متفرق مضامین

کیا امیرعبد الرحمٰن اور امیر حبیب اللہ کاجذبۂ جہاد احمدیوں کو شہید کرانے کا باعث بنا تھا؟

(ابو نائل)

ایسے لوگ اکسیر احمر کے حکم میں ہیں۔ جو صدق دل سے ایمان اور حق کے لئے جان بھی فدا کرتے ہیں۔ اور زن و فرزند کی کچھ پرواہ نہیں کرتے۔ اے عبداللطیف تیرے پر ہزاروں رحمتیں کہ تُو نے میری زندگی میں ہی اپنے صدق کا نمونہ دکھایا۔ (حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام)

جیسا کہ ہم جانتے ہیں ۱۹۰۳ء میں افغانستان میں امیر حبیب اللہ کے حکم پر حضرت صاحبزادہ عبداللطیف رضی اللہ عنہ کی شہادت اور آپؓ کی شہادت سے قبل امیر عبدالرحمٰن کے حکم پر آپؓ کے شاگرد حضرت مولوی عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کی شہادت جماعت احمدیہ کی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تصنیف تذکرۃ الشہادتین میں آپؓ کی شہادت کے واقعات تحریر فرمانے کے بعد تحریر فرمایا: ’’شہزادہ عبداللطیف کے لیے جو شہادت مقدر تھی وہ ہوچکی اب ظالم کا پاداش باقی ہے۔ مَنۡ یَّاۡتِ رَبَّہٗ مُجۡرِمًا فَاِنَّ لَہٗ جَہَنَّمَ ؕ لَا یَمُوۡتُ فِیۡہَا وَلَا یَحۡیٰی۔ (طٰہ:۷۵) افسوس کہ یہ امیر زیر آیت مَنۡ یَّقۡتُلۡ مُؤۡمِنًا مُّتَعَمِّدًا داخل ہو گیا۔ اور مومن بھی ایسا مومن اگر کابل کی تمام سرزمین میں اس کی نظیر تلاش کی جائے تو تلاش کرنا لاحاصل ہے۔ ایسے لوگ اکسیر احمر کے حکم میں ہیں۔ جو صدق دل سے ایمان اور حق کے لیے جان بھی فدا کرتے ہیں۔ اور زن و فرزند کی کچھ پرواہ نہیں کرتے۔ اے عبداللطیف تیرے پر ہزاروں رحمتیں کہ تو نے میری زندگی میں ہی اپنے صدق کا نمونہ دکھایا۔ اور جو لوگ میری جماعت میں سے میری موت کے بعد رہیں گے۔ میں نہیں جانتا کہ وہ کیا کام کریں گے۔ ‘‘ (روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۶۰)

خواہ جماعت احمدیہ کی تاریخ کے بارے میں احمدیوں کی طرف سے کوئی کتاب لکھی جائے یا مخالفین کی طرف سے مخالفانہ لٹریچر شائع ہو، یا کسی بھی سطح پر جماعت احمدیہ کے بارے میں بحث ہو اس عظیم شہادت کا ذکر بار بار آتا ہے۔

مخالفین سلسلہ کے دعوے

ایک طویل عرصہ سے جماعت احمدیہ کے مخالفین یہ راگ الاپ رہے ہیں کہ افغانستان میں ان احمدیوں کو اس لیے شہید کیا گیا کیونکہ وہ جہاد کے قائل نہیں تھے یا یہ کہ وہ افغانستان میں انگریزوں کے لیے جاسوسی کر رہے تھے اور افغانستان کے ان حکمرانوں کو یہ فکر لاحق تھی کہ کہیں ان کی وجہ سے ان کی قوم میں جذبہ جہاد کم نہ ہوجائے۔

اس سلسلہ میں سب سے پہلے الیاس برنی صاحب کی کتاب’قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ ‘ کی مثال پیش کی جاتی ہے۔ یہ مثال اس لیے اہم ہے کیونکہ یہ کتاب کم و بیش سو سال پہلے ۱۹۳۳ء میں شائع ہوئی تھی اور بعد میں جماعت احمدیہ کی مخالفت میں جتنی کتابیں لکھی گئیں ان میں زیادہ تر اس کتاب سے خوشہ چینی کی گئی ہے۔ اس کتاب کے صفحہ ۷۱۵ پر حضرت صاحبزادہ عبداللطیف شہیدؓ  کی شہادت کا ذکر شروع ہوتا ہے۔ اور اس میں حضرت خلیفۃالمسیح الثانی ؓکے ایک خطبہ جمعہ کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں حضور ایک یورپین فرینک مارٹن کی کتاب Under The Absolute Amir کا حوالہ دے رہے ہیں کہ اس میں اس یورپین انجینئر نے لکھا ہے کہ امیر حبیب اللہ نے حضرت صاحبزادہ کو اس لیے شہید کرایا تھا کیونکہ وہ انگریز حکومت سے جہاد کے قائل نہیں تھے۔ اور امیر کو خدشہ یہ تھا کہ اس تعلیم کی وجہ سے افغان حکومت میں جہاد کا جذبہ کم ہوجائے گا اور انگریز ملک میں قابض ہو جائیں گے۔ گویا اس طرح الیاس برنی صاحب وہی پرانا راگ الاپنے کی کوشش کررہے ہیں کہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خدانخواستہ احمدی انگریزوں کے ایجنٹ تھے۔

فرینک مارٹن نے اپنی کتاب میں کیا لکھا تھا؟ اور امیر حبیب اللہ اور ان کے والد امیر عبدالرحمٰن کے جذبہ جہاد کی حقیقت کیا تھی ؟ ان سوالات کا جائزہ تو سلسلہ کے لٹریچر میں بارہا لکھا جا چکا ہےلیکن سب سے پہلے یہ جائزہ لیتے ہیں اس خطبہ جمعہ میں کیا مضمون بیان ہو رہا ہے؟یہ خطبہ ان الفاظ سے شروع ہوتا ہے: ’’ میں نے پچھلے خطبہ جمعہ میں ایک بات یہ بیان کی تھی کہ وہ خلاف قانون کارروائیاں جو متواتر قادیان میں ہورہی ہیں۔ اور جن کا ازالہ کرنے سے گورنمنٹ اس وقت تک قاصر رہی ہے۔ اور بعض ایسی غیر آئینی کارروائیاں جن کے مرتکب خود حکومت کے بعض ماتحت افسر ہوئے ہیں۔‘‘ (الفضل ۶؍اگست ۱۹۳۵ء)

اس خطبہ کو الیاس برنی صاحب اس بات کی دلیل کے طور پر پیش کر رہے ہیں کہ جماعت احمدیہ برطانوی حکومت کو اپنے مقاصد کر رہی تھی۔ حالانکہ اس کا آغاز ہی یہ واضح کردیتا ہے کہ جب احرار ی جماعت احمدیہ کے خلاف فساد برپا کر رہے تھے ، اس وقت خود برطانوی حکومتی مشینری کا ایک حصہ جماعت احمدیہ کے مخالفین کے ساتھ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تھا۔ اس کے بعد بھی اس خطبہ میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ برطانوی حکومت جماعت احمدیہ کو اپنے مخالفوں میں سے سمجھتی ہے۔ حالانکہ جماعت احمدیہ کبھی بھی بغاوت اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہوتی اور جماعت احمدیہ نے کبھی بھی حکومت سے کوئی مالی فائدہ نہیں حاصل کیا۔ اس پس منظر میں جب کہ پنجاب کی برطانوی حکومت اس وقت جماعت احمدیہ کی مخالفت میں ملوث تھی، حضور نے حکومت کو یہ چیلنج دیا: ’’ مخالف کہتے ہیں احمدیوں کے خزانے گورنمنٹ نے بھرے ہیں۔ اگر واقعہ میں یہ بات درست ہے تو۔ تو اب گورنمنٹ کے لیے اچھا موقع ہے وہ اعلان کردے۔ کہ فلاں موقعہ پر ہم نے احمدیوں کو اتنا روپیہ دیا۔ فلاں موقع پر اتنے ہزار۔ اور فلاں موقع پر اتنے ہزار یا کسی اور رنگ میں گورنمنٹ نے مدد کی ہو۔ تو اس کو ظاہر کردے۔ اگر واقعہ میں گورنمنٹ نے ہمیں کوئی فائدہ پہنچایا ہو تو وہ اسے چھپاتی کیوں ہے۔ اس کے مقابلے میں باقی تمام قوموں میں سے ایسے لوگ ہیں جو گورنمنٹ سے قومی خدمات کا انفرادی بدلہ لیتے رہے ہیں۔ قربانیاں قوم سے کرائی جاتی رہیں اور ان کے لیڈر حکومت سے بدلے اپنی ذات کے لیے لیتے رہے۔ یہی حال احرار کا ہے۔ وہ بھی ایسے لوگ ہیں جو ہر جگہ جلب منفعت کے اصول کو مدنظر رکھتے ہیں۔

پس گورنمنٹ نے اپنے رویہ سے سوائے اس کے کچھ نہیں کیا کہ اس نے سودا اس جماعت سے کیا ہے جو اس سے اپنے کئے کی قیمت وصول کرے گی اور پھر بھی گورنمنٹ کی خیر خواہ نہیں ہو گی۔ ‘‘ (الفضل ۶؍اگست ۱۹۳۵ء)

