جلسہ سالانہ

جلسہ سالانہ برطانیہ ۲۰۲۶ء کے (تیسرے دن صبح) چوتھے اجلاس کی مفصل رپورٹ

جلسہ سالانہ کے تیسرے اور آخری روزکا پہلا اور جلسہ سالانہ کا چوتھااجلاس۲۶؍جولائی ٹھیک صبح دس بجے شروع ہوا۔ اس اجلاس کی صدارت مکرم حافظ مخدوم شریف صاحب ایڈیشنل ناظر اعلیٰ جنوبی ہند و ناظر نشر و اشاعت نے کی۔

کارروائی کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ قرآن کریم سے ہوا، مکرم خان فرید صاحب نے سورۃ الحشر کی آیات ۲۲تا۲۵کی تلاوت اور اس کا اردو ترجمہ پیش کیا۔ مکرم صبور احمد بھٹی صاحب نے حضرت مسیح موعودؑ کے منظوم کلام

جمال و حُسنِ قرآں نورِ جانِ ہر مُسلماں ہے

قمر ہے چاند اَوروں کا، ہمارا چاند قرآں ہے

سے چند اشعار خوش الحانی سے پڑھے۔

پروگرام کے مطابق اس اجلاس كی پہلی تقریر مکرم سہیل مبارک شرما صاحب (مبلغ انچارج کینیڈا)کی تھی تاہم ویزے کے مسائل کی وجہ سے وہ تشریف نہیں لاسکے۔چنانچہ متبادل کے طور پر مکرم وسیم احمد فضل صاحب مربی سلسلہ واستاد جامعہ احمدیہ یوکےنے اردو زبان میں تقریر کی۔ تقریر کا موضوع:’’شرائط بیعت كے ادراك اور ان پر ثبات قدم میں ہی خلیفہ وقت سے محبت اور ان كی اطاعت كا دارومدار ہے۔‘‘ تھا۔

مقرر نے سورۃ الفتح کی آیت نمبر ۱۱کی تلاوت اور ترجمے سے اپنی تقریر کا آغاز کیا۔پھر فرمایا كہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں اس دور میں پیدا کیا جب اسلام کی تجدید کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو مسیح موعود اور مہدی معہود بنا کر مبعوث فرمایا۔ آپؑ کے وصال کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدوں اور سنت کے مطابق جماعت احمدیہ میں خلافت کا نظام جاری كیا۔

آپ نے بتایا کہ شرائطِ بیعت پر عمل اور خلیفۂ وقت سے محبت و اطاعت ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ شرائطِ بیعت کو سمجھ کر ان پر ثابت قدم رہنا، خلافت کی محبت و اطاعت کے بغیر ممکن نہیں، اور اسی طرح خلافت سے محبت و اطاعت کا دعویٰ بھی اس وقت تک حقیقی نہیں جب تک شرائطِ بیعت پر عمل نہ ہو۔ یہ دونوں ایک ہی تصویر کے دو رُخ ہیں۔

آپ نے بتایا كہ سورۃ الفتح کی آیت ۱۱ میں یہ مضمون بیان ہوا ہے کہ رسول کے ہاتھ پر بیعت اصل میں اللہ تعالیٰ کےہاتھ پر بیعت ہے اور پھر جواس عہد سے پھر ے گا وہ سزا پائے گا اور جو اس عہد پر قائم رہے گا وہ اللہ تعالیٰ سے اجر پائےگا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول ؓ نے اس كی تفسیر میں فرمایا:

’’اپنے اس بڑے عظیم الشان معاہدہ کو اپنے پیش نظر رکھو۔ یہ معاہدہ تم نے معمولی انسان کے ہاتھ پر نہیں کیا۔ خدا تعالیٰ کے مرسل مسیح و مہدی کے ہاتھ پر کیا ہے۔ اور میں تو یقین سے کہتا ہوں کہ خدا کے مرسل ہی نہیں خدا کے ہاتھ پر کیا ہے۔ کیونکہ یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ آیا ہے۔‘‘

اس كے بعد مقرر نے حضرت مسیح موعودؑ كے ارشاد كی روشنی میں بیعت کا مفہوم اور اہمیت کو بیان کرتے ہوئے کہا كہ بیعت کے معنی اپنے تئیں بیچ دینا ہے۔ بیعت کنندہ کو اول انکساری اور عجز اختیار کرنی پڑتی ہے اور اپنی خودی اور نفسانیت سے الگ ہونا پڑتا ہے تب وہ نشوونما کے قابل ہوتا ہے۔ لیکن جو بیعت کے ساتھ نفسانیت بھی رکھتا ہے اسے ہرگز فیض حاصل نہیں ہوتا۔

