احمدی بچوں سےخلفائے احمدیت کی توقعات
شام کا وقت تھا۔ آنگن میں ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ دادی جان چارپائی پر بیٹھی اون کا گولا سمیٹ رہی تھیں۔ پاس ہی گڑیا اپنی گڑیا سے کھیل رہی تھی، جبکہ احمد اور محمود کا مجلس اطفال الاحمدیہ کا پروگرام تھا اس کے بعد ناظم صاحب اطفال نے کرکٹ کا میچ بھی رکھا ہوا تھا۔احمد اور محمود کرکٹ کھیل کر ابھی ابھی گھر واپس آئے تھے۔
احمد: (سانس لیتے ہوئے) دادی جان! آج ہم نے میچ جیت لیا!
محمود: ہاں! مگر میں ایک کیچ چھوڑ بیٹھا تھا۔
گڑیا: (ہنستے ہوئے) آپ دونوں تو بس کھیلتے ہی رہتے ہو!
دادی جان: (مسکرا کر) کھیلنا بھی اچھا ہے، لیکن یادرکھوزندگی صرف کھیل کود اور تفریح کا نام نہیں۔
احمد: دادی جان، آج ناظم صاحب بھی ایسا ہی کچھ کہہ رہے تھے کہ خلفائے احمدیت کو ہم احمدی بچوں سے خاص توقعات ہیں اس کا کیا مطلب ہوا؟
دادی جان :اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ ذیلی تنظیموں کے زیرِ اہتمام کھیلوں اور گیمز کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہم جسمانی طاقت اور صحت حاصل کریں، کیونکہ یہ چیز انہیں اللہ کے حقوق ادا کرنے اور اپنی دینی و علمی ترقی کے فرائض پورے کرنے میں مدد دیتی ہے۔حضور انور ایدہ اللہ نے گذشتہ برس مجلس خدام الاحمدیہ اورمجلس اطفال الاحمدیہ برطانیہ کے سالانہ نیشنل اجتماع 2025ء کے موقع پر فرمایا تھا کہ آجکل بہت سے نوجوان اپنا سارا فارغ وقت آن لائن ویڈیوز دیکھنے، ٹی وی پروگرامز دیکھنے یا ویڈیو گیمز کھیلنے میں گزارتے ہیں، بجائے اس کے کہ وہ صحت مند آؤٹ ڈور سرگرمیوں اور کھیلوں میں حصہ لیں۔ ہمارے اجتماعات میں کھیل اور گیمز اس لیے رکھے جاتے ہیں کہ نوجوان تازہ ہوا لیں، جسمانی صحت بہتر بنائیں
مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنے اصل مقصد کو بھول جائے ہماری پیدائش کا اصل مقصد تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا ہے اپنے اخلاق کو سنوارنا ہے سچائی، دیانت، ہمدردی خلق کا جذبہ پیدا کرنا ہے۔ گڑیا بیٹا ڈرا اندر سے میرا ٹیبلٹ لاکر دیں میرے ذہن میں ایک دو اور باتیں بھی ہیں مگر سب زبانی یاد نہیں تو بہتر ہے کہ میں سرچ کرکے اصل حوالہ آپ کو بتاؤں۔(گڑیا اندر سے جاکر دادی جان کا ٹیبلٹ اٹھا کر لاتی ہے اور دادی جان اس میں سے کچھ دیر مطلوبہ اقتباس ڈھونڈا اور پھر کہا’’مل گیا ‘‘ الفضل انٹرنیشنل 2؍دسمبر 2022ء میں سے ہے۔ حضور انور ایدہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر تم نمازیں پڑھ رہے ہو۔ اللہ میاں نے کہا ہے کہ سات سال کی عمر میں نمازیں پڑھنی شروع کر دینی چاہئیں، دس سال کے بعد نمازیں لازمی فرض ہو جاتی ہیں۔تم پانچ نمازیں پڑھ رہے ہو، اللہ میاں سے دعا کر رہے ہو۔ اللہ میاں سے یہ دعا کر رہے ہوکہ اللہ تعالیٰ تمہیں اچھا بچہ بنائے، اچھا طفل بنائے، اچھا انسان بنائے۔پھر اگرتم پڑھائی میں اچھے ہو، اپنے سکول میں اچھی پڑھائی کر رہے ہو، ماں باپ کا کہنا ماننے والے ہو، دوسرے بچوں سے لڑائی نہیں کر رہے، ان سے اچھے اخلاق سے پیش آتے ہو، اچھی زبان استعمال کرتے ہو، اچھےmoralہیں تو تم اچھے بچے ہو، اچھے طفل ہو۔ یہی اچھے طفل کی خصوصیات ہیں۔
