وَيَضَعَ الْحَرْبَ: مسیح موعود کی واضح علامت …جنگوں کا موقوف ہونا
’’يضع الحرب‘‘کی پیشگوئی اور’’یہ حکم سن کے بھی جو لڑائی کو جائے گا، وہ کافروں سے سخت ہزیمت اٹھائے گا‘‘کا شعر اس زمانہ میں تشدد اور انتہا پسندی کے خاتمہ کا اعلان ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پاکیزہ اسوہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد اور اصل اسلامی تعلیمات کا بتانا اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہیں کہ اسلام امن، محبت اور انسانیت کی فلاح کا مذہب ہے
جنگوں کے سائے میں انسانیت کا بحران جنم لے رہا ہے۔ آج دنیا ایک بار پھر جنگوں، تنازعات اور طاقت کے بےجا استعمال کی لپیٹ میں ہے۔ ایسے حالات میں اسلام کی حقیقی تعلیمات اور آنحضرت ﷺ کا پاکیزہ اسوہ انسانیت کے لیے روشنی کا مینار ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آخری زمانے سے متعلق رسول اللہﷺ کی پیشگوئی’’يضع الحرب‘‘کی روشنی میں اعلان فرمایا کہ
اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال
دیں کے لیے حرام ہے اب جنگ اور قتال
یہ حکم سن کے بھی جو لڑائی کو جائے گا
وہ کافروں سے سخت ہزیمت اٹھائے گا
یعنی اب اسلام کی ترقی تلوار اور تیرو تفنگ سے نہیں بلکہ دعا، اخلاق، علم اور روحانی دلائل سے وابستہ ہے۔ آپؑ نے واضح فرمایا کہ اس زمانے میں جنگ و جدال کو اختیار کرنے والے نہ صرف اسلام کی حقیقی روح سے دور ہوں گے بلکہ ذلت اور ناکامی کا سامنا بھی کریں گے۔ یہی پیغام آج کے دور کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
آج دنیا کے مختلف خطے جنگوں، خانہ جنگیوں اور طاقت کے تصادم کا شکار ہیں۔ ان حالات میں اسلام کی تعلیمات ایک متوازن اور عادلانہ راستہ پیش کرتی ہیں۔ اسلام ظلم، استحصال اور زیادتی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ باہمی احترام، انصاف اور مذاکرات کی تلقین کرتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے احمدیت نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ پائیدار امن صرف سیاسی معاہدوں اور بیانات سے نہیں بلکہ اخلاقی اور روحانی انقلاب کے ذریعے قائم ہو سکتا ہے۔ یہی اسلامی تعلیمات آج کے عالمی بحرانوں کا حقیقی حل پیش کرتی ہیں۔
رسول کریم ﷺ نے حضرت مسیح موعود و مہدی کے زمانے کی ایک نمایاں علامت ’’يضع الحرب‘‘ بیان فرمائی، یعنی وہ جنگ کا خاتمہ کرے گا۔ اس پیشگوئی کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا میں ہر قسم کی جنگیں ختم ہو جائیں گی بلکہ یہ کہ دین کی اشاعت اور غلبہ کے لیے تلوار کا دور ختم ہو جائے گا۔سب سے پہلے ہم اس حدیث کو دیکھتے ہیں کہ اس حدیث کے اصل الفاظ کیا ہیں۔
بخاری میں ہے کہ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صلى اللّٰه عليه وسلم وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوشِكَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا عَدْلاً فَيَكْسِرَ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلَ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعَ الْحَرْبَ وَيَفِيضَ الْمَالُ حَتَّى لاَ يَقْبَلَهُ أَحَدٌ ۔رسول اللہﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!قریب ہے کہ ابن مریم تم میں نازل ہوں، عادل حَکَم ہو کر وہ صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو مار ڈالیں گے اور جنگ موقوف کریں گے اور مال اس بہتات سے ہوگا کہ کوئی اس کو قبول نہ کرے گا ۔ (ترجمہ از صحیح البخاری، كتاب أحاديث الأنبياء، باب نزول عیسیٰ علیھما السلام ، حدیث نمبر ۳۴۴۸، جلد نمبر ۶ صفحہ نمبر ۴۳۴)
پھر ترمذی میں ہے کہ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ’’ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوشِكَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمْ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا مُقْسِطًا فَيَكْسِرَ الصَّلِيبَ، وَيَقْتُلَ الْخِنْزِيرَ، وَيَضَعَ الْجِزْيَةَ، وَيَفِيضَ الْمَالُ، حَتَّى لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ ‘‘۔ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ۔(سنن ترمذي كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم باب ما جاء في نزول عيسى ابن مريم عليه السلام حدیث نمبر: ۲۲۳۳)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! عنقریب تمہارے درمیان عیسیٰ بن مریم حاکم اور منصف بن کر اتریں گے، وہ صلیب کو توڑیں گے، سور کو قتل کریں گے، جزیہ ختم کر دیں گے، اور مال کی زیادتی اس طرح ہو جائے گی کہ اسے کوئی قبول کرنے والا نہ ہو گا۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔(ترجمہ از صحيح مسلم/كتاب الإيمان/ ۷۱. باب نزول عيسى ابن مريم حاكما بشريعة نبينا محمد صلى الله عليه وسلم: حدیث: ۳۸۹)
حرب یا جزیہ
یہاں دو حدیثیں درج کی گئی ہیں ۔ دونوں میں حرب اور جزیہ کے الفاظ کافرق ہے۔ گو جزیہ بھی جنگ کے بعد حالت امن کو برقرار رکھنے کے لیےمفتوح قوم سے لیا جاتا ہے۔ اور محدثین کے مطابق جزیہ کے موقوف ہونے کی وجہ مال کی بہتات ہوگی۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس وقت جزیہ موقوف ہونا بھی امن کی علامت ہے۔ اور اگر امن ہو تو جنگ کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
بخاری کی بعض ایڈیشنز میں الحرب کے لفظ کی جگہ جزیہ کا لفظ شامل ہے۔ اور اس سبب حضرت مسیح موعودؑ پر الزام لگایا جاتا ہے ۔ گویا جنگ کو موقوف کرنا علامت نہیں۔ تاہم بخاری کے جن نسخوں میں جزیہ کا لفظ ہے تو حاشیہ میں حرب کا اختلاف درج کیا گیا ہے کہ ۔ اسی طرزِ روایت میں حرب کا لفظ بھی ہے۔
لفظی لحاظ سے اس حدیث کو اگر غور سے دیکھیں تو واضح ہوتا ہے کہ اگر صلیب کو عملی طور پر توڑا جائے اور سور کو مار دیا جائے تو کیا ممکن ہے کہ مذہبی جنگ کا آغاز نہ ہو۔ ضرور صلیب کو توڑنا عیسائیت کو کچلنا متصور ہوگا اور سور کے گوشت کی ایک بڑی صنعت اس سے متاثر ہوگی اور وہ بھی اعلان جنگ کر کے دنیا کی معیشت کو نقصان پہنچانے کے در پے ہوں گے۔ سو اس حدیث کے الفاظ سے ہی واضح ہے کہ یہ دونوں کام معنوی طور پر ہوں گے۔ اب رہا تیسرا کام تو جب معنوی طور پر صلیبی عقائد اور خنزیری صفات و عادات کا خاتمہ ہوگا تو عملاً جنگ ختم ہو جائے گی اور عقائد کی جنگ چلے گی۔ اور عقائد کی جنگ میں بھی طویل ہوگی یکدم ختم نہیں ہوگی۔ دنیاوی مال کی تقسیم تو بالکل آسان نہیں ہوتی۔ اور کسی اور کی جاگیر کو ہتھیا کر تقسیم کرنا کسی بھی مذہب کی تعلیم نہیں۔ اس لیے جو مال تقسیم ہونا ہے وہ بھی معنوی طور پر علم کی دولت ہے۔ اور قلم کے جہاد کا مالِ غینمت اتنا تقسیم ہوگا کہ لینے والا سیر ہوگاجائے گا لیکن معارف کے چشمے خشک نہیں ہوں گے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس حقیقت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ اب جہاد کا میدان قلم، دعا اور روحانی استدلال ہے۔ آپؑ نے اس پیشگوئی کو پورا کرتے ہوئے اسلام کی خوبصورت تعلیمات کو محبت، حکمت اور امن کے ذریعے دنیا کے سامنے پیش کیا۔آئے دیکھتے ہیں کہ اس زمانے کے حکم و عدل حضرت مسیح موعود و مہدی معہودؑ نے اس حدیث کے کیا معنے کیے ہیں اور کس طرح اس کو بطور علامت اپنے اوپر چسپاں کیا ہے۔
اس حدیث کو اپنے اوپر چسپاں کیا
حضرت مسیح موعودؑ نے ازالہ اوہام میں اس حدیث کو درج فرما کر یوں ترجمہ فرمایا ہے۔ ’’صحیح بخاری صفحہ ۴۹۰: والذی نفسی بیدہ لیوشکنّ ان ینزل فیکم ابن مریم حکمًا عدلًا فیکسرالصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الحرب۔ کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم امامکم منکم۔ یعنی قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم میں ابن مریم نازل ہو گا اور تمہارے ہریک مسئلہ مختلف فیہ کا عدالت کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور باطل پرستوں کو الگ اور حق پرستوں کو الگ کردے گا پس وہ اِسی حَکَم ہونے کی وجہ سے صلیب کو توڑے گا اور خنزیروں کو مارے گا اور روز کے جھگڑوں کا خاتمہ کر دے گا۔تمہارا اُس دن کیا حال ہو گا جس دن ابن مریم تم میں نازل ہو گا اور تم جانتے ہو کہ ابن مریم کون ہے وہ تمہارا ہی ایک امام ہو گا اور تم میں سے ہی (اے اُمّتی لوگو) پیداہوگا۔‘‘ (اِزالہ اوہام ،روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۱۹۸-۱۹۹)
اب سے زمینی جہاد بند کیے گئے اور لڑائیوں کا خاتمہ ہوگیا جیسا کہ حدیثوں میں پہلے لکھا گیا تھا کہ جب مسیح آئے گا تو دین کے لیے لڑنا حرام کیا جائے گا۔ سو آج سے دین کے لیے لڑنا حرام کیا گیا۔ اب اس کے بعد جو دین کے لئے تلوار اُٹھاتا ہے اور غازی نام رکھا کر کافروں کو قتل کرتا ہے وہ خدا اور اس کے رسول کا نافرمان ہے۔ صحیح بخاری کو کھولو اور اُس حدیث کو پڑھو کہ جو مسیح موعود کے حق میں ہے یعنی یضع الحرب جس کے یہ معنے ہیں کہ جب مسیح آئے گاتو جہادی لڑائیوں کا خاتمہ ہوجائے گا۔ سو مسیح آچکا اور یہی ہے جو تم سے بول رہا ہے۔ (خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحہ ۱۷)
کیوں بھولتے ہو تم يَضَعُ الحَرب کی خبر
کیا یہ نہیں بخاری میں دیکھو تو کھول کر
فرما چکا ہے سید کونین مصطفٰے
عیسی مسیح جنگوں کا کردے گا التوا
جب آئے گا تو صلح کو وہ ساتھ لائے گا
جنگوں کے سلسلہ کو وہ یکسر مٹائے گا
اورہم رسالہ فتح اسلام میں ظاہر کر آئے ہیں کہ درحقیقت مسیح بھی ایک ایمانی معارف کاسکھلانے والااور ایمانی معلم تھا اور یہ بھی ظاہر کر آئے ہیں کہ مسیح بھی ظاہری لڑائیوں کے لئے نہیں آئے گا بلکہ بخاری نے یضع الحرب اس کی علامت لکھی ہے اور یہ کہ اُس کا قتل کرنا اپنے دم کی ہوا سے ہوگا نہ تلوار سے یعنی موجّہ باتوں سے روحانی طورپر قتل کر ے گا۔ (اِزالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۱۵۵، حاشیہ)
پھر فرمایا کہ دیکھو میں ایک حکم لے کر آپ لوگوں کے پاس آیا ہوں وہ یہ ہے کہ اب سے تلوار کے جہاد کا خاتمہ ہے مگر اپنے نفسوں کے پاک کرنے کا جہاد باقی ہے۔ اور یہ بات میں نے اپنی طرف سے نہیں کہی بلکہ خدا کا یہی ارادہ ہے صحیح بخاری کی اُس حدیث کو سوچو جہاں مسیح موعود کی تعریف میں لکھا ہے کہ یضع الحرب یعنی مسیح جب آئے گا تو دینی جنگوں کا خاتمہ کر دے گا۔ سو میں حکم دیتا ہوں کہ جو میری فوج میں داخل ہیں وہ ان خیالات کے مقام سے پیچھے ہٹ جائیں۔ دلوں کو پاک کریں اور اپنے انسانی رحم کو ترقی دیں اور درد مندوں کے ہمدرد بنیں۔ زمین پر صلح پھیلا ویں کہ اسی سے اُن کا دین پھیلے گا۔ (گورنمنٹ انگریزی اور جہاد، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۱۵)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کس جہاد کو موقوف قرار دیتے ہیں؟
رسول اکرم ﷺ سراپا رحمت تھے اور آپؐ نے جنگ کو کبھی مقصد نہیں بنایا بلکہ اسے ناگزیر حالات میں آخری چارہ کار کے طور پر اختیار فرمایا۔ صلح حدیبیہ اس کی روشن مثال ہے جہاں آپؐ نے بظاہر سخت شرائط کو قبول کرکے خونریزی سے اجتناب فرمایا۔ فتح مکہ کے موقع پر بھی آپؐ نے اپنے بدترین دشمنوں کو معاف کرکے رحم و کرم کا بے مثال نمونہ پیش کیا۔ آپؐ کی ساری زندگی اس حقیقت کی شاہد ہے کہ اسلام کا اصل پیغام محبت، عدل اور امن کا قیام ہے، نہ کہ ظلم، انتقام یا جارحیت۔
آنحضرت ﷺ نے جنگ کے دوران بھی عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور عبادت گاہوں کو نقصان پہنچانے سے منع فرمایا، جو اسلام کی امن پسند تعلیمات کا واضح ثبوت ہے۔ اسلام میں جہاد کا مقصد فساد پھیلانا یا دوسروں پر ظلم کرنا نہیں بلکہ اپنی اصلاح، ظلم کے خاتمہ اور حق کے قیام کے لیے جدوجہد کرنا ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے واضح فرمایا کہ موجودہ دور میں جہاد بالقلم، جہاد بالنفس اور دعا ہی حقیقی جہاد ہیں۔ اسلام دہشت گردی، انتہاپسندی اور بے گناہوں کے قتل کی سختی سے مذمت کرتا ہے۔
جنگ و امن کے بارے میں اسوۂ رسول اللہ ﷺ کی بنا پر حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ اکثر مسلمان مجھ پر حملہ کرتے ہیں کہ تمہارے سلسلہ میں یہ عیب ہے کہ تم جہاد کو موقوف کرتے ہو۔مجھے افسوس ہے کہ وہ نادان اس کی حقیقت سے محض ناواقف ہیں۔وہ اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بدنام کرتے ہیں۔آپ نے کبھی اشاعت مذہب کے لئے تلوار نہیں اُٹھائی۔جب آپ پر اور آپ کی جماعت پر مخالفوں کے ظلم انتہا تک پہنچ گئے اور آپ کے مخلص خدام میں سے مردوں اور عورتوں کو شہید کر دیا گیا اور پھرمدینہ تک آپ کا تعاقب کیا گیا اُس وقت مقابلہ کا حکم ملا۔آپ نے تلوار نہیں اٹھائی مگر دشمنوں نے تلوار اٹھائی بعض اوقات آپ کو ظالم طبع کفار نے سر سے پاؤں تک خون آلود کر دیا تھا مگر آپ نے مقابلہ نہیں کیا۔خوب یا درکھو کہ اگر تلوار اسلام کا فرض ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں اُٹھاتے مگر نہیں وہ تلوار جس کا ذکر ہے وہ اُس وقت اٹھی جب موذی کفار نے مدینہ تک تعاقب کیا۔اس وقت مخالفین کے ہاتھ میں تلوار تھی مگر اب تلوار نہیں اور میرے خلاف جھوٹی مخبریوں اور فتووں سے کام لیا جاتا ہے اور اسلام کے خلاف صرف قلم سے کام لیا جاتا ہے۔پھر قلم کا جواب تلوار سے دینے والا احمق اور ظالم ہوگا یا کچھ اور ؟
اس بات کو کبھی مت بھولو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کے حد سے گزرے ہوئے ظلم و ستم پر تلوار اُٹھائی اور وہ حفاظت خود اختیاری تھی جو ہر مہذب گورنمنٹ کے قانون میں بھی جرم نہیں۔تعزیرات ہند میں بھی حفاظت خود اختیاری کو جائز رکھا ہے۔اگر ایک چور گھر میں گھس آوے اور وہ حملہ کر کے مارڈالنا چا ہے اس وقت اس چور کو اپنے بچاؤ کے لئے مارڈالنا جرم نہیں ہے۔
پس جب حالت یہاں تک پہنچی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جان نثار خدام شہید کر دیئے گئے اور مسلمان ضعیف عورتوں تک کو نہایت سنگدلی اور بے حیائی کے ساتھ شہید کیا گیا تو کیا حق نہ تھا کہ ان کو سزادی جاتی۔اس وقت اگر اللہ تعالیٰ کا یہ منشاء ہوتا کہ اسلام کا نام ونشان نہ رہے تو البتہ یہ ہو سکتا تھا کہ تلوار کا نام نہ آتا مگر وہ چاہتا تھا کہ اسلام دنیا میں پھیلے اور دنیا کی نجات کا ذریعہ ہو اس لئے اُس وقت محض مدافعت کے لئے تلوار اُٹھائی گئی۔میں دعوئی سے کہتا ہوں کہ اسلام کا اُس وقت تلوار اُٹھا نا کسی قانون، مذہب اور اخلاق کی رُو سے قابل اعتراض نہیں ٹھہرتا۔وہ لوگ جو ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری پھیر دینے کی تعلیم دیتے ہیں وہ بھی صبر نہیں کر سکتے۔اور جن کے ہاں کیڑے کا مارنا بھی گناہ سمجھا جاتا ہے وہ بھی نہیں کر سکتے۔پھر اسلام پر اعتراض کیوں کیا جاتا ہے؟
میں یہ بھی کھول کر کہتا ہوں کہ جو جاہل مسلمان یہ لکھتے ہیں کہ اسلام تلوار کے ذریعہ پھیلا ہے وہ انبیاء معصوم علیہ الصلوۃ والسلام پر افترا کرتے ہیں اور اسلام کی ہتک کرتے ہیں۔خوب یا درکھو کہ اسلام ہمیشہ اپنی پاک تعلیم اور ہدایت اور اس کے ثمرات انوار و برکات اور معجزات سے پھیلا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم الشان نشانات، آپ کے اخلاق کی پاک تاثیرات نے اسے پھیلایا ہے۔اور وہ نشانات اور تاثیرات ختم نہیں ہوگئی ہیں بلکہ ہمیشہ اور ہر زمانہ میں تازہ بتازہ موجود رہتی ہیں اور یہی وجہ ہے جو میں کہتا ہوں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم زندہ نبی ہیں۔
اس لئے کہ آپ کی تعلیمات اور ہدایات ہمیشہ اپنے شمرات دیتی رہتی ہیں۔اور آئندہ جب اسلام ترقی کرے گا تو اس کی یہی راہ ہوگی نہ کوئی اور۔پس جب اسلام کی اشاعت کے لئے کبھی تلوار نہیں اُٹھائی گئی تو اس وقت ایسا خیال بھی کرنا گناہ ہے۔کیونکہ اب تو سب کے سب امن سے بیٹھے ہوئے ہیں اور اپنے مذہب کی اشاعت کے لئے کافی ذریعے اور سامان موجود ہیں۔مجھے بڑے ہی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ عیسائیوں اور دوسرے معترضین نے اسلام پر حملہ کرتے وقت ہرگز ہرگز اصلیت پر غور نہیں کیا۔وہ دیکھتے کہ اُس وقت تمام مخالف اسلام اور مسلمانوں کے استیصال کے در پے تھے اور سب کے سب مل کر اس کے خلاف منصوبے کرتے اور مسلمانوں کو دکھ دیتے تھے۔ان دکھوں اور تکلیفوں کے مقابلہ میں اگر وہ اپنی جان نہ بچاتے تو کیا کرتے۔قرآن شریف میں یہ آیت موجود ہے اُذِنَ لِلَّذِیۡنَ یُقٰتَلُوۡنَ بِاَنَّہُمۡ ظُلِمُوۡا (الحج : ۴۰)۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم اُس وقت دیا گیا جبکہ مسلمانوں پر ظلم کی حد ہو گئی تو انہیں مقابلہ کا حکم دیا گیا۔اُس وقت کی یہ اجازت تھی دوسرے وقت کے لئے یہ حکم نہ تھا۔ چنانچہ مسیح موعود کے لئے بہ لئے یہ نشان قرار دیا گیا۔ یضع الحرب ۔ اب یہ تو اُس کی سچائی کا نشان ہے کہ وہ لڑائی نہ کرے گا۔ (لیکچر لدھیانہ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۷۲ تا ۲۷۴)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب ’’گورنمنٹ انگریزی اور جہاد‘‘ میں حقیقتِ جہاد اور اس کی فلاسفی بیان فرمائی اور قرآن و حدیث اور تاریخ سے جہاد پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا ہے کہ اوائل اسلام میں مسلمانوں کو بحالت مجبوری جو جنگ کرنی پڑیں وہ محض وقتی اور مدافعانہ اور مذہبی آزادی قائم کرنے کے لیے تھیں۔ ورنہ اسلام سے بڑھ کر صلح و آشتی اور امن اور سلامتی کا علمبردار کوئی اور مذہب نہیں ہے۔ اسی کتاب کے آخر پر یہ معروف نظم بھی درج ہے کہ
اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال
دیں کیلئے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اب آ گیا مسیح جو دیں کا امام ہے
دیں کے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
چنانچہ فرماتے ہیں کہ’’ یہ لوگ اپنے اس عقیدہ جہاد پر جو سراسر غلط اور قرآن اور حدیث کے برخلاف ہے اس قدر جمے ہوئے ہیں کہ جو شخص اس عقیدہ کو نہ مانتا ہو اور اس کے بر خلاف ہو اُس کا نام دجال رکھتے ہیں اور واجب القتل قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ میں بھی مدت سے اِسی فتویٰ کے نیچے ہوں اور مجھے جواس ملک کے بعض مولویوں نے دجّال اور کافر قرار دیا اور گورنمنٹ برطانیہ کے قانون سے بھی بے خوف ہو کر میری نسبت ایک چھپا ہوا فتویٰ شائع کیا کہ یہ شخص واجب القتل ہے اور اس کا مال لوٹنا بلکہ عورتوں کو نکال کر لے جانا بڑے ثواب کاموجب ہے۔ اس کا سبب کیا تھا؟ یہی تو تھا کہ میرا مسیح موعود ہونا اور اُن کے جہادی مسائل کے مخالف وعظ کرنا اور اُن کے خونی مسیح اور خونی مہدی کے آنے کو جس پر اُن کو لوٹ مارکی بڑی بڑی اُمیدیں تھیں سراسر باطل ٹھہرانا اُن کے غضب اور عداوت کا موجب ہو گیا مگر وہ یاد رکھیں کہ درحقیقت یہ جہاد کا مسئلہ جیسا کہ اُن کے دلوں میں ہے صحیح نہیں ہے اور اِس کا پہلا قدم انسانی ہمدردی کا خون کرنا ہے۔ یہ خیا ل اُن کا ہر گز صحیح نہیں ہے کہ جب پہلے زمانہ میں جہاد روا رکھا گیا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ اب حرام ہو جائے۔ اِس کے ہمارے پاس دو جواب ہیں۔ ایک یہ کہ یہ خیال قیاس مع الفارق ہے اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرگز کسی پر تلوار نہیں اٹھائی بجز ان لوگوں کے جنہوں نے پہلے تلوار اٹھائی اور سخت بے رحمی سے بے گناہ اور پرہیزگار مردوں اورعورتوں اور بچوں کو قتل کیا اور ایسے دردانگیز طریقوں سے مارا کہ اب بھی ان قصوں کو پڑھ کر رونا آتا ہے۔ دوسرے یہ کہ اگر فرض بھی کر لیں کہ اسلام میں ایسا ہی جہاد تھا جیسا کہ ان مولویوں کا خیال ہے تا ہم اس زمانہ میں وہ حکم قائم نہیں رہا کیونکہ لکھا ہے کہ جب مسیح موعود ظاہر ہو جائے گا تو سیفی جہاد اور مذہبی جنگوں کا خاتمہ ہو جائے گاکیونکہ مسیح نہ تلوار اٹھائے گا اور نہ کوئی اور زمینی ہتھیار ہاتھ میں پکڑے گا بلکہ اُس کی دعا اُس کا حربہ ہوگا اور اُس کی عقدہمت اُس کی تلوار ہوگی وہ صلح کی بنیاد ڈالے گا اور بکری اور شیر کو ایک ہی گھاٹ پر اکٹھے کرے گا اور اس کا زمانہ صلح اور نرمی اور انسانی ہمدردی کا زمانہ ہوگا۔ ہائے افسوس کیوں یہ لوگ غور نہیں کرتے کہ تیرہ سو برس ہوئے کہ مسیح موعود کی شان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے کلمہ یضع الحرب جاری ہو چکا ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ مسیح موعود جب آئے گا تو لڑائیوں کا خاتمہ کر دے گا۔ اور اسی کی طرف اشارہ اس قرآنی آیت کا ہے حَتّٰی تَضَعَ الۡحَرۡبُ اَوۡزَارَہَا (محمد:۵)یعنی اس وقت تک لڑائی کرو جب تک کہ مسیح کا وقت آجائے۔ یہی تضع الحرب اوزارھاہے۔ دیکھو صحیح بخاری موجود ہے جو قرآن شریف کے بعد اصح الکتب مانی گئی ہے۔ اس کو غور سے پڑھو۔ اے اسلام کے عالمو اور مولویو! میری بات سنو! میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اب جہاد کا وقت نہیں ہے خدا کے پاک نبی کے نافرمان مت بنو مسیح موعود جو آنے والا تھاآچکا اور اُس نے حکم بھی دیا کہ آئندہ مذہبی جنگوں سے جو تلوار اور کُشت و خون کے ساتھ ہوتی ہیں باز آجاؤ تو اب بھی خونریزی سے باز نہ آنا اور ایسے وعظوں سے مُنہ بند نہ کرنا طریق اسلام نہیں ہے جس نے مجھے قبول کیا ہے وہ نہ صرف ان وعظوں سے مُنہ بند کرے گا بلکہ اس طریق کو نہایت بُرا اور موجب غضبِ الہٰی جانے گا۔(گورنمنٹ انگریزی اور جہاد، روحانی خزائن جلد ۱۷صفحہ ۸-۹)
پُرامن حکومت کے خلاف بھی جہاد کی اجازت نہیں
حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ مسیح موعود کا عیسائی سلطنتوں کے وقت میں ظاہر ہونا ضروری ہے اور جب مسیح موعود کیلئے یہی ضروری ہے کہ دنیا میں عیسائی طاقتوں کو ہی دنیا پر غالب پاوے اور تمام مفاسد کی کنجیاں انہیں کے ہاتھ میں دیکھے انہیں کی صلیبوں کو توڑے اور انہیں کے خنزیروں کو قتل کرے اور انہیں کو اسلام میں داخل کر کے جزیہ کا قصہ تمام کرے تو پھر سوچو کہ فرضی دجال کی سلطنت باوجود عیسائی سلطنت کے کیونکر ممکن ہے مگر یہ غلط ہے کہ مسیح موعود ظاہری تلوار کے ساتھ آئے گا تعجب کہ یہ علماء یضع الحرب کے کلمہ کو کیوں نہیں سوچتے اور حدیث الائمۃ من قریش کو کیوں نہیں پڑھتے پس جب کہ ظاہری سلطنت اور خلافت اور امامت بجز قریش کے کسی کیلئے روا ہی نہیں تو پھر مسیح موعود جو قریش میں سے نہیں ہے۔ کیو نکر ظاہری خلیفہ ہوسکتا ہے اور یہ کہنا کہ وہ مہدی سے بیعت کرے گا اور اس کا تابع ہوگا اور نوکروں کی طرح اس کے کہنے سے تلوار اٹھائے گا عجب بےہودہ باتیں ہیں نہیں حضرات خدا تعالیٰ آپ لوگوں کو ہدایت دے مسیح موعود کی روحانی خلافت ہے دنیا کی بادشاہتوں سے اس کو کچھ تعلق نہیں اس کو آسمانی بادشاہت دی گئی ہے اور آج کل یہ زمانہ بھی نہیں کہ تلوار سے لوگ سچا ایمان لاسکیں۔ آج کل تو پہلی تلوار پر ہی نادان لوگ اعتراض کررہے ہیں چہ جائیکہ نئے سرے ان کو تلواروں سے قتل کیا جائے ہاں روحانی تلوار کی سخت حاجت ہے سو وہ چلے گی اور کوئی اس کو روک نہیں سکتا ۔ (آئینہ کمالات اسلام،روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۲۷۰-۲۷۱)


اس بارے میں ایک اَور جگہ علمائے اسلام کے عقائد کی تصحیح بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’اِس بات کو یاد رکھنا چاہئے کہ بخاری کی یہ حدیث کہ مسیح آئے گا اور صلیب کو توڑے گا وہ معنے نہیں رکھتے جو ہمارے قابلِ رحم علماء بیان کر تے ہیں۔ کیونکہ انہوں نے اپنی کوتہ اندیشی سے یہ سمجھا ہوا ہے کہ مسیح دنیا میں آکر ایک بڑے جہاد کا دروازہ کھولے گا۔ اور محمد مہدی خلیفہ سے مل کر دین پھیلانے کے لئے لڑائیاں کرے گا۔ اور تلوار اُٹھائے گا اور ایک بڑی خونریزی ہوگی جو دنیا کے ابتدا سے اس وقت تک کبھی نہیں ہوئی ہوگی۔ اور یہاں تک خونریزی کرے گا جو زمین کو خون سے بھر دے گا سو یاد رہے کہ یہ عقیدہ سراسر باطل ہے بلکہ وہ حق محض جوخدا نے ہمیں سمجھایا ہے یہ ہے کہ مسیح جس کا دوسرانام مہدی ہے دنیا کی بادشاہت سے ہرگز حصہ نہیں پائے گا بلکہ اس کے لئے آسمانی بادشاہت ہوگی۔ اور یہ جو حدیثوں میں آیا ہے کہ مسیح حکم ہوکر آئے گا اوروہ اسلام کے تمام فرقوں پر حاکم عام ہوگاجس کا ترجمہ انگریزی میں گورنرجنرل ہے سو یہ گورنری اُس کی زمین کی نہیں ہوگی بلکہ ضرور ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ ابن مریم کی طرح غربت اور خاکساری سے آوے ۔سو ایسا ہی وہ ظاہر ہوا تا وہ سب باتیں پوری ہوں جو صحیح بخاری میں ہیں کہ یضع الحرب یعنی وہ مذہبی جنگوں کو موقوف کردے گا اور اُس کا زمانہ امن اور صلح کاری کا ہوگا۔ جیسا کہ یہ بھی لکھا ہے کہ اُس کے زمانہ میں شیر اور بکری ایک گھاٹ سے پانی پئیں گے اور سانپوں سے بچے کھیلیں گے اور بھیڑیئے اپنے حملوں سے باز آئیں گے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ ایک ایسی سلطنت کے زیر سایہ پیدا ہوگا جس کا کام انصاف اور عدل گستری ہوگا۔ سو اِن حدیثوں سے صریح اور کھلے طور پر انگریزی سلطنت کی تعریف ثابت ہوتی ہے کیونکہ وہ مسیح اِسی سلطنت کے ماتحت پیدا ہوا ہے اور یہی سلطنت ہے جو اپنے انصاف سے سانپوں کو بچوں کے ساتھ ایک جگہ جمع کر رہی ہے اور ایسا امن ہے کہ کوئی کسی پر ظلم نہیں کرسکتا۔ اس لئے مجھے جو میں مسیح موعود ہوں زمین کی بادشاہت سے کچھ تعلق نہیں بلکہ ضرور تھا کہ میں غربت اور مسکینی سے آتا۔ تا اس اعتراض کو دنیا پر سے اُٹھا دیتا کہ ’’ اسلام تلوار سے پھیلا ہے نہ آسمانی نشانوں سے ‘‘ کیونکہ مسیح موعود کا آنا عیسائی خیالات کی شکست کے لئے تھا۔ پھر جبکہ مسیح نے خود ہی جبر کرناشروع کیا اور تلوار سے لوگوں کو مسلمان کرنے لگا اور ایسی تعلیم دینے لگا تو اس صورت میں وہ عیسائیوں کے اُن اعتراضات کو اور پختہ کرے گا جو جہاد کے بارے میں اسلام کی نسبت وہ رکھتے ہیں۔ نہ یہ کہ ان کو دُور کردے گا۔ اِس لئے خدا کے سچے مسیح اور مہدی کے لئے ضروری ہے کہ آسمانی نشانوں کے ساتھ دین کو پھیلا وے تا وہ لوگ شرمندہ ہوں جنہوں نے خدا کے دین اسلام پر ناحق جھوٹے الزام لگائے۔‘‘(تریَاق القلوُب، روحانی خزائن جلد ۱۵صفحہ ۱۴۴-۱۴۵)
اس زمانے میں تلوار اٹھانا حدیث کو مشتبہ کرتا ہے
اس زمانے میں شدت پسندی اسلام کے چہرے کو مسخ کرنے کی مذموم کوشش ہے۔ اللہ تعالیٰ اسلام کے امن کے چہرے کو دنا کے سامنے ایک معجزہ کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے۔ اور یہ لوگ اس میں روک پیدا کرتے ہیں۔ اس بارے میں حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ مسیح موعود کا وقت ایسا وقت بیان کیا گیا ہے کہ اس وقت اشاعت اسلام کے تمام اسباب معطل ہوجائیں گے اور مسلمانوں کے دونوں ہاتھ درماندہ ہو جائیں گے کیونکہ خدا کی غیرت اس بات کو چاہے گی کہ اس اعتراض کو اٹھاوے اور دفع اور دور کرے جو کہا گیا ہے کہ اسلام تلوار کے ذریعہ سے پھیلایا گیا پس مسیح موعود کے وقت کے لئے یہ حکم ہے کہ تلواروں کو نیام میں کریں اور مذہب کے لئے کوئی شخص تلوار نہ اٹھائے اور اگر اٹھائے گا تو کافروں سے سخت شکست اٹھائے گا اور ذلیل ہوگا ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ کی جماعت جن کو انہوں نے مصر سے نکالا تھا ایسی لڑائیوں میں ہمیشہ مغلوب ہوتی رہی جن لڑائیوں کے لئے موسیٰ کے منشاء کے برخلاف انہوں نے پیش قدمی کی ۔ سو اب بھی ایسا ہی ہوگا کیونکہ مسیح موعود کا آسمان سے نازل ہونا اسی رمز سے قرار دیا گیا ہے کہ اس کا ہاتھ زمینی اسباب کو نہیں چھوئے گا۔ اور وہ محض آسمان کے پانی سے اسلام کے باغ کی آبپاشی کرے گا۔ کیونکہ اب خدا تعالیٰ اس معجزہ کو دکھلانا چاہتا ہے کہ اسلام اپنے شائع ہونے میں تلوار اور انسانی اسباب کا محتاج نہیں۔ پس جو شخص باوجود اس صریح ممانعت اور موجودگی حدیث یضع الحرب کے پھر تلوار اٹھاتا ہے اور غازی بننا چاہتا ہے گویا وہ ارادہ کرتا ہے کہ اس معجزہ کو مشتبہ کردے جس کا ظاہر کرنا خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے یعنی بغیرانسانی اسباب کے اسلام کو زمین پر غالب اور محبوب الخلائق بنا دینا۔(خطبہ الہامیہ ، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحہ ۵۰-۵۱،حاشیہ)
پھر آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’اب جب مسیح موعود آگیا تو ہر ایک مسلمان کا فرض ہے کہ جہاد سے باز آوے۔ اگر مَیں نہ آیا ہوتا تو شائد اس غلط فہمی کا کسی قدر عذر بھی ہوتا مگر اب تو میں آگیا اور تم نے وعدہ کا دن دیکھ لیا۔ اس لئے اب مذہبی طور پر تلوار اٹھانے والوں کا خدا تعالیٰ کے سامنے کوئی عذر نہیں۔ جو شخص آنکھیں رکھتا ہے اور حدیثوں کو پڑھتا او رقرآن کو دیکھتا ہے وہ بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ یہ طریق جہاد جس پر اس زمانہ کے اکثر وحشی کار بند ہو رہے ہیں۔ یہ اسلامی جہاد نہیں ہے بلکہ یہ نفس امارہ کے جوشوں سے یا بہشت کی طمع خام سے ناجائز حرکات ہیں جو مسلمانوں میں پھیل گئے ہیں۔‘‘(گورنمنٹ انگریزی اور جہاد، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۹-۱۰)
اس زمانے میں تلوار سےمسلمان کرنا ممکن نہیں
اس زمانے میں تلوار سےمسلمان کرنے کو ناممکن اور بےہودہ خیال قرار دیتے ہوئے حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ مسیح موعود کیلئے یہ نشان قرار دیا گیا۔ یضع الحرب۔ اب یہ تو اُس کی سچائی کا نشان ہے کہ وہ لڑائی نہ کرے گا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ اس زمانہ میں مخالفوں نے بھی مذہبی لڑائیاں چھوڑ دیں۔ ہاں اس مقابلہ نے ایک صورت اور رنگ اختیار کر لیا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ قلم سے کام لے کراسلام پر اعتراض کررہے ہیں۔ عیسائی ہیں کہ ان کا ایک ایک پرچہ پچاس پچاس ہزار نکلتا ہے اور ہر طرح کوشش کرتے ہیں کہ لوگ اسلام سے بیزار ہو جائیں۔ پس اس کے مقابلہ کے لئے ہمیں قلم سے کام لینا چاہئے یا تیر چلانے چاہئیں؟ اس وقت تو اگر کوئی ایسا خیال کرے تو اُس سے بڑھ کر احمق اور اسلام کا دشمن کون ہوگا؟ اس قسم کا نام لینا اسلام کو بدنام کرنا ہے یا کچھ اور؟ جب ہمارے مخالف اس قسم کی سعی نہیں کرتے حالانکہ وہ حق پر نہیں اور پھر کیسا تعجب اور افسوس ہوگا کہ اگر ہم حق پر ہو کر تلوار کا نام لیں۔ اس وقت تم کسی کو تلوار دکھا کر کہو کہ مسلمان ہو جا ورنہ قتل کردوں گا۔ پھر دیکھونتیجہ کیا ہوگا وہ پولیس میں گرفتار کراکے تلوار کا مزہ چکھا دے گا۔