آپ نے کہاکہ ہم ہر سال اپنے پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں اور اس بیعت میں ہم یہ عہد بھی کرتے ہیں کہ ہم حضرت مسیح موعودؑ کی ۱۰ شرائط بیعت پر عمل کریں گے۔ ان شرائطِ بیعت کا خلاصہ کیا ہے؟ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں کہ شرائط بیعت کا خلاصہ شرک سے بچنا، جھوٹ اور برائیوں سے اجتناب، نمازوں کی پابندی، دعا، استغفار، قرآن کریم کے احکامات پر عمل، عاجزی، خوش خلقی، ہمدردیِ خلق اور حضرت مسیح موعودؑ کی کامل اطاعت ہے۔ یہی تقویٰ میں ترقی کا ذریعہ ہیں۔

اس كے بعد مقرر نے حضرت مسیح موعودؑ کے صحابہ كی مثال پیش كی جنہوں نے ان شرائط بیعت پر عمل کیا تو وہ خدا نما وجود بن گئے۔ خدا تعالیٰ کے مرسل کی بیعت میں آکر اپنے آپ کو بیچ دیا اور حضرت مسیح موعودؑ کی اس طرح پیروی کی جس طرح نبض حرکتِ قلب کی پیروی کرتی ہے۔

حضرت مسیح موعودؑ کے بعد آپؑ ہی کی پیشگوئیوں اور اللہ تعالیٰ کی سنت کے مطابق قدرتِ ثانیہ، خلافت کے نظام کی صورت میں جاری ہے۔ خلافت سے تعلق، محبت اور اس کی کامل اطاعت کے بغیر شرائط بیعت کا ادراک نہیں ہو سکتا ہے اور نہ ہی ان پر ثبات قدم ممکن ہے۔کیونکہ نبوت کے بعد خلافت اللہ تعالیٰ کی دوسری قدرت ہے جو نبوت کے کام کو بڑھاتی ،پھیلاتی اور آگے لے کرچلتی ہے۔

آپ نے کہا كہ حضرت مسیح موعودؑ نے بیعت کا مقصد ’’طائفہ متقین‘‘ کی فراہمی بیان فرمایا ہے تاکہ یہ گروہ دنیا پر نیک اثر ڈالے۔اس كے بعد مقرر نے اصحابِ احمدؑ میں سے حضرت مولوی محمد الیاس صاحبؓ، حضرت سید فضل شاہ صاحبؓ اور حضرت منشی بركت علی خان صاحبؓ كی مثالیں پیش كیں كہ شرائط بیعت اور امام كی اطاعت نے كیسے ان میں ایك عظیم انقلاب پیدا كیا۔

بعد ازاں آپ نے بتایا كہ قرآن کریم نے تقویٰ کے حصول کے لیے صادقوں کی صحبت اور اطاعت کو لازمی قرار دیا ہے، جیسا کہ وَکُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ اور اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَاَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَاُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡکُمۡسے ظاہر ہے۔ نبی کے بعد سب سے بڑھ کر صادق خلیفہ وقت ہی ہوتا ہے، لہٰذا شرائط بیعت کا صحیح ادراک خلیفہ وقت سے محبت و اطاعت کے بغیر ممکن ہی نہیں۔

اس كے بعد مقرر نے حضرت قاضی ضیاء الدین صاحبؓ اور حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ جیسے جلیل القدر صحابہ كی امام سے وابستگی اور اطاعت كی مثالیں پیش کیں۔

اس كے بعد آپ نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کا یہ بیان بھی نقل کیا کہ خلیفہ کی اطاعت دراصل حضرت مسیح موعودؑ، رسول اللہ ﷺ اور بالآخر خدا تعالیٰ کی اطاعت ہے۔

اس كے بعد آپ نے شہدائے لاہور اور شہدائے بركینافاسو كی مثالیں پیش كیں كہ كس طرح انہوں نے شرائطِ بیعت پر ثابت قدمی دکھاتے ہوئے اپنی جانیں قربان کیں۔پس شرائط بیعت کے ادراک او ر ان پر ثبات قدم کے بغیر ہم حقیقی طور پر حضرت مسیح موعودؑ کی جماعت میں شامل ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتے اور خلیفہ وقت سے تعلق اور اس سے محبت اور اس کی اطاعت کے بغیر ہم میں سے کوئی حقیقی طور پر شرائط بیعت کا ادراک حاصل نہیں کر سکتا۔

مقرر نے اپنی تقریر کا اختتام حضرت مصلح موعودؓ کےاس ارشاد پر کیا کہ اے دوستو! بیدار ہو اور اپنے مقام کو سمجھو اور اُس اطاعت کا نمونہ دکھاؤ جس کی مثال دنیا کے پردہ پر کسی اور جگہ پر نہ ملتی ہو اور کم سے کم آئندہ کے لیے کوشش کرو کہ سو میں سے سو ہی کامل فرمانبرداری کا نمونہ دکھا ئیں اور اُس ڈھال سے باہر کسی کا جسم نہ ہو جسے خدا تعالیٰ نے تمہاری حفاظت کےلیے مقرر کیا ہے اور اَلْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِہ پر ایسا عمل کرو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی روح تم سے خوش ہو جائے۔

