتیم بچے کی طرح ہو گیا ہے۔ پس
اس وقت خدا تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے تا میں ادیانِ باطلہ کے حملوں سے اسلام کو بچاؤں۔‘‘
جو جھوٹے دین ہیں ان سے اسلام کو بچاؤں۔
’’اوراسلام کے پُرزور دلائل اور صداقتوں کے ثبوت پیش کروں اور وہ ثبوت علاوہ علمی دلائل کے انوار اور برکات سماوی ہیں جو ہمیشہ سے اسلام کی تائید میں ظاہر ہوتے رہے ہیں۔‘‘
اب تم کہتے ہو کہ زمانہ مسیح کو نہیں پکار رہا۔ زمانہ تو اسلام کی حالت اور دشمنوں کے حملے دیکھ کر خود پکار رہا ہے۔ فرمایا کہ ’’…ایسی حالت میں ضروری تھا کہ اسلام کا بول بالا کیا جاتا۔ پس اس غرض کے لیے خدا تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے اور میں یقیناً کہتا ہوں کہ اسلام کا غلبہ ہو کر رہے گا اور اس کے آثار ظاہر ہو چکے ہیں۔ ہاں یہ سچی بات ہے کہ اس غلبہ کے لیے کسی تلوار اور بندوق کی حاجت نہیں اور نہ خدا نے مجھے ہتھیاروں کے ساتھ بھیجا ہے۔ جو شخص اس وقت یہ خیال کرے وہ اسلام کا نادان دوست ہوگا۔
مذہب کی غرض دلوں کو فتح کرنا ہوتی ہے اور یہ غرض تلوار سے حاصل نہیں ہوتی۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تلوار اٹھائی میں بہت مرتبہ ظاہر کر چکا ہوں کہ وہ تلوار محض حفاظت خود اختیاری اور دفاع کے طور پر تھی اور وہ بھی اس وقت جبکہ مخالفین اور منکرین کے مظالم حد سے گزر گئے اور بے کس مسلمانوں کے خون سے زمین سرخ ہو چکی۔ غرض میرے آنے کی غرض تو یہ ہے کہ اسلام کا غلبہ دوسرے ادیان پر ہو۔ دوسرا کام یہ ہے کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم نماز پڑھتے ہیں اور یہ کرتے ہیں اور وہ کرتے ہیں یہ صرف زبانوں پر حساب ہے اس کے لیے ضرورت ہے کہ وہ کیفیت انسان کے اندر پیدا ہو جاوے جو اسلام کا مغز اور اصل ہے۔ میں تو یہ جانتا ہوں کہ
کوئی شخص مومن اور مسلمان نہیں بن سکتا جب تک ابوبکر، عمر، عثمان، علی رضوان اللہ علیہم اجمعین کا سا رنگ پیدا نہ ہو۔
وہ دنیا سے محبت نہ کرتے تھے بلکہ انہوں نے اپنی زندگیاں خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کی ہوئی تھیں۔ اب جو کچھ ہے وہ دنیا ہی کے لیے ہے اور اس قدر استغراق دنیا میں ہو رہا ہے ‘‘اس میں غرق ہو چکے ہیں ’’کہ خدا تعالیٰ کے لیے کوئی خانہ خالی نہیں رہنے دیا۔‘‘ عام طور پر دنیا داروں میں دیکھ لیں ’’تجارت ہے تو دنیا کے لیے۔ عمارت ہے تو دنیا کے لیے بلکہ نماز روزہ اگر ہے تو وہ بھی دنیا کے لیے۔ دنیا داروں کے قرب کے لیے تو سب کچھ کیا جاتا ہے مگر دین کا پاس ذرہ بھی نہیں۔‘‘ ہر کوئی دیکھ سکتا ہے کہ یہ باتیں سچ ہیں اور آج بھی سچ ہیں۔ ’’اب ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ کیا اسلام کے اعتراف اور قبولیت کا اتنا ہی منشاء تھا جو سمجھ لیا گیا ہے یا وہ بلند غرض ہے۔ میں تو یہ جانتا ہوں کہ
مومن پاک کیا جاتا ہے اور اس میں فرشتوں کا رنگ ہو جاتا ہے۔ جیسے جیسے اللہ تعالیٰ کا قرب بڑھتا جاتا ہے وہ خدا تعالیٰ کا کلام سنتا اور اس سے تسلی پاتا ہے۔ اب تم میں سے ہر ایک اپنےاپنے دل میں سوچ لے کہ کیا یہ مقام اسے حاصل ہے؟‘‘
(لیکچر لدھیانہ۔ روحانی خزائن جلد 20۔ صفحہ 293-294)
وہ مسلمان ہوں یا احمدی ہوں سب کو یہ سوچنا چاہیے کہ کیا یہ مقام ہمیں حاصل ہے؟ اور ہمیں تو خاص طور پر اس بارے میں غور کرنا چاہیے۔
مَیں
