مَنْ أَدْرَكَ مِنْكُمْ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ فَلْيُقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ(حدیث نبویؐ)
آنحضرتﷺ کی حضرت مسیح موعودؑ کو حفاظت الٰہی کی پیشگی بشارت
آنحضرتﷺ نے جو مسیح موعود کو السلام علیکم پہنچایا، یہ درحقیقت آنحضرتﷺ کی طرف سے ایک پیشگوئی ہے نہ عوام کی طرح معمولی سلام۔ اور پیشگوئی یہ ہے کہ آنحضرتﷺ مجھے بشارت دیتے ہیں کہ جس قدر مخالفین کی طرف سے فتنے اُٹھیں گے اور کافر اور دجّال کہیں گے اور عزّت اور جان کا ارادہ کریں گے اور قتل کے لئے فتوے لکھیں گے خدا ان سب باتوں میں ان کو نامراد رکھے گا اور تمہارے شامل حال سلامتی رہے گی اور ہمیشہ کے لئے عزت اور بزرگی اور قبولیت اور ہر ایک ناکامی سے سلامتی صفحۂ دنیا میں محفوظ رہے گی جیسا کہ السلام علیکم کا مفہوم ہے۔(حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام)
قرآن کریم میں یہ سنت با رہا بیان ہوئی ہے کہ جب بھی اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کے مرسلین آئے ہیں مکذّبین نے ان کی راہ میں ایذاء رسانیوں کے جال بچھائے ہیں اور فتنہ و فساد کی آگ کو بھڑکایا مگر اللہ تعالیٰ نے مکذّبین کی ہر سازش کو بالآخر ناکام بنایا اور اپنے مرسلین کو حفاظت و امن میں رکھا ہے۔گوکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مامورین کی فتح اور غلبہ کا اٹل فیصلہ ازل سے لکھ چھوڑا ہے مگر ہر مامور کو بھی اپنی وحی کے ذریعہ تائید و نصرت کی نوید سنائی ہے اور انہیں دشمنوں کی ایذاء رسانیوں اور اقدام قتل کی کارروائیوں میں اپنی حفاظت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اس زمانے میں حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کے ساتھ بھی اسی سنت الٰہیہ کا نظارہ دیکھنے میں آتا ہے۔ علاوہ الٰہی وعدوں کے مسیح موعود کے لیے امن و سلامتی کا ایک پیغام خود آنحضرتﷺ سے بھی بیان ہوا ہے چنانچہ آنے والے مسیح کے متعلق احادیث میں ایک روایت ان الفاظ میں بھی درج ہے: عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (مَنْ أَدْرَكَ مِنْكُمْ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ فَلْيُقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ) صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِمَا وَسَلَّمَ (مستدرک حاکم کتاب الفتن و الملاحم حدیث نمبر ۸۷۰۰) ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جو کوئی بھی عیسیٰ بن مریم کو پائے تو اُسے میرا سلام کہے۔
یہ روایت الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ بعض دیگر کتب میں بھی آئی ہے۔علامہ جلال الدین السیوطیؒ نے اپنی تفسیر میں امام احمد بن حنبلؒ کے حوالے سے اس روایت کو درج کیا ہے کہ …. فمن لقيہ منكم فليقرئه مني السلام یعنی تم میں سے جو کوئی بھی ان (حضرت عیسیٰؑ) کو ملے تو میرا ان کو سلام کہے۔ (تفسیر الدر المنثور في التفسير بالمأثور؍ السيوطي۔ سورۃ النساء زیر آیت وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ …)
