خلاصہ خطبہ جمعہ

سچائی کے حوالے سے آنحضورﷺ کی سیرتِ مبارکہ کا ایمان افروز تذکرہ۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۲۴؍اپریل ۲۰۲۶ء

٭… انسان کے جھوٹے ہونے کے لیے یہی علامت کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات لوگوں میں بیان کرتا پھرے(حدیث نبویﷺ)

٭… جب کوئی بندہ جھوٹ بولتا ہے فرشتہ اس سے ایک میل دور ہو جاتا ہے اس کی بدبو کی وجہ سے جس کا اس نے ارتکاب کیا(حدیث نبویﷺ)

٭… آج ہم جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کو مان کرآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر حقیقی ایمان لانے کا اعلان کرتے ہیں توہمارے ہر قول اور فعل میں سچائی کا اعلیٰ معیار ہونا چاہیے ورنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ نہیں تو تم مجھ میں سے نہیں ہو۔ پھرمیرا کوئی تعلق نہیں تمہارے سے

٭… کسی شخص کو ساری قوم کاامین اور صدیق کا خطاب دینا غیر معمولی بات ہے۔پس عرب کی سینکڑوں سال کی تاریخ میں قوم کا ایک ہی شخص کو امین اور صدیق کا خطاب دینا بتاتا ہے کہ اس کی امانت اور اس کا صدق دونوں اعلیٰ درجے کے تھے کہ ان کی مثال عربوں کے علم میںکسی اَور شخص میں نہیں پائی جاتی تھی۔عرب اپنی باریک بینی کی وجہ سے دنیا میں ممتاز تھے۔ پس جس چیز کو وہ نادر قرار دیں وہ یقیناً دنیا میں نادر ہی سمجھی جانے کے قابل ہے(حضرت مصلح موعودؓ)

خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۲۴؍اپریل ۲۰۲۶ء بمطابق ۲۴؍شہادت ۱۴۰۵؍ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے

اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ۲۴؍اپریل ۲۰۲۶ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔ جمعہ کي اذان دينےکي سعادت مولانا فیروز عالم صاحب کے حصے ميں آئي۔

تشہد،تعوذ اورسورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

آنحضرت ﷺ کےسچائی کے اعلیٰ معیار کے حوالے سے آپؐ کے اسوۂ حسنہ اور مومنوں کو نصیحت اور ہدایت کا ذکرگذشتہ خطبہ میں ہوا تھا۔ اس سلسلے میں مزید بیان کروں گا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

انسان کے جھوٹے ہونے کے لیے یہی علامت کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات لوگوں میں بیان کرتا پھرے۔

اب دیکھیں کہ یہ عادت عموماً لوگوں میں ہوتی ہے جماعت میں بھی بعض لوگوں میں بہت زیادہ موجود ہے۔

پھر ایک روایت میں آتا ہے حضرت عائشہؓ  فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ؐکے صحابہ ؓکو جھوٹ سے بڑھ کر کوئی خصلت زیادہ ناپسند نہ تھی۔ اگر کوئی شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جھوٹ بول دیتاتو وہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں رہتی۔ آپؐ کو پتا ہو تاکہ جھوٹ بولا ہے اور آپؐ کو اس کا بڑا درد ہوتا اور اس کو محسوس کرتےاور دل میں بھی رکھتے تھے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہو جاتا کہ اس نے اِس سے توبہ کر لی ہے اصلاح کر لی ہے اور جھوٹ بولنے سے اس نے مکمل طور پر اجتناب شروع کر دیا ہے۔

ایک روایت میں آتا ہے حضرت اسماء ؓسے روایت ہے کہ ایک عورت نبیؐ کےپاس آئی اور عرض کیا کہ میری ایک سوت ہے کیا مجھ پر کوئی گناہ ہے کہ میں اپنے خاوند کے مال سے خوب سیر ہونے کا اظہار کروں کہ مجھے میرا خاوند بڑا دیتا ہے جو اس نے مجھے نہیں دیا ہوتا ،صرف اس کو چڑانا چاہتی ہوں،اس کو تنگ کرنا چاہتی ہوں۔ رسول اللہؐ نے فرمایا :جو شخص اس چیز سے جو اس کو نہیں دی گئی سیر ہونے کا اظہار کرتا ہے وہ ایسا ہے جیسے جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والا۔