اس بارے میں آپؑ کی بعض پیشگوئیوں کا ذکر
بھی کر دیتا ہوں جن میں وہ پیشگوئیاں بھی شامل ہیں جو قرآنی ہیں۔ کچھ ذکر پہلے بھی میں کر آیا ہوں۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ منجملہ ان دلائل کے جو میرے مسیح موعود ہونے پر دلالت کرتے ہیں وہ ذاتی نشانیاں ہیں جو مسیح موعود کی نسبت بیان فرمائی گئی ہیں اور ان میں سے ایک بڑی نشانی یہ ہے کہ مسیح موعود کے لیے ضروری ہے کہ وہ آخری زمانے میں پیدا ہو جیسا کہ حدیث میں ہے یَکُوْنُ فِیْ اٰخِرِ الزَّمَانِ عِنْدَ تَظَاھُرٍ مِنَ الْفِتَنِ وَ انْقِطَاعٍ مِنَ الزَّمَنِ اَمِیْرٌ۔کہ آخری زمانے میں جب فتنوں کاغلبہ ہوگا اور زمانہ منقطع ہو جائے گا تو ایک امیر یعنی مسیح موعود ظاہر ہوگا اور اس بات کے ثبوت کے لیے کہ درحقیقت یہ آخری زمانہ ہے جس میں مسیح ظاہر ہوجانا چاہیے، دو طور کے دلائل موجود ہیں۔ اول یہ کہ وہ آیاتِ قرآنیہ اور آثارِ نبویہ جو قیامت کے قرب پر دلالت کرتے ہیں اور پورے ہو گئے ہیں جیسا کہ خسوف کسوف کا ایک ہی مہینہ میں یعنی رمضان میں ہونا جس کی تصریح آیت وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ (القیامۃ :10) اور سورج اور چاند دونوں کو جمع کر دیا جائے گا اس میں ہے۔ اس کی تفصیل خسوف و کسوف کی میں پہلے وضاحت کر آیا ہوں۔ پھر آپؑ نے فرمایا کہ ستاروں کا متواتر ٹوٹنا۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ نے لکھا ہے جیسا کہ آیت وَاِذَا الْكَوَاكِبُ انْـتَثَرَتْ(الانفطار:3)سے ظاہر ہےیعنی جب ستارے جھڑ جائیں گے۔ ہدایت والے کم ہو جائیں گے اور نام نہاد علماء جو دین میں بگاڑ پیدا کرنے والے ہیں زیادہ ہو جائیں گے۔ چنانچہ آج کل ہم یہی کچھ ہوتا دیکھ رہے ہیں اور ان ستاروں کی اصل روشنی تو ختم ہو چکی ہے۔ علماء تو صرف نام کے علماء ہیں۔ پھر آپؑ نے فرمایا کہ یہ بھی لکھا ہے کہ سخت قسم کا کسوف شمس واقع ہو جس سے تاریکی پھیل جائے جیسا کہ آیت اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ (التکویر:2)سے ظاہر ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ جب نورِ آفتاب کو لپیٹ دیا جائے گا۔ یہ اس عارضی ضعف کی طرف اشارہ ہے جو مسلمانوں پر آنے والا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ سورج ہیں جن کی روشنی دنیا میں پھیلی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ آپؐ کی تعلیم پر پردہ پڑ جائے گا۔ آپؐ کی عظمت لوگوں کے دلوں سے مٹ جائے گی یاکم ہو جائے گی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ کی رحمت پھر جوش میں آئے گی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلامِ صادق کے ذریعے آپ کی عظمت اور آپ کی خوبصورت تعلیم لوگوں پر واضح کی جائے گی۔ قرآن کریم پر غور کریں تو یہ مطلب پتہ لگے گا نہ یہ کہ لوگ صرف ظاہری معنوں پہ غور کرتے رہیں۔ پھر یہ کہ جو لوگ وحشی اراذل اور اسلامی شرافت سے بے بہرہ ہیں ان کا اقبال چمک اٹھنا جیسا کہ آیت وَاِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ (التکویر:6) مترشّح ہے۔ یعنی یہ اسلامی شرافت سے بے بہرہ ہیں اور وحشی لوگ ہیں ان کا اقبال چمک اٹھے گا یعنی وحشی اکٹھے کیے جائیں گے۔ علاوہ جانوروں کو اکٹھا کرنے کے یہ بھی اس کا ایک مطلب ہے کہ نام نہاد انسانوں کی وحشیانہ حرکتیں دوبارہ سامنے آ رہی ہیں۔ کہتے یہی ہیں کہ ہم بڑے پڑھے لکھے اور بڑے ترقی پسند ہیں لیکن ہیں وحشی۔ کیا ان کی حرکتیں وحشیانہ نہیں ہیں؟ بڑے اپنے آپ کو اونچا سمجھتے ہیں اپنے آپ کو بڑا ترقی یافتہ سمجھ رہے ہیں۔ ایسے وقت میں ایک مرد خدا کی ضرورت ہے جو ان کو صحیح راستے پر چلائے اور یہی وہ زمانہ ہے جب ہم دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح وحشی لوگ علم، عقل اور ترقی کے نام پر اکٹھے ہو رہے ہیں۔ وحشیانہ حرکتیں کر رہے ہیں۔ ایک دوسرے کی تباہی کاذریعہ بن رہے ہیں۔ اس سے زیادہ اور کیا دلیلیں ہوں گی جو ہمارے سامنے ظاہر ہو رہی ہیں۔ پھر آپؑ نے فرمایا کہ کتابوں اور رسالوں اور خطوط کا ملک میں شائع ہوجانا۔ یہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ آیت وَاِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ (التکویر:11) سے ظاہر ہے کہ جب کتابیں پھیلا دی جائیں گی۔ اشاعت زیادہ ہو جائے گی۔ میڈیا اور نشر و اشاعت کے سامان بے شمار ہوں گے اور آج یہ چیز مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں بھی بہت زیادہ بڑھ گئی ہے اور یہ ذرائع برائیاں پھیلانے والےہیں، ان برائیوں کو روکنے کے لیے تو مسیح موعود نے آنا تھا لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے انہی ایجادات سے مسیح موعودؑ کی جماعت بھی فائدہ اٹھا رہی ہے اور اس ذریعے سے نیکیاں بھی نشر ہو رہی ہیں۔ پس اس زمانے میں ایک مصلح کی ضرورت تھی جو آیا۔ اللہ تعالیٰ نے بھیجا لیکن اگر علماء غور کریں تبھی ان کو سمجھ آسکتی ہے۔ فرمایا کہ علماء کی باطنی حالت کا جو نجوم اسلام ہیں مکدر ہو جانا بھی لکھا ہے جیسا کہ وَاِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ (التکویر:3) سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جب ستارے دھندلے ہو جائیں گے۔ صحابہ کے نمونے غائب ہو جائیں گے۔ نیک لوگوں کے نمونوں کی کوئی اہمیت نہیں رہے گی اور ان نام نہاد علماء کے نمونے تو دھندلائے ہوئے ہوں گے جو اسلام کی خوبصورت تعلیم پیش نہیں کر سکیں گے۔ کیا یہ سب کچھ جو ظاہر ہو رہا ہے اور آج کل ہمیں نظر آ رہا ہے، ان کے اثر کو مٹانے کے لیے اسلام کی چمک دکھانے کے لیے کسی مصلح کی ضرورت نہیں تھی؟ پھر فرمایا کہ اس زمانے میں بدعتوں اور ضلالتوں اور ہر قسم کے فسق و فجور کا پھیل جانا بھی ہے جیسا کہ آیت اِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ (الانشقاق:2) سے مفہوم ہے یعنی جب آسمان پھٹ جائے گا آسمانی نشان ظاہر ہوں گے جیسا کہ سورج گرہن، دمدار ستارہ، آفات وغیرہ۔ آپ کی نشانی میں سب ظاہر ہو رہے ہیں۔ یہ نشان آپ کے دعوے کے ساتھ ظاہر ہوئے۔ اس فسق و فجور کے پھیلنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی قدرت بھی کام کررہی ہے اور آفات بھی ظاہر ہو رہی ہیں۔یہ تمام علامتیں قرب قیامت کی ظاہر ہو چکی ہیں اور دنیا پر ایک انقلاب عظیم آ گیا ہے اور جب خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ قرب قیامت کا زمانہ ہے جیسا کہ آیت اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ (القمر:2) سے سمجھا جاتا ہے تو پھر یہ زمانہ جس پر تیرہ سو برس اور گزر گیا اس پر آخری زمانہ ہونے میں کس کو کلام ہو سکتاہے۔(ماخوذ از تحفہ گولڑویہ۔ روحانی خزائن جلد 17۔ صفحہ 241 تا 243)(کنز العمال جلد 14۔ صفحہ 274۔ حدیث 38703۔ مؤسسۃ الرسالۃبیروت 1985ء)اس میں کوئی شک نہیں ہو سکتا۔