ملاحظہ فرمائیے یہ چیلنج حکومت کو اس وقت دیا گیا جب کہ ہندوستان بھر میں برطانیہ کی مستحکم حکومت قائم تھی۔ اور حکومت پر یہ الزام لگایا گیا کہ کم از کم حکومت کاایک حصہ احرار جیسے جماعت مخالف گروہوں کو پیسے دے جماعت کے مخالف کارروائیاں کرا رہا ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ برطانوی حکومت کبھی اس چیلنج کا جواب نہیں دے سکی۔ اور مخالفین جماعت نوّے سال سے اس خطبہ جمعہ کا یہ حوالہ پیش کرکے خود اپنے آپ کو داد دے رہے ہیں کہ واہ !کیا حوالہ پیش کیا ہے۔ جس سے ثابت ہوجاتا ہے کہ احمدی برطانوی حکومت کے ایجنٹ تھے۔

اس مضمون کے شروع میں یہ مثال پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ ظاہرکیا جائے کہ جماعت احمدیہ کے مخالفین کس طرح جزوی حوالے پیش کر کے خلاف واقعہ الزام دہراتے رہتے ہیں۔ اور یہ بے بنیاد سلسلہ سو سے زائد سال عرصہ سے جاری ہے۔

جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے کہ جب بھی خاص طور پر پاکستان میں جماعت احمدیہ کی مخالفت میں فسادات برپا کیے گئے تو اس بارے میں بحث و تکرار کے دوران حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحبؓ کی شہادت کا ذکر بھی کیا جاتا رہا۔ مثال کے طور پر ۱۹۵۳ء کے فسادات کے بعد تحقیقاتی رپورٹ شائع ہوئی تو اس میں اس عدالت کے جج صاحبان نے لکھا :’’بعض ممتاز علماء نے ہمارے سامنے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ اسلام میں ارتداد کی سزا موت ہے۔ اس لیے اگر احمدی کافر ہیں تو جو شخص احمدی ہو جاتا ہے۔ وہ گویا اپنے آپ کو سزائے موت کا مستوجب بنا لیتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ عقیدہ افغانستان میں قانون ملکی کی حیثیت سے نافذ ہے۔ چنانچہ وہاں بہت سے اشخاص اپنے غیر اسلامی عقائد کی وجہ سے موت کے گھاٹ اتارے جا چکے ہیں۔ پہلا احمدی جسے اس قانون کے ماتحت جان دینی پڑی ایک شخص عبدالرحمٰن خان تھا جو امیر عبدالرحمٰن خان کے عہد حکومت میں ہلاک کیا گیا۔ دوسرا عبداللطیف تھا جو ۱۹۰۳ء میں امیر حبیب اللہ خان کے دور حکومت میں سنگسار کیا گیا۔ عبداللطیف افغانستان کا باشندہ تھا۔ اور کچھ مدت تک قادیان میں مرزا غلام احمد کی صحبت میں رہ کر خود احمدی ہو گیا تھا۔ جب وہ ۱۹۰۳ء میں افغانستان کو واپس آیا تو علماء نے اس کو احمدی ہونے کی وجہ سے مرتد قرار دیا۔ اور اس کو موت کی سزا دے دی۔ چنانچہ وہ کمر تک زمین میں زندہ گاڑ دیا گیا اور اس کے بعد پتھر مار مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ یہی حشر نعمت اللہ خان کا ہوا جس کو علماء افغانستان نے احمدی ہونے کی وجہ سے مرتد قرار دیا۔ چنانچہ وہ ۲۱؍اگست ۱۹۲۴ء کو بمقام شیر کوٹ بر سر عام سنگسار کر دیا گیا۔

نعمت اللہ کی سزائے موت پر ہندوستان میں اس امر کے متعلق نزاع پیدا ہوا کہ آیا اسلام میں مرتدکی سزا موت ہے یا نہیں۔ دیوبند کے ایک عالم مولانا شبیر عثمانی نے اس مسئلہ پر ایک کتابچہ ’الشہاب‘ کے نام سے لکھا۔ جس کے پہلے حصہ میں یہ ثابت کیا گیا تھا کہ احمدی مرتد ہیں۔ اور دوسرے حصہ میں اس بات کے دلائل دیے گئے تھے کہ اسلام میں مرتد کی سزا موت ہے۔

یہ کتابچہ تیس سال تک گوشہ گمنامی میں پڑا رہا۔ لیکن مارچ ۱۹۵۰ء سے کچھ پہلے قاضی احسان احمد شجاع آبادی نے نے اس کے مصنف سے (جو اب شیخ الاسلام بن گئے تھے) اس کو دوبارہ شائع کرنے کی اجازت طلب کی جو عطا کر دی گئی۔ اور اب احراریوں کی تقریروں میں اس کتابچہ کے مندرجات بطور فتوےٰ بیان کئے جانے لگے۔ ‘‘ (رپورٹ تحقیقاتی عدالت فسادات پنجاب ۱۹۵۳ء صفحہ۱۸)

یہ ظاہر ہے کہ جب بھی پاکستان میں احمدیوں کے خلاف نفرت انگیزی کی مہم چلائی جاتی ہے، مخالفین حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحبؓ اور افغانستان کے دوسرے شہداء کی شہادت کے واقعات کو پیش کر کے لوگوں کو فساد اور قتل و غارت پر اکساتے ہیں۔ لیکن یہ پہلو بھی قابل ذکر ہے کہ اس رپورٹ کے آخری حصہ میں یہ ذکر کرنے کے بعد کہ علماء قتل مرتد پر متفق ہیں لکھا ہے: ’’اگر مولانا ابو الحسنات سید محمد احمد قادری یا مرزا رضا احمد خان بریلوی… ایسی اسلامی مملکت کے رئیس بن جائیں۔ تو یہی انجام دیوبندیوں اور وہابیوں کا ہوگا جن میں مولانا محمد شفیع دیوبندی ممبر بورڈ تعلیمات اسلامی ملحقہ دستور ساز اسمبلی پاکستان اور مولانا دائود غزنوی بھی شامل ہیں۔ اور اگر مولانا محمد شفیع دیوبندی رئیس مملکت مقرر ہوجائیں۔ تو وہ ان لوگوں کو جنہوں نے دیوبندیوں کو کافر قرار دیا ہے۔ دائرہ اسلام سے خارج قرار دیں گے۔ اور اگر وہ لوگ مرتد کی تعریف میں آئیں گے۔ یعنی انہوں نے اپنے عقائد ورثہ میں حاصل نہ کیے ہوں گے۔ بلکہ خود اپنا عقیدہ بدل لیا ہوگا تو مفتی صاحب ان کو موت کی سزا دیں گے۔

جب دیوبندیوں کا ایک فتویٰ جس میں اثنا عشری شیعوں کو کافر اور مرتد قرار دیا گیا ہے۔ عدالت میں پیش ہوا تو کہا گیا کہ یہ اصلی نہیں ہے۔ بلکہ مصنوعی ہے۔ لیکن جب مفتی محمد شفیع نے اس امر کے متعلق دیو بند سے استفسار کیا۔ تو اس دارالعلوم کے دفتر سے اس فتوے کی ایک نقل موصول ہو گئی۔ جس پر دارالعلوم کے تمام اساتذہ کے دستخط ثبت تھے۔ اور ان میں مفتی محمد شفیع صاحب کے دستخط بھی شامل تھے۔ …

آخری نتیجہ یہ ہے کہ شیعہ۔ سنی۔ دیوبندی۔ اہل حدیث اور بریلوی لوگوں میں سے کوئی بھی مسلم نہیں۔ اور اگر مملکت کی حکومت ایسی جماعت کے ہاتھ میں ہو جو دوسری جماعت کو کافر سمجھتی ہے تو جہاں کوئی شخص ایک عقیدہ کو بدل کر دوسرا اختیار کرے گا۔ اس کو اسلامی مملکت میں لازماََ موت کی سزا دی جائے گی۔ ‘‘ (رپورٹ تحقیقاتی عدالت فسادات پنجاب ۱۹۵۳ء صفحہ ۲۳۶و ۲۳۷)

یہ صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ اگر ان مولوی حضرات کا بس چلے تو شاید ہی کوئی مسلمان بچے جسے کسی نہ کسی مسلک نے کافر، مرتد اور واجب القتل قرار نہ دیا ہو۔ آخر عدالت اس نتیجہ پر پہنچی : ’’ارتداد کے لیے سزائے موت بہت دوررس متعلقات کی حامل ہے۔ اور اس سے اسلام مذہبی جنونیوں کا دین ظاہر ہوتا ہے جس میں حریت فکر مستوجب سزا ہے۔ قرآن تو بار بار عقل و فکر پر زور دیتا ہے۔ رواداری کی تلقین کرتا ہے اور مذہبی امور میں جبر و اکراہ کے خلاف تعلیم دیتا ہے۔ لیکن ارتداد کے متعلق جو عقیدہ اس کتابچے میں پیش کیا گیا ہے وہ آزادی فکر کی جڑ پر ضرب لگا رہا ہے۔ ‘‘ (رپورٹ تحقیقاتی عدالت فسادات پنجاب ۱۹۵۳ء صفحہ ۲۳۷)

