جب لڑکا لڑکی یا لڑکی لڑکا بننے کا اظہار کرے
اگر سائنسی طور پر اور علم نفسیات کی روشنی میں اس نفسیاتی کیفیت پر بحث کی جائے اور ٹھوس حقائق کی روشنی میں کی جائے تو یہ ایک قابل تحسین بات اور مثبت تبادلہ خیالات ہو گا۔ لیکن مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب اسے محض ایک سیاسی مسئلہ بنا لیا جاتا ہے۔ اور جو اس رَو کے منافی جزوی طور پر بھی رائے دے اسے تختہ ٔ مشق بنا کر ٹرانسجنڈر افراد کے حقوق کو تلف کر نے والا قرار دیا جاتا ہے
کیلیفورنیا میں ساتویں گریڈ کی ایک لڑکی نے سکول میں اپنے آپ کو لڑکا ظاہر کرنا شروع کر دیا۔ یہ اصرار کیا کہ اسے اصل نام کی بجائے لڑکے کے نام سے پکارا جائے۔ اور اس کے لیے لڑکے کا اسم ضمیر (Pronoun) استعمال کیا جائے۔ اس نے لڑکوں والی حرکات شروع کر دیں۔ اس کے سکول کے کونسلر نے اس کا معائنہ کیا اور کچھ مشورے بھی دیے ہوں گے۔ لیکن انہوں نے اس کے اس اصرار کو تسلیم کر کے اس کے لیے لڑکوں والا نام وغیرہ استعمال کرنا شروع کر دیا۔ لیکن کیا انہوں نے اس کے والدین کو اطلاع دی کہ ان کی بیٹی اس نفسیاتی کیفیت کیا شکار ہے ؟ کیا سکول کی انتظامیہ یا اساتذہ میں سے کسی نے یہ زحمت گوارا کی۔ وہ ایسا نہیں کر سکے کیونکہ اس وقت ریاست کے قوانین اس کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس وقت والدین اپنے بچی کے لیے کسی ماہر ڈاکٹر اور ماہر نفسیات سے مشورہ کر سکتے تھے لیکن وہ ایسا نہیں کر سکے کیونکہ انہیں جان بوجھ کر اس صورت حال سے لاعلم رکھا جارہا تھا۔ حالانکہ وہ اس دوران اپنی بچی کے سکول جا کر اساتذہ سے ملاقات کرتے رہے تھے۔یہ بچی بغیر علاج کے رہی یہاں تک کہ اس کی نفسیاتی کیفیت بگڑتی رہی اور پہلے اسے ہسپتال داخل کرنا پڑا اور پھر اس نے اپنی جان لیے کی کوشش کی۔
یہ غیر مصدقہ واقعہ نہیں ہے بلکہ اس واقعہ کا ذکر ایک امریکی عدالت کے فیصلہ میں کیا گیا ہے۔ قانون کی تاریخ میں یہ مقدمہ Mirabelli et al v. Olson et alکے نام سے معروف ہے۔ اس فیصلہ کا تفصیلی ذکر مضمون کے درمیان میں کیا جائے گا۔لیکن اس عدالتی کارروائی میں ایک ماہر ڈاکٹر نے یہ گواہی دی کہ اگر والدین کو بروقت اطلاع دی جاتی اور والدین اسے ماہر ڈاکٹروں کے پاس لے کر جاتے تو زیادہ امکان یہی تھا کہ یہ نوبت نہ آتی۔ اور ہم آج یہ کارروائی نہ سن رہے ہوتے۔ جیسا کہ اس عدالتی فیصلہ میں بھی ذکر ہے کہ یہ کوئی انوکھا واقعہ نہیں تھا اس قانون کے بننے کے بعد ایسے بہت سے المیے تواتر سے ہو رہے تھے۔
قرآنی ارشادات
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے: وَ مَا خَلَقَ الذَّکَرَ وَ الۡاُنۡثٰۤی۔اِنَّ سَعۡیَکُمۡ لَشَتّٰی۔ (الَّیل :۴ و ۵) ترجمہ: اور اس کی (قسم ہے) جو اس نے نر اور مادہ پیدا کیے۔تمہاری کوشش یقیناََ الگ الگ ہے۔
ان آیات کی تشریح میں حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ فرماتے ہیں:’’مرد جن کاموں کے لیے پیدا کئے گئے ہیں عورتوں سے وہ کام نہیں ہوتے۔ عورتیں مردوں کا کام نہیں دی سکتیں۔ ہر ایک کے مختلف کام اپنے حسب حال مختلف نتیجے پیدا کرتے ہیں۔‘‘
’’پھر مرد اور عورت کی خلقت اور بناوٹ پر غور کرو اور ان کے قدرتی فرائض اور واجبات کو سوچو تو تمہیں صاف طور پر عیاں ہوگا کہ بے ریب تمہاری کوششیں الگ اور اس کے نتائج علیحدہ علیحدہ ہیں۔‘‘ (حقائق الفرقان جلد چہارم صفحہ ۳۹۷ و ۳۹۸)
اسی طرح اللہ تعالیٰ قرآ ن مجید میں فرماتا ہے : وَ اَنَّهٗ خَلَقَ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰى۔ مِنْ نُّطْفَةٍ اِذَا تُمْنٰى۔ (النجم:۴۶ و ۴۷) ترجمہ: اور یہ کہ وہی ہے جس نے جوڑا پیدا کیا، یعنی نر اور مادہ۔ نطفہ سے جب وہ ڈالا جاتا ہے۔