یہ خیالات سراسر بیہودہ ہیں ان کو سروں سے نکال دینا چاہئے۔ اب وقت آیا ہے کہ اسلام کا روشن اور درخشاں چہرہ دکھایا جاوے۔ یہ وہ زمانہ ہے کہ تمام اعتراضوں کو دُور کردیا جاوے اور جو اسلام کے نورانی چہرہ پر داغ لگایا گیا ہے اُسے دور کر کے دکھایا جاوے۔ مَیں یہ بھی افسوس سے ظاہر کرتا ہوں کہ مسلمانوں کے لئے جو موقعہ خدا تعالیٰ نے دیا ہے اور عیسائی مذہب کے اسلام میں داخل کرنے کے لئے جو راستہ کھولا گیا تھا اسے ہی بُری نظر سے دیکھا اور اس کا کفر کیا۔(لیکچر لدھیانہ،روحانی خزائن جلد ۲۰صفحہ ۲۷۴-۲۷۵)
یہ حکم سن کے بھی جو لڑائی کو جائے گا
وہ کافروں سے سخت ہزیمت اٹھائے گا
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ شعر ایک عظیم تنبیہ ہے کہ اس زمانے میں مذہب کے نام پر تشدد اور تلوار کو اختیار کرنے والے کامیاب نہیں ہو سکتے۔ گذشتہ صدیوں میں شدت پسند تحریکوں اور دہشت گرد تنظیموں نے اسلام کی حقیقی تصویر کو نقصان پہنچایا اور خود بھی ذلت اور ناکامی سے دوچار ہوئیں۔ اس کے برعکس محبت، دلائل اور اخلاق کے ذریعے اسلام کا پیغام زیادہ مؤثر انداز میں دنیا تک پہنچا۔ یہ پیشگوئی آج بھی انسانیت کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ پائیدار کامیابی امن اور روحانیت میں مضمر ہے۔
نواب صدیق حسن کا نشان
ریاست بھوپال کے نواب صدیق حسن خان کی تحریرات سے بھی کئی مسلمان متاثر تھے جن سےجبر اور شدت پسندی کا عنصر واضح ہوتا ہے۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے اس کی بھی تردید اور اسلامی تعلیم کی وضاحت فرمائی۔ فرمایا :نواب صدیق حسن خان نے بعض اپنی کتابوں میں لکھا تھا کہ جب مہدی معہود پیدا ہوگا تو غیر مذاہب کے سلاطین گرفتار کرکے اس کے سامنے پیش کئے جائیں گے اور یہ ذکر کرتے کرتے یہ بھی بیان کر دیا کہ چونکہ اس ملک میں سلطنت برطانیہ ہے اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ مہدی کے ظہور کے وقت اس ملک کا عیسائی بادشاہ اسی طرح مہدی کے رو برو پیش کیا جائے گا۔ یہ الفاظ تھے جو اُنہوں نے اپنی کتاب میں شائع کئے تھے جو ابتک ان کی کتابوں میں موجود ہیں اور یہی موجب بغاوت سمجھے گئے اور یہ اُن کی غلطی تھی کہ اُنہوں نے ایسا لکھا کیونکہ ایسے خونی مہدی کے بارہ میں کوئی حدیث صحیح ثابت نہیں بلکہ محدّثین کا اتفاق ہے کہ مہدیء غازی کے بارہ میں جس قدر حدیثیں ہیں کوئی بھی ان میں جرح سے خالی نہیں سب مغشوش اور صحت کے درجہ سے گری ہوئی ہیں البتہ مسیح موعود کے آنے کے لئے بہت سی حدیثیں موجود ہیں سو ان کے ساتھ یہ بھی الفاظ موجود ہیں کہ وہ جہاد نہیں کر ے گا۔ اور کفار کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں کرے گا اور اس کی فتح محض آسمانی نشانوں سے ہوگی۔ چنانچہ صحیح بخاری میں مسیح موعود کی نسبت حدیث یضع الحرب موجود ہے یعنی جب مسیح موعود آئے گا تو جنگ اور جہاد کی رسم کو اُٹھا دے گا اور کوئی جنگ نہیں کرے گا اور صرف آسمانی نشانوں اور خدائی تصرّفات سے دینِ اسلام کو زمین پر پھیلائے گا۔چنانچہ میرے وقت میں اب یہ آثار دُنیا میں موجود بھی ہو رہے ہیں اور یہی سچ ہے اور میں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مسیح موعود ہوں خدا نے مجھے یہ حکم نہیں دیا کہ میں جہاد کروں اور دین کے لئے لڑائیاں کروں بلکہ مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں نرمی کروں اور دین کی اشاعت کے لئے خدا سے مدد مانگوں اور آسمانی نشان اور آسمانی حملے طلب کروں اور مجھے اُس خدائے قدیر نے وعدہ دیا ہے کہ میرے لئے بڑے بڑے نشان دکھائے جائیں گے اور کسی قوم کو طاقت نہیں ہوگی کہ میرے خدا کے مقابل پر جو آسمان سے میری مدد کرتا ہے اپنے باطل خداؤں کا کوئی نشان ظاہر کر سکیں۔ چنانچہ میرا خدا اب تک میری تائید میں صدہا نشان ظاہر کر چکا ہے۔