یہ حوالے ظاہر کرتے ہیں کہ جب حضرت صاحبزادہ عبداللطیف شہیدؓ اور افغانستان کے دوسرے احمدی شہداء کی شہادت کو قتل مرتد کی دلیل پیش کیا جاتا ہے تو اس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ ایک ایسا منحوس چکر شروع ہوجاتا ہے جس کے نتیجہ میں مسلمان ہی مسلمانوں کا خون بہانے میں مصروف ہوجاتے ہیں جیسا کہ افغانستان اور پاکستان میں اب تک ہو رہا ہے۔ اور دنیا کی نظروں میں اسلام مذہبی جنونیوں کے مذہب کے طور پر سامنے آتا ہے۔ لیکن پاکستان کے مولویوں نے ۱۹۵۳ء کے فسادات سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔ اور جب ۱۹۷۴ء میں قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی کی کارروائی ہو رہی تھی تاکہ بزعم خود یہ فیصلہ کیا جائے کہ احمدیوں کا مذہب کیا ہے؟ تو مولوی حضرات نے یہی حربہ استعمال کیا۔ چنانچہ جب قومی اسمبلی میں مولوی عبدالحکیم صاحب نےجماعت احمدیہ کے خلاف ایک طویل تقریر شروع کی تو اس کے شروع میں بجائے اس کے کہ اپنے موقف کے حق میں کوئی دلائل پیش کرتے یہ فہرست پیش کرنی شروع کی کہ تاریخ اسلام میں جب کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا بغیر کسی دلیل یا بحث کے اس کو قتل کر دیا گیا۔ انہوں نے حضرت صاحبزادہ عبداللطیف شہیدؓ کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ’’خیرالقرون صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کے بعد دوسرے ادوار میں بھی مسلم حکمرانوں نے بھی مدعیان نبوت کا یہی حشر کیا۔

ایران میں بہاء اللہ کا انجام برا ہوا۔ اور آج بھی وہاں بہائی فرقہ خلاف قانون ہے۔

کابل میں تو مرزائے قادیان کی نبوت کی تصدیق کرنے والے مولوی عبداللطیف کو بھی قتل کر دیا گیا۔ بہر حال تمام عالم اسلام نے شام، عراق، حرمین شریفین، کابل، ایران اور مصر تک کے علماء کرام اور سلاطین عظام نے مدعیان نبوت کے قتل کی حمایت اور تصویب کی۔ اس ملک میں مرزا قادیانی صرف انگریز کی پشت پناہی سے بچا رہا۔ ‘‘ (کارروائی سپیشل کمیٹی صفحہ ۲۳۹۲)

اس طرح ۱۹۷۴ء کے فسادات کے دوران ممبران اسمبلی کو اکسایا جا رہا تھا کہ غیر مسلم قرار دینا تو ایک طرف رہا، احمدیوں کو قتل بھی کر دینا بالکل جائز اور درست ہو گا۔ اور یہ عجیب دعویٰ ہے کہ سارے مدعیان نبوت تو قتل ہو گئے اور ناکام رہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام صرف اس لیے بچے رہے کیونکہ نعوذُباللہ انگریز حکومت آپ کی پشت پناہی کررہی تھی۔ مولوی عبدالحکیم صاحب یہ حقیقت فراموش کر گئے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَلَوۡ تَقَوَّلَ عَلَیۡنَا بَعۡضَ الۡاَقَاوِیۡلِ۔ لَاَخَذۡنَا مِنۡہُ بِالۡیَمِیۡنِ۔ ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡہُ الۡوَتِیۡنَ۔ فَمَا مِنۡکُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ عَنۡہُ حٰجِزِیۡنَ۔ (الحاقہ ۴۵تا ۴۸)ترجمہ: اور اگر وہ بعض باتیں جھوٹے طور پرہماری طرف منسوب کرتا۔ تو ہم ضرور اسے داہنیں ہاتھ سے پکڑ لیتے۔ پھر ہم یقیناََ اس کی رگ جان کاٹ ڈالتے۔ پھر تم میں سے ایک بھی اس سے (ہمیں) روکنے والا نہ ہوتا۔

اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ جھوٹے مدعی نبوت کو وہ خود یہ سزا دیتا ہے لیکن مولوی عبدالحکیم صاحب یہ نظریہ پیش فرمارہے ہیں کہ نعوذُباللہ اللہ تعالیٰ اس لیے اپنا یہ وعدہ پورا نہیں فرما سکا کیونکہ بانی سلسلہ احمدیہ کی پشت پناہی انگریز حکومت کر رہی تھی۔

سوشل میڈیا پر پراپیگنڈا

بہر حال اب یہ جائزہ لیتے ہیں کہ آج کل جماعت احمدیہ کے مخالفین صاحبزادہ صاحبؓ کی شہادت کے بارے میں کن نظریات کا پرچار کرتے ہیں۔ اب انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا دور ہے اور اب مخالفین بھی اپنی زہر فشانی کی مہم کے لیے یہ ذرائع استعمال کرتے ہیں۔ اس بارے میں جماعت احمدیہ کی مخالف سائٹ ’ختم نبوت ‘ میں یہ لکھا ہے: ’’ مرزا قادیانی نے جب جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا تو اس نے اپنی اس جھوٹی نبوت کی تبلیغ کا سلسلہ افغانستان تک بھی پہنچایا، چنانچہ کچھ لوگ اس کے دامِ فریب میں آ گئے۔ ان میں دو اشخاص عبدالرحمٰن اور عبداللطیف سرفہرست ہیں۔ جنہوں نے وہاں پر قادیانیت کی تبلیغ کے ساتھ ساتھ انگریز کے لیے جاسوسی بھی شروع کر دی۔ عبدالرحمٰن خان کو امیر عبدالرحمٰن کے دور حکومت میں ارتداد کے جرم میں ہلاک کیا گیا۔ جبکہ عبداللطیف کو ۱۹۰۳ء میں امیر حبیب اللہ خاں کے دور میں ارتداد کے جرم میں سنگسار کیا گیا۔ عبداللطیف قادیان کا باشندہ تھا اور کچھ مدت تک قادیان میں مرزا قادیانی کی صحبت میں رہ کر قادیانیت اختیار کرنے پر مرتد ہو گیا تھا۔ چنانچہ اس کو کفریہ عقائد کی بنا پر موت کی سزا سنائی گئی۔ اسے کمر تک زمین میں زندہ گاڑ دیا گیا اور اس کے بعد پتھر مار مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ یہی حال بعد میں نعمت اللہ خاں قادیانی مبلغ کا ہوا۔ جب مرزا قادیانی کو معلوم ہوا کہ والیٔ افغانستان کے حکم سے میرے ماننے والوں کو قتل کیا جا رہا ہے تو اس نے والیٔ افغانستان کو ایک لمبا چوڑا احتجاجی خط لکھا جس کے جواب میں والیٔ افغانستان نے صرف ایک جملہ لکھا جو فارسی میں تھا۔ وہ یہ کہ

ایں جابیا (یعنی، اس جگہ آئو)

جب یہ جواب مرزا قادیانی کو پہنچا تو اس نے خاموشی اختیار کر لی۔ مرزا قادیانی کو اس جواب کا مفہوم بخوبی سمجھ آ گیا تھا کہ اگر میں افغانستان گیا تو میرا حال بھی میرے مبلغین جیسا ہوگا۔‘‘ (https://khatm-e-nubuwwat.org/amir-habibullah-khan-vali-afghanistan/.accessed on 20.3.2026)