پس اس زمانے میں اصلاح کے لیے کسی مصلح کا آنا ضروری تھا۔ آپؑ فرماتے ہیں پس ضرورتِ زمانہ بھی ہے، پیشگوئیاں بھی پوری ہو رہی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تائیدات بھی شامل ہیں۔ جیسا کہ ابتدا سے آج تک دیکھ رہے ہیں۔ اس لیے آپؑ نے فرمایا کہ اب میں بموجب آیت کریمہ وَاَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ (الضحٰی: 12)اپنی نسبت بیان کرتا ہوں۔ خدا تعالیٰ نےمجھے وہ نعمت بخشی ہے کہ جو میری کوشش سے نہیں بلکہ شکم مادر میں ہی مجھے عطا کی گئی ہے۔ میری تائید میں اس نے وہ نشان ظاہر فرمائے ہیں کہ جن کی بیشمار تعداد ہے۔ بعض نشان اس قسم کے ہیں جن میں خدا تعالیٰ نے ہر ایک محل پر اپنے وعدے کے موافق مجھ کو دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھا اور بعض نشان اس قسم کے ہیں جن میں ہر محل پر اپنے وعدے کے موافق میری ضرورتیں اور حاجتیں اس نے پوری کیں اور بعض نشان اس قسم کے ہیں کہ اس نے بموجب اپنا وعدہ اِنِّیْ مُھِیْنٌ مَنْ اَرَادَ اِھَانَتَکَ کہ میرے پر حملہ کرنے والوں کو ذلیل اور رسوا کیا۔ اور اس کی بھی بہت ساری نشانیاں ہمیں آجکل نظر آتی ہیں۔ جو رپورٹیں آتی ہیں ان میں ان کا ذکر ہوتا ہے۔ بعض مانیں نہ مانیں۔ دوسروں کو اس سے فائدہ پہنچ رہا ہے اور بعض اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔اور بعض نشان اس قسم کے ہیں کہ مجھ پر مقدمہ دائر کرنے والوں پر اس نے اپنی پیشگوئیوں کے مطابق مجھ کو فتح دی اور بعض نشان اس قسم کے ہیں جو میری مدتِ بعثت سے پیدا ہوتے ہیں کیونکہ جب سے دنیا پیدا ہوئی یہ مدت دراز کسی کاذب کو نصیب نہیں ہوئی اور بعض نشان زمانے کے حالات کے دیکھنے سے پیدا ہوتے ہیں یعنی یہ کہ زمانہ کسی امام کے پیدا ہونے کی ضرورت تسلیم کرتا ہے۔ اس کی بہت ساری نشانیاں میں بیان کر آیا ہوں اور بعض نشان اس قسم کے ہیں کہ جن میں دوستوں کے حق میں میری دعائیں منظور ہوئیں اور بعض نشان اس قسم کے ہیں جن میں شریر دشمنوں کو میری بددعا کا اثر ہوا اور بعض نشان اس قسم کے ہیں کہ میری دعا سے بعض خطرناک بیماروں نے شفا پائی اور ان کی شفا کی پہلے سے خبر دی گئی اور بعض نشان اس قسم کے ہیں جو میرے لیے اور میری تصدیق کے لیے عام طور پر خدا نے حوادثِ ارضی یا سماوی ظاہر کیے اور بعض نشان اس قسم کے ہیں جو میری تصدیق کے لیے بڑے بڑے ممتاز لوگوں کو جو مشاہیر،فقراء میں سے تھے خوابیں آئیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا جیسے سجادہ نشین صاحب العلم سندھ جن کے مرید ایک لاکھ کے قریب تھے اور جیسے خواجہ غلام فرید صاحب چاچڑاں والے اور بعض نشان اس قسم کے ہیں کہ ہزارہا انسانوں نے محض اس وجہ سے میری بیعت کی کہ خواب میں بتلایا گیا کہ یہ سچا اور خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور یہ نشان آج بھی یہاں پورا ہوتے دیکھ رہے ہیں۔