ان آیات کریمہ سے اور حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کی بیان فرمودہ تفسیر سے یہ واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت نے حمل کی ابتدا سے انسانوں کو مردوں اور عورتوں کی صورت میں پیدا کیا ہے اور اسی ابتدا سے ان میں مختلف خواص رکھے ہیں۔ اور مردوں اور عورتوں کے جوڑوں کے نتیجہ میں انسانی معاشرہ قائم رہتا اور ترقی کرتا ہے۔جس طرح ان کے بعض فرائض مشترک ہیں، اسی طرح ان کے کئی فرائض ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اور ان دونوں کو ان فرائض کے حساب سے مختلف قویٰ عطا کیے گئے ہیں۔
کوئی جلد بازی میں یہ اعتراض کر سکتا ہے کہ اس میں کون سا نقطہ بیان کیا گیا ہے؟ ہم سب جانتے ہیں نسل انسانی مردوں اور عورتوں پر مشتمل ہے۔شاید پچھلے زمانوں میں لوگ اس اعتراض کو کوئی وقعت دے سکتے لیکن موجودہ زمانے میں اس تقسیم کو نظر انداز کرنے سے جو بگاڑ پیدا ہو رہے ہیں ان کو اب نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے بہت سے پہلو ہیں لیکن اس مضمون میں صرف ایک پہلو کا ذکر کیا جائے گا۔
احادیث نبویہ ﷺ میں اس مضمون کا بیان
ان آیات کی حکمت کو سمجھنے کے لیے آنحضرت ﷺ کی کچھ احادیث بیان کرنا ضروری ہیں جو ایک طرح سے پیشگوئیوں کا بھی رنگ رکھتی ہیں کیونکہ یہ انذار تھا کہ ایک وقت میں لوگ اس سوچ میں مبتلا ہوں گے۔ صحیح بخاری میں یہ حدیث بیان کی گئی ہے: لَعَنَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ، وَالْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَال۔ (صحیح بخاری کتاب اللباس،باب المتشبهون بالنساء، والمتشبهات بالرجال) ترجمہ: رسول اللہﷺ نے ان مردوں پر لعنت کی جو عورتوں کی طرح بنیں اور ان عورتوں پر لعنت کی جو مردوں کی طرح بنیں۔
سنن ترمذی میں یہ حدیث درج ہے: لَعَنَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُتَشَبِّهَاتِ بِالرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ، وَالْمُتَشَبِّهِينَ بِالنِّسَاءِ مِنَ الرِّجَالِ۔ ( سنن ترمذی۔ کتاب الآداب عن رسول اللّٰہ۔ باب ما جاء في المتشبهات بالرجال من النساء)ترجمہ: رسول اللہﷺ نے لعنت فرمائی ہے ان عورتوں میں پر جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں اور ان مردوں پر جو عورتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں۔
اسی مضمون کی احادیث سنن ابی دائود، کتاب اللباس، باب لباس النساء اور سنن ابن ماجہ کتاب النکاح، باب فی المخنثین میں بیان ہوئی ہیں۔
ایک اَور حدیث میں بیان ہوا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓسے روایت ہے: فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَشَبَّهَ بِالرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ، وَلَا مَنْ تَشَبَّهَ بِالنِّسَاءِ مِنَ الرِّجَالِ۔(مسند احمد بن حنبل۔ مسند عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ۔ حدیث نمبر ۶۸۷۵) ترجمہ: انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ عورتوں میں سے جس نے مردوں کی مشابہت اختیار کی یامردوں میں سے جس نے عورتوں سے مشابہت اختیار کی وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