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہمیشہ سےجماعت احمدیہ کے مخالفین کی یہ عادت ہے کہ ہر چیز کا بے بنیاد الزام جماعت احمدیہ پر لگادیتے ہیں۔ خواہ اس معاملہ سے احمدیوں کا کوئی دور کا تعلق بھی نہ ہو۔ مثال کے طور پر ۱۹۷۴ء میں سپیشل کمیٹی کی کارروائی میں پاکستان کے ساتھ گزرنے والے ہر المیہ کا ذمہ دار احمدیوں کو قرار دیا گیا تھا۔ ضلع گورداسپور پاکستان میں شامل نہیں ہوا۔ یہ احمدیوں کی سازش تھی۔ کشمیر پاکستان کا حصہ نہیں بنا۔ اس کے ذمہ دار احمدی تھے۔ ۱۹۷۱ء کی جنگ میں پاکستان دو ٹکڑے ہو گیا۔ یہ بھی احمدیوں کا کیا دھرا تھا۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد ڈیورنڈ لائن جس کا تعین انگریزوں کے دور میں ہوا تھا اور ایک علاقہ میں اس حد بندی میں حضرت صاحبزادہ عبداللطیف شہیدؓ نے بھی اپنا کردار ادا کیا تھا، ایک عرصہ سےافغانستان کی کئی حکومتوں کے نزدیک متنازعہ رہی ہے۔ وہ اسے تسلیم نہیں کرتے اور یہ افغان حکومتیں اس سرحد کو غلط اور اپنے مفادات کے خلاف قرار دیتی آئی ہیں۔ دوسری طرف پاکستان کی حکومت کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ یہ ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی سرحد ہے۔ چونکہ افغانستان میں عمومی طور پر ڈیورنڈ لائن کی مخالفت رہی ہے چنانچہ اسی سابقہ روش کے تحت حال ہی میں افغانستان سے ایک پوسٹ شائع ہوئی ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اصل میں صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کے انگریزوں سے قریبی تعلقات تھے اور اس لیے انہوں نے اس وقت کے بادشاہ امیر عبدالرحمٰن کو اس بات پر آمادہ کیا تھا کہ وہ برطانوی حکومت کے ساتھ بات کرکے ہندوستان اور افغانستان کے درمیان سرحد کے معاملات طے کریں۔ چنانچہ اس پوسٹ میں یہ ذکر کرنے کے بعد کہ حضرت صاحبزادہ عبداللطیف شہیدؓ کے آباءواجداد ہندوستان سے آئے تھے جو لکھا ہے اس کا ترجمہ پیش کیا جاتا ہے: ’’جب امیر عبدالرحمٰن بادشاہ بن گئے تو صاحبزادہ صاحب کی شہرت ان تک بھی پہنچ گئی اور امیر عبدالرحمٰن نے ان کو اپنا دینی مشیر اور ارگ مسجد کا امام مقرر کیا اور وہ سارے دینی معاملات میں آپ سے مشورہ کرتے۔ انہوں نے ایک مرتبہ امیر عبدالرحمٰن سے اجازت چاہی کہ وہ حج کا فریضہ ادا کرنے کے لیے عرب جانا چاہتے ہیں۔ لیکن جب وہ ہندوستان پہنچے تو احمدیہ فرقہ کے بانی مرزا احمد قادیانی کے ساتھ ملاقات کی اور ان سے متاثر ہو کر ان کی بیعت کر لی۔

ایسا بھی کہا جاتا ہے کہ ان کے ہندوستان کی سرکار برطانوی حکومت کے ساتھ اچھے تعلقات تھے اور ان کے مشورہ سے امیر عبدالرحمٰن کو اس بات پر آمادہ کرنا چاہتے تھے کہ ہندوستان کی انگریز حکومت کے ساتھ سرحدی لائن کے بارے میں بات کریں۔ ۱۸۹۳ء میں امیر عبدالرحمٰن نے انہیں گورنر خوست شیریندل خان کے ساتھ انگریزوں سے مذاکرات کرنے کے لیے ہندوستان بھیج دیا۔ ان دونوں نے امیر عبدالرحمٰن کی نمائندگی کی اور انگریزوں کی طرف سے پولیٹیکل ایجنٹ پشاور صاحبزادہ عبدالقیوم سواتی نے نمائندگی کی۔ انہوں نے امیر عبدالرحمٰن کے نمائندہ کے طور پر دستخط کیے۔ کہتے ہیں امیر عبدالرحمٰن زندگی کے آخری ایام میں صاحبزادہ عبداللطیف سے بد گمان ہو گیا تھا اور انہیں انڈرآبزرویشن رکھا گیا تھا۔

جب امیر عبدالرحمٰن فوت ہو گئے تو ان کی جگہ ان کے بیٹے امیر شہید حبیب اللہ کی تاجپوشی اور بادشاہ بننے کے سارے مرحلوں کی نگرانی آپ نے کی۔ آخر کار دینی علماء نے صاحبزادہ عبداللطیف کے خلاف تبلیغ شروع کی اور ان کو مرتد اور ملحد قرار دیا اور ان کے بارےمیں امیر حبیب اللہ خان کی نیت کو بدل دیا۔ امیر حبیب اللہ خان نے ان کو گرفتار کیا اور ان کے ہاتھ پائوں میں ہتھکڑیاں ڈال دیں۔ اور آخر کار ۱۴ جولائی ۱۹۰۳ء پتھروں سے سنگسار کر دیا۔ ‘‘

حضرت صاحبزادہ عبداللطیف شہید رضی اللہ عنہ کی شہادت کے حوالہ سے اگر مخالفین کے الزامات کا جائزہ لیا جائے تو ان کا خلاصہ یہ نکلے گا کہ اوّل تو احمدی مرتد ہیں۔ اس کے علاوہ احمدی جہاد کے منکر ہیں اور امیر عبدالرحمٰن اور ان کے بیٹے امیر حبیب اللہ کا اوّلین مقصد یہ تھا کہ انگریزوں سے جہاد کیا جائے ، اس لیے جذبہ جہاد کی سربلندی کے لیے ان احمدیوں کو سزائے موت دی گئی۔ اور تو اور یہ احمدی انگریزوں کے لیے جاسوسی بھی کر رہے تھے۔ چنانچہ یہ بھی وجہ تھی کہ احمدیوں کو سزا دینی پڑی۔ اور صاحبزادہ صاحب نے ہی امیر عبدالرحمٰن کو آمادہ کیا تھا کہ وہ سرحد کی حد بندی کے معاملہ میں انگریز حکومت سے تصفیہ کر لیں۔ ان الزامات کا جائزہ لینے کے لیے کچھ تاریخی حقائق کا ذکر کرنا پڑے گا۔

امیر عبدالرحمٰن اقتدار میں کیسے آئے؟

سب سے پہلے تو یہ جاننا ضروی ہے کہ امیر عبدالرحمٰن برسر اقتدار کیسے آئے کیونکہ اصل میں ان کے چچا زاد بھائی امیر یعقوب خان حکمران تھے اور امیر عبدالرحمٰن نے ان سے بچ کرزار روس کی حکومت کی پناہ میں سمرقند میں پناہ لی ہوئی تھی۔ امیر عبدالرحمٰن کے دادا افغانستان کے حکمران رہے تھے۔ عبدالرحمٰن خان کو روس کی حکومت کی طرف سے کچھ وظیفہ بھی ملتا تھا اور گھر ملا ہوا تھا۔ جب وہ افغانستان میں حالات خراب ہونے کے بعد پہلے پہل روس کے زیر اقتدار علاقہ میں پہنچے تھے، اس وقت انہوں نے روس کی حکومت کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی کہ وہ افغانستان پر حملہ کرے اور وہ اس میں مدد کریں گے لیکن ان کو یہی جواب ملا تھا کہ فی الحال روس اور برطانوی حکومت کے تعلقات ٹھیک ہیں اور افغانستان برطانیہ کے زیر اثر علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ ۱۸۸۰ء میں امیر یعقوب خان کی فوج میں تنخواہ نہ ملنے کے باعث کافی بے چینی پیدا ہوئی اور انہوں نے غصہ میں آکر برطانوی سفارت خانہ پر حملہ کر کے برطانوی اہلکاروں کو قتل کردیا اور برطانوی مشن کو آگ لگا دی۔ برطانوی حکومت پہلے بھی امیر یعقوب سے ان کی عہد شکنی کی وجہ سے نالاں تھی اور پھر اس واقعہ سے برطانیہ کے وقار اور رعب کو سخت دھچکا پہنچا تھا۔ اور یہ غصہ اس وجہ سے بھی تھا کہ امیر یعقوب خان برطانوی حکومت سے چھ لاکھ سالانہ کا وظیفہ بھی لیتے تھے۔ اس پر طیش میں آکر برطانوی فوجی دستوں نے کابل کی طرف پیش قدمی شروع کی اور ایک رات معمولی جھڑپوں کے بعد وہ کابل پہنچ گئے۔ صبح جنگ کیا ہونی تھی امیر یعقوب خان کی فوج اپنے حکمران اور پورے توپ خانہ کو چھوڑ کر کابل سے فرار ہو گئی۔ امیر یعقوب خان اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ برطانوی کیمپ میں آئے اور یہ کہتے ہوئے تخت سے دستبردار ہو گئے کہ میں حکمران رہنے کی بجائے اس کیمپ میں گھاس کاٹنے کو ترجیح دوں گا۔ لیکن اب افغانستان بغیر حکومت کے تھا۔ فاتح گروہ کے سامنے یہ مسئلہ تھا کہ اب افغانستان کا اقتدار کس کے حوالے کریں؟

اس پس منظر میں عبدالرحمٰن خان ایک مرتبہ پھر افغانستان میں نمودار ہوئے اور اب روس کی حکومت بھی اس کی حوصلہ افزائی کر رہی تھی۔ انہوں نے عبدالرحمٰن خان کو کچھ اسلحہ اور رقم بھی مہیا کی تھی اور کچھ رقم انہوں نے قرض کے طور پر حاصل کی۔ عبدالرحمٰن خان نے افغانستان میں آکر اعلان کیا کہ وہ افغان قوم سے جنگ کرنے نہیں آئے بلکہ اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے تحت ’غزو‘ (جہاد) کرنے آئے ہیں۔ یہ غزو کس سے کرنا تھا یہ واضح نہیں تھا لیکن حقیقت جلد سامنے آجانی تھی۔ لیکن ان کے افغانستان میں داخل ہوتے ہی ہندوستان میں برطانوی حکومت کے اہم عہدیدار سر لیپل گریفن نے ان کے ساتھ خط و کتابت شروع کی اور ان کی اہلیت کے بارے میں معلومات بھی حاصل کرنا شروع کر دی تھیں۔ اور برطانوی حکومت کو اب افغانستان کے لیے ایک ایسے حکمران کی بھی ضرورت تھی جو کہ افغانستان پر بھی حکومت کرے اور برطانوی مفادات کے لیے بھی موزوں ہو۔

