جماعت احمدیہ آسٹریلیا کا اڑتیسواں جلسہ سالانہ ۲۰۲۶ء
٭… حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا بصیرت افروز پیغام
٭… ۱۵؍ممالک سے ۱۱۳؍مہمانان سمیت ۴؍ہزار ۱۳۸؍احباب کی شمولیت
اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ آسٹریلیا کا ۳۸واں جلسہ سالانہ ۲تا ۴؍اکتوبر ۲۰۲۶ء بروز جمعہ تا اتوار مسجد بیت الہدیٰ، سڈنی میں منعقد ہوا۔ جلسہ میں آسٹریلیا بھر سے احباب جماعت نے شرکت کی۔ جلسہ کی مجموعی حاضری ۴۱۳۸؍رہی جبکہ آسٹریلیا کے علاوہ ۱۵؍ممالک سے ۱۱۳؍مہمان بھی شریک ہوئے۔
معائنہ انتظامات:جلسہ سالانہ کے انتظامات کا معائنہ ۳۰؍ستمبر کو مکرم انعام الحق کوثر صاحب امیر جماعت احمدیہ آسٹریلیا نے کیا۔ بعداز نماز مغرب و عشاء مختلف شعبہ جات کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے بعد ڈیوٹیوں کے افتتاح کی تقریب منعقد ہوئی جس کا آغاز تلاوت قرآن کریم و ترجمہ اور نظم سے ہوا۔ اس کے بعد مکرم امیر صاحب نے کارکنان کو جلسہ کے حوالے سے مختلف ہدایات دیں۔ دعا کے ساتھ تقریب اختتام پذیر ہوئی۔

پہلا دن:جلسہ سالانہ کے پہلے دن کا آغاز نماز تہجد سے ہوا۔ دوپہر کے کھانے کے بعد نماز جمعہ و عصر ادا کی گئیں۔ بعدہٗ تقریب پرچم کشائی منعقد ہوئی جس میں امیر صاحب نے لوائے احمدیت جبکہ مکرم محمد خلیل شیخ صاحب نائب امیر دوم نے آسٹریلیا کا قومی پرچم لہرایا۔ اس موقع پر امیر صاحب نے دعا کروائی۔
بعد ازاں مکرم امیر صاحب کی زیر صدارت افتتاحی اجلاس منعقد ہوا۔ مکرم حسن محمود صاحب نے تلاوت قرآن کریم کی اور مکرم Callum Belcastro صاحب نے اس کا انگریزی ترجمہ پیش کیا۔ مکرم عصمت اللہ صاحب نے حضرت مسیح موعودؑ کا اردو منظوم کلام پیش کیا جس کا انگریزی ترجمہ مکرم خاقان احمد صاحب نے کیا۔ بعد ازاں مکرم سید انعام اللہ سادات صاحب نے حضرت مسیح موعودؑ کے فارسی کلام سے اشعار پیش کیے جن کا اردو ترجمہ مکرم شابل اقبال صاحب اور انگریزی ترجمہ مکرم مصور خان ابڑو صاحب نے پیش کیا۔ امیر صاحب نے افتتاحی تقریر کی اور دعا کروائی۔

جلسہ کے دوسرے اجلاس کی صدارت مکرم ناصر کاہلوں صاحب نائب امیر اول جماعت احمدیہ آسٹریلیا نے کی۔ مکرم ابدال احمد گھمن صاحب نے نظم پیش کی جس کا انگریزی ترجمہ مکرم انعام الحق علوی صاحب نے کیا۔ مکرم سید ودود جنود صاحب نے ’’اَنِ اشۡکُرۡ لِیۡ وَلِوَالِدَیۡکَ-میرا اور اپنے والدین کا شکر ادا کرو‘‘ کے موضوع پر انگریزی میں تقریر کی۔ مکرم ڈاکٹر ابرار احمد صاحب نے ’’محبت الٰہی اور اس کے حصول کے ذرائع‘‘ کے موضوع پر اردو میں تقریر کی۔ بعد ازاں مکرم شجر احمد صاحب نے نظم پیش کی جس کا انگریزی ترجمہ مکرم فاران احمد صاحب نے کیا۔ آخری تقریر مکرم مرغوب صدیقی صاحب نے ’’حضرت محمد مصطفیٰﷺ-صفات الٰہیہ کے مظہر‘‘ کے موضوع پر انگریزی میں کی۔