٭…٭…٭

اس اجلاس کی دوسری تقریر مکرم ڈاکٹر زاہد احمد خان صاحب، صدر قضا بورڈ برطانیہ نے انگریزی زبان میں ’’الہامی کتب میں خدا کا تصور اور اسلام كے ساتھ اس کا تقابل‘‘ کے موضوع پر کی۔

ابتدا میں مکرم ڈاکٹر صاحب نے سورۃ النحل کی آیت نمبر ۳۷؍ کی تلاوت کرتے ہوئے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر قوم میں اپنے رسول مبعوث فرمائے تاکہ وہ لوگوں کو خدا تعالیٰ کی عبادت كی اور باطل معبودوں سے اجتناب کی تعلیم دیں۔

بعد ازاں آپ نے سورۃ الاخلاص اور آیت الکرسی کا ذکر کرتے ہوئے واضح کیا کہ قرآن کریم خدا تعالیٰ کی وحدانیت کو نہایت جامع اور واضح انداز میں بیان کرتا ہے۔ اس ضمن میں آپ نے یہ مثال بھی پیش کی کہ کم عمر بچے بھی ان آیات کو یاد کرکے خدا تعالیٰ کی صحیح معرفت حاصل کر لیتے ہیں، جو قرآن کریم کی سادگی اور جامعیت کا ثبوت ہے۔

ڈاكٹر صاحب نے بتایا کہ دنیا میں تقریباً دس ہزار مختلف مذاہب پائے جاتے ہیں، مگر عالمی آبادی کا ۷۵؍ فیصد حصہ عیسائیت، اسلام، ہندومت اور بدھ مت سے تعلق رکھتا ہے، جبکہ مزید ۷ فیصد یہودیت، سکھ مت، زرتشتی مذہب اور دیگر مذاہب سے وابستہ ہیں۔ اس تقریر کی تیاری کے لیے ڈاكٹر صاحب نے مختلف مذاہب کے علماء اور مذہبی مراکز سے رابطہ كیا اور ان سے ان کی مقدس کتب میں خدا کے تصور کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تاہم کوئی جواب موصول نہ ہوا۔ بعد ازاں جامعات کے شعبہ ہائے مذہبیات سے بھی رجوع کیا گیا مگر وہاں سے بھی کوئی مواد حاصل نہ ہو سکا۔ اس تجربہ نے اس حقیقت کو مزید نمایاں کیا کہ قرآن کریم ہی وہ واحد الہامی کتاب ہے جو خدا تعالیٰ کا کامل اور غیر مبہم تصور پیش کرتی ہے اور یہی وہ کتاب ہے جو اپنی اصل صورت میں محفوظ ہے۔

ڈاكٹر صاحب نے اس موضوع پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے راہنمائی حاصل كرنے کا ذکر بھی كیا اور بتایا کہ حضور انور نے فرمایا کہ قرآن کریم ’’قیّم‘‘ ہے، جو سابقہ صحیفوں پر گواہ اور نگران کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک طرف یہ ان صحیفوں کی ابدی سچائیوں کی تصدیق کرتا ہے اور دوسری طرف ان میں آنے والی تحریفات اور غلط فہمیوں کی اصلاح بھی کرتا ہے۔ اس ضمن میں آپ نے سورۃ المائدہ کی آیت ۴۹؍ پیش کی جس میں قرآن کریم کو مہیمن یعنی سابقہ کتب کا محافظ اور نگہبان قرار دیا گیا ہے۔

ڈاکٹر صاحب نے حضرت مسیح موعودؑ کی کتاب پیغامِ صلح کے حوالے سے بتایا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت تمام انسانوں اور زمانوں پر محیط ہے۔ اسی لیے اس نے ہر قوم کی ہدایت کے لیے انبیاء مبعوث فرمائے، جس کے باعث مختلف مذاہب کی اصل تعلیمات میں توحید اور خدا شناسی کا مشترک پیغام پایا جاتا ہے، اگرچہ بعد میں ان میں تبدیلیاں آ گئیں۔

اس کے بعد مقرر نے بتایا كہ تورات اور انجیل میں خداتعالیٰ کی وحدانیت کا واضح ذکر موجود ہے۔ مثلاً ’’شیما‘‘ کی مشہور دعا، جو تورات كی كتاب استثنا ۶ : ۴ سے ماخوذ ہے اور یہودی زندگی میں روزانہ دو دفعہ پڑھی جاتی ہے، درج ذیل الفاظ میں اللہ کی وحدانیت كا ذكر كرتی ہے: ’’سنو اے اسرائیل! خداوند ہمارا خدا، ایک ہے۔ ‘‘ یہی بات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان سے مرقس ۱۲: ۲۹ میں بھی دہرائی گئی ہے۔