سنن ابی دائود میں حضرت عائشہ ؓ سے یہ روایت بیان کی گئی ہے: قِيلَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا إِنَّ امْرَأَةً تَلْبَسُ النَّعْلَ، فَقَالَتْ:لَعَنَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلَةَ مِنَ النِّسَاءِ۔(سنن ابی دائودکتاب الباس۔ باب لباس النساء)ترجمہ:حضرت عائشہ ؓکو بتایا گیا کہ ایک عورت جوتا پہنتی ہے(جو کہ مردوں والا جوتا تھا)۔انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔
مشابہت اختیار کرنے سے کیا مراد ہے؟ اس کی وضاحت بعض اور احادیث سے ہوتی ہے۔مثال کے طور پر حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں : لَعَنَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلَ يَلْبَسُ لِبْسَةَ الْمَرْأَةِ، وَالْمَرْأَةَ تَلْبَسُ لِبْسَةَ الرَّجُلِ۔ (سنن ابی دائود۔ کتاب اللباس۔ باب لباس النساء) نبیﷺ نے اس مرد پر جو عورتوں کا لباس پہنتا ہے اور اس عورت پر جو مردوں کا لباس پہنتی ہے لعنت فرمائی ہے۔
بیماروں سے انسانی ہمدردی
اس موضوع پر آگے بڑھنے سے قبل دو مختلف اقسام کو سمجھنا ضروری ہے۔ ایک گروہ تو ایسا ہے کہ جو کسی بیماری یا پیدائشی نقص کی وجہ سے ایسا متاثر ہو، جس کے جنسی اعضاء مکمل طور پر مرد یا عورت کے نہ ہوں۔ ان کی جنس کا تعین طبّی بنیادوں پر بعض اصولوں کے تحت کیا جاتا ہے۔بد قسمتی سے بہت سے معاشروں میں ان کے ساتھ ظالمانہ سلوک روا رکھا گیا ہے۔ ہر مہذب معاشرے میں ان کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے۔ اور ان کی نگہداشت اور تعلیم وغیرہ نہ صرف معاشرے بلکہ ریاست کی بھی ذمہ داری ہے۔کوئی صاحب ضمیر اس سے انکار نہیں کر سکتا۔اس مضمون کا موضوع یہ مظلوم طبقہ نہیں ہے۔
اس مضمون کا موضوع ایسے مرد یا خواتین ہیں جو جسمانی اور طبّی طور پر صحیح طور پر مرد یا عورت ہوتے ہیں اور ان کو اس قسم کی کوئی جسمانی بیماری نہیں ہوتی۔ لیکن اس کے بعد وہ کسی ذہنی رو میں آکر اپنی پیدائشی جنس کو ترک کر کے دوسری جنس سے منسوب ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔ اپنا نام تبدیل کرتے ہیں اور وہ لباس اور حلیہ اختیار کرتے ہیں جو کہ ان کے معاشرے میں دوسری جنس کا سمجھا جاتا ہے۔ اور بعض اوقات آپریشن کر کے اپنے اعضاء کو تبدیل کرانے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ جیسا کہ انگریزی میں کہا جاتا ہے کہ ان کی پیدائشی جنس یا sex جو بھی ہو وہ دوسرے genderکو اختیار کرتے ہیں۔ جیسا کہ اکثر ہوتا ہے کہ بعض نفسیاتی بیماریوں کی وجہ سے یہ ذہنی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ ایک طرح سے یہ نفسیاتی مریض بھی ہمدردی کے مستحق اور یہ بھی ضروری ہے کہ ان کی بنیادی نفسیاتی بیماری کا علاج کیا جائے۔ یہ تفصیلی ذکر بعد میں کیا جائے گا۔ لیکن ایک تعداد ایسے لوگوں کی بھی ہوتی ہے جو کہ محض اپنے گروہ کے اصرار پر یا بغاوت کی علامت کے طور پر ایسا رویّہ اپناتے ہیں۔ ان کی مثال بالکل مختلف ہے۔
بعض اصطلاحات
اس موضوع پر آگے بڑھنے سے قبل چنداصطلاحات کی تعریف طے کرنا ضروری ہے۔ ٹرانسجنڈر (Transgender) کا لفظ ان لوگوں کے بارے میں بولا جاتا ہے جن کو پیدائش کے وقت ان کے ظاہری جنسی اعضاء کی بنیاد پر ایک جنس کا قرار دیا گیا لیکن بعد میں انہوں نے اپنے آپ کو دوسری جنس سے منسوب کرنا شروع کر دیا۔ مثال کے طور پر ایک بچہ جب پیدا ہوا تو وہ لڑکا تھا لیکن بعد میں اس نے کسی بھی وجہ سے اپنے آپ کو خود لڑکی کے طور پر ظاہر کرنا اور زندگی گذارنا شروع کر دیا۔ یا ایک بچہ جب پیدا ہوا تو وہ لڑکی تھی لیکن بعد میں اس نے اپنے آپ کو لڑکا کہلانا اور لڑکے کے طور پر زندگی گذارنا شروع کر دیا۔