اجلاس کے اختتام پر نماز مغرب و عشاء ادا کی گئیں۔ بعد ازاں مکرم امتیاز احمد نوید صاحب مبلغ سلسلہ نے ایک نکاح کا اعلان کیا۔ مہمانوں کے لیے عشائیہ پیش کیا گیا جبکہ مستورات کے لیے بک سٹال اور نمائش دیکھنے کا خصوصی وقت رکھا گیا۔ اس روز وقف نو، احمدیہ میڈیکل ایسوسی ایشن، احمدیہ انجینئرنگ اینڈ آرکیٹیکٹ ایسوسی ایشن اور احمدیہ لائرز ایسوسی ایشن کی میٹنگز بھی منعقد ہوئیں۔

دوسرا دن:جلسہ کے دوسرے دن کا آغاز باجماعت نماز تہجد سے ہوا۔ صبح کے اجلاس کی صدارت مکرم محمد خلیل شیخ صاحب نائب امیر دوم نے کی۔ مکرم آدرش محمود صاحب نے تلاوت قرآن کریم کی اور مکرم نور الدین عباس صاحب نے اس کا انگریزی ترجمہ پیش کیا۔ مکرم آصف خان صاحب نے حضرت مسیح موعودؑ کا منظوم کلام پیش کیا جس کا انگریزی ترجمہ مکرم محمد فیضان صاحب نے کیا۔ اس کے بعد ان موضوعات پر تقاریر ہوئیں: ’’تبلیغ کے مؤثر طریق اور ہماری ذمہ داریاں‘‘ از مکرم احمد ناصرالدین زکریا صاحب، ’’نظام وصیت کے ذریعہ نظام نو کا قیام‘‘ از مکرم عطاءالرحمٰن مقبول صاحب، ایک نظم کے بعد ’’خدمت دین کو اک فضل الٰہی جانو‘‘ از مکرم ملک عمران احمد صاحب اور ’’ایک مثالی اسلامی عائلی زندگی‘‘ از مکرم ڈاکٹر عامر محمود صاحب۔ چند اعلانات کے بعد نماز ظہر و عصر ادا کی گئیں اور ظہرانہ پیش کیا گیا۔
تیسرا اجلاس مکرم بشیر خان صاحب نیشنل صدر جماعت احمدیہ نیوزی لینڈ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ مکرم حافظ وقاص نعیم باجوہ صاحب نے تلاوت قرآن کریم اور مکرم محمد حامی کلیم صاحب نے اس کا انگریزی ترجمہ پیش کیا۔ مکرم رضی الرحمٰن صاحب نے حضرت مصلح موعودؓ کا منظوم کلام ’’بڑھتی رہے خدا کی محبت خدا کرے‘‘ پیش کیا جس کا انگریزی ترجمہ مکرم ایمان نور صاحب نے کیا۔ اس کے بعد ان موضوعات پر تقاریر ہوئیں: ’’اتحاد، اخوت اور باہمی احترام‘‘ از مکرم امتیاز احمد نوید صاحب اور ’’موجودہ دور میں بدلتی اخلاقی اقدار اور مشکلات‘‘ از مکرم محمد مصلح دین چانڈیو صاحب۔ بعد ازاں گیسٹ اجلاس کی تیاری کی گئی اور شام کو ایم ٹی اے آسٹریلیا نے بک سٹال کی براہ راست کوریج کی۔ اس موقع پر احباب جماعت کی ایک بڑی تعداد نے کتب خریدیں۔
غیر از جماعت مہمانوں کا اجلاس:شام پانچ بجے مکرم امیر صاحب کی زیر صدارت خصوصی گیسٹ اجلاس منعقد ہوا جس میں ممبران پارلیمنٹ، میئرز، کاؤنسلرز اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے مہمانوں نے شرکت کی۔
اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو مکرم محمد عطائے ربی ہادی صاحب مبلغ سلسلہ نے کی اور مکرم نکولس جیفری صاحب نے اس کا انگریزی ترجمہ پیش کیا۔ مکرم امیر صاحب نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور دنیا بھر میں منعقد ہونے والے جلسہ ہائے سالانہ کی تاریخ اور اغراض و مقاصد کے بارے میں بتایا۔ مکرم عصمت اللہ صاحب نے حضرت مسیح موعودؑ کا منظوم کلام ’’حمد و ثنا اسی کو جو ذات جاودانی‘‘ پیش کیا جس کا رواں انگریزی ترجمہ مکرم کامران مبشر احمد صاحب مبلغ سلسلہ نے کیا۔ مکرم صوفی عبدالحکیم صاحب نے ’’امن اور اتحاد: وقت کی ضرورت‘‘ کے موضوع پر انگریزی میں تقریر کی۔ بعد ازاں مکرم رمضان شریف صاحب نے وزیر اعظم آسٹریلیا The Hon. Anthony Albanese اور اٹارنی جنرل آسٹریلیا The Hon. Michelle Rowland کے تہنیتی پیغامات پڑھ کر سنائے۔
وزیر اعظم آسٹریلیا The Hon. Anthony Albanese نے اپنے پیغام میں جماعت احمدیہ کے پیغام ’’محبت سب کے لیے، نفرت کسی سے نہیں‘‘ کو اسلام کی رحم، ہمدردی اور برداشت کی تعلیمات کا خوبصورت مظہر قرار دیا۔ انہوں نے آسٹریلیا میں جماعت کی خدمات اور معاشرے میں اس کے مثبت کردار کو سراہتے ہوئے دعا کی کہ جلسہ سالانہ کے یہ تین دن ایمان میں مضبوطی اور وسیع تر معاشرے کی خدمت کا ذریعہ بنیں۔
بعد ازاں Prue Carr نائب وزیر اعلیٰ New South Wales، ممبران پارلیمنٹ Warren Kirby، Stephen Bali،سابق ممبر آف پارلیمنٹ اور وزیر امیگریشنPhilip Ruddock اور دیگر مہمانوں نے بھی اظہار خیال کیا اور بنی نوع انسان اور آسٹریلیا کے لیے جماعت احمدیہ کی خدمات کو سراہا۔ مکرم امیر صاحب نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور دعا کروائی۔ بعد ازاں مہمانوں کے لیے عشائیہ پیش کیا گیا۔
تیسرا اور آخری دن:جلسہ کے تیسرے دن کا آغاز بھی نماز تہجد سے ہوا۔ گذشتہ روز سڈنی میں شدید طوفان باد و باراں اور موسلادھار بارش کے باعث مستورات کا اجلاس مؤخر کردیا گیا تھا، چنانچہ یہ اجلاس تیسرے روز کی صبح مستورات کی مارکی میں مکرمہ نجم السحر چودھری صاحبہ نیشنل صدر لجنہ اماء اللہ آسٹریلیا کی زیر صدارت منعقد ہوا۔
تلاوت قرآن کریم اور نظم کے بعد مکرمہ ہاجرہ نصرت جہاں حق صاحبہ نے ’’مثالی مسلمان عورت بننے کی جستجو: تاریخ کی صالح خواتین کی سیرت سے راہنمائی‘‘ اور مکرمہ رمشا سید صاحبہ نے ’’صبر، قوت برداشت اور عفو و درگزر: مضبوط خاندان اور معاشرے کی بنیاد‘‘ کے موضوعات پر تقاریر کیں۔ بعد ازاں ناصرات کے ایک گروپ نے ترانے پیش کیے جس کے بعد مکرمہ دردانہ بٹر صاحبہ نے ’’جدید دور میں مسلمان خواتین کو درپیش چیلنجز اور اسلامی تعلیمات میں ان کا عملی حل‘‘ کے موضوع پر تقریر کی۔ تمام تقاریر اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں ہوئیں۔ بعد ازاں تعلیمی ایوارڈز تقسیم کیے گئے۔ نیشنل صدر صاحبہ لجنہ اماء اللہ آسٹریلیا نے تقریر کے بعد دعا کروائی۔