تاہم موجودہ بائبل میں بعض ایسے تصورات بھی شامل ہو چکے ہیں جو خدا تعالیٰ کی کامل صفات کے شایانِ شان نہیں۔ مثال کے طور پر پیدائش ۲:۲-۳ میں بیان کیا گیا ہے کہ خدا نے ساتویں دن آرام کیا، جو ایک ناقص تصور ہے کیونکہ خدا کسی تھکاوٹ یا آرام کا محتاج نہیں ہو سکتا۔ قرآن کریم سورت ق آیت ۳۹ میں اس غلط فہمی کی اصلاح کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو چھ زمانوں میں پیدا کیا اور اسے کوئی تھکن لاحق نہ ہوئی۔

اسی طرح ڈاكٹر صاحب نے بتایا كہ انجیل میں توحید کے اعلان کے باوجود متی ۲۸: ۱۹ میں تثلیث کا ذکر ملتا ہے۔

قرآن کریم سورۃ المائدہ آیت ۷۴ میں اس نظریے کو کفر قرار دیتا ہے اور خدا تعالیٰ کی مطلق وحدانیت پر زور دیتا ہے۔ اسی طرح سورۃ البقرہ آیت ۱۱۷ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام كے ابن اللہ ہونے کے تصور کو بھی قرآن رد کرتا ہے۔

آپ نے مزید بیان کیا کہ اگرچہ حضرت موسیٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ عظیم الشان انبیاء تھے، لیکن ان کی بعثت مخصوص اقوام کے لیے تھی اسی لیے تورات و انجیل میں خدا کو صرف بنی اسرائیل کا خدا قرار دیا گیا ہے، جبکہ قرآن كریم نے خدا تعالیٰ كو رب العالمین یعنی تمام جہانوں کا رب بیان كیا۔ اسی طرح سورۃ الاعراف آیت ۱۵۹ كے مطابق آنحضرت ﷺ تمام انسانیت کی طرف مبعوث ہوئے۔ یہ اس بات كا ثبوت ہے كہ قرآن کریم کا پیغام عالمگیر ہے۔

اس كے بعد ڈاکٹر صاحب نے ہندو صحیفے وید کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ کے ارشادات پیش کیے کہ وید اصل میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی تعلیمات پر مشتمل تھے اور ان میں توحید کی واضح تعلیم موجود تھی۔ آپ نے متعدد حوالہ جات پیش کیے جن میں خدا تعالیٰ کو بے مثال، غیر مجسم اور واحد قرار دیا گیا ہے۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ان تعلیمات میں متعدد خداؤں اور توحید كے منافی دیگر تصورات شامل ہو گئے۔ یَجُر وید اور رِگ وید میں توحید کے حوالے موجود ہیں، مثلاً یہ کہا گیا ہے کہ خدا کی کوئی مورت نہیں اور وہ غیر پیدا شدہ ہے۔ لیکن ساتھ ہی ویدوں میں آگ جیسے عناصر کو بھی معبود قرار دیا گیا ہے اور تینتیس دیوتاؤں کا ذکر ملتا ہے، جو کہ توحید کے منافی ہے۔ اس كے برعكس قرآن کریم سورۃ یٰسٓ آیت ۲۴ میں اس شرک کی مكمل نفی کرتے ہوئے واضح کرتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود انسان کو نفع یا نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

پھر بدھ مت کے حوالے سے موصوف نے بتایا کہ اگرچہ بدھ مت میں عموماً ایک خالق کا تصور نہیں پایا جاتا اور اس کے بجائے ’’دیوا‘‘ نامی ہستیوں پر یقین رکھا جاتا ہے، تاہم بدھ مت کی قدیم کتاب ’’تری پٹک‘‘ میں گوتم بدھ نے خدا کا ذکر بطور رب الکائنات، ابدی، غیر پیدا شدہ اور یکتا کے طور پر کیا ہے۔ اس میں ’’گھر بنانے والے‘‘ کا واحد کے صیغے میں ذکر اس بات کی دلیل ہے کہ بدھ توحید پر یقین رکھتے تھے۔ یہ تصور قرآن کریم کی سورۃ الحدید آیت ۴ سے مطابقت رکھتا ہے، جہاں اللہ کو اول، آخر، ظاہر اور باطن کہا گیا ہے۔

زرتشتی مذہب کا ذکر کرتے ہوئے مقرر نے کہا کہ حضرت زرتشتؑ نے ’’اہورا مزدا‘‘ کو ایک ازلی، واحد اور غیر مخلوق خدا کے طور پر پیش کیا۔ ان كی مقدس كتاب ’’اویستا‘‘ میں خدا تعالیٰ کی جو صفات بیان ہوئی ہیں، مثلاً خالق، قادر، رحیم اور منعم، وہ قرآن کریم میں مذکور صفاتِ الٰہی سے بڑی حد تک مطابقت رکھتی ہیں۔

اسی طرح سکھ مذہب کی مقدس کتاب گرنتھ صاحب کے ابتدائی کلمات کا حوالہ دیتے ہوئے آپ نے بتایا کہ ان میں بھی ایک ابدی اور واحد خالق خدا کا تصور پیش کیا گیا ہے، جو اسلامی تعلیم کے قریب ہے۔