ایک اور جگہ دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کی مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ حضرت چودھری ظفراللہ خان صاحب رضی الله عنہ ملکہ کی مجلس میں بیٹھے تھے اور بے چین ہو رہے تھے اور دربار سے اُٹھنا بھی وہاں کے آداب کے خلاف تھا۔ یوں دائیں بائیں انہوں نے دیکھا، ملکہ نے، انتظامیہ نے سوال کیا، توانہوں نے کہا کہ میری نماز کا وقت ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے، آپ جائیں نماز پڑھ لیں اورآپؓ جا کے آرام سے نماز پڑھ کے آئے۔ تو انہوں نے دنیا داری کی پروا نہیں کی۔ اس کے بعد سے ان کا یہاں جو بھی پروٹوکول دنیاوی درباروں اور بادشاہوں کا تھا، وہاں ان کے لیے مقرر کیا گیا تھا کہ یہ جب بھی آئیں، ان کےاگر نماز کاوقت ہو، تو نماز کے لیے ان کا خیال رکھا جائے۔ تو پھر دنیا بھی عزت کرتی ہے۔ تویہ مثالیں اس لیے ہمارے سامنے ہیں کہ ہم بھی احتیاط کریں۔
اور ہمیں نماز کیسے پڑھنی چاہیے۔ الفضل انٹرنیشنل 25؍دسمبر 2025ء میں اس بارے میں حجور انور کا یہ ارشاد شامل ہے۔ فرمایا کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ نماز ٹھہر ٹھہر کے پڑھو۔ آنحضرتؐ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، ایک مجلس لگی ہوئی تھی، لوگ باتیں کر رہے تھے اور آنحضرتؐ کی باتوں سے فیض یاب ہو رہے تھے۔ ایک بندہ لیٹ آیا اور اس وقت نماز ہو چکی تھی۔ اس نے اپنی نماز شروع کر دی۔ نماز پڑھ کے وہ بھی جلدی سے آ کے مجلس میں بیٹھ گیا کہ مَیں بھی آنحضرتؐ کی باتوں سےفائدہ اُٹھا لوں۔ تو آنحضرتؐ نے فرمایا کہ جاؤ اور دوبارہ نماز پڑھو۔ وہ پڑھ کے آیا۔ پھر آنحضرتؐ نے فرمایا کہ نہیں دوبارہ پڑھو۔ کوئی تین چار دفعہ اسے نماز پڑھا دی۔ تو وہ کہنے لگا کہ حضورؐ !مَیں تو اس سے زیادہ جانتا ہی نہیں، تو نماز کس طرح پڑھوں؟ انہوں نے کہا کہ آرام سے ٹھہر ٹھہر کے پڑھو، درود پڑھو، اللہ کی حمد کرو اور غور کرو اور پھر نماز پڑھو، تو وہ نماز ہوتی ہے، یہ تو ٹکریں ہیں، نماز تو نہیں۔ اسی لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ نماز پڑھتے ہیں تو ٹک ٹک کر کے سجدہ کر کے جلدی سے اُٹھ جاتے ہیں، جس طرح مرغی کو دیکھا ہے کہ دانہ کھاتی ہے اور ٹک ٹک کرتی ہے اور دانہ چُگ رہی ہوتی ہے، اس طرح سجدے کر کے اُٹھ جاتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ کو ایسے سجدوں کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