آنحضرتﷺ کو اپنی امت میں ہزار ہا اولیاء اور صالحین کا علم تھا لیکن آپؐ نے سلام صرف مسیح موعود کے نام بھجوایا ہے (سوائے حضرت اویس قرنیؒ کے جن کو ایک خاص وجہ کی بنا پر سلام پہنچانے کا ارشاد فرمایا۔) حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا آنے والے مسیح موعود کے نام یہ سلام کوئی رسمی سلام و آداب نہیں بلکہ آنے والے مسیح کو اس کے مشن کی تکمیل میں مخالفین اور معاندین کے مقابل پر امن و سلامتی اور خیر سگالی کا ایک عظیم الشان پیغام ہے کیونکہ خدا اور اُس کے رسول کی طرف سے خاص سلام کے پیغام بہت ہی گہری فراست پر مبنی ہوتے ہیں۔ سورۃ الانعام میں اللہ تعالیٰ رسول اکرمﷺ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے:وَاِذَا جَآءَکَ الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلۡ سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ … (الانعام: ۵۵)یعنی اے نبیؐ! وہ لوگ جو ہماری آیات پر ایمان لائے، جب وہ تیرے پاس آئیں تو تُو انہیں کہہ کہ تم پر سلامتی ہو۔ اس آیت کی تفسیر میں علامہ ابوالسعود بن محمد العمادی الحنفی (المتوفّی ۹۸۲ھ) فرماتے ہیں: { فَقُلْ سَلَـٰمٌ عَلَيْكُمْ } أمرٌ بتبشيرهم بالسلامة عن كل مكروهٍ بعد إنذارِ مُقابليھم،… (تفسير إرشاد العقل السليم إلى مزايا الكتاب الكريم/ ابو السعود ) یعنی مقابلہ داروں کی دھمکیوں کے بعد ہر قسم کے شر سے امن و سلامتی میں رہنے کی خوشخبری دینا۔
ماہر لغت و ادب مشہورمفسر علامہ الزمخشری (المتوفّی۵۳۸ھ) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ذکر میں سورۃ مریم کی آیت وَالسَّلٰمُ عَلَیَّ یَوۡمَ وُلِدۡتُّ وَیَوۡمَ اَمُوۡتُ وَیَوۡمَ اُبۡعَثُ حَیًّاکی تفسیر میں لکھتے ہیں: ’’والصحيح أن يكون هذا التعريف تعريضاً باللعنة على متھمي مريم عليھا السلام، وأعدائھا من اليھود… فقد عرض بأن ضدّه عليكم.‘‘(تفسير الكشاف؍ الزمخشري۔ سورۃ مریم: ۳۳) اَلسَّلٰمُ عَلَیَّ یَوۡمَ وُلِدۡتُّ وَیَوۡمَ اَمُوۡتُ وَیَوۡمَ اُبۡعَثُ حَیًّا) یعنی صحیح یہ ہے کہ یہ (السلام علی کہ مجھ پر سلامتی ہو) کنایۃً حضرت مریم پر تہمت لگانے والوں اور آپؑ کے یہودی دشمنوں پر لعنت کا پیغام ہے … پس کنایہ کے طور پر یہ کہا کہ اس (السلام علي)کا اُلٹ تم پر ہو …
علامہ الزمخشری کے یہی معنی علامہ النسفی (المتوفّی ۷۱۰ھ) نے بھی اپنی تفسیر مدارک التنزیل و حقائق التأویل میں بیان فرمائے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ولادت مسیحؑ بھی تحفظ و سلامتی والی تھی یعنی یہودیوں کے اتہامات سے پاک تھی اور وفات مسیحؑ بھی کہ وہ بھی یہودیوں کے لعنتی موت والے الزام سے پاک تھی اور اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب سے بچا کر بعد ازاں طبعی موت دی اور رفعت بخش کر یہودیوں کا الزام اُن پر الٹا دیا۔ آنحضرتﷺ کا آنے والے مسیح کو سلام کہنا بھی اپنے اندر یہی پیغام رکھتا ہے۔
یہ بات احادیث سے واضح ہوچکی ہے کہ آنحضرتﷺ نے بعد کے زمانے میں لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ کے الفاظ میں مسلمانوں کے بگاڑ کی پیشگوئی فرمائی ہے کہ وہ یہود و نصاریٰ کی ہوبہو پیروی کریں گےاس حدیث کے مطابق ضرور تھا کہ وہ آنے والے مسیح موعود کی مخالفت کریں اور ان پر کفر کے فتوے لگاکر ان کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیں۔ پس آپؐ کا مسیح موعود کو سلام بھیجنا یہی معنی رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان مولویوں کی سازشوں، ریشہ دوانیوں اور فتنہ و فساد کی چالوں کو ناکام بنادے گا اور مسیح موعود کو اپنی خاص حفاظت اور سلامتی میں رکھے گا۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’آنحضرتﷺ نے جو مسیح موعود کو السلام علیکم پہنچایا، یہ درحقیقت آنحضرتﷺ کی طرف سے ایک پیشگوئی ہے نہ عوام کی طرح معمولی سلام۔ اور پیشگوئی یہ ہے کہ آنحضرتﷺ مجھے بشارت دیتے ہیں کہ جس قدر مخالفین کی طرف سے فتنے اُٹھیں گے اور کافر اور دجّال کہیں گے اور عزّت اور جان کا ارادہ کریں گے اور قتل کے لئے فتوے لکھیں گے خدا ان سب باتوں میں ان کو نامراد رکھے گا اور تمہارے شامل حال سلامتی رہے گی اور ہمیشہ کے لئے عزت اور بزرگی اور قبولیت اور ہر ایک ناکامی سے سلامتی صفحۂ دنیا میں محفوظ رہے گی جیسا کہ السلام علیکم کا مفہوم ہے۔‘‘ (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۱۳۱ حاشیہ)
ایک اور موقع پر فرمایا: ’’حضرت رسول خداﷺ نے جو مسیح موعود کو السلام علیکم کہا ہے۔ اس میں ایک عظیم الشان پیشگوئی تھی کہ باوجود لوگوں کی سخت مخالفتوں کے اور ان کے طرح طرح کے بد اور جانستاں منصوبوں کے وہ سلامتی میں رہے گا اور کامیاب ہوگا۔ ہم کبھی اس بات پر یقین اور اعتقاد نہیں کر سکتے کہ رسول اللہﷺ نے معمولی طور سے سلام فرمایا۔ آنحضرتؐ کے لفظ لفظ میں معارف اور اسرار ہیں۔‘‘(ذکر حبیب از حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ صفحہ ۲۰۸،۲۰۷۔ ایڈیشن ۲۰۰۸ء)
حضرت مولانا عبدالرحیم نیر صاحب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ’’۱۹۰۶ء میں امرتسر میں کنھیا لال کے منڈوے کے اندر رمضان کے مہینے میں حضرت اقدس علیہ السلام کی تقریر تھی جس میں لوگوں نے شور مچایا اور حضورؓ تقریر نہ فرماسکے۔ جلسہ گاہ سے نکل کر حضورؑ گھوڑا گاڑی پر سوار ہوئے تو گاڑی پر کیچڑ، پرانے جوتوں اور اینٹوں کی ایک قسم کی بارش ہو رہی تھی، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اسلامیہ سکول کے لڑکوں اور دوسرے غنڈوں نے یہ چیزیں پہلے سے جمع کر رکھی تھیں۔ جب حضورؑ صحیح سلامت قیام گاہ پر پہنچ گئے تو مجمع میں سے ایک شخص نے جو غالباً ببے ہالی کے رہنے والے تھے، بلند آواز سے کہا السلام علیکم یا المسیح الموعود و المھدی المعھود!حضورؑ نے وعلیکم السلام میں جواب دیا۔ اس پر السلام علیکم کہنے والے نے عرض کیا حضور! یہ وہ سلام ہے جو رسول اللہﷺ نےمہدی معہود کو پہنچانے کے لیے فرمایا تھا، مَیں وہ سلام حضور کو پہنچاتا ہوں۔ اس پر مسیح پاک علیہ السلام نے فرمایا: ’’میرے آقا کے اس سلام میں ایک پیشگوئی ہے جس کا منشاء یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تم کو سلامت رکھے گا۔ یہ ایک پیشگوئی ہے جو رسول اللہﷺ نے میری نسبت فرمائی ہے۔‘‘ (رجسٹر روایات صحابہ نمبر ۱۱ صفحہ ۲۵۲)
یہ بھی یاد رہے کہ یہ سلام امت محمدیہ میں آنے والے مسیح موعود کے لیے ہے بنی اسرائیل کے وفات یافتہ مسیح ناصری علیہ السلام کے لیے نہیں کیونکہ جو شخص وفات پاجائے وہ دوبارہ دنیا میں نہیں آتا۔ ویسے بھی آنحضرتﷺ کا مسیح ناصری علیہ السلام سے معراج کی رات براہ راست سلام ہوگیا تھا چنانچہ واقعہ معراج کی روداد میں بیان ہوا ہے کہ ’’…ثُمَّ صَعِدَ حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الثَّانِيَةَ … إِذَا يَحْيَى وَعِيسَى، وَهُمَا ابْنَا الْخَالَةِ قَالَ هَذَا يَحْيَى وَعِيسَى فَسَلِّمْ عَلَيْهِمَا. فَسَلَّمْتُ فَرَدَّا،… ترجمہ: …پھر آپؐ اوپر چڑھے یہاں تک کہ دوسرے آسمان پر آئے … تو دیکھا کہ حضرت یحیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام ہیں اور وہ دونوں خالہ زاد تھے۔ حضرت جبرائیل نے کہا یہ یحیٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) ہیں ان دونوں کو سلام کہیں چنانچہ میں نے ان دونوں کو سلام کہا اور انہوں نے میرے سلام کا جواب دیا …(بخاری کتاب المناقب باب نمبر (۴۲)باب الْمِعْرَاجِ)
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے بھی واقعہ معراج سے اس ضمن میں ایک نہایت لطیف نکتہ بیان فرمایا ہے، حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’حدیث شریف میں آیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب مسیح آوے تو اُس کو میرا سلام کہنا۔ اس حدیث کے مطلب میں غور کرنا چاہیے۔ اگر مسیح علیہ السلام زندہ آسمان پر موجود تھے تو خود حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اُن کی ملاقات معراج میں کی تھی اور نیز حضرت جبریلؑ ہر روز وہاں سے آتے تھے۔ کیوں نہ اُن کے ذریعہ سے اپنا سلام پہنچایا اور پھر حضرت رسول کریمﷺ بھی بعد از وفات آسمان پر ہی گئے اور وہیں پر حضرت مسیحؑ بھی تھے۔ اور حضرت مسیحؑ کو تو خود رسول کریمؐ کے پاس سے ہوکر زمین پر اُترنا تھا تو پھر اس کے کیا معنے ہوئے کہ زمین والے ان کو آنحضرتؐ کا سلام پہنچائیں۔ کیا اس صورت میں حضرت عیسیٰؑ ان کو یہ جواب نہ دیں گے کہ مَیں تو خود اُن کے پاس سے آتا ہوں اور تم یہ سلام کیسا دیتے ہو۔ یہ تو وہی مثال ہوئی کہ گھر سے مَیں آؤں اور خبریں تم دو۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت رسول کریمؐ اور آپؐ کے اصحاب کا یہی عقیدہ اور مذہب تھا کہ حضرت مسیح فوت ہوگئے اور دنیا میں واپس نہیں آ سکتے اور آنے والا مسیح اسی اُمت سے بروزی رنگ میں ہوگا۔‘‘ (ملفوظات جلد اول صفحہ ۵۰۸۔ ذکرحبیبؑ از حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ صفحہ ۲۰۳)
پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رسول اکرمﷺ کا سلام پایا اور اس سلام کے مقصد اور مطلب کو بھی پاگئے اور واقعات نے عملی طور پر سلام کے اس مطلب کو پورا کردکھایا۔ الٰہی وعدوں کے ساتھ اپنے آقا و مطاعﷺ کے اس حوصلہ مندانہ اور ہمت افزا پیغام نے آپؑ کے یقین اور استقامت کو اور بھی تقویت بخشی اور آپؑ نے اپنے دشمنوں کے مقابل پر خود بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی اور حفاظت دیکھی اور آپؑ کے بعد آپ کے خلفاء کے ادوار میں بھی وہی نصرت الٰہی اور تائید سماوی جماعت احمدیہ کے شامل حال رہی۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اپنی ایک نظم میں فرماتے ہیں:
مجھ پر ہر اِک نے وار کیا اپنے رنگ میں
آخر ذلیل ہوگئے انجامِ جنگ میں
تھے چاہتے کہ مجھ کو دکھائیں عدم کی راہ
یا حاکموں سے پھانسی دلا کر کریں تباہ
یا کم سے کم یہ ہو کہ مَیں زِنداں میں جا پڑوں
یا یہ کہ ذلّتوں سے مَیں ہو جاؤں سر نگوں
پس ایسے ہی ارادوں سے کر کے مقدّمات
چاہا گیا کہ دن مرا ہو جائے مجھ پہ رات
کوشش بھی وہ ہوئی کہ جہاں میں نہ ہو کبھی
پھر اتفاق وہ کہ زماں میں نہ ہو کبھی
مجھ کو ہلاک کرنے کو سب ایک ہوگئے
سمجھا گیا مَیں بد پہ وہ سب نیک ہوگئے
آخر کو وہ خدا جو کریم و قدیر ہے
جو عالم الغیب و علیم و خبیر ہے
اُترا مری مدد کے لیے کر کے عہد یاد
پس رہ گئے وہ سارے سِیہ رُوی و نامراد
کچھ ایسا فضل حضرت ربّ الوریٰ ہوا
سب دشمنوں کے دیکھ کے اوساں ہوئے خطا
(درثمین)
مزید پڑھیں: پس منظر و پیش منظر، عظیم قصیدہ اور سعید روحوں کی فتوحات کا تذکرہ