اختتامی حصہ میں ڈاكٹر صاحب نے موجودہ دنیا میں بڑھتی ہوئی مذہبی، نسلی اور سیاسی تقسیم، جنگوں اور بدامنی کا ذکر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ انسانیت کو متحد کرنے والی بنیاد کیا ہو سکتی ہے۔ اس کے جواب میں آپ نے قرآن کریم کی اس تعلیم کو پیش کیا کہ تمام اہلِ مذاہب ایک ایسے مشترک کلمہ پر جمع ہوں کہ ہم صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ یہی وہ مشترک پیغام ہے جو تمام انبیاء لے کر آئے تھے اور یہی انسانیت کے اتحاد، امن اور باہمی احترام کی حقیقی بنیاد بن سکتا ہے۔

آخر میں مکرم ڈاکٹر صاحب نے حضرت مسیح موعودؑ کی کتاب لیکچر لاہور اور كشتی نوح سے اقتباسات پیش كیےجن میں بتایا گیا ہے کہ قرآن کریم خدا تعالیٰ کی کامل صفات کو اس انداز میں پیش کرتا ہے کہ انسان کے دل میں اپنے خالق کی محبت پیدا ہو جاتی ہے۔

حضرت مسیح موعودؑ کا مشن انسان کو اس کے خالق سے دوبارہ جوڑنا تھا اور خلافتِ احمدیہ آج بھی اسی مقصد کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔ انسانیت کی حقیقی نجات خدا تعالیٰ سے زندہ تعلق قائم کرنے میں ہے اور موجودہ دور کے بحرانوں سے بچنے کا واحد راستہ بھی یہی ہے۔

٭…٭…٭

اس کے بعد صہیب احمد صاحب (مربی سلسلہ)نے حضرت مصلح موعودؓ کا منظوم کلام

محمدؐ پر ہماری جاں فدا ہے

کہ وہ کوئے صنم کا رہنما ہے

پیش کیا۔

٭…٭…٭

جلسہ سالانہ كے تیسرے دن كی تیسری تقریر مولانا نصیر احمد قمر صاحب، ایڈیشنل وکیل الاشاعت (طباعت) نے ’’قرآن کریم جواہرات کی تھیلی ہے‘‘ كے موضوع پر كی۔

آپ نے اپنی تقریر میں کہا کہ جس طرح داستانوں میں ذكر ملتا ہے كہ عمَر ْو عیار کے پاس ایک زنبیل ہوا کرتی تھی۔ اسے جب بھی كسی چیز كی ضرورت ہوتی وہ اس زنبیل سے نكال لیتا تھا۔ یہ صرف ایك فرضی اور خیالی بات ہے مگر قرآن کریم حقیقت میں وہ الٰہی خزانہ ہے جس میں انسان کی ہر دینی، اخلاقی، روحانی اور فکری ضرورت کا مکمل حل موجود ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم وہ جواہرات کی تھیلی ہے ’’جس سے کوئی صداقت دینی باہر نہیں۔‘‘

موصوف نے بتایا کہ قرآن کریم خدائے علیم و حکیم کا وہ کلام ہے جسے اُس نے اپنے علم کامل پر مشتمل اتارا ہے جیساكہ فرمایا: اَنْزَلَہٗ بِعِلْمِہِ۔ پہلے نبیوں کو جو تعلیمات دی گئی تھیں اُن کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہےکہ اُوۡتُوۡا نَصِیۡبًا مِّنَ الۡکِتٰبِ انہیں بھی اسی کامل کتاب یعنی لوحِ محفوظ میں موجود قرآن مجید کا ہی ایک حصہ تھا جو دیا گیا تھا۔قرآن میں وہ تمام بنیادی حقائق، معارف اور ہدایات جمع کر دی گئی ہیں جو پہلے انبیاء اور آسمانی کتابوں میں مختلف صورتوں میں موجود تھیں۔ اس لحاظ سے قرآن کریم تمام الہامی کتابوں کا جامع اور خاتم الکتب ہے، جس میں دین کی تکمیل اور ہدایت کا کامل انتظام موجود ہے۔

آپ نے حضرت مسیح موعودؑ کے اقتباسات کی روشنی میں واضح کیا کہ مومن کا مال درہم و دینار نہیں بلکہ جواہرِ حقائق و معارف اُس کا مال ہیں۔ یہ قرآن ایک بیش قیمت مال ہے، سو اس کو تم خوشی سے قبول کرو۔

کیا وصف اس کے کہنا، ہر حرف اس کا گہنا

دلبر بہت ہیں دیکھے، دل لے گیا یہی ہے

تقریر میں یہ بھی بیان کیا گیا کہ تمام علوم کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ ہے، اس لیے قرآن کریم میں وہ بنیادی اصول موجود ہیں جو انسان کی روحانی، اخلاقی اور فکری تربیت کے لیے ضروری ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ تزکیۂ نفس، اخلاقِ حسنہ، معرفتِ الٰہی، دعا، عبادت، روحانی بیماریوں کے علاج اور خدا تعالیٰ تک پہنچنے کے تمام راستے قرآن کریم میں بیان کر دیے گئے ہیں۔ کوئی ایسی دینی حقیقت نہیں جو قرآن سے باہر ہو۔

مقرر نے قرآن کریم اور جدید سائنس کا تعلق بیان كیا اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کے ارشادات كی روشنی میں واضح كیا كہ قرآن کریم خدا کا قول ہے اور یہ مادی کائنات اس کا فعل، اور ان دونوں میں کامل آہنگی لازمی ہے۔ الہامِ الٰہی کبھی بھی قوانین قدرت سے متصادم نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ دونوں کا سرچشمہ ایک ہی حکیم ازلی ذات ہے۔ قرآن کریم کائنات کی تخلیق، اس کے ارتقاء اور انجام کے متعلق ایسے حقائق بیان کرتا ہے جو جدید سائنسی نظریات جیسے بِگ بینگ اور بلیك ہول وغیرہ سے ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں۔

تقریر میں قرآن کریم کی تاثیرات کو نمایاں کرتے ہوئے بتایا گیا کہ اس نے عرب کے جاہل، منتشر اور اخلاقی طور پر پسماندہ معاشرے کو مختصر عرصے میں بہترین انسانوں میں تبدیل کر دیا۔ قرآن اور رسول اکرم ﷺ کی تربیت نے ان کے اخلاق، عبادات، قربانی، محبتِ الٰہی اور خدمتِ خلق میں انقلاب برپا کیا۔ حضرت مسیح موعودؑ کے مطابق دنیا کی کوئی دوسری کتاب ایسی ہمہ گیر اخلاقی اور روحانی تبدیلی پیدا کرنے کی مثال پیش نہیں کر سکتی۔

اس کے بعد یہ اہم سوال اٹھایا گیا کہ اگر قرآن اتنی عظیم کتاب ہے تو آج مسلمانوں کی پسماندگی کی وجہ کیا ہے؟ اس کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا گیا کہ قصور قرآن کا نہیں بلکہ مسلمانوں کا ہے جنہوں نے اس کی حقیقی تعلیمات کو ترک کر دیا۔ قرآن و حدیث میں پہلے ہی خبر دی جا چکی تھی کہ ایک زمانہ آئے گا جب قرآن صرف رسم و رواج کی حد تک باقی رہ جائے گا اور اس کی روح سے لوگ محروم ہو جائیں گے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے اسی حقیقت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا کہ مسلمانوں پر زوال اس وقت آیا جب انہوں نے تعلیمِ قرآن کو بھلا دیا۔

مسلمانوں پہ تب اِدبار آیا

کہ جب تعلیمِ قرآں کو بھلایا

اسی تناظر میں آپ نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدوں کے مطابق موجودہ زمانے میں حضرت مسیح موعودؑ كو قرآن کریم کی حقیقی تعلیمات کو دوبارہ زندہ کرنے كے لیے مبعوث فرمایا۔ چنانچہ آپؑ نے واضح فرمایا کہ قرآن کے علوم اور حقائق ہر زمانے کی ضروریات کے مطابق نئے نئے رنگ میں ظاہر ہوتے رہتے ہیں اور اس کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہو سکتے۔

مولانا صاحب نے مزید وضاحت کی کہ حضرت مسیح موعودؑ کے بعد خلافتِ احمدیہ کے ذریعہ قرآن کریم کے علوم و معارف کی اشاعت کا یہ مبارک سلسلہ جاری ہے۔ خلفائے احمدیت ہر دور کی ضروریات کے مطابق قرآن کے نئے روحانی خزانے دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے بھی بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ’’یہ ہر احمدی کی بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ دین کی ذاتی خوبیوں کو پیش کرنے کے لیے قرآن کریم کا علم حاصل کریں اور پھر اپنے نیک نمونے قائم کر کے دنیا کو اپنی طرف کھینچیں۔‘‘

تقریر كے اختتام پر حاضرین کو توجہ دلائی گئی ہےکہ موجودہ دور میں قرآن کریم کی حقیقی خدمت، اس کے علوم و معارف کی اشاعت اور اسلام کی صحیح تصویر پیش کرنے کی عظیم ذمہ داری جماعت احمدیہ پر عائد ہوتی ہے۔ ہر احمدی مرد و عورت کا فرض ہے کہ قرآن کریم کو سمجھے، حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کی تفاسیر سے استفادہ کرے، اپنی عملی زندگی کو قرآنی تعلیمات کے مطابق ڈھالے اور دنیا بھر میں قرآن کے نور کو پھیلانے کی کوشش کرے۔ جب اہلِ ایمان اپنے قول و عمل سے قرآن کی صداقت اور برکات کا نمونہ بن جائیں گے تو دنیا میں امن، انصاف، محبت اور خدا شناسی کا دور دوبارہ قائم ہوگا اور قرآن کریم کی عظمت پوری انسانیت پر روشن ہو جائے گی۔