عمومی نصائح کرتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سالانہ اجتماع خدام الاحمدیہ و اطفال الاحمدیہ بھارت 10؍اکتوبر 2017ء کے پیغام فرماتے ہیں کہ آپ اپنے اجتماعات اور اجلاسات کے موقعہ پر یہ عہد دہراتے ہیں کہ دین کو دنیا پر مقدّم رکھیں گے۔ اس کے لئے ہر ایک کو قرآن کریم کی باقاعدگی سے تلاوت کو یقینی بنانا چاہئےکیونکہ یہ وہ روحانی نور ہے جو ہمیں حقیقی طور پر دین کو دنیا پر مقدّم کرنا سکھاتا ہے۔ قرآن کریم نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ کامیاب مومن خشوع وخضوع کے ساتھ نمازیں ادا کرتے ہیں۔ اس لئے آپ میں ہر ایک کو پنجوقتہ نماز کو زندگی کا نصب العین بنانا چاہیے…نوجوان خدام اور بڑی عمر کے اطفال کو ہر وقت اچھے دوستوں اور اچھی صحبت میں رہنا چاہئے…اسی طرح اپنی عفت و حیا کو قائم رکھنا مردوں پر بھی فرض ہے۔ انہیں یہ حکم ہے کہ وہ غضِّ بصر سے کام لیتے ہوئے نظریں نیچی رکھیں اور دل و دماغ کو ناپاک خیالات اور بُرے ارادوں سے پاک رکھیں…پس یاد رکھیں پاکبازی ایک خادم کا لازمی اخلاقی وصف ہے اس سے آپ روحانی ترقیات حاصل کرسکتے ہیں۔
گڑیا : دادی جان کیا پیارے حضور نے بچیوں کو بھی کوئی نصیحت فرمائی ہے ؟
دادی جان :کیوں نہیں پیارے آقا نے تو بارہا فرمایا ہے کہ احمدی بچیوں کو بھی اپنی حیا کا معیار بہت بلند رکھنے کی ضرورت ہے۔ابھی چند روز قبل الفضل انٹرنیشنل میں آیا تھا۔ یہ دیکھیں 23؍اپریل 2026ء کی کٹنگ میں نے اپنی ڈائری میں لگائی ہے۔ دادی جان ڈائری سے پڑھتے ہوئے کہنے لگیں کہ ایک چھوٹی بچی نے معصومانہ انداز میں سوال کیا کہ احمدی بچیوں کو کب سے حجاب لینا شروع کرنا چاہیے؟
اس پر حضورِ انور نے پُرشفقت انداز میں حجاب کے آغاز کے لیے عمر اور جسمانی کیفیت کے فرق کی وضاحت فرمائی۔ فرمایا کہ ابھی تو تم بہت چھوٹی سی ہو! تمہیں تو ضرورت کوئی نہیں، جب تم بڑی ہو جاؤ گی، کم از کم تیرہ، چودہ سال کی عمر میں اور تمہیں لگے کہ تم بڑی لڑکی لگنے لگ گئی ہو تو اس وقت پھر تم حجاب لے لینا۔بعض تیرہ، چودہ سال میں لے لیتی ہیں اور اگر بہت زیادہ بڑی لگنے لگ جائیں تو بارہ، تیرہ سال میں لے لیتی ہیں۔ اگر تمہاری جیسی بالکل چھوٹی چھوٹی سی لگتی ہوں تو پندرہ، سولہ سال میں جا کے لیتی ہیں۔ تو ہر ایک پر depend کرتا ہے…ہاں! اصل چیز یہ ہے کہ تمہارے دل میں ایک شرم ہونی چاہیے کہ مَیں مسلمان احمدی بچی ہوں، مَیں نے کوئی غلط کام نہیں کرنا، سب سے بڑا حجاب یہ ہے…لڑکیوں کو ہے کہ اپنے آپ کو ڈھانک کے رکھنا چاہیے۔اس لیے مَیں اپنا سر اور چہرہ ڈھانپ کے رکھوں، جسم ڈھانپ کے رکھوں، ایسے کپڑے نہ پہنوں جو ننگے ہوں، لمبی قمیض ہو، ٹراؤزر ہو، سر ڈھکا ہو۔ جو بڑی ہو جاؤ تو چہرےکا پردہ بھی ہو، بالوں کاپردہ بھی ہو۔ وہ لڑکیاں جو بڑی ہو جاتی ہیں تو وہ کرتی ہیں۔
ٹھیک ہے دادی جان ہم خلیفہ ٔ وقت کی تمام نصائح پر پوری طرح عمل کرنے کی کوشش کریں گے۔تینوں بچے جو محویت سے دادی جان کی باتیں سُن رہے تھے پُرعزم لہجے میں بولے۔
دادی جان:( تینوں کو پیار سے اپنے ساتھ لپٹاتے ہوئے ) شاباش، میرے پیارے بچو ! مجھے آپ تینوں سے اس بات کی ہی توقع ہے۔