۲۱؍اپریل ۱۸۸۰ء کو عبدالرحمٰن خان نے انگریز عہدیداروں کو خط لکھا کہ دونوں بڑی طاقتوں یعنی روس اور برطانیہ کی سرپرستی میں افغانستان میں مستحکم حکومت قائم ہونی چاہیے۔ لیکن ابھی بھی افغانستان کے کچھ گروہ عبدالرحمٰن خان اور انگریزوں کی مخالفت کر رہے تھے۔ برطانوی حکومت نے اپنے فوجی دستے ان کی طرف بھجوا کر انہیں شکست دے دی تاکہ وہ عبدالرحمٰن کے خلاف قائم محاذ میں شریک نہ ہوسکیں۔ اور اس سےان کا راستہ صاف کیا گیا۔ قصہ مختصر یہ کہ انگریز حکومت کی نظر انتخاب عبدالرحمٰن خان پر پڑ چکی تھی اور اب ان کا قافلہ کابل کی طرف بڑھ رہا تھا۔ کابل سے کچھ دور پہنچ کر سر لیپل گریفن نے ایک دربار منعقد کیا اور اس میں عبدالرحمٰن خان صاحب کو مدعو کیا گیا اور مذاکرات ہوئے۔ آخر کار انگریز وفد نے باقاعدہ ایک خط کے ذریعہ عبدالرحمٰن خان کو کابل کا امیر تسلیم کر لیا۔ اور اس کا امیر عبدالرحمٰن خان کی طرف سے یہ تحریری جواب دیا گیا کہ میں آپ اور وائسرائے ہندوستان کی طرف سے افغانستان کی امارت قبول کرتا ہوں۔ اور۲۲؍جولائی ۱۸۸۰ء کو کابل میں ایک دربار میں امیر عبدالرحمٰن کو امیر افغانستان بنانے کا اعلان کیا گیا۔ ایک یادداشت پر دستخط کیے گئے جس کی رو سے برطانوی حکومت افغانستان کے اندرونی معاملات میں دخل انداز نہیں ہو گی۔ اور افغانستان کی خارجہ پالیسی کے معاملات برطانوی حکومت کے سپرد ہوں گے۔ اور اگر کسی ملک نے افغانستان پر حملہ کیا تو برطانوی حکومت جس رنگ میں پسند کرے افغانستان کی مدد کرے گی۔ اور برطانوی حکومت امیر عبدالرحمٰن کی حکومت کو بیس لاکھ روپیہ سالانہ کا وظیفہ دے گی۔ (Percy Sykes. History of Afghanistan. MacMillan & Co London 1940, pp.114-138)

ابھی یہ صرف امیر عبدالرحمٰن کے اقتدار میں آنے کا قصہ ہے۔ برطانوی حکومت ان کے چچا زاد بھائی کی حکومت سے خفا ہوئی اور افغانستان پر حملہ کر دیا۔ افغانستان کی فوج اپنے امیر کو اکیلا چھوڑ کر بھاگ گئی۔ امیر عبدالرحمٰن موقع پا کر افغانستان میں داخل ہوئے اور شروع سے برطانوی حکومت سے رابطہ میں تھے۔ برطانوی حکومت نے امیر عبدالرحمٰن کے مخالفین سے جنگ کر کے ان کا راستہ صاف کیا۔ اور خود ان کے الفاظ میں انہوں نے افغانستان کی امارت وائسرائے ہندوستان کے ہاتھوں سے حاصل کی۔ اور اپنی خارجہ پالیسی برطانیہ کے حوالے کی۔ اور برطانوی حکومت نے ان کا سالانہ وظیفہ مقرر کیا۔ ان حقائق میں موجودگی میں کیا یہ نظریہ قبول کیا جا سکتا ہے کہ امیر عبدالرحمٰن یا ان کے جانشین امیر حبیب اللہ انگریزوں سے جہاد کرنے کے معاملے میں مخلص تھے اور حضرت مولوی عبدالرحمٰنؓ یا حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحبؓ کو اس لیے شہیدکیا کیونکہ یہ دونوں انگریزوں سے جہاد کے قائل نہیں تھا اور ان دونوں حکمرانوں کو یہ تشویش تھی کہ ان کی قوم میں جذبہ حریت کمزور ہوجائے گا ؟ زیادہ سے زیادہ یہی نتیجہ نکل سکتا ہے کہ وہ اپنی قوم پر حکومت قائم رکھنے کے لیے جہاد کے نعرے لگاتے رہتے تھے ورنہ نہ انہوں نے کبھی انگریزوں سے جہاد کیا تھا اور نہ کبھی اس کا ارادہ تھا۔

امیر عبدالرحمٰن کا اپنا اقرار

کسی پڑھنے والے کے ذہن میں یہ خیال آ سکتا ہے کہ یہ تو ایک انگریز کی لکھی ہوئی کتاب سے حوالے دیا گیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ حقائق مسخ کر کے بیان کیے گئے ہوں۔ اس لیے افغانستان کی تاریخ کے اس مرحلہ کے بارے میں خود امیر عبدالرحمٰن کی خود نوشت سوانح حیات کا جائزہ لیتے ہیں کہ اس بارے میں خود امیر عبدالرحمٰن نے کیا بیان کیا ہے ؟ یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس سوانح کا انگریزی ترجمہ مشہور اردو شاعر فیض احمد فیض صاحب کے والد سلطان محمد خان صاحب نے کیا تھا۔ سلطان محمد خان صاحب امیر عبدالرحمٰن کے میر منشی تھے۔ اس سوانح حیات کی پہلی جلد کا باب Established on Throneاسی مرحلے کے بارے میں ہے۔ خود امیر عبدالرحمٰن کا بیان ہے کہ جب ان کے رشتہ دار امیر کو انگریزوں نے شکست دے کر معزول کر دیا تو امیر عبدالرحمٰن نے اس کو اپنے لیے موقع سمجھا اور انہوں نے افغانستان میں داخل ہو کر اپنے حامیوں کو جمع کرنا شروع کر دیا۔ اور انہیں اپنے مخالفین سے جنگ کر کے اپنے ہم وطنوں کا خون بھی بہانا پڑا۔ یہ بھی صحیح ہے کہ وہ عوام کو خوش کرنے کے لیے جہاد کے نعرے بھی لگا رہے تھے۔ دوسری طرف انگریز افواج کابل پر قبضہ کر چکی تھی۔ انگریز حکومت کی نمائندگی میں میں سر لیپل گریفن نے امیر عبدالرحمٰن کو خط لکھا اور ان کے ارادوں کے بارے میں دریافت کیا۔ امیر عبدالرحمٰن بیان کرتے ہیں کہ ان کے سرداروں اور ساتھیوں کا مشورہ تھا کہ انگریزوں کو سخت جواب دیا جائے کہ اے کافرو !ہم تمہیں شکست دیں گے۔ تمہارے میں سے ایک بھی زندہ واپس ہندوستان نہیں جائے گا۔ تم نے ہمارے قلعہ تباہ کر دیئے ہیں، اس لے ہمیں ایک ارب روپیہ کا ہرجانہ ادا کرو۔ ہم روس کے ساتھ مل کر تمہیں شکست دیں گے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن امیر عبدالرحمٰن نے ان کے مشوروں کو رد کر کے ایک مفاہمت کا خط لکھا کہ میں روسی حکام کی اجازت سے دوبارہ افغانستان میں داخل ہوا ہوں۔ اور میرا ارادہ اپنے ہم وطنوں کی مدد کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ امیر عبدالرحمٰن اس مرحلہ پرچاریکار جا کر اپنے مخالفین سے نمٹنا چاہتے تھے لیکن وہ بیان کرتے ہیں کہ ۲۰؍اپریل کو انہیں سر لیپل گریفن کا خط موصول ہوا، جس میں انہوں نے عبدالرحمٰن خان کو دعوت دی کہ وہ کابل آکر افغانستان کی حکومت سنبھالیں۔ ۱۶ مئی کو امیر عبدالرحمٰن نے انہیں جواب دیا جو کہ ان الفاظ سے شروع ہوتا تھا:’’ My valued friend, I had, and still have, great hope from the British Government, and your friendship had justified and equalled my expectations…‘‘ترجمہ: میرے قابل قدر دوست مجھے پہلے بھی اور اب بھی برطانوی حکومت سے بہت عظیم امیدیں تھیں اور آپ کی دوستی نے میری امیدوں کو پورا کیا ہے اور ان سے انصاف کیا ہے۔ ‘‘