دوسری اصطلاح Gendre Dysphoria ہے۔ یہ ایک نفسیاتی بیماری ہے جس میں ایک شخص جب پیدا ہوتا ہے تو وہ طبّی طور پر اور اعضاء کی بنیاد پر ایک جنس کا ہوتا ہے یعنی لڑکا یا لڑکی ہوتا ہے۔لیکن بعد میں وہ نفسیاتی دبائو کا شکار ہوجاتا ہے کیونکہ وہ اپنے آ پ کو دوسری جنس کی طرف منسوب کرتا ہے اور یہ اظہار کرتا ہے کہ اگر کوئی اسے اس کی اصل جنس کی طرف منسوب کرے تو وہ نفسیاتی دبائو اور تنائو کا شکار ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ Genderqueerکی اصطلاح ان لوگوں کے لیے استعمال ہوتی ہے جو کہ طبّی طور پر پیدائش پر مکمل طور پر ایک جنس کے ہوتے ہیں لیکن بعد میں وہ یہ کہلانا پسند کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی جنس سے وابستہ نہیں ہیں یعنی وہ نہ اپنے آپ کو مردوں میں شمار کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی خواتین میں شمار کروانا پسند کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان ممالک میں بھی جہاں ٹرانسجنڈر تبدیلی کے تحفظ کے قوانین شدو مد سے بنائے گئے ہیں اکثر لوگ اپنے آپ کو اسی جنس کی طرف منسوب کرتے ہیں جو ان کی پیدائشی جنس ہے۔ ان کو ان اصطلاحات کی رو سے Cisgender کہا جاتا ہے۔
جیسا کہ اس مضمون میں ذکر کیا جائے گا کہ اب نہ صرف قانونی طور پر کئی ریاستوں میں اس بات کی اجازت ہے بلکہ حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے کہ جو لوگ نفسیاتی وجوہات کی بنا پر اپنی پیدائشی جنس کے علاوہ دوسری جنس کی طرف منسوب ہونا پسند کریں انہیں بارہ سال کی کم عمر میں ہی اس بات کی اجازت مل جاتی ہے کہ وہ والدین کی اجازت کے بغیر ہی اپنا نام تبدیل کر کے دوسری جنس کا نام اختیار کر لیں۔ سکول میں ہی وہ ایسی ادویات لینا شروع کردیں جو کہ ان ہارمونز (Hormones)پر مشتمل ہیں جو کہ اس جنس میں پائے جاتے ہیں جو کہ ان کی پیدائشی جنس نہیں ہے۔ مثال کے طور پر ایک طالب علم پیدائشی طور پر لڑکی ہے وہ لڑکوں کا نام اختیار کرلے اور نہ صرف لڑکوں کا لباس پہننے لگے بلکہ بلوغت کے قریب ایسی ادویات لینا شروع کر دے جو کہ اس کی پیدائشی جنس کی بلوغت کی علامات کو روک دیں اور اس کی جگہ وہ Testosterone کے انجکشن لینا شروع کر دے۔ اور ان ٹیکوں سے اس کے بال اور جسمانی ساخت میں لڑکوں سے ملتی جلتی تبدیلی آ تی ہے۔اور بڑے ہو کر آپریشن کراکے جنسی اعضاء اور جسم میں نا مکمل تبدیلی کی کوشش کرے۔ یہ بات واضح ہے کہ سائنسی اعتبار سے مکمل طور پر جنس تبدیل کرنا ممکن ہی نہیں۔ اس لیے تمام مراحل کے بعد بھی کوئی لڑکا مکمل طور پر لڑکی نہیں بن سکتا اور کوئی لڑکی مکمل طور پر لڑکا نہیں بن سکتی۔یہ تبدیلی نا مکمل ہی رہے گی۔
اس نفسیاتی کیفیت کی شرح میں اضافہ
جن ممالک میں اس رجحان کی قانونی حوصلہ افزائی بھی کی جاتی ہے ان میں بھی ابھی ایسے لوگوں کی شرح ایک فیصد سے کم ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ اس نفسیاتی کیفیت میں اضافہ ہورہا ہے۔ایک تحقیق کے مطابق سویڈن میں اس نفسیاتی کیفیت کی شرح میں ۲۰۰۵ء اور ۲۰۱۸ء کے درمیان دس گنا اضافہ ہوا ہے۔اور انگلستان میں دس سال میں اس میں پچاس گنا کا اضافہ ہوا ہے۔۲۰۱۱ء میں پورے ملک میں ۱۹۲؍افراد میں یہ تشخیص کی گئی تھی۔اور ۲۰۲۱ء میں یہ تعداد بڑھ کر دس ہزار سے بڑھ چکی تھی۔
Claesdotter-Knutsson E, Andersson MJ, Cervin M, Delfin C, Håkansson A, Broman N. Rise in Gender Dysphoria Diagnoses and Legal Gender Changes in Sweden: 2005-2017. Arch Sex Behav. 2024 Nov;53(10):3731-3738.
Nicola Davis. Gender dysphoria diagnoses among children in England rise fiftyfold over 10 years. Guardian: 25 Jan 2025.