٭…٭…٭

جلسہ سالانہ یوکے ۲۰۲۶ء کے تیسرے روز، ۲۶؍جولائی ۲۰۲۶ء کو مکرم رفیق احمد حیات صاحب، امیر جماعت احمدیہ برطانیہ نے انگریزی زبان میں ’’حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی انسانیت سے بے مثال محبت‘‘ کے موضوع پر خطاب کیا۔

امیر جماعت احمدیہ برطانیہ نے اپنے خطاب کے آغاز میں بیان کیا کہ آنحضرت ﷺ ایسے دور میں مبعوث ہوئے جب دنیا ظلم، جہالت، قبائلی تعصب اور انتقام کی آگ میں جل رہی تھی۔ طاقتور کمزوروں پر ظلم کرتے، انسانی وقار پامال ہوتا اور رحم و انصاف کو کمزوری سمجھا جاتا تھا۔ ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر مبعوث فرمایا۔

آپ نے قرآن کریم کی آیات پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ آنحضرتﷺ کی رحمت کسی خاص قوم، مذہب یا زمانے تک محدود نہ تھی بلکہ تمام انسانیت اور ساری مخلوق کے لیے تھی۔

امیر صاحب نے حضرت عائشہؓ کے اس تاریخی بیان کا حوالہ دیا کہ ’’آپؐ کا اخلاق قرآن تھا‘‘ اور بتایا كہ رسول اللہﷺ کی پوری زندگی قرآنِ کریم کی عملی تفسیر تھی۔ آپﷺ نہایت سادہ زندگی گزارتے، کبھی مال و دولت جمع نہ کرتے، بلکہ جو کچھ ملتا ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیتے تھے۔ وفات کے وقت بھی آپؐ نے اپنے لیے کوئی دنیاوی ذخیرہ نہیں چھوڑا۔ آپﷺ اپنے گھر کے کاموں میں بھی ہاتھ بٹاتے، اپنے کپڑے خود سی لیتے اور اہلِ خانہ کے ساتھ محبت اور شفقت سے پیش آتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی عظمت عاجزی، خدمت اور حسنِ اخلاق میں ہے۔

اس كے بعد امیر صاحب نے اس حقیقت کو اُجاگر کیا کہ اسلام میں قانون اور انصاف کے سامنے کسی کی خاندانی یا سماجی حیثیت کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر آپ کی اپنی بیٹی حضرت فاطمہؓ بھی جرم کرتیں تو ان پر بھی قانون نافذ کیا جاتا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام میں انصاف سب کے لیے برابر ہے۔ دوسری طرف آپ ﷺ کی معافی اور رحم دلی بے مثال تھی۔ طائف کے لوگوں نے آپ ﷺ پر پتھر برسائے، مگر آپ ﷺ نے ان کی ہلاکت کی دعا کرنے کے بجائے ان کی ہدایت کی دعا کی۔ فتح مکہ کے موقع پر، جب آپؐ مکمل اقتدار رکھتے تھے، تب بھی آپ ﷺ نے اپنے سخت ترین دشمنوں کو عام معافی عطا فرما کر تاریخِ انسانیت میں رحم و کرم کا بے مثال نمونہ قائم فرمایا۔

تقریر میں یہ بھی بیان کیا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مذہبی آزادی، انسانی مساوات اور انصاف پر مبنی معاشرہ قائم کیا۔ میثاقِ مدینہ کے ذریعے مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کو برابر شہری حقوق دیے گئے۔ نجران کے عیسائی وفد کو مسجد نبوی میں اپنی عبادت کرنے کی اجازت دی گئی، جس سے اسلام کی رواداری اور مذہبی آزادی کا عملی نمونہ سامنے آتا ہے۔ آپ ﷺ ہر انسان کی عزت کرتے تھے، یہاں تک کہ ایک یہودی کے جنازے کے احترام میں بھی کھڑے ہوگئے اور وجہ پوچھنے پر فرمایا: ’’کیا وہ ایک انسان نہیں تھا؟‘‘

اسی طرح امیر صاحب نے آنحضرت ﷺ کی دیانت و امانت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ نبوت سے قبل ہی اہلِ مکہ آپؐ کو ’’الصادق‘‘ اور ’’الامین‘‘ کے القاب سے یاد کرتے تھے۔ حجرِ اسود کے تنازعے کے موقع پر بھی مکہ کے سرداروں نے آپؐ کی دیانت اور دانشمندی پر اعتماد کرتے ہوئے آپؐ کے فیصلے کو قبول کیا۔