مردانہ جلسہ گاہ میں پانچواں اجلاس مکرم امیر صاحب کی صدارت میں منعقد ہوا۔ مکرم انس محمود صاحب نے تلاوت قرآن کریم کی جس کا انگریزی ترجمہ مکرم بلال قعادن صاحب نے پیش کیا۔ مکرم یاسر کلیم صاحب نے حضرت مسیح موعودؑ کا منظوم کلام پیش کیا جس کا انگریزی ترجمہ مکرم مسرور طارق صاحب نے کیا۔ مکرم ابراہیم اعظمی صاحب نے حضرت مسیح موعودؑ کا فارسی منظوم کلام پیش کیا جس کا اردو ترجمہ مکرم ممتاز سیٹھی صاحب اور انگریزی ترجمہ مکرم نوید احمد شاد صاحب نے پیش کیا۔
مکرم دانش خان صاحب نے ’’حضرت مسیح موعودؑ کی بعثت کا مقصد اور ہماری ذمہ داریاں‘‘ کے موضوع پر انگریزی میں تقریر کی۔ اس کے بعد جماعت کے دیرینہ ممبر مکرم ڈاکٹر بشیر احمد صاحب نے اپنی یادیں بیان کیں۔ آپ ۱۹۷۰ء میں آسٹریلیا منتقل ہوئے تھے اور اس عرصہ میں آپ کو مختلف النوع خدمات کی توفیق ملی۔
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ازراہ شفقت جلسہ سالانہ آسٹریلیا کے موقع پر احباب جماعت آسٹریلیا کے لیے محبت بھرا پیغام ارسال فرمایا جو مکرم امیر صاحب نے پڑھا اور اس کا انگریزی ترجمہ پیش کیا۔
بعد ازاں مکرم عبدالنور آفتاب صاحب نے ’’ہر اک نیکی کی جڑ یہ اتقا ہے‘‘ کے موضوع پر انگریزی میں تقریر کی۔ مکرم عصمت اللہ صاحب نے نظم پیش کی جس کا انگریزی ترجمہ مکرم وسیم سہیل صاحب نے کیا۔ مکرم منظور قادر خان صاحب نے ’’خلافت سے وابستگی اور اطاعت کی برکات‘‘ کے موضوع پر انگریزی میں تقریر کی۔ بعد ازاں تعلیمی ایوارڈز تقسیم ہوئے۔
اختتامی اجلاس میں مکرم محمد فرقان صاحب، مکرم شعیب ملک صاحب اور مکرم طاہر اعوان صاحب نے نظم پیش کی۔ مکرم امیر صاحب نے اختتامی تقریر کے بعد دعا کروائی۔ بعض گروپس کی طرف سے پیش کیے جانے والے ترانوں کے بعد نماز ظہر و عصر ادا کی گئیں۔
اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ آسٹریلیا کا ۳۸واں جلسہ سالانہ بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوا۔
(رپورٹ:ثاقب محمود عاطف۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکا جلسہ سالانہ آسٹریلیا ۲۰۲۶ء کے موقع پر بصیرت افروز پیغام
پیارے احباب جماعت احمدیہ آسٹریلیا
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
الحمد للہ کہ جماعت احمدیہ آسٹریلیا کو اپنا ۳۸واں جلسہ سالانہ منعقد کرنے کی توفیق مل رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے اس جلسہ کو ہر لحاظ سے کامیاب فرمائے اور اس کی روحانی برکات سے پوری طرح مستفیض ہونے کی توفیق بخشے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں داخل ہونے کے بعد ہمارا فرض ہے کہ اپنے اندر ہر نیکی اور اچھائی پیدا کریں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہمارا مقصد ہو۔ آپ علیہ السلام نے جلسوں کے انعقاد کا یہی مقصد بتایا ہے کہ زہد و تقوی پیدا کرنا اور اخلاقی حالتوں کو اعلیٰ معیار تک پہنچانا۔ اس لئے ہر احمدی کو اس بات پر نظر رکھنی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہم سے کیا چاہتے ہیں۔
سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں؛ ’’خدا تعالیٰ نے مجھے اس لئے مامور کیا ہے کہ تقویٰ پیدا ہو اور خدا تعالیٰ پر سچا ایمان جو گناہ سے بچاتا ہے پیدا ہو۔ خدا تعالیٰ تاوان نہیں چاہتا بلکہ سچا تقویٰ چاہتا ہے‘‘۔
(ملفوظات جلد 3 صفحہ 100 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ)
نیز فرمایا؛ ’’دل کا تعلق اللہ تعالیٰ سے مضبوط باندھنا چاہیے جب یہ ہو گا تو دل خود خدا سے ڈرتا رہے گا اور جب دل ڈرتا رہتا ہے تو خدا کو اپنے بندے پر خود رحم آ جاتا ہے اور پھر تمام بلاؤں سے اسے بچاتا ہے۔ گناہ سے بچو۔ نماز ادا کرو۔ دین کو دنیا پر مقدم رکھو۔ خدا کا سچا غلام وہی ہوتا ہے جو دین کو دنیا پر مقدم رکھتا ہے۔ (ملفوظات جلد ۵ صفحہ ۴۰۔ جدید ایڈیشن ۲۰۲۲)
اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق باندھنے کے لئے سب سے اول نماز ہے جو عبادت کا مغز ہے اور اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کے لئے سیڑھی ہے۔ اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دس شرائط بیعت میں اس بات کو شامل فرمایا کہ اپنی پنجوقتہ نمازوں کو بلا ناغہ موافق حکم خدا اور رسول ادا کرتا رہے گا۔ نماز کی اہمیت کے بارہ میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے جس چیز کا بندوں سے حساب لیا جائے گا وہ نماز ہے۔ اگر یہ حساب ٹھیک رہا تو وہ کامیاب ہوگیا اور نجات پالی اگر یہ حساب خراب ہوا تو وہ ناکام ہوگیا اور گھاٹے میں رہا۔
پس میری اس جلسہ سالانہ کے موقع پر آپ کو یہ نصیحت ہے کہ نماز باجماعت کے قیام کی طرف ہر احمدی کو توجہ دینی چاہئے۔ میں نے بارہا اس طرف توجہ دلائی ہے کہ اگر عہدیدار، ہر تنظیم کے عہدیدار اور جماعتی سطح کے عہدیدار ہر سطح پر نمازوں کی طرف بھر پور توجہ دیں تو ان کے اندر وہ زہد اور تقویٰ پیدا ہو گا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں ہر احمدی کی اصلاح کے سامان بھی پیدا ہونگے اور اگلی نسلوں کی روحانی بقاء کے سامان بھی پیدا ہونگے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے در پر گرے رہو۔ اپنی عبادتوں کے معیار بلند کرو۔
اللہ تعالیٰ آپ سب کو اپنی عبادتوں کے معیار بلند کرنے اور تعلق باللہ میں بڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
مزید پڑھیں: جاپان میں ناگویا یونیورسٹی کے طلبہ اور ریسرچ اسکالرز کے ساتھ تبلیغی نشست