اس کے بعد انہوں نے کچھ سوالات اٹھائے تھے کہ بقول ان کےافغان قوم اس وقت ساتھ نہیں ہوتی جب تک کہ اسے اپنا فائدہ نظر نہ آئے۔ ان میں یہ سوال شامل تھا کہ قندھار کس کے ماتحت ہو گا۔ ان کی حکومت کی سرحدیں کیا ہوں گی۔ کیا افغانستان میں کوئی یوروپی نمائندہ یا کوئی برطانوی فوج رکھی جائے گی۔ برطانوی حکومت مجھ سے کیا امید رکھتی ہے کہ میں ان کے کس دشمنوں کے خلاف کیا کارروائی کروں؟مجھے برطانوی حکومت کی طرف سے کیا فوائد ملیں گے اور ان کے بدلے مجھے کیا خدمات سرنجام دینی ہوں گی؟ سر لیپل گریفن نے اس خط کا جواب دیا اور خود امیر عبدالرحمٰن نے اپنے ساتھ افواج کو بتایا کہ برطانوی حکومت سے جنگ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

امیر عبدالرحمٰن اپنی خود نوشت سوانح حیات میں اپنی تاجپوشی کے بارے میں تحریر کرتے ہیں : ”Griffin Sahib also held an audience at Kabul on the 22nd of July, proclaiming me Amir before the British officials and Afghan chiefs, and on this occasion made the following speech.“ ترجمہ: گریفن صاحب نے کابل میں ایک اجتماع منعقد کیا جس میں برطانوی افسران اور افغان سرداروں کی مو جودگی میں میرے امیر ہونے کا اعلان کیا اور اس موقع پر یہ تقریر کی۔

گریفن صاحب نے اپنی تقریر میں اعلان کیا کہ امیر عبدالرحمٰن برطانوی حکومت کے بارے میں دوستانہ جذبات رکھتے ہیں اور جب تک ان کے یہ جذبات قائم رہیں گے انہیں برطانوی حکومت کی حمایت اور دوستی حاصل رہے گی۔

دوسری طرف ہرات کے گورنر سردار ایوب خان انگریزوں سے جنگ لڑ رہے تھے اور وقتی طور پر ان کو کامیابی بھی ملی تھی۔ لیکن جب انگریزوں نے امیر عبدالرحمٰن خان کے امیر بننے کا اعلان کیا اور ان سے مفاہمت ہو گئی تو انہوں نےایک طرف سے مطمئن ہو کر انگریزوں نے سردار ایوب خان کی مزاحمت کو ختم کر دیا۔ اور یہ سب معاملات طے کرنے کے بعد برطانوی افواج ہندوستان واپس ہو گئیں۔ اور واپسی پر ان پر کسی طرف سے ایک گولی بھی نہیں چلائی گئی۔ کیونکہ نئے امیر نے ان کی سلامتی کی ضمانت دی تھی۔ (The Life of Abdur Rahman, Amir of Afghanistan, by Amir Abdur Rahman, Translated by Sulan Muhammad Khan. Vol1. John Murray Albemarle Street, London 1900. P185-196)

یہ حقائق امیر عبدالرحمٰن کی اپنی بیان کردہ سوانح حیات میں درج ہیں۔ ان کی موجودگی میں یہ دعویٰ کہ امیر عبدالرحمٰن ہر وقت انگریزوں سے جہاد کے لیے بے تاب رہتے تھے ایک مضحکہ خیز دعویٰ ہے۔ یقینی طور پر اپنے عوام کے سامنے میں جہاد کے نعرے بلند کرتے ہوں گے لیکن اس کا مقصد اپنے اقتدار کو تقویت دینا اور کئی صورتوں میں پس پردہ انگریزوں کے آلہ کار کے طور پر کام کرنا ہی تھا۔ ورنہ اس صورت حال میں جب کہ برطانوی افواج ان کے ہموطنوں سے جنگ لڑ رہی تھیں اور ان کے امیر بننے کے بعد بھی سردار ایوب خان کی افواج انگریز افواج سے لڑتی رہیں ، اس دوران امیر عبدالرحمٰن اپنے اقتدار کے لیے انگریزوں سے ساز باز کر رہے تھے اور ان کی افواج نے قابض انگریز فوج پر ایک گولی بھی نہیں چلائی تھی۔ یہی گمان کیا جا سکتا ہے کہ جب بیعت کے بعد حضرت مولوی عبدالرحمٰن صاحب رضی اللہ عنہ نے یہ اعلان کیا کہ یہ زمانہ جہاد کے نام پر قتال کا نہیں ہے تو یہ بات امیر عبدالرحمٰن کو بہت گراں گذری ہو گی کیونکہ اس نعرے اور افغان عوام کو وہ اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے۔ اور اس دوران وہ مسلسل برطانوی حکومت سے مدد لے کر ان کے آلہ کار کے طور پر کام کر رہے تھے۔ ان دونوں کے اتحاد میں بعض مرتبہ تنائو بھی آتا تھا کیونکہ ہر فریق اپنے لیے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنے کی کوششیں کر رہا تھا لیکن پھر باہمی مفادات دونوں فریقوں کو اکھٹا کر دیتے۔

ڈیورنڈ لائن کا قصّہ

اب ہم اس نظریہ کی طرف آتے ہیں کہ حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب رضی اللہ عنہ نے امیر عبدالرحمٰن کو اس بات پر آمادہ کیا تھا کہ وہ انگریزوں سے سرحد کی حدبندی کا معاہدہ کرلیں۔ یہ سرحد بعد میں ڈیورنڈ لائن کے نام سے معروف ہوئی۔ چونکہ افغانستان کے کم از کم بعض حلقوں میں اس لائن کو پسند نہیں کیا جا تا کیونکہ اس طبقہ کے نزدیک اس کی رو سے افغانستا ن کا بہت سا حصہ برطانوی ہندوستان کا حصہ قرار دیا گیا تھا۔ اور اب سوشل میڈیا کی بعض پوسٹوں میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ صاحبزادہ عبداللطیف صاحب نے امیر عبدالرحمٰن کو اس پر آمادہ کیا تھا کیونکہ ان کے انگریزوں سے قریبی تعلقات تھے۔ یہ اعتراض اسی گھسے پٹے اعتراض کا حصہ معلوم ہوتا ہے کہ نعوذُباللہ جماعت احمدیہ برطانوی حکومت کے لیے کام کرتی تھی۔

سب سے پہلے تو یہ بات قابل ذکر ہے کہ ڈیورنڈ لائن کا تصفیہ ۱۸۹۳ء میں ہوا تھا جوکہ حضرت صاحبزادہ صاحب کے احمدی ہونے سے دس سال قبل کا واقعہ ہے۔ دوسرے یہ اہم پہلو پیش نظر رہنا چاہیے کہ صاحبزادہ صاحب اپنی حکومت کی طرف سے صرف ایک علاقہ میں اس حد بندی کے عمل میں شامل ہوئے تھے اور باقی سرحد پر افغانستان کی حکومت کی طرف سے دوسرے لوگوں نے سرحد کی لائن کا فیصلہ کیا تھا۔ تیسرے خود امیر عبدالرحمٰن نے اپنی سوانح حیات میں اس بات کا ذکر کیا ہے کہ اس دور میں بڑی طاقتیں کمزور ممالک کے علاقوں کو اپنے تسلط میں لے آتی تھیں۔ اس لیے ان کی خواہش تھی کہ سب ہمسایہ حکومتوں سے سرحد کا فیصلہ ہو جائے۔ پہلے چین اور ایران سے یہ تصفیہ ہوا۔ پھر امیر عبدالرحمٰن کی خواہش پر انگریز حکومت نے افغانستان اور روس کی سرحد کا فیصلہ کرایا۔ اب امیر عبدالرحمٰن کی یہ خواہش تھی کہ ہندوستان میں برطانوی حکومت سے بھی سرحد کا تصفیہ ہوجائے تا کہ طاقتور حکومت ہونے کے ناطے برطانوی حکومت مزید علاقوں پر اپنا تسلط نہ جما سکے۔ اورامیر عبدالرحمٰن نے اس کام کے لیے ڈیورنڈ کا نام تجویز کیا تھا ورنہ شروع میں وائسرائے ہند کی خواہش تھی کہ برطانوی حکومت کی طرف سے اس غرض کے لیے جنرل رابرٹس افغانستان جائیں۔

یہ بات درست ہے کہ امیر عبدالرحمٰن کی یہ خواہش تھی کہ زیادہ سے زیادہ علاقہ ان کی حکومت کے تحت آئے اور کئی برطانوی عہدیداروں کی یہ خواہش تھی کہ زیادہ سے زیادہ سرحدی علاقہ برطانوی ہندوستان کا حصہ بنے۔ اس سلسلہ میں کافی عرصہ بحث مباحثہ بھی ہوتا رہا۔ مگر امیر عبدالرحمٰن کے جہاد کی حقیقت کیا تھی یہ خود ان کی سوانح حیات کے اس حوالے سے ظاہر ہوجاتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ میں نے اس موقع پر وائسرائے کو لکھا کہ اگر آپ ان سرحدی قبائل کو جنہیں یاغستان کہا جاتا ہے میری حکومت میں شامل کردیں تومیں انہیں ان کے ہم مذہب ہونے کے ناطے اپنے جھنڈے تلے انگلستان اور اپنے دشمنوں سے مذہبی جنگ کے نام پر لڑنے کے لیے استعمال کرسکوں گا۔ اور جو افغانستان یا ہندوستان پر حملہ کرنے کا ارادہ کرے گا یہ جنگجو بہت طاقتور قوت کے طور پر اس سے جنگ کریں گے۔ میں آہستہ آہستہ انہیں انگریزوں کی پر امن رعیت اور اچھے دوستوں میں تبدیل کردوں گا۔ لیکن اگر یہ آپ کی حکومت کے تحت آئے تو یہ نہ آپ کے کسی کام کے ہوں گے اور نہ میرے کسی کام کے ہوں گے۔ (The Life of Abdur Rahman, Amir of Afghanistan, by Amir Abdur Rahman, Translated by Sulan Muhammad Khan. Vol2. John Murray Albemarle Street, London 1900. P 157-158)