۲۰۲۱ء میں کینیڈا کی مردم شماری کے مطابق ۱۵؍سال سے زیادہ عمر کے لوگوں میں ایک لاکھ کے قریب افراد اپنے آپ کو ٹرانسجنڈر کہتے تھے۔ اور ۴۱؍ہزار لوگ اپنے آپ کو non-binaryکہلاتے تھے یعنی وہ اپنے آپ کو کسی جنس کی طرف منسوب نہیں کرتے تھے۔جو کہ ایک فیصد کا بھی ایک تہائی تھا۔ لیکن ان اعدادو شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اس نفسیاتی کیفیت کا رجحان بڑھ رہا تھا۔
بعض ضروری پہلو
اگر کچھ دیر کے لیے تمام مذہبی بحث کو ایک طرف رکھ دیا جائے تو بھی دو عوامل مزید پیچیدگیاں پیدا کر رہے ہیں۔ اکثر ایسے لوگوں میں انہیں جنس تبدیل کرنے کا خیال اس وقت آتا ہے جب کہ بلوغت کا آغاز ہو رہا ہوتا ہے یا بلوغت کا ایک بڑا حصہ گذر بھی چکا ہوتا ہے۔ اور ان کے جسم میں بلوغت کی ان علامات کا آغاز ہو چکا ہوتا ہے جو کہ ان کی پیدائشی جنس کی علامات ہیں۔ اگر آبادی کا ایک قلیل حصہ کسی بھی عمر میں اپنی جنس تبدیل کرنے کی خواہش کا اظہار کرے اور ان تمام علاجوں اور آپریشنوں کے مرحلوں سے گذر بھی جائے تو ایک اہم سوال باقی رہ جاتا ہے۔اور وہ سوال یہ ہے کہ کیا اس شخص کی یہ ذہنی روش کہ وہ دوسری جنس کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے جسے Gender Dysphoriaکہا جاتا ہے برقرار رہے گی ؟ یا کچھ عرصہ بعد وہ پھر اپنی پیدائشی جنس کی طرف وابستہ ہونا پسند کریں گے؟
کم از کم ایک ریسرچ پیپر میں اس قسم کی تحقیقات کا مجموعی جائزہ نکالا گیا تو یہ حقیقت سامنے آئی کہ ۸۸؍فیصد کی بھاری اکثریت میں یہ نفسیات یاذہنی روش محض وقتی ہوتی ہے اور بعد میں وہ اپنی پیدائشی جنس کی طرف منسوب ہونا چاہتے ہیں۔ اس سے لازمی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ان کے حقوق کے نام پر انہیں کم عمری میں ہی جنسی تبدیلی کی دوائیاں استعمال کرنے کی سہولت مہیا کر دی جائے تو ان کے جسم میں ایسی تبدیلیاں بھی آئیں گی جو کہ عارضی نہیں ہوں گی۔ اس صورت حال میں جب وہ اپنی پیدائشی جنس کی طرف پلٹنا چاہیں گے تو کم عمری میں لی گئی ادویات کا مہیا کیا جانا کیا ان کے حقوق کی حفاظت ثابت ہوگا یا اسےان کی حق تلفی سمجھا جانا چاہیے؟
(Karrington B. Defining Desistance: Exploring Desistance in Transgender and Gender Expansive Youth Through Systematic Literature Review. Transgend Health. 2022 Jun 13;7(3):189-212.)
یہ درست ہے کہ بعض اَور تحقیقات کے مطابق اپنی پیدائشی جنس کی طرف واپس پلٹنے کی شرح اس سے بہت کم یعنی چار سے گیارہ فیصد کے درمیان ہے۔ لیکن اگر یہ کم شرح بھی تسلیم کی جائے تو بھی مندرجہ بالا سوال برقرار رہے گا۔
Irwig MS. Detransition Among Transgender and Gender-Diverse People-An Increasing and Increasingly Complex Phenomenon. J Clin Endocrinol Metab. 2022 Sep 28;107(10):e4261-e4262.
اب یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ اس نفسیاتی کیفیت کے ڈاکٹر کب کس بچے یا بڑے کو gender dysphoria کا مریض قرار دے دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر بچے میں اپنی جنس کے برعکس دوسری جنس کے کپڑے پہننے یا کھلونوں سے کھیلنے کی خواہش پائی جائے۔ وہ خود اپنے آپ کو دوسری جنس سے منسوب کرنا چاہے۔کھیل میں وہ دوسری جنس کا کردار ادا کرنا پسند کرے یا اگر لڑکا لڑکیوں سے یا لڑکی لڑکوں سے کھیلنا پسند کرے۔ اپنے مخصوص اعضاء سے متنفر ہو وغیرہ۔ اگر اس جیسی آٹھ میں سے چھ علامات موجود ہوں تو بالعموم اسے فوری طور پر gender dysphoriaکا مریض سمجھا جاتا ہے۔ کئی محققین کے نزدیک اس شعبہ کے کئی ڈاکٹر ایسی علامات کو دیکھ کر بجائے اس کے کہ اس کی نفسیاتی بیماری کا علاج کریں خود ہی اس کی حوصلہ افزائی شروع کر دیتے ہیں اور اسے یہ باور کرانا شروع کر دیتے ہیں کہ اصل میں وہ ذہنی طور پر لڑکا ہے جو کہ لڑکی کے جسم میں قید ہے یا وہ لڑکی ہے جو کہ لڑکے کے جسم میں قید ہے۔اور اس بات کی حوصلہ افزائی شروع کردیتے ہیں کہ وہ دوسری جنس کا لباس، نام اور حلیہ وغیرہ اختیار کر لے اور ان کا اصرار ہوتا ہے کہ والدین بھی اس تبدیلی میں ان کا ساتھ دیں اور اس صورت حال کو درست کرنے کی کوشش نہ کریں۔