پھر امیر صاحب نے آنحضرت ﷺ کی سخاوت، شفقت اور انسان دوستی کی کئی مثالیں بھی پیش کیں۔ آپ ﷺ ہمیشہ یتیموں، مسکینوں، غلاموں اور ضرورت مندوں کی مدد کرتے تھے۔ مثلا ایک بوڑھی عورت جو آپؐ کے متعلق غلط فہمیوں کا شکار تھی، آپؐ کے حسنِ سلوک سے متاثر ہو کر مسلمان ہوگئی۔ اسی طرح غم سے نڈھال ایک خاتون کے ساتھ ہمدردی، ایک ضرورت مند بچی کی مدد، ایک نادار بزرگ کو لباس عطا کرنے اور ایک غلام عورت کی دادرسی جیسے واقعات آپؐ کی بے مثال سخاوت اور رحم دلی کے روشن نمونے ہیں۔

آپ نے مزید کہا کہ آنحضرت ﷺ نے جنگ کے دوران بھی اعلیٰ اخلاقی اصول قائم فرمائے۔ عورتوں، بچوں اور غیر جنگجو افراد کو نقصان پہنچانے سے منع فرمایا، قیدیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم دی اور ہر قسم کی لوٹ مار اور زیادتی کی حوصلہ شکنی فرمائی۔ میثاقِ مدینہ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ آنحضرت ﷺ نے ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھی جہاں مختلف مذاہب اور قوموں کے افراد کو مذہبی آزادی اور مساوی شہری حقوق حاصل تھے۔ نجران سے آنے والے عیسائی وفد کو مسجد نبوی میں اپنی عبادت کی اجازت دینا مذہبی رواداری اور احترامِ انسانیت کی ایک درخشاں مثال ہے۔

اس بعد غلامی کے خاتمے اور انسانی مساوات کے قیام کے لیے آنحضرت ﷺ کی جدوجہد پر روشنی ڈالی اور قرآن کریم کی ان تعلیمات کا ذکر کیا جن کے ذریعے غلاموں کی آزادی کی ترغیب دی گئی۔ صحابہؓ نے ان تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے بڑی تعداد میں غلام آزاد کیے۔ حضرت بلالؓ کے ایمان، ان پر ڈھائے جانے والے مظالم اور بعد ازاں اسلام میں ان کے بلند مقام کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اسلام نے رنگ، نسل اور سماجی حیثیت کے تمام امتیازات کو مٹا دیا۔ حجۃ الوداع کے تاریخی خطبے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ آنحضرت ﷺ نے اعلان فرمایا تھا کہ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں۔

معروف مغربی مفکر جارج برنارڈ شا اور مؤرخ آر۔ بوس ورتھ اسمتھ کے اقتباسات پیش کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ غیر مسلم اہلِ علم نے بھی آنحضرت ﷺ کی عظمت، سادگی، قیادت اور انسان دوستی کا اعتراف کیا ہے۔

اس کے بعد آنحضرت ﷺ کی غیر معمولی قوتِ عفو کا ذکر کرتے ہوئے امیر صاحب بتایا کہ آپؐ نے اپنی صاحبزادی حضرت زینبؓ کی وفات کا سبب بننے والے، حضرت حمزہؓ کے جسم مبارک کی بے حرمتی كرنے والے اور حتیٰ کہ آپؐ کو زہر دینے کی کوشش کرنے والی عورت کو بھی معاف فرما دیا۔

خطاب کے آخری حصے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے آنحضرت ﷺ سے والہانہ عشق و محبت کا ذکر کیا اور آپؑ کے ارشادات کی روشنی میں بتایا کہ آنحضرت ﷺ تمام انبیاء میں سب سے کامل اور اللہ تعالیٰ کے سب سے محبوب نبی تھے۔

پھر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ارشادات کا حوالہ دیتے ہوئے اس امر کی طرف توجہ مبذول کروائی کہ موجودہ دور میں مسلمانوں کو اپنے کردار اور عمل کے ذریعے امن، محبت اور رواداری کے سفیر بننے کی ضرورت ہے۔ اسلام اور بانیٔ اسلام ﷺ کی حقیقی تعلیمات سراسر محبت، عدل اور امن پر مبنی ہیں اور دنیا میں پائے جانے والے ظلم اور ناانصافیاں اسلامی تعلیمات کی نمائندہ نہیں ہیں۔

اختتام پر سامعین کو یاد دلایا کہ آنحضرت ﷺ نے صرف رحم، عدل، معافی اور محبت کی تعلیم نہیں دی بلکہ خود ان صفات کا کامل نمونہ بن کر دکھایا۔ اگر مسلمان آپؐ کے اسوۂ حسنہ کو اپنی زندگیوں میں اپنالیں تو وہ نور جو چودہ صدیوں قبل دنیا میں روشن ہوا تھا آج بھی انسانیت کی راہنمائی اور فلاح کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

آخر میں دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں آنحضرت ﷺ کے نقشِ قدم پر چلنے، آپؐ کی تعلیمات کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانے اور حقیقی معنوں میں آپؐ کے پیروکار بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

(خلاصہ جات تیار کردہ نظامت رپورٹنگ جلسہ گاہ)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: وَيَضَعَ الْحَرْبَ: مسیح موعود کی واضح علامت …جنگوں کا موقوف ہونا

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button