صنعت وتجارت
ارشاد حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ
حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ فرماتے ہیں: ’’اللہ کا حق اس منافع میں سے نکالنا چاہئے، جو تجارتی منافع ہو۔جو بقیہ ہے، اس کو پھر تجارت میں خرچ کریں، اور پھر دیکھیں کہ اللہ اس میں پہلے سے بہت زیادہ برکت ڈالے گا۔ یہ جو بدظنی ہے اللہ تعالیٰ پر، یہ بڑا نقصان پہنچاتی ہے۔لوگ ڈرتے ہیں کہ تجارت میں سے اگر ہم نے وہ خرچ جو ہم نکالتے ہیں، اسی کو منافع نہ سمجھا تو ہماری تجارتیں ڈوب جائیں گی، اور سچے منافع میں سے روپیہ نکالنے میں سمجھتے ہیں، بڑا نقصان پہنچے گا، حالانکہ نہ نکالنے کا نقصان ہے۔اللہ تعالیٰ اتنا زیادہ عطا کرتا ہے کہ انسان اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔اس لئے اس کی تفصیل میں جانے کی یہاں ضرورت نہیں۔میں صرف اتنا بتا دینا چاہتا ہوں کہ اس نئے زاویہ سے بھی اپنی تجارتوں کا جائزہ لیں اور دوسرے کمائیاں کرنے والوں پر بھی یہ بات صادق آنی چاہئے ۔‘‘(خطبہ جممعہ ۱۰ جولائی ۱۹۹۸ء مطبوعہ خطبات طاہر جلد ۱۷صفحہ۴۶۸)(مرسلہ: وکالت صنعت و تجارت)