یہاں ایک اَور پہلو کا ذکر کرنا ضروری ہے اور وہ یہ کہ جو لوگ اس نفسیاتی کیفیت یعنی Gender Dysphoriaیعنی صنفی خلجان کا شکار ہوں انہیں صرف یہی مسئلہ لاحق نہیں ہوتا بلکہ ان میں ایک بڑی تعداد کو مختلف نفسیاتی مسائل لاحق ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ان میں سے ایک بڑی تعداد کو پہلے سے ہی ڈیپریشن اور گھبراہٹ (Anxiety) کی نفسیاتی بیماریاں ہوتی ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق عام آبادی میں چار فیصد سے کچھ کم افراد کو گھبراہٹ کا اور چار فیصد سے کچھ زائد افراد کو ڈیپریشن کا عارضہ لاحق ہوتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف جن لوگوں کو صنفی خلجان ہو ان میں ۳۳؍فیصد کو ڈیپریشن اور کم و بیش تیس فیصد کو گھبراہٹ (Anxiety)کی بیماری ہوتی ہے۔اس پر سائنسی طور پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا صنفی خلجان یاGender Dysphoria ان نفسیاتی بیماریوں کی علامت تو نہیں ہے ؟ کیا ان نفسیاتی بیماریوں کے کامیاب علاج سے ان علامات پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔ کیا یہ ضروری ہے کہ حوصلہ افزائی کر کے ایسے افراد کو ہارمون کے ٹیکے لگانے اور سرجری پر آمادہ کیا جائے؟
(Hajek A, König HH, Buczak-Stec E, Blessmann M, Grupp K. Prevalence and Determinants of Depressive and Anxiety Symptoms among Transgender People: Results of a Survey. Healthcare (Basel). 2023 Feb 27;11(5):705.)
علاج کے نام پر کارروائیاں
اب ایک اَور پہلو سے جائزہ لیتے ہیں۔ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو افراد اپنی پیدائشی جنس سے برعکس جنس سے وابستہ ہونا چاہتے ہیں، ان میں سے کئی ادویات اور ہورمون (Hormones)کے ٹیکے لگوا کر جزوی طور پر اپنا حلیہ بدل کر جسم میں کچھ تبدیلیاں پیدا کر لیتے ہیں۔ یعنی اگر پیدائشی طور پرمرد ہیں تو ان ٹیکوں کی مدد سے خواتین کا حلیہ اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر پیدائشی طور پر عورت ہیں تو ان ٹیکوں کو لگوا کر مرد نظر آنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ جائزہ تو لیا جا چکا ہے کہ ایسے اشخاص میں نفسیاتی بیماریاں غیر معمولی طور پر زیادہ ہوتی ہیں لیکن یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان ٹیکوں کے بعد یہ نفسیاتی بیماریاں درست ہو جاتی ہیں ؟
پہلے یہ دعوے پیش کیے گئے تھے کہ اس نام نہاد علاج سے ان کی ذہنی حالت درست ہو جاتی ہے لیکن اس نتیجہ کی وجہ یہ تھی کہ کسی معقول مدت تک ان کو زیر نظر رکھ کر نتائج نہیں نکالے گئے تھے۔ لیکن جب ڈنمارک میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ایک سال کی مدت تک ان کی ذہنی کیفیات کا تجزیہ کیا گیا تو یہ صورت حال سامنے آئی کہ اس علاج کے چھ ہفتہ بعد تو ان نفسیاتی بیماریوں میں کمی آئی لیکن جب ایک سال بعد ان کا تجزیہ کیا گیا تو ان میں ڈیپریشن اور گھبراہٹ کی شرح پرانی سطح پر واپس آ چکی تھی اور ان میں اپنی زندگی ختم کرنے خیالات میں پہلے سے بھی کچھ اضافہ ہو چکا تھا۔ اس سے یہی نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ جہاں تک ان کے نفسیاتی مسائل کا تعلق ہے اس کی شرح میں اس علاج سے کوئی فائدہ نہیں ہوا تھا۔ کیا اس پس منظر میں مصنوعی طریق پر جسم میں یہ تبدیلیاں پیدا کرنا بلاجواز ہے کہ نہیں، اس کا فیصلہ پڑھنے والے خود کر سکتے ہیں۔
Taulbjerg Kristensen, T., Lehmann Christensen, L., Elmose Andersen, M., Ravn, P., Viola Buskbjerg Palm, C., Høj, C., … Glintborg, D. (2026). Prospective changes in depression and anxiety scores during the first year of gender-affirming hormone therapy in Denmark among transgender individuals with and without autism. International Journal of Transgender Health, 1–12. https://doi.org/10.1080/26895269.2026.2633168