بہرحال خود امیر عبدالرحمٰن بیان کرتے ہیں کہ مورٹیمر ڈیورنڈ کی قیادت میں برطانوی وفد کابل کے لیے روانہ ہوا اور آخر کار امیر عبدالرحمٰن برطانوی حکومت کے حق میں چمن، چاغی، بنیر، کرم سوات، دیر، چترال اور چلاس کے علاقوں سے دستبردار ہو گئے۔ اور اس کے عوض برطانوی حکومت نے ان کا سالانہ وظیفہ بارہ لاکھ سے بڑھا کر اٹھارہ لاکھ کر دیا۔ اور ایک دربار منعقد کر کے دونوں فریقوں نے اس معاہدے پر مسرت کا اظہار کیا اور ایک دوسرے سے دوستی نبھانے کا پر جوش اعلان کیا گیا۔ برطانوی وفد کو اعزازی تمغے عطا کیے گئے۔ ان سب حقائق کا ذکر انہوں نےاپنی سوانح حیات میں کیا ہے۔ اس لیے شک کی کوئی گنجائش بھی نہیں رہتی۔ (The Life of Abdur Rahman, Amir of Afghanistan, by Amir Abdur Rahman, Translated by Sulan Muhammad Khan. Vol2. John Murray Albemarle Street, London 1900. P 160-164)

خود امیر عبدالرحمٰن نے اس بات کا کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ انہیں حضرت صاحبزادہ عبداللطیف شہیدؓ یا کسی اور ہم وطن نے اس سرحد بندی کے لیے آمادہ کیا تھا۔ ان حقائق کی موجودگی میں سو ا سو سال بعد یہ عجیب الخقت تاثر دینے کی کوشش کہ یہ حدبندی صاحبزادہ صاحب کی وجہ سے ہوئی تھی تاکہ برطانوی حکومت کے مقاصدپورے ہو سکیں ایک مضحکہ خیز دعویٰ ہے۔

مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب کی گواہی

امیر عبدالرحمٰن برطانوی حکومت کے کتنے وفادار تھے؟ مناسب ہوگا کہ اس موقع پر سلسلہ احمدیہ کے شدید دشمن مولوی محمد حسین بٹالوی کی ایک تحریر کا حوالہ پیش کیا جائے۔ اور وہ حوالہ جو کہ ’اشاعۃ السنہ ‘ میں شائع ہوا جو کہ بعد میں احمدیت کی مخالفت کے لیے وقف رہا۔ ۱۸۸۴ء میں جب امیر عبدالرحمٰن برطانوی حکومت سے دوستی مستحکم کرنے کے لیے ہندوستان آئے۔ اس موقع پر راولپنڈی میں ایک دربار منعقد کیا گیا اور وائسرائے ہندوستان نے امیر عبدالرحمٰن صاحب کو بیش قیمت تحفے پیش کیے۔ جب آخری تحفہ پیش کیا گیا تو اس بارے میں مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب تحریر کرتے ہیں: ’’آخری ہدیہ جو گورنمنٹ کی طرف سے امیر صاحب کی خدمت میں پیش ہوا ہے وہ ایک مرصع اور بیش قیمت تلوار تہی جو وایسراے نے اپنے ہاتہہ سے امیر صاحب کو دی۔ اور آخری ہدیہ منجانب امیر صاحب اونکا یہہ کلمہ تہا(جو تلوار ملنے کے وقت اونہون نے فرمایا تہا) کہ مین اور میری الُس (قوم و اتباع)اس تلوار کے ساتہہ مخالفین گورنمنٹ کا سر کاٹین گے انشاءاللہ تعالےٰ۔ ‘‘(اشاعۃ السنہ نمبر ۱۲ جلد ۷ صفحہ ۳۵۰ و ۳۵۱)

تو یہ تھی امیر عبدالرحمٰن کے جہاد کی حقیقت۔ وہ بظاہر اپنے ہم وطنوں کے سامنے جہاد اور دوسرے مذہبی نعرے لگا کر افغان قوم کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے تھے۔ اور ان مقاصد میں ایک مقصد یہ تھا کہ سلطنت برطانیہ سے خطیر وظیفہ وصول کر کے ان برطانوی حکومت کے مخالفین کو جو کہ امیر صاحب کے ہم وطن تھے قتل کیا جائے۔ انہوں نے زندگی بھر کسی انگریز کا بال بھی بیکا نہیں کیا تھا البتہ اپنے ہم وطنوں کا خون بہانے میں ہمیشہ پیش پیش رہے تھے۔ یقینی طور پر جب حضرت مولوی عبدالرحمٰن نے احمدی ہونے کے بعد اپنے ہم وطنوں کو یہ بتایا ہو گا کہ یہ زمانہ دین کی اشاعت کے لیے قتال کا زمانہ نہیں ہے تو یہ بات امیر عبدالرحمٰن صاحب کو بہت گراں گزری ہو گی کیونکہ اس سے ان کے اس کاروبار پر منفی اثر پڑ سکتا تھا۔ ان حقائق کی موجودگی میں یہ الزام کہ خدانخواستہ حضرت مولوی عبدالرحمٰنؓ یا حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحبؓ کو ان امراء نے اس لیے شہید کر دیا کہ وہ انگریزوں کے لیے جاسوسی کر رہے تھے ایک مضحکہ خیز دعویٰ ہے۔ افغانستان میں برطانوی حکومت کے سب سے زیادہ قابل اعتماد ساتھی تو خود یہ دونوں امراء تھے۔

امیر عبدالرحمٰن کے خطوط

ایک زمانہ تھا جب جماعت احمدیہ کے مخالفین اپنی تحریروں میں ایسے الٹے سیدھے حقائق بیان کرتے تھے تو سادہ لوح عوام کا ایک حصہ ان کو صحیح سمجھ لیتا تھا۔ لیکن موجودہ دور میں بہت سے ایسے کاغذات منظر عام پر آ چکے ہیں جو کہ پہلے خفیہ رکھے گئے تھے۔ برٹش لائبریری لندن میں وہ خط و کتابت محفوظ ہے جو امیر عبدالرحمٰن صاحب اور ہندوستان میں موجود برطانوی حکومت کے درمیان ہوتی رہی تھی۔ اس عاجز نے بھی اس لائبریری میں ان کا جائزہ لیا تھا۔ ان خطوط میں امیر عبدالرحمٰن بار بار برطانوی حکومت سے اظہار محبت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ امیر عبدالرحمٰن نے ۲۴؍جنوری ۱۸۸۵ء کو ہندوستان کی حکومت کے فارن سیکرٹری کو جو خط لکھا اس کے یہ جملے ملاحظہ فرمائیں: “As I am a friend of the illustrious British Government, there is no difference between my money and that of the British authorities.”ترجمہ: چونکہ میں عظیم برطانوی حکومت کا دوست ہوں۔ اس لیے میرے مال اور برطانوی حکومت کے اموال میں کوئی فرق نہیں۔

دوسری جانب سے بھی امیر عبدالرحمٰن کے لیے اسی طرح کا اظہار محبت کیا جا رہا تھا۔ چنانچہ ۳۱؍جنوری ۱۸۸۵ء کو وائسرائے ہندوستان نے امیر عبدالرحمٰن کو لکھا کہ آپ تسلی رکھیں کہ میں آپ کے اور آپ کی قوم کے مفادات کی نگہداشت کے لیے پوری کوششیں کروں گا اور میں اپنے پیش رَو کی طرح آپ کے لیے دوستانہ جذبات رکھتا ہوں اور جب تک آپ برطانوی حکومت سے دوستانہ تعلقات رکھیں گے ہم بھی آپ کی حمایت جاری رکھیں گے۔ آپ نے انگلستان سے پانچ ہزار ENFIELDرائفلیں خریدنے کا خیال ظاہر کیا تھا۔ دوستی کے جذبے کے تحت یہ رائفلیں بطور تحفہ ہندوستان کے حکومت کے اسلحہ خانہ سے پشاور میں آپ کے ایجنٹ کو مہیا کردی جائیں گی۔

