خلاصہ خطبہ جمعہ

آنحضرتﷺ کے غلامِ صادق حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی سیرت سے سچائی پر ہر قیمت پر عمل کرنے اور اس حوالے سےمخالفین کو چیلنج کرنے کے واقعات کا ایمان افروز تذکرہ۔ خلاصہ خطبہ جمعہ یکم مئی ۲۰۲۶ء

٭… پھر جب مَیں نے محض للہ انسانوں پر جھوٹ بولنا ابتداسےمتروک رکھا اور بارہااپنی جان اورمال کو صدق پر قربان کیا تو پھر مَیں خدا پر کیوں جھوٹ بولتا

٭… حضرت صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب کو جب علم ہوا کہ مخالف فریق نے حضرت مسیح موعودؑ کی گواہی طلب کی ہے تو چونکہ وہ جانتے تھے کہ حضورؑ کبھی جھوٹ نہیں بولیں گے، اس لیے انہوں نے مقدمہ ہی واپس لے لیا

٭… حضرت شیخ نور احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ میرے والد صاحب اور تایاصاحب ذکر کیا کرتے تھے کہ ہمارا گاؤں مرزا صاحب کی تعلقہ داری میں تھا کچھ عرصہ حضورؑ اپنے والد صاحب کے مختار رہے اور ہمارے ساتھ بھی بعض پیشیوں میں جانا ہوا۔ آپؑ ہمیشہ راستی کا پہلو اختیار کرتے، خواہ مقدمے کو کسی قدر نقصان پہنچ جاتا

٭… آپؑ نے اپنے ماننے والوں کو بھی ہمیشہ سچائی پر قائم رہنے کی تلقین فرمائی۔ بلکہ شرائطِ بیعت میں بھی یہ لکھا ہوا ہے کہ جھوٹ سے نفرت کرے گا اور سچائی پر قائم رہے گا۔ پس ہمارا یہ فرض ہے کہ سچائی کو اپنا خاص وصف بنائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے

خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ یکم مئی ۲۰۲۶ء بمطابق یکم ہجرت ۱۴۰۵؍ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے

اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ یکم مئی ۲۰۲۶ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔ جمعہ کي اذان دينےکي سعادت صہیب احمد صاحب (مربی سلسلہ)کے حصے ميں آئي۔

تشہد،تعوذ اورسورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

آنحضرتﷺ کے غلامِ صادق حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی سیرت سے سچائی پر ہر قیمت پر عمل کرنے اور اس حوالے سےمخالفین کو چیلنج کرنے کے بعض واقعات آج بیان کروں گا۔

سب سے پہلے آپؑ کے بہت بڑے مخالف مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب جنہوں نے حضورؑ پر کافر اور کذّاب ہونے کا الزام لگایا تھا ، انہیں حضورؑنے جو جواب دیا وہ پیش کروں گا۔ یہ ایسا واضح جواب ہے کہ اگر کوئی انصاف کی نظر سے دیکھے تو ان الزامات پر ہرگز یقین نہیں کرسکتا۔

حضورؑنے مولوی صاحب کے ایک خط کے جواب میں، جس میں انہوں نے آپؑ کو مخالفِ دینِ اسلام، کافر اور کاذب وغیرہ بیان کیا تھا انہیں لکھا کہ اگر آپ طالبِ حق بن کر میری سوانح زندگی پر نظر ڈالیں تو آپ پر قطعی ثبوتوں سے یہ بات کھل سکتی ہے کہ خدا تعالیٰ ہمیشہ کذب کی ناپاکی سے مجھ کو محفوظ رکھتا رہا ہے۔ یہاں تک کہ بعض دفعہ انگریزی عدالتوں میں میری جان اور عزّت ایسے خطرے میں پڑ گئی کہ بجز استعمال کذب اور کوئی صلاح کسی وکیل نے مجھ کو نہ دی۔ لیکن اللہ جلّ شانہٗ کی توفیق سے مَیں سچ کے لیے اپنی جان اور عزّت سے دست بردار ہوگیا۔ اور بسا اوقات مالی مقدمات میں مَیں نے سچ کے لیے بڑے بڑے نقصان اٹھائے۔اور بسااوقات محض خدا تعالیٰ کے خوف سے اپنے والد اور بھائی کے برخلاف مَیں نے گواہی دی اور سچ کو ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ کون ثابت کرسکتا ہے کہ میرے منہ سے جھوٹ نکلا ہو۔