ایک عدالتی فیصلہ
امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں ٹرانسجینڈر شہریوں کے بارے میں قوائد اور قوانین عدالتوں میں بھی زیر بحث آتے رہے۔ اس ریاست میں پبلک سکولوں میں یہ قانون بنا دیا گیا کہ اگر کوئی طالب علم اپنی پیدائشی جنس کے برعکس دوسری جنس کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنا شروع کرے تو اس کے اساتذہ یا سکول اس طالب علم کی مرضی کے بغیر اس کے والدین کو بھی اس کی اطلاع نہیں دے سکتے۔اس پر کئی اساتذہ اور والدین نے ڈسٹرکٹ کورٹ میں اس پابندی کے خلاف مقدمہ کر دیا۔ اس مقدمہ کی کارروائی کے دوران یہ انکشافات ہوئے کہ کئی لڑکیاں سکولوں میں اپنے آپ کو لڑکا ظاہر کر رہی تھیں اور لڑکوں کا نام اختیار کر رہی تھیں اور یہ اصرار کر رہی تھیں کہ انہیں لڑکوں کے اسم ضمیر (Pronoun)سے بلایا جائے۔ لیکن ایک پالیسی کے تحت ان بچیوں کے والدین کو اس سے بے خبر رکھا جا رہا تھا اور ان کے سوال کرنے پر بھی ان کو اس تبدیلی سے آگاہ نہیں کیا جا رہا تھا۔ایک ماہر ڈاکٹر اینڈرسن نے عدالت میں گواہی دیتے ہوئے کہا:
My objection is depriving parents of the knowledge of what’s going on with their child’s gender at school, particularly if the child chooses a different preferred name and pronouns and wants accommodations and that is information that is shared throughout the school by — by teachers, staff, and students.To deprive parents of that information is a grave mistake in my opinion .
(Mirabelli vs. Olson page 5)
ترجمہ: مجھے اس بات پر اعتراض ہے کہ والدین کو اس بات سے لاعلم رکھا جا رہا ہے کہ ان کے بچے کی جنسی شناخت پر کیا گذر رہی ہے۔خاص طور پر اس لیے کہ بچہ اپنے لیے مختلف نام، اسم ضمیر اور اپنی جگہ کا انتخاب کرتا ہے۔ یہ بات تمام سکول کے علم میں ہے، اساتذہ کے علم میں ہے، عملہ کے علم میں ہے، طلباء کے علم میں ہے لیکن والدین کو اس علم سے محروم رکھنا میرے نزدیک ایک سنگین غلطی ہے۔
اس پر جج Roger Benitezنے اس پابندی کے خلاف فیصلہ سنایا۔ اور اس فیصلہ کے آخر میں لکھا :
Parental involvement in essential to the healthy maturation of school children. California’s public school system parental exclusion policies place a communication barrier between parents and teachers.
ترجمہ: سکول کے بچوں کی نشو نما کے عمل میں والدین کی شمولیت ضروری ہے۔ کیلیفورنیا کے پبلک سکولوں کے نظام نے والدین کو اس عمل سے جو باہر رکھنے کی پالیسی اپنائی ہے اس سے والدین اور اساتذہ کے درمیان ایک دیوار کھڑی ہو گئی ہے۔
اس تفصیلی فیصلہ میں عدالت نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ٹرانسجنڈر اشخاص کی ایک بڑی تعداد اپنی پیدائشی جنس کی شناخت دوبارہ اپنا لیتے ہیں۔ اس عدالتی فیصلہ میں ایک کیس کا حوالہ دیا گیا۔ ایک گیارہ سالہ بچی اپنی والدہ کے چھاتی کے سرطان کی وجہ سے اور اپنے دادا کی وفات کی وجہ سے ذہنی دبائو کا شکار ہوئی۔ اور سکول کی کونسلر نے اس کو مشورے دینے شروع کیے اور اس بچی کو یہ تشخیص بتائی کہ وہ اپنے آپ کو لڑکا محسوس کر رہی ہے۔ اور اس کا یہ نتیجہ نکلا کہ اس بچی نے سکول میں یہ اعلان کر دیا کہ اسے اب لڑکے کے نام سے پکارا جائے۔ چنانچہ سکول نے والدین سے مشورہ تو درکنار انہیں اطلاع دینا بھی گوارا نہیں کیا۔ اور اسے سکول کے ریکارڈ میں لڑکا بنا کر لڑکے کے طور پر پکارنا شروع کر دیا۔ کچھ عرصہ بعد لڑکی نے خود ہی اپنی دادی کو اور دادی نے اس کی والدہ کو اس کی اطلاع دی۔ ماں نے ہمدردی کا رویہ اپنایا اور بچی کواس بات پرآمادہ کیا کہ وہ اپنی گھبراہٹ اور ڈیپریشن کا علاج کرائے۔ اس علاج کے نتیجہ میں لڑکی نے خود ہی اپنے آپ کو لڑکی کے طور پر تسلیم کر لیا اور اپنا علاج جاری کر لیا۔ اس پر عدالت نے تبصرہ کیا کہ اگر اس کی والدہ کو اس کی اطلاع نہ ہوتی تو وہ اس بچی کو کسی ماہر کے پاس نہ لے کر جاتی اور اس کا صحیح علاج ہی نہ ہو سکتا۔(عدالتی فیصلہ صفحہ۱۷)