اس کی شرح میں لکھا ہے کہ کپڑے کا لفظ یہاں بطور مثال استعمال ہوا ہے ۔اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ شخص جھوٹ اور فریب سے کام لینے والا ہے اس نے جھوٹ کے دو کپڑے پہن رکھے ہیں ایک کو اوڑھا ہوا ہے اور دوسرے کو تہ بند بنایا ہوا ہے۔

نبی کریمﷺ نے فرمایا:چار خصلتیں جن میں ہوں وہ پورا منافق ہوتا ہے اور جس میں ان خصلتوں میں سے ایک ہی خصلت ہو اس میں نفاق کی بھی یہ خصلت ہوگی جب تک وہ اسے چھوڑ نہ دے۔ اگر اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرتا ہے اور جب وہ بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور جب عہد کرتا ہے تو عہد شکنی کرتا ہے اور جب جھگڑتا ہے تو گالی بکتا ہے۔

یہ ساری باتیں ایسی ہیں جو کسی نہ کسی طرح براہ راست یا بالواسطہ جھوٹ کی طرف لے کے جانے والی باتیں ہیں یا ان سے جھوٹ کا اظہار ہوتا ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا :

جب کوئی بندہ جھوٹ بولتا ہے فرشتہ اس سے ایک میل دور ہو جاتا ہے اس کی بدبو کی وجہ سے جس کا اس نے ارتکاب کیا۔

رسول اللہﷺ ایک مرتبہ اناج کے ایک ڈھیر کے پاس سے گزرے ۔آپؐ نے اپنا ہاتھ اس کے اندر ڈالا تو آپؐ کی انگلیوں کو نمی لگی ۔آپؐ نے فرمایا :یہ کیا معاملہ ہے یہ اندر سے گیلی ہے؟اناج والے نے کہا یا رسول اللہؐ! اس پر بارش ہو گئی تھی ۔آپؐ نے فرمایا :تو تُو نے اسے اناج کے اوپر کیوں نہ کر دیا ۔ اگر اس میں بارش ہو گئی تھی تو اوپر رکھتے تاکہ لوگ اس کو دیکھ سکتے۔آپؐ نے فرمایا جس نے دھوکا دیا وہ مجھ سے نہیں ہے۔

پس

آج ہم جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کو مان کرآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر حقیقی ایمان لانے کا اعلان کرتے ہیں توہمارے ہر قول اور فعل میں سچائی کا اعلیٰ معیار ہونا چاہیے ورنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ نہیں تو تم مجھ میں سے نہیں ہو۔ پھرمیرا کوئی تعلق نہیں تمہارے سے۔

آپؐ ہمیشہ سچ بولنے اور امانت ،دیانت میں سب سے نمایاں ہونے کی وجہ سے لوگوں میں صادق اور امین مشہور تھے۔

ایک مصنف نے لکھا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل جاہلیت کے زمانے میں ان کے پاس ان سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا یعنی قوم میں کوئی نبی نہیں آیا تھا۔ لوگ بتوں، مورتیوں اور طاغوتوں کی عبادت کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہی لوگوں یعنی شیطان کے گروہ اور بت پرستوں کے درمیان تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی بت کی طرف رغبت نہیں کی نہ کبھی ان لوگوں کے ساتھ کسی دربار میں شریک ہوئے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی جھوٹ نہیں سناگیا۔ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوصدوق ،امین ،بردبار اور نہایت مہربان سمجھتے تھے۔ایک روایت میں آتا ہے کہ اسلام سے قبل زمانۂ جاہلیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فیصلے کروائے جاتے ۔

حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا کہ آپؐ کے اخلاق حسنہ کی عمومی شہادت ہے جو آپؐ کی قوم نے دی ۔آپؐ کی نبوت کے دعویٰ سے پہلے آپؐ کی قوم نے آپؐ کا نام امین اور صدیق رکھا۔ دنیا میں ایسے لوگ بھی بہت ہوتے ہیں جن کو کسی کڑی آزمائش میں سے گزرنے کا موقع نہیں ملتا ۔ہاں! عمومی آزمائشوں سے گزرتے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کی قوم ان کو کوئی خاص نام نہیں دیتی۔جیسے لڑائی میں شامل ہونے والا ہر سپاہی جان کو خطرے میں ڈالتا ہے لیکن قوم ہر ایک کو وکٹوریا کراس نہیں دیتی ۔نہ جرمن قوم ہر ایک کو آئرن کراس دیتی ہے۔ایسا ہی

کسی شخص کو ساری قوم کاامین اور صدیق کا خطاب دینا غیر معمولی بات ہے۔پس عرب کی سینکڑوں سال کی تاریخ میں قوم کا ایک ہی شخص کو امین اور صدیق کا خطاب دینا بتاتا ہے کہ اس کی امانت اور اس کا صدق دونوں اعلیٰ درجے کے تھے کہ ان کی مثال عربوں کے علم میںکسی اَور شخص میں نہیں پائی جاتی تھی۔عرب اپنی باریک بینی کی وجہ سے دنیا میں ممتاز تھے۔ پس جس چیز کو وہ نادر قرار دیں وہ یقیناً دنیا میں نادر ہی سمجھی جانے کے قابل ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے ایک جگہ لکھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیوی کو اطلاع دیتے ہیں کہ مجھ پر یوں وحی ہوئی ہے ۔بیوی یہ نہیں کہتی کہ کیا جھوٹ بنانے لگے ہو بلکہ وہ کہتی ہے کہ آپ گھبرائیں نہیں آپ نے جو کچھ دیکھا ٹھیک دیکھا اللہ تعالیٰ آپ کو ضائع نہیں کر سکتا کیونکہ آپ جھوٹ نہیں بولتے، نادار کا بوجھ اٹھاتے ہیں،گمشدہ نیکیوں کو قائم کرتے ہیں ،مہمانوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں، سچائی اور حق کی مدد کرتے ہیں ۔ وہ آپ کو اپنے بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے جاتی ہیں۔ یہ اسرائیلیات کے عالم تھے تو وہ سنتے ہی کہتے ہیں کہ اس وحی میں ویسے ہی احکام اور فرامین پائے جاتے ہیں جیسے موسیٰؑ  کی وحی میں۔گھر میں چچیرا بھائی ہے جوجوان ہے اور نوجوانوں میں تبلیغ کااچھا ذریعہ بن سکتا ہے۔ وہ بھائی اور بھاوج کی باتیں سن کر کہتا ہے میں بھی یقین رکھتا ہوں کہ آپؐ سچے ہیں اور ضرور خدا تعالیٰ نے آپؐ سے باتیں کی ہیں۔ پھر ایک آزاد کردہ غلام ہے جو آپؐ کے اخلاق کا شکار ہوگیا ماں باپ کو چھوڑ کر آپؐ کے دروازے پر بیٹھ گیا ۔جب آہستہ آہستہ ہونے والی باتوں کو سنتا ہے اور اپنے آقا کے چہرے پر فکر و اندیشے کے آثار دیکھتا ہے تو آگے بڑھ کر اپنے آقا کے دامن کو تھام لیتا ہے اور کہتا ہے اے میرے آقا !وہی ہوگا جو آپؐ نے دیکھا ۔جو آپؐ نے کہا ،جو دیکھا وہ سچ ہے۔ مجھے بھی اپنے ساتھ رہنے دیں۔پھر ایک گہرا دوست ہے گویا ایک ہی صدف میں پلنے والا دوسرا موتی ۔وہ سنتا ہے کہ اس کے دوست نے بے پر کی اڑانا شروع کر دی ہیں اور شاید اس کے دماغ میں خلل آگیا ہے۔ وہ آ کر کہتا ہے صرف یہ بتائیے کہ کیا باتیں سچ ہیں اور آپؐ کی تصدیق کرنے پر کہتا ہے کہ میرے سچے دوست! مَیں آپؐ کی رسالت پر ایمان لاتا ہوں ۔ خدا تعالیٰ کی تدبیر دیکھو !اس مخالفت کا طوفان آنے سے پہلے کس طرح آپؐ کے ساتھی پیدا کر دیے ۔ موسیٰ ؑنے دعا مانگ کر ایک وزیر بوجھ اٹھانے کے لیے مانگا تھا مگر محمد رسول اللہ ؐکواللہ تعالیٰ نے پانچ وزیر بن مانگے ہی دے دیے اور ایسے وزیر جنہوں نے آپؐ کو بوجھ بٹانے میں کمال کر دیا۔ ورقہ بے شک جلدی فوت ہو گئے مگر ایک نہ مٹنے والی شہادت آپؐ کی صداقت پر دے گئے۔ حضرت خدیجہؓ نے بارہ سال تک عورت ہوکر وہ کام کر کے دکھایا کہ بہادر سے بہادر مرد کی آنکھیں نیچی ہوتی ہیں۔ زیدؓ نے بیس سال تک اس کے بعد قربانی کا بے مثال نمونہ دکھایا اور آخر تلواروں کی دھاروں کے سامنے اپنا خون بہا کر ثابت کر دیا کہ محمد رسول اللہؐ  کے وزیر کیسے ہونے چاہئیں۔ ابوبکر ؓاور علیؓ  تو آپؐ کی وفات کے بعد بھی رہے اور خلیفہ بن کر وزارت کا ایک نئے رنگ میں ثبوت دے گئے۔