کئی مواقع پر امیر عبدالرحمٰن برطانوی حکومت سے مالی مدد مانگتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جیسا کہ جب ہرات کے مقام پر ان کی افواج کا روسی افواج سے مقابلہ ہوا تو ۲۲؍اپریل ۱۸۸۵ء کو امیر عبدالرحمٰن صاحب نے ہندوستان کے برطانوی وائسرائے کو لکھا : “I trouble your excellency by asking you to order British authorities at Shalkot (Quetta) to remit 10 lacs of rupees of the British currency to the border of Kandhar, so that the amount may reach Kandhar by the time troops reach there.”ترجمہ: میں جناب والا کو یہ تکلیف دے رہا ہوں کہ شالکوٹ (کوئٹہ) میں برطانوی حکام کو یہ حکم دیں کہ برطانوی کرنسی میں دس لاکھ روپیہ قندھار کی سرحد پر پہنچا دیں تا کہ جب تک افواج قندھار کے مقام پر پہنچیں یہ روپیہ وہاں پہنچ چکا ہو۔

۳۰؍اپریل ۱۸۸۵ء کو وائسرائے نے امیر عبدالرحمٰن کو لکھا کہ ان کی درخواست کے مطابق یہ دس لاکھ روپیہ اور کافی اسلحہ ان کی مدد کے لیے روانہ کیا جا رہا ہے۔

امیر حبیب اللہ کی انگریز دوستی

یہ خط و کتابت برٹش لائبریری لندن میں محفوظ ہے۔ کوئی بھی جا کر دیکھ سکتا ہے۔ یہ تو امیر عبدالرحمٰن کے جذبہ جہاد کی حقیقت تھی۔ اب یہ جائزہ لیتے ہیں کہ جب ان کے بیٹے امیرحبیب اللہ امیر بنے تو انگریزوں سے جہاد کرنے کے بارے میں ان کی کیا پالیسی تھی؟ چونکہ اس بارے میں روزنامہ الفضل میں تفصیلی مضامین شائع ہو چکے ہیں، اس لیے ان مضامین کے حوالے نیچے درج کر دیے جائیں گے اور اختصار سے چند حقائق پیش کیے جائیں گے۔ ان حقائق سے صورت حال واضح ہو جائے گی۔

جب اکتوبر ۱۹۰۳ء میں امیر حبیب اللہ نے اقتدار سنبھالا تو ان کے والد اور برطانوی حکومت کے درمیان دوستی کا ایک معاہدہ موجود تھا۔ اس معاہدہ میں افغانستان کی خارجہ پالیسی برطانوی حکومت کے حوالے کی گئی تھی۔ اور برطانوی حکومت نے امیر کا ایک وظیفہ بھی مقرر کیا تھا۔ امیر حبیب اللہ کی یہ خواہش تھی کہ ان کے دور میں یہ معاہدہ جوں کا توں برقرار رہے۔ لیکن جب انہوں نے اس وقت کے وائسرائے ہندوستان کو امارت سنبھالنے کا خط لکھا تو وائسرائے ہندوستان لارڈ کرزن نے اس قسم کے خیالات کا اظہار کیا کہ برطانوی حکومت نے ان کے والد سے جو معاہدہ کیا تھا وہ ان کی ذات سے تھا، اس لیے بہتر ہو گا کہ امیر حبیب اللہ ہندوستان آئیں اور نئے معاہدے پر اور کچھ اور حل طلب معاملات پر گفتگو ہو۔ لارڈ کرزن کاخط درشت انداز میں لکھا گیا تھا۔ اس پر وقتی طور پر امیر حبیب اللہ اور وائسرائے کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوئے۔ اور اس خط و کتابت میں یہ عندیہ بھی دیا گیا تھا کہ اگر انہوں نے لارڈ کرزن کے دربار میں شرکت کرنے کی یہ دعوت قبول نہ کی تو جو وظیفہ ان کے والد کو ملتا تھا وہ بند کر دیا جائے گا۔ اس دوران بعض خبروں کی وجہ سے لارڈ کرزن کو یہ تشویش بھی پیدا ہوئی کہ ہو سکتا ہے کہ امیر حبیب اللہ کا جھکائو روس کی طرف ہو جائے چنانچہ امیر حبیب اللہ کو یہ دھچکا بھی پہنچا کہ حکومت برطانیہ کی طرف سے ملنے والا وظیفہ بھی وقتی طور پر رک گیا۔ لیکن لارڈ کرزن کی غلط فہمی اس وقت غلط ثابت ہو گئی جب ۱۲؍دسمبر۱۹۰۲ء کو امیر حبیب اللہ نے وائسرائے کو خط لکھا کہ وہ برطانیہ سے دوستی کے عہد پر قائم ہیں۔ اور سیستان کے مقام پر ایران سے سرحدی معاملات طے کرنے کے لیے برطانوی وفد کا خیر مقدم کریں گے۔ گویا ایک مسلمان سے معاملات طے کرنے کے لیے بھی وہ سب سے زیادہ برطانوی حکومت پر اعتماد کرتے تھے۔ چنانچہ ۱۹۰۴ء میں سر لوئیس ڈین اپنے وفد کے ساتھ جب افغانستان پہنچے تو امیر حبیب اللہ نے ان کا پرتپاک خیر مقدم کیا۔ بلکہ یہ پیشکش بھی کی کہ برطانیہ اپنی افواج افغانستان میں اتار کر روس پر حملہ کر سکتا ہے۔ بہر حال وائسرائے کی حکومت اور امیر حبیب اللہ کے درمیان معاہدہ کی شقوں کے بارے میں بحث چلتی رہی۔ آخر کار امیر حبیب اللہ کے بیٹے سردار عنایت اللہ نے ہندوستان کا خیرسگالی کا دورہ کیا اور وہاں ان کی خوب آئوبھگت ہوئی اورمارچ ۱۹۰۵ء میں امیر حبیب اللہ اور برطانوی عہدیدار سر لوئیس ڈین کے درمیان معاہدہ طے ہو گیا۔ اور امیر حبیب اللہ کو برطانوی حکومت کی طرف سے سالانہ وظیفہ بھی ملتا رہا۔ یہ واضح رہے کہ اس مرحلہ سے بہت قبل امیر حبیب اللہ حضرت صاحبزادہ عبداللطیف ؓکو شہید کرکے اپنا نامہ اعمال سیاہ کر چکے تھے۔ ان حقائق کی موجودگی میں یہ دعویٰ کرنا کہ امیر حبیب اللہ انگریزوں سے جہاد کرنے کے لیے اتنے مخلص تھے کہ جب حضرت صاحبزادہ عبداللطیف شہید رضی اللہ عنہ نے یہ اظہار کیا کہ یہ دور مذہبی جنگوں کا نہیں ہے تو ان سے برداشت نہیں ہوا اور انہوں نے صاحبزادہ صاحب کو شہید کرادیا کوئی قابل قبول نظریہ نہیں ہے۔ البتہ عوام کو اپنی مخالفت سے باز رکھنے کے لیے اس قسم کے کھوکھلے نعرے آج بھی لگائے جاتے ہیں اور اس دور میں بھی لگائے جاتے تھے۔ درپردہ امیر حبیب اللہ انگریزوں سے مسلسل وظیفہ وصول کرکے ان کے مقاصد کے لیے کام کر رہے تھے۔

اور جب لارڈ منٹو نے لارڈ کرزن کی جگہ وائسرائے کا عہدہ سنبھالا تو باقی برف بھی پگھل گئی اور امیر حبیب اللہ نے ہندوستان کا دورہ کیا اور اتنی انگریز نوازی کا ثبوت دیا کہ خود اصرار کر کے عیسائیت کی طرز پر بپتسمہ لے کر فری میسن تنظیم میں بھی شامل ہو گئے کیونکہ برطانیہ کا شاہی خاندان اس تنظیم کی سرپرستی کر رہا تھا۔ یہ تفصیلات چند سال پہلے الفضل انٹرنیشنل میں شائع ہو چکی ہیں۔ یہاں ان کو دہرایا نہیں جائے گا۔ نیچے اس کا حوالہ درج کر دیا گیا ہے۔ اور جب پہلی جنگ عظیم میں ترکی سلطنت عثمانیہ جرمنی کے اتحادی کے طور شامل ہوئی تو امیر حبیب اللہ برطانوی حکومت سے دوستی کے عہد پر قائم رہے اور جرمنی کی تمام کوششوں کے باوجود انہوں نے سلطنت عثمانیہ کے اتحادی کے طور پر جنگ میں شرکت کی کوشش نہیں کی۔

جب ہم ٹھوس حقائق کی روشنی میں شہداء افغانستان کی شہادت کے بارے میں مخالفین کے انٹ شنٹ الزامات کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ان کی حیثیت محض ایک من گھڑت افسانہ سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ امیر حبیب اللہ کی انگریزوں سے وفاداری کے بارے میں تفصیلات مندرجہ ذیل مضامین میں پڑھی جا سکتی ہیں۔

(تفصیلات کے لیے ملاحظہ فرمائیں۔ تاریخ افغانستان کا ایک باب۔ امراء افغانستان کے انگریز حکومت سے تعلقات قسط اول۔ دوم۔ سوم۔ ۷و۹و۱۱؍فروری ۲۰۰۴ء الفضل ربوہ، امیر حبیب اللہ فری میسن کیوں بنے ؟ ۱۳؍نومبر ۲۰۲۴ء الفضل انٹرنیشنل لندن )

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ…کیا تم عقل نہیں کروگے؟

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button