کل جو رپورٹ میں چند واقعات کا مَیںنے ذکر کیا تھا لیکن ایسے واقعات کی بے شمار رپورٹیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے خواب میں بتایا یہ سچا انسان ہےاسے قبول کرو اور بعض نے اس وجہ سے بیعت کی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا اور آپ نے فرمایا کہ دنیا ختم ہونے کو ہے اور یہ خدا کا آخری خلیفہ اورمسیح موعود ہے۔ اور بعض نشان اس قسم کے ہیں جو بعض اکابر نے میری پیدائش یا بلوغ سے پہلے میرا نام لے کر میرے مسیح موعود ہونے کی خبر دی جیسے نعمت اللہ ولی اور میاں گلاب شاہ ساکن جمال پور ضلع لدھیانہ۔ اور بعض نشان اس قسم کے ہیں جن کا دامن ہر ایک قوم کے مقابلے پر اور ہر ایک ملک تک اور ہر ایک زمانے تک وسیع چلا گیا ہے اور وہ سلسلہ مباہلات ہے جس کے بہت سے نمونے دنیا نے دیکھ لیے ہیں۔ (ماخوذ از حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد 22۔ صفحہ 70-71) اور پھر آج تک یہ تائیدات و نشانات نظر آرہے ہیں۔
دنیا میں پھیلی ہوئی جماعت اور ہر ملک میں پیشگوئی کے مطابق آپؑ کی بیعت میں لوگوں کا آنا کیا یہ خدا تعالیٰ کی تائیدات کی نشانی نہیں۔ کاش کہ یہ لوگ عقل کریں۔
پس یہ سب باتیں ان لوگوں کے سوچنے کے لیے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے عقل دی ہے۔ اگر آنکھوں پر پردے نہ پڑے ہوں اور انصاف کے تقاضوں سے پرکھنے کی کوشش کی جائے تو یہ ماننا پڑے گا کہ آپؑ ہی زمانے کی ضرورت کے مطابق عین وقت پر مسیح و مہدی کے مقام پر فائز ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف سے آئے ہیں اور گذشتہ ایک سو چھتیس سالہ جماعت احمدیہ کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ یقیناً خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت آپؑ کے ساتھ ہے اور آپ کی جماعت کے ساتھ ہے۔ آج دنیا کے ہر کونے اور ہر ملک میں جماعت کا قیام، اسلام کی تبلیغ کا کام، لوگوں کا اسلام کی طرف مائل ہونے کا رجحان جیسا کہ میں نے کل کی رپورٹ میں ذکر کیا تھا لوگوں کو خدا تعالیٰ کی طرف سے راہنمائی، قرآن کریم کی اشاعت اور اسلام کی خوبصورت تعلیم کو ہر جگہ پہنچانے کا نظام اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر ممکن نہیں۔
اب مخالفین چاہے ہزار کوششیں کر لیں یہ سلسلہ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت سے پھیلتا ہی چلا جائے گا اور چلا جا رہا ہے۔لیکن ساتھ ہی یہ ہم پر بھی بہت بڑی ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ماننے یا نعرے لگانے سے ہم اپنا مقصد تو نہیں پا سکتے۔ ہمیں بھی اپنی حالتوں کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے مطابق ڈھالنے اور ان پرعمل کرنے کی ضرورت ہے۔
جب ہم اپنے اندر حقیقی انقلاب پیدا کریں گے تب ہی ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حقیقی مددگار بن سکیں گے اور حقیقی مددگار بن کر دنیا کو اسلام کی آغوش میں لانے والے بن سکیں گے، خدا تعالیٰ کی وحدانیت کو دنیا میں قائم کرنے والے بن سکیں گے اور دنیا کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے لانے والے بن سکیں گے۔
خدا تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔دعا کر لیں۔
٭٭٭دعا٭٭٭
حاضری کے بارے میں رپورٹ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس وقت جو ٹوٹل حاضری ہے۔ جو سکیننگ کے ذریعہ سے ملی ہے وہ چھیالیس ہزار اکسٹھ (46،061)ہے۔ گذشتہ سال سے تین ہزار سے زیادہ۔ اسی طرح دنیا کے مختلف ممالک میں جو لائیو سٹریمنگ ہو رہی ہے اس میں چھپن ممالک شامل ہیں۔ چھیانوے سینٹرز میں لوگ بیٹھ کے تقریر سن رہے ہیں۔ جلسہ سن رہے ہیں اور ان کی تعداد بھی تقریباً پندرہ ہزار ہے۔
٭…٭…٭