پھر جب مَیں نے محض للہ انسانوں پر جھوٹ بولنا ابتدا سےمتروک رکھا اور بارہااپنی جان اورمال کو صدق پر قربان کیا تو پھر مَیں خدا پر کیوں جھوٹ بولتا۔

حضورؑ فرماتے ہیں کہ ایک اَور بات بھی ذریعہ آزمائش صادقین ہوجاتی ہے اور وہ یہ کہ کبھی انسان کسی ایسی مصیبت میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ بجز کذب کےکوئی حیلہ رہائی کا اُس کو نظر نہیں آتا تب وہ آزمایا جاتا ہے کہ آیا اُس کی سرشت میں صدق ہے یا کذب ہے۔ حضورؑ نے اس حوالےسے تین نمونے اپنی سوانح سے پیش فرمائے جن میں نمبر ایک مرزا اعظم بیگ صاحب لاہوری کی کوشش سے دائرشدہ مقدمہ دخلِ ملکیت، نمبر دو مقدمہ ڈاک خانہ اور تیسرا واقعہ حضورؑ کے صاحبزادے حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کی جانب سے ایک ہندو پر دائر کردہ مقدمہ تھا، جس میں حضرت صاحبزادہ صاحب نے اُس ہندو پر یہ مقدمہ کیا تھا کہ اُس نے حضورؑ اور آپؑ کے خاندان کی زمین پر مکان بنالیا ہے اور مسماری کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ مگر ترتیبِ مقدمہ میں ایک امر خلافِ واقعہ تھا۔ چنانچہ مخالفین نے حضورؑ کا نام گواہوں کی فہرست میں شامل کروادیاکہ جو مرزا صاحب گواہی دیں گے ہمیں منظور ہوگا۔ حضورؑ فرماتے ہیں کہ وہ مقدمہ مَیں نے اپنے ہاتھوں سے محض رعایتِ صدق کی وجہ سے آپ خراب کیا اور سچائی کو مقدم رکھ کر مالی نقصان کو پیش رکھا۔

حضورِانورایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا کہ

حضرت صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب کو جب علم ہوا کہ مخالف فریق نے حضرت مسیح موعودؑ کی گواہی طلب کی ہے تو چونکہ وہ جانتے تھے کہ حضورؑ کبھی جھوٹ نہیں بولیں گے، اس لیے انہوں نے مقدمہ ہی واپس لے لیا۔

حضورِانور نے اس مکان کی تاریخ بھی بیان فرمائی۔ یہ مکان ڈپٹی شنکرداس کی حویلی کہلاتی تھی، جو انتہائی متعصب و مخالف تھا۔ اس مکان سے حضورؑ کے مکانات کی بےپردگی بھی ہوتی تھی۔ پھر یہ شخص نمازکے لیے آنے جانے والوں کو گالیاں دیا کرتا تھا۔ جب نمازی حضورؑ سے اس کے رویّے کی شکایت لگاتے تو حضورؑ فرماتے کہ صبر کرو! شاہی کیمپ کے سامنے کوئی نہیں ٹھہر سکتا۔ چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے ڈپٹی کا ہنستا بستا گھر گِرنے لگا اور وہ خود بھی بیمار ہوکر یا کسی طرح وہاں سے چلا گیا۔ یہ مکان حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحبؓ نے خرید لیا۔ ۱۹۳۲ءمیں اس مکان میں صدر انجمن احمدیہ کے دفاتر کا قیام عمل میں آیا اور اس کا افتتاح بھی سیّدنا حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا۔ خدا کی قدرت ہے کہ وہ شخص جو بڑی رعونت سےمسجد میں آنے جانے والوں کو روکا کرتا تھا ۔ آج خدا کی تقدیر نے اُس کے گھر کو، اُس سارے علاقے کو مسجد بنا دیا ہے۔ یہ مکان اب مسجد اقصیٰ کا حصّہ ہے۔

ان مختلف مقدمات کا ذکر کرتے ہوئے

حضرت شیخ نور احمد صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد صاحب اور تایاصاحب ذکر کیا کرتے تھے کہ ہمارا گاؤں مرزا صاحب کی تعلقہ داری میں تھا کچھ عرصہ حضورؑ اپنے والد صاحب کے مختار رہے اور ہمارے ساتھ بھی بعض پیشیوں میں جانا ہوا۔ آپؑ ہمیشہ راستی کا پہلو اختیار کرتے، خواہ مقدمے کو کسی قدر نقصان پہنچ جاتا۔

حضرت میاں اللہ یار صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت صاحبؑ کی عمر پچیس تیس سال تھی، آپؑ کے والد صاحب کا اپنے موروثیوں سے درخت کاٹنے پر ایک تنازعہ ہوگیا۔ آپؑ کے والد صاحب کا نظریہ یہ تھا کہ زمین ہماری ہونے کی وجہ سے درخت بھی ہماری ملکیت ہیں۔ آپؑ مقدمے کی پیروی کے لیے گورداسپور تشریف لے گئے، آپؑ کے ہمراہ دو گواہ بھی تھے۔ حضرت اقدس ؑنے راستے میں گواہوں سے فرمایا کہ ابا جان یوں ہی زبردستی کرتے ہیں، درخت بھی تو کھیتی کی طرح ہوتے ہیں۔ یہ غریب لوگ ہیں اگر کاٹ لیے تو کیا ہرج ہے۔ مَیں تو عدالت میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ مطلقاً ہمارے ہی ہیں، ہاں! ہمارا حصّہ ہوسکتا ہے۔ موروثیوں کو بھی آپؑ پر بےحد اعتماد تھا۔ جب مجسٹریٹ نے ان سے پوچھا تو انہوں نے بلا تأمل جواب دیا کہ خود مرزا صاحب سے معلوم کرلیں۔ آپؑ نے دریافت کیے جانے پر فرمایاکہ میرے نزدیک درخت کھیتی کی طرح ہیں ۔ جس طرح کھیتی میں ہمارا حصّہ ہے اُسی طرح درخت میں بھی ہمارا حصہ ہے۔ چنانچہ آپؑ کے اس بیان پر مجسٹریٹ نے موروثیوں کے حق میں فیصلہ دے دیا۔

حضورِانور نے فرمایا کہ مَیں نے حضرت مسیح موعودؑ کی زندگی سے سچائی کے یہ بعض واقعات پیش کیے ہیں۔ آپؑ نے ہمیشہ سچائی کو مقدم رکھا اور جھوٹ کے قریب بھی نہیں گئے۔

آپؑ نے اپنے ماننے والوں کو بھی ہمیشہ سچائی پر قائم رہنے کی تلقین فرمائی۔ بلکہ شرائطِ بیعت میں بھی یہ لکھا ہوا ہے کہ ہم جھوٹ سے نفرت کریں گے اور سچائی پر قائم رہیں گے۔ پس ہمارا یہ فرض ہے کہ سچائی کو اپنا خاص وصف بنائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: سچائی کے حوالے سے آنحضورﷺ کی سیرتِ مبارکہ کا ایمان افروز تذکرہ۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۲۴؍اپریل ۲۰۲۶ء

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button