ڈسٹرکٹ کورٹ کا فیصلہ تو یہ تھا لیکن سرکٹ کورٹ نے اس فیصلہ پر عملدرآمد روک دیا۔مگر ۲؍مارچ ۲۰۲۶ءکو امریکہ کی سپریم کورٹ نے ڈسٹرکٹ کورٹ کا فیصلہ بحال کر دیا۔
نام نہاد علاج کے اثرات
یہ بات قابل توجہ ہے کہ جو اشخاص اپنے آپ کو ٹرانسجنڈر ظاہر کرتے ہیں، ان کی اکثریت جنس مخالف کے ہورمون استعمال کرتی ہے۔ وہ پیدائشی مرد جو کہ اپنے آپ کو ٹرانسجنڈر ظاہر کرتے ہیں ان میں سے ۵۹؍فیصد ہورمون کا استعمال کرتے ہیں۔ اور وہ پیدائشی خواتین جو کہ اپنے آپ کو ٹرانسجنڈر ظاہر کرتی ہیں، ان میں سے ۷۸؍فیصد ہورمون کا استعمال کرتی ہیں۔ اور طبّی طور پر اس استعمال کے اپنے مضر اثرات ہوتے ہیں۔ تحقیقات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وقت کے ساتھ ایسے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو کہ صنفی اضطراب (Gender Dysphora) کا شکار ہو رہے ہیں بلکہ ایسے اشخاص کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جو کہ اس وجہ سے جنس مخالف کے ہورمون استعمال کر رہے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق امریکہ میں ۲۰۱۳ء اور ۲۰۱۹ء کے درمیان ان کی تعداد ایک لاکھ افراد میں تقریبا ََ تین افراد سے بڑھ کر ایک لاکھ میں ۲۴؍افراد تک جا پہنچی ہے۔
Eustaquio PC, Dela Cruz JDM, Araña Y, Rosos B, Rosadiño JDT, Pagtakhan RG, Regencia ZJG, Baja ES. Prevalence of and factors associated with the use of gender-affirming hormonal therapy outside the reference regimen among transgender people in a community-led clinic in Metro Manila, Philippines: a retrospective cross-sectional study. BMJ Open. 2023 Sep 5;13(9):e072252.
Das RK & Dusetzina SB. Gender-Affirming Hormone Therapy Spending and Use in the USA, 2013–2019 J Gen Intern Med. 2022 Jun 13;38(1):260–262
اسی طرح ایک تجزیہ کے مطابق امریکہ میں ایک لاکھ میں سے پانچ بالغ افراد ایسی نفسیاتی کیفیت سے دوچار ہونے کے باعث اپنی چھاتیوں یا جنسی اعضا کو سرجری کے ذریعہ تبدیل کرواتے ہیں۔ کسی ڈاکٹر یا ماہر نفسیات کا یہ تشخیص کر دینا کہ یہ ذہنی طور پر مرد ہے جو کہ عورت کے جسم میں مقید ہے یا یہ عورت ہے جس کا جسم مرد کا ہے ایک پہلو ہے لیکن ہورمونز (Hormones)کے ذریعہ اور آپریشن کر کے جسم میں تبدیلیاں پیدا کر نا ایک اور انتہائی قدم ہے۔ اسی تحقیق کے مطابق بلوغت سے پہلے کی عمر میں ایسے افراد کی تعداد کم ہے جو کہ جنسی اعضاء کو تبدیل کراتے ہیں لیکن اس عمر کے افراد میں بھی ایسے آپریشن کیے جا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ۱۵ سے ۱۷؍سال کی عمر کے افراد میں ہر ایک لاکھ میں دو افراد ایسے آپریشن کرا رہے ہیں۔
Dai D, Charlton BM, Boskey ER, Hughes LD, Hughto JMW, Orav EJ, Figueroa JF. Prevalence of Gender-Affirming Surgical Procedures Among Minors and Adults in the US. JAMA Netw Open. 2024 Jun 3;7(6)
تخلیق میں تغیر کی قرآنی پیشگوئی
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ شیطان نے یہ دعویٰ کیا تھا: وَلَاُضِلَّنَّہُمۡ وَ لَاُمَنِّیَنَّہُمۡ وَ لَاٰمُرَنَّہُمۡ فَلَیُبَتِّکُنَّ اٰذَانَ الۡاَنۡعَامِ وَ لَاٰمُرَنَّہُمۡ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلۡقَ اللّٰہِ ؕ وَ مَنۡ یَّتَّخِذِ الشَّیۡطٰنَ وَلِیًّا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ فَقَدۡ خَسِرَ خُسۡرَانًا مُّبِیۡنًا۔ (النساء: ۱۲۰) ترجمہ: اور میں ضرور ان کو گمراہ کروں گا اور ضرور انہیں امیدیں دلائوں گا اور ضرور انہیں حکم دوں تو وہ ضرور مویشیوں کے کانوