ہنسنامنع ہے!
پریشان
سلیم: کیا ہوا؟ ا ٓج پھر پریشان بیٹھے ہو۔
نعیم: میں امرود کھا رہا تھا تو اِس میںکیڑا نظر آگیا۔
سلیم:تو اِس میں پریشان ہونے والی کیا بات ہے؟ امرود پھینک دو۔
نعیم پریشانی سے:وہ کیڑاا ٓدھا رہ گیا ہے!
لِپ سٹک
ایک نَوعمر طالبہ اپنے والد کو ’’پاپا‘‘ کہتی تھی۔ وہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے انگلستان گئی۔ تعلیم حاصل کر کےواپس آئی تو اس کے والد اُسے لینے ایئرپورٹ گئے۔ ایئر پورٹ سے نکل کر لڑکی کی نظر جیسے ہی والد پر پڑی تو ’’ہیلو ڈیڈی ‘‘کہتی ہوئی لپکی تو والدنے کہا :پہلے تم مجھے پاپا کہتی تھی اب ڈیڈی کہہ رہی ہو۔
بیٹی نے جواب دیا :میں آپ کو پاپا کہتی ہوں تو میرے ہونٹوں کی لِپ سٹک اتر جاتی ہے۔
قید
پانچ روپے کے سکے نے پانچ ہزار کے نوٹ سے پوچھا، کیسے ہو جناب؟
نوٹ بولا: مزے میں ہوں، کبھی فائیو سٹار، کبھی شاپنگ مال، کبھی فوڈ سٹریٹ، کبھی تجوری میں، کبھی بینک میں، کبھی پکنک اور کبھی دبئی گھوم پھر کر آجاتا ہوں۔ اور تم سناؤ؟
پانچ روپے کا سکہ:کیا بتاؤں جناب، دکانوں سے گھوم پھر کر آتا ہوں تووہی غلک میں قید رہتا ہوں۔
پان یا کان
لکھنؤ کی ایک دعوت میں پان پیش کیے جا رہے تھے۔ ایک شاعر اپنا کلام سنانے میں مگن تھے۔ میزبان نے ان سے کہا :جناب پان کھائیے۔
ایک شاعر (بے ساختہ انداز میں): بھائی صاحب یہ پان نہیں دوسروں کے کان کھاتے ہیں۔
سزا
سکول میں کلاس کے دوران اُستاد نے بچوں سے کہا کہ اگر آج کسی نے شور کیاتو سزا کے طور پر نیچے بنے ہوئے لان میں بھیج دوں گا۔
تھوڑی دیر بعد ایک شرارتی لڑکا بے ساختہ ہنس پڑا تو استاد نے اُسے باہر نکال دیا۔ اتنے میں ایک چھوٹا بچہ اُستاد کے قریب آیا اور کہنے لگا: سر ہنسا تو میں بھی تھا شاید آپ کے کانوں تک میری آواز نہیں پہنچی۔
بر جستہ
ایک جگہ مشاعرہ ہو رہا تھا۔ ایک شاعر مائیک پر اپنا کلام سنا رہے تھے کہ اچانک لاؤڈ اسپیکر خراب ہو گیا۔ شاعر کی آواز خاصی کمزور تھی۔ نحیف آواز کے پیش نظر منتظم مشاعرہ نے شاعر سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا :جناب مصرعہ اٹھایئے۔
مشاعرے میں برجستہ ایک آواز بلند ہوئی: کیوں صاحب، شاعر ہی کو کیوں نہ اٹھا دیا جائے؟
ڈبل روٹی
والد: اسد آپ آج یہ دو روٹیاں جوڑ کر کیوں کھا رہے ہو؟
اسد: ابا جان ! ڈاکٹر نے میرا معائنہ کرنے کے بعد کھانا کھانے کی اجازت دے دی اور کہا، ڈبل روٹی کھانا۔
تاخیر
استاد: ریاض! تم اتنی دیر سے کالج کیوں آئے ہو؟
ریاض: جناب ! میں خواب میں امریکہ چلا گیا تھا۔
پھر استاد نے دوسرے شاگرد سے پوچھا۔ فیاض تم نے کالج آنے میں کیوں تاخیر کی؟
فیاض: سر میں فیاض کو رخصت کرنے ایئرپورٹ گیا تھا۔
٭…٭…٭