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ ہمارے سید ومولیٰ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی صدق و وفا دیکھئے آپؐ نے ہر ایک قسم کی بدتحریک کا مقابلہ کیا طرح طرح کے مصائب و تکالیف اٹھائے لیکن پرواہ نہ کی۔یہی صدق و وفا تھا جس کے باعث اللہ تعالیٰ نے فضل کیا۔ اسی لیے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَسَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا ۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے تمام فرشتے رسول پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم درود و سلام بھیجو نبی پر۔ اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال ایسے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف یا اوصاف کی تحدید کرنے کے لیے کوئی لفظ خاص نہ فرمایا۔ لفظ تو مل سکتے تھے لیکن خود استعمال نہیں کیے۔ یعنی آپؐ کے اعمال صالحہ کی تعریف تحدید سے بیرون تھی۔ اس قسم کی آیت کسی اَور نبی کی شان میں استعمال نہ کی۔ آپؐ کی روح میں وہ صدق و صفا تھا اور آپؐ کے اعمال خدا کی نگاہ میں اس قدر پسندیدہ تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لیے یہ حکم دیا کہ آئندہ لوگ شکر گزاری کے طور پر درود بھیجیں۔ ان کی ہمت و صدق وہ تھا کہ اگر ہم اوپر یا نیچے نگاہ کریں تو اس کی نظیر نہیں ملتی۔ … ہمارے مقدس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ہزاروں انسانوں کو درست کیا جو حیوانوں سے بدتر تھے بعض ماؤں اور بہنوں میں حیوانات کی طرح فرق نہ کرتے تھے۔ یتیموں کا مال کھاتے تھے۔ مردوں کا مال کھاتے تھے ۔بعض ستارہ پرست تھے۔ بعض دہریہ تھے۔ بعض عناصر پرست تھے ۔ جزیرہ عرب کیا تھا ایک مجموعہ مذاہب اپنے اندر رکھتا تھا۔ اس سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ قرآن کریم ہر ایک قسم کی تعلیم اپنے اندر رکھتا ہے ہر ایک غلط عقیدہ یا بری تعلیم جو دنیا میں ممکن ہے اس کے استحصال کے لیے کافی تعلیم اس میں موجود ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عمیق حکمت وتصرف ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا اور اس زمانے میں بھیجا جب جاہلیت کی انتہا ہوئی ہوئی تھی اور پھر ان جانوروں کوانسان بنایا ۔

اللّٰھم صل علی محمد وعلیٰ اٰل محمد وبارک وسلم انک حمید مجید۔

حضور انور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں آپؐ کے اسوہ پر چلتے ہوئے قرآن کریم اور آپ کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے سچائی کے معیاروں کو بلندتر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button