پس نواب صدیق حسن خان کا یہ خیال صحیح نہیں تھا کہ مہدی کے زمانہ میں جبر کرکے لوگوں کو مسلمان کیا جائے گا۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ لَاۤ اِکۡرَاہَ فِی الدِّیۡنِ (البقرة: ۲۵۷) یعنی دین اسلام میں جبر نہیں ہے ہاں عیسائی لوگ ایک زمانہ میں جبرًا لوگوں کو عیسائی بناتے تھے مگر اسلام جب سے ظاہر ہوا وہ جبر کے مخالف ہے جبر اُن لوگوں کا کام ہے جن کے پاس آسمانی نشان نہیں مگر اسلام تو آسمانی نشانوں کا سمندر ہے۔ کسی نبی سے اس قدر معجزات ظاہر نہیں ہوئے جس قدر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیونکہ پہلے نبیوں کے معجزات اُن کے مرنے کے ساتھ ہی مر گئے ۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات اب تک ظہور میں آرہے ہیں اور قیامت تک ظاہر ہوتے رہیں گے جو کچھ میری تائید میں ظاہر ہوتا ہے دراصل وہ سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات ہیں۔ مگر کہاں ہیں وہ پادری یا یہودی یا اور قومیں جو ان نشانوں کے مقابل پر نشان دکھلا سکتے ہیں۔ ہر گز نہیں! ہر گز نہیں!! ہر گز نہیں!!! اگرچہ کوشش کرتے کرتے مر بھی جائیں۔ تب بھی ایک نشان بھی دکھلا نہیں سکتے۔ کیونکہ ان کے مصنوعی خدا ہیں سچے خدا کے وہ پیرو نہیں ہیں۔ اسلام معجزات کا سمندر ہے اس نے کبھی جبر نہیں کیا اور نہ اس کو جبر کی کچھ ضرورت ہے۔(حقیقۃالوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۴۶۷-۴۶۹)
اسلام کی تبلیغ کرنا اصل جہاد ہے
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسانیت کو عدل، انصاف، رحم اور باہمی احترام کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن کریم نے ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیا ہے اور مذہبی آزادی کو بنیادی حق تسلیم کیا ہے۔ اسلام نفرت، ظلم اور زیادتی کی حوصلہ شکنی کرتا ہے اور معاشرے میں محبت اور بھائی چارے کو فروغ دیتا ہے۔ یہی جامع تعلیمات آج کی جنگ زدہ دنیا کے لیے امن، استحکام اور بقائے باہمی کی ضمانت فراہم کرتی ہیں اور انسانیت کو تباہی سے بچانے کا بہترین ذریعہ ہیں۔
خلفائے احمدیت نے ہمیشہ عالمی امن، انصاف اور بھائی چارے کے قیام کے لیے آواز بلند کی ہے۔ حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مسلسل عالمی راہنماؤں، پارلیمانوں اور مختلف فورمز پر انصاف اور امن کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ آپ کی تقاریر میں بار بار اس حقیقت کو اجاگر کیا جاتا ہے کہ دنیا کا حقیقی امن صرف انصاف، خدا تعالیٰ کی طرف رجوع اور انسانیت کی خدمت سے قائم ہو سکتا ہے۔ جماعت احمدیہ کا عالمی نصب العین ’’محبت سب کے لیے، نفرت کسی سے نہیں ‘‘اسی امن پسند فکر کا مظہر ہے۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ دلائل کے ساتھ اسلام کی خوبیاں بتانا اور اسلام کی تبلیغ کرنا اصل جہاد ہے۔اور ہر احمدی کا یہ فرض بنتا ہے کہ اسلام اور احمدیت کا پیغام پہنچائے۔ یقینا ًاس کی وجہ سے قربانیاں بھی دینی پڑیں گی۔ لیکن یہ قربانیاں ہی ہیں جن کی و جہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی چوٹی جہاد کو قرار دیا ہے۔ اور اس نیکی میں ہر احمدی کو ایک دوسرے سے بڑھنے کی خاص کوشش کرنی چاہئے۔ اپنے عملوں کو بھی درست کریں کہ اسے دیکھ کر لوگ آپ کی طرف متوجہ ہوں اور پھر تبلیغ کے میدان میں کود جائیں۔ آپ کی وطن سے محبت بھی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ان لوگوں کو احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے بارے میں بتائیں، اس کی خوبیاں بتائیں۔ آئندہ انسانیت کی بقا بھی اسی میں ہے کہ دنیا ایک خدا کو مانے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے۔ پس اس چوٹی کو حاصل کرنے کے لئے ہر احمدی کو چاہئے کہ ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرے۔ ورنہ ہمارا یہ دعویٰ غلط ہو گا کہ ہم ہر میدان میں نیکیوں میں آگے بڑھنے والے لوگ ہیں اور یہ ہمارا مطمح نظر ہے اور یہی ہمارا مقصد ہے۔ (خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۹؍اپریل ۲۰۰۵ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل۱۳؍مئی ۲۰۰۵ء)
پس’’يضع الحرب‘‘کی پیشگوئی اور’’یہ حکم سن کے بھی جو لڑائی کو جائے گا، وہ کافروں سے سخت ہزیمت اٹھائے گا‘‘ کا شعر اس زمانہ میں تشدد اور انتہا پسندی کے خاتمہ کا اعلان ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پاکیزہ اسوہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد اور اصل اسلامی تعلیمات کا بتانا اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہیں کہ اسلام امن، محبت اور انسانیت کی فلاح کا مذہب ہے۔
حضرت مسیح موعودؑ نے اسلام کے حقیقی مزاج اور زمانےکی ضرورت کی طرف توجہ دلائی ۔ آپؑ نے زور دیا کہ اب اسلام کی فتح تلوار کے ذریعے نہیں بلکہ دلائل، دعا اور اعلیٰ اخلاق کے ذریعے ہونی ہے۔ آپؑ نے ہر قسم کی مذہبی انتہا پسندی اور تشدد کی نفی کرتے ہوئے امن، محبت اور اخوت کو فروغ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ جماعت احمدیہ کا پیغام دنیا بھر میں امن اور انسان دوستی کی علامت بن چکا ہے۔جماعت احمدیہ اسی پیغام کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچا رہی ہے۔ اگر انسانیت ان تعلیمات کو اپنالے تو دنیا امن، انصاف اور حقیقی خوشحالی کا گہوارہ بن سکتی ہے۔
ہم اپنا فرض دوستو اب کر چکے ادا
اب بھی اگر نہ سمجھو تو سمجھائے گا خدا
مزید پڑھیں: لیگ آف نیشنز کی طرح اقوام متحدہ کا ادارہ کیوں ناکام ہوا؟




