متفرق مضامین

ہیروشیما، جاپان کا مطالعاتی دورہ نیز سابقہ میئر سے ملاقات

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جماعت احمدیہ جاپان کے ایک وفد کو مورخہ ۲۲؍مارچ کو ہیروشیما کا دو روزہ مطالعاتی و تبلیغی دورہ کرنے کی توفیق ملی۔ یہ سفر نہ صرف علمی اغراض کے لیے ترتیب دیا گیا بلکہ اس میں تبلیغی پہلو کو بھی خاص اہمیت حاصل تھی۔

صبح ۷؍بجے شنکانسن (جاپان کی مشہور تیز رفتار ریل گاڑی) کے ذریعے ناگویا سے روانگی ہوئی۔ تقریباً ۵۰۰؍کلومیٹر کا طویل فاصلہ طے کرنا تھا مگر شنکانسن، جس کا شمار دنیا کی تیز ترین ٹرینوں میں ہوتا ہے، کی بدولت یہ وسیع مسافت محض سوا دو گھنٹے میں مکمل ہوئی۔ ہیروشیما سٹیشن پر پہنچنے پر شہر کا پہلا تاثر نہایت پُرامن، منظّم اور صاف ستھرا محسوس ہوا۔ ہر طرف سکون اور خوشگوار فضا کا احساس غالب تھا جو فوری طور پر دل پر مثبت اثر ڈالتا ہے۔

ہیروشیما پیس میموریل پارک کا دورہ: ہمارے سفر کا پہلا اور اہم پڑاؤ ہیروشیما پیس میموریل پارک تھا۔ یہ مقام ۶؍اگست ۱۹۴۵ء کو ہونے والی ہولناک ایٹمی بمباری کی یادگار ہے۔ پارک کے وسط میں واقع اٹامک ڈوم اس عظیم سانحے کی چند باقیات میں سے ایک ہے جو آج بھی خاموشی سے اس تباہی کی داستان بیان کرتا ہے۔ اسے دیکھ کر انسان پر ایک عجیب کیفیت طاری ہو جاتی ہے اور ماضی کی تلخ حقیقتیں آنکھوں کے سامنے آ جاتی ہیں۔

میوزیم کے اندر دل دہلا دینے والے مناظر، تباہی کی تصاویر، جلے ہوئے سامان کی باقیات اور چشم دید گواہوں کے کربناک بیانات نے دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ ہر منظر انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ جنگ کس قدر بھیانک اور انسانیت کے لیے کس قدر تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔ انسان بے اختیار امن کی قدر کو سمجھنے لگتا ہے۔

بعد ازاں Ama شہر کی بین الاقوامی تنظیم کے عہدیدار Kondo صاحب کے ہمراہ بذریعہ فیری میاجیما جزیرہ روانہ ہوئے۔ سمندر کی لہروں پر سفر نہایت پُرسکون اور دلکش تھا۔ ٹھنڈی ہوائیں، نیلا پانی اور دور پہاڑی مناظر انسان کو طمانیت بخشتے ہیں۔

جزیرے کے قریب پہنچتے ہی سمندر میں واقع Itsukushima Shrine کا دلکش منظر نمایاں ہوا۔ پانی میں کھڑا سرخ توری گیٹ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے سطح آب پر تیر رہا ہو۔ یہ منظر جاپان کے خوبصورت ترین مناظر میں شمار ہوتا ہے۔

میاجیما جزیرہ اپنی قدرتی خوبصورتی، سرسبز پہاڑوں، صاف ماحول اور پُرسکون فضا کے باعث ایک روح پرور مقام ہے۔ جزیرے پر آزادانہ گھومتے ہرن اس کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔ یہ مرحلہ دورے کا نہایت خوشگوار اور یادگار حصہ ثابت ہوا۔

اہم ملاقاتیں: اگلے دن ہماری ملاقات Mr Majima سے ہوئی جو ہیروشیما کے بلدیاتی انتخابات میں بطور میئر امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ یہ ایک اہم ملاقات تھی جس میں مختلف امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ قبل ازیں وہ حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے ملاقات کا شرف حاصل کر چکے ہیں اور آپ سے بے انتہا عقیدت رکھتے ہیں۔ دوران گفتگو انہوں نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے دوبارہ ملاقات اور ہیروشیما آمد کی خواہش کا اظہار کیا۔ آخر پر انہیں جماعت کا تعارفی لٹریچر پیش کیا گیا جسے انہوں نے خوشدلی سے قبول کیا۔

اس کے بعد ایک نہایت اہم ملاقات Mr Akiba Tadatoshi سے ہوئی جو ممتاز ماہر ریاضیات، مدبّر سیاست دان اور حقیقی معنوں میں علمبردار امن ہیں۔ آپ ۱۹۹۹ء سے ۲۰۱۱ء تک ہیروشیما کے میئر رہے اور ۲۰۲۲ء میں احمدیہ پیس پرائز سے بھی نوازے گئے۔

یہ ملاقات مکرم انیس رئیس صاحب مبلغ انچارج جاپان اور Mr Akiba Tadatoshi کے مابین ہوئی جس میں عالمی امن اور نیوکلیئر ہتھیاروں کے خاتمہ جیسے اہم موضوعات زیر بحث آئے۔ انہیں جماعت احمدیہ کا تعارفی لٹریچر پیش کیا گیا جس میں یہ بھی ذکر تھا کہ ۱۰؍اگست ۱۹۴۵ء کے اس سانحہ کی مذمت سب سے پہلے حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے کی تھی جسے انہوں نے سراہا اور جماعت کی امن کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کیا۔

مزید برآں انہوں نے اپنی عالمی مہم کا ذکر کیا جس کا مقصد ۲۰۴۵ء تک دنیا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنا ہے۔ آخر میں ان کی اس کاوش کی کامیابی کے لیے دعا کی گئی اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ جماعت احمدیہ جاپان اس نیک مقصد میں ہرممکن تعاون فراہم کرے گی۔

یوں یہ بابرکت اور یادگار دورہ اپنے اختتام کو پہنچا۔ یہ سفر علم و مشاہدہ میں اضافے کے ساتھ امن، خدمت انسانیت اور تبلیغ دین کے جذبے کو مزید جلا بخشنے کا باعث بنا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں مزید ایسی بابرکت کاوشوں کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

(رپورٹ: دانیال داؤد۔ مبلغ سلسلہ جاپان)

مزید پڑھیں: لیف کٹر شہد کی مکھیاں: قدرت کی ماہر معمار

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button