متفرق مضامین

والدین کا عالمی دن

کیا والدین کی خدمت کے لیے ایک دن کافی ہے؟

(بشریٰ شفیق۔کینیڈا)

والدین کی محبت کسی صلہ کی محتاج نہیں ہوتی، نہ ہی والدین کی خدمت کرکے انسان اُن پرکوئی احسان کرتاہے۔ والدین کے حقوق کی بجاآوری تو اولاد کے اوّلین فرائض میں داخل ہے۔ دنیاوالوں نے توباقی ایّام کی طرح اب والدین کادن بھی مناناشروع کردیاہے۔ والدین کا عالمی دن ہر سال یکم جون کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے زیراہتمام منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا آغاز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ۱۷ستمبر ۲۰۱۲ء کو ایک قرارداد کے ذریعے کیا۔ اس دن کا مقصد بچوں کی پرورش ،تربیت اور کردار سازی میں والدین کی محبت ، بے لوث قربانیوں اور ان کے اہم کردار کو سراہنا اور خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔ سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ کیا ماں باپ کےاحسانوں کابدلہ ایک دن اُن کی نگہداشت کرکے اٹھایاجاسکتاہے۔ ہاں وہ جواپنے بوڑھےوالدین کوسینئر ہومز میں چھوڑآتے ہیں اورپھر سال بھرمیں ایک ہی دن اُن کونصیب ہوتاہے کہ جاکراپنے وقت میں سے چندلمحہ اپنے ماں یاباپ جوبھی ان دونوں میں سےزندہ ہوتاہے، کےساتھ گذارلیں، ایسے لوگوں کےلیے توایک دن ہی کافی ہے۔ اس دن کوغنیمت جانتے ہوئے ماں باپ اپنی اولاد کی ایک جھلک تودیکھ لیتے ہوں گے۔ مگر بحیثیت مسلمان اوراحمدی مسلمان ہونے کے ہمارافرض ہے کہ والدین سے متعلق اللہ تعالیٰ کےحکموں پرعمل کریں۔
بے شک والدین اللہ تعالیٰ کی طرف سےبہت بڑی نعمت ہیں۔ ان کی خدمت اور اطاعت ہر حال میں اولاد پر فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو مختلف رشتوں میں پرویا ہے اور پھر رشتے بنانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے حقوق مقرر فرمائے ہیں ۔ ان حقوق میں سے ہر ایک کا ادا کرنا ضروری ہے۔ لیکن والدین کے حق کو اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں اپنی بندگی اور اطاعت کے فوراً بعدرکھاہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مخلوقِ خدا میں حق والدین کو باقی تمام حقوق پر فوقیت حاصل ہے ۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَقَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ وَبِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا ؕ اِمَّا یَبۡلُغَنَّ عِنۡدَکَ الۡکِبَرَ اَحَدُہُمَاۤ اَوۡ کِلٰہُمَا فَلَا تَقُلۡ لَّہُمَاۤ اُفٍّ وَّلَا تَنۡہَرۡہُمَا وَقُلۡ لَّہُمَا قَوۡلًا کَرِیۡمًا۔ (بنی اسرائیل:۲۴)اور تیرے ربّ نے فیصلہ صادر کردیا ہے کہ تم اُس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین سے احسان کا سلوک کرو۔ اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک تیرے پاس بڑھاپے کی عمر کو پہنچے یا وہ دونوں ہی، تو اُنہیں اُف تک نہ کہہ اور انہیں ڈانٹ نہیں اور انہیں نرمی اور عزت کے ساتھ مخاطب کر۔
اسلام نےتو غیر مسلم والدین کے ساتھ بھی اچھا برتاؤ کرنے کا حکم دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتاہے ۔ترجمہ: اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے حق میں تاکیدی نصیحت کی۔ اس کی ماں نے اسے کمزوری پر کمزوری میں اٹھائے رکھا اور اس کا دودھ چھڑوانا دو سال میں (مکمل) ہوا۔ (اسے ہم نے یہ تاکیدی نصیحت کی) کہ میرا شکر ادا کر اور اپنے والدین کا بھی۔ میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ اور اگر وہ دونوں(بھی) تجھ سے جھگڑا کریں کہ تُو میرا شریک ٹھہرا جس کا تجھے کوئی علم نہیں تو ان کی اطاعت نہ کر اور اُن دونوں کے ساتھ دنیا میں دستور کے مطابق رفاقت جاری رکھ اور اُس کے راستےکی اِتباع کر جو میری طرف جھکا۔ پس میری ہی طرف تمہارا لوٹ کر آنا ہے ۔ پھر میں تمہیں اس سے آگاہ کروں گا جو تم کرتے رہے ہو ۔ (لقمان: ۱۵-۱۶ )
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین بچپن میں ہی وفات پا گئے تھے مگر جب بھی آپﷺ کی رضائی والدہ حضرت حلیمہ سعدیہ آپﷺ سے ملنے آتیں تو آپﷺ ان کے احترام میں کھڑے ہو جاتے اور ان کے لیے اپنی چادر بچھا دیتے تھے۔ اور پھر جب وہ جانے لگتیں تو انہیں تحائف دے کر رخصت کرتے ۔حضرت عبداللہ ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپﷺ سے جہاد کے لیے اجازت طلب کی۔ آپﷺ نے فرمایا ، کیا تمہارے والدین زندہ ہیں؟ اس شخص نے عرض کیا جی ہاں۔ تو آپﷺ نے فرمایا پھر انہی کی خدمت کر کے جہاد کرو۔ ( صحیح بخاری، حدیث ۵۹۷۲)حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسولؐ ! لوگوں میں میرے حسن سلوک کا مستحق کون ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا تمہاری ماں ۔ اس نے کہا پھر کون؟ آپﷺ نے فرمایا تمہاری ماں ۔ اس نے کہا پھر کون ؟ آپﷺ نے فرمایا تمہاری ماں ۔ اس نے کہا پھر کون ؟ (چوتھی بار) آپﷺ نے فرمایا تمہارا باپ ۔(صحیح بخاری، حدیث ۵۹۷۱ )
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بد نصیب قرار دیا ہے جو والدین کو بڑھاپے کی حالت میں پا کر بھی جنت میں داخل نہ ہو سکے ۔حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا ۔ اس شخص کی ناک خاک میں ملے ۔ اس شخص کی ناک خاک میں ملے ۔ اس شخص کی ناک خاک میں ملے ۔ ( تین مرتبہ فرمایا ) ۔ پوچھا گیا اے اللہ کے رسول ؐ! کس کی ناک خاک میں ملے؟ تو آپﷺ نے فرمایا ۔ جس نے ماں باپ دونوں کو یا ان میں سے کسی ایک کو بڑھاپے میں پایا اور ان کی خدمت کر کے جنت میں داخل نہ ہو سکا ۔( صحیح مسلم ، حدیث۴۶۱۳)
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی رضامندی والدین کی رضامندی میں ہے اور خدا تعالیٰ کی ناراضگی والدین کی ناراضگی میں ہے ۔والدین سے حسن سلوک کرنے سے عمر میں برکت اور رزق میں فراوانی آتی ہے ۔ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا کہ جس کو یہ بات اچھی لگتی ہو کہ اس کی عمر لمبی کر دی جائے اور اس کے رزق میں اضافہ کر دیا جائے تو وہ والدین سے اچھا برتاؤ کرے اور اپنے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرے ۔ والدین کی نافرمانی کرنا کبیرہ گناہ ہے ۔حضرت ابوبکر صدیقؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ میں تمہیں سب سے بڑے گناہ کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں اے اللہ کے رسول ؐ؟ آپﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا اور والدین کی نافرمانی کرنا اور انہیں اذیت پہنچانا۔(صحیح بخاری حدیث۴۸۷۰)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتےہیں:”جوشخص اپنے ماں باپ کی عزت نہیں کرتااورامورمعروفہ میں جوخلاف قرآن نہیں ہیں ان کی بات کونہیں مانتااوران کی تعہّدخدمت سے لاپرواہ ہےوہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔“ (کشتی نوح،روحانی خزائن جلد ۱۹،صفحہ ۱۹)
یہ بات ہمیشہ یادرکھنی چاہیے کہ والدین ہم سے کچھ نہیں مانگتے، سوائے اس کے کہ آپ ان سے محبّت کریں ، ان کی عزّت کریں، اور ان کی زندگی کے آخری ایام کو سکون بھری مسکراہٹوں سے بھر دیں۔ ان کی آنکھیں ہماری کامیابیوں کےخواب دیکھتی ہیں، ان کے لب وہ دُعائیں کرتے ہیں جو ہماری دنیاو آخرت سنوارنے کاباعث بنتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس بات کی توفیق اور سمجھ دے کہ ہم اللہ تعالیٰ اور رسول کریمﷺ کےحکموں پرعمل کرتے ہوئے اپنے والدین کی خدمت ایک دن نہیں بلکہ روزانہ کی بنیادپراپنے فرائض سمجھتے ہوئے ادا کرنے کی کوشش کریں۔ والدین کو خدا تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت سمجھ کر ان کی فرمانبرداری اور اطاعت کریں۔ ان سے ادب و احترام سے پیش آئیں۔ ان پر اپنا مال خرچ کریں اور ان کی رضا اور خوشنودی میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی تلاش کریں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق دے۔ آمین ۔

مزید پڑھیں: واقفینِ نَو کے والدین کی ذمہ داریاں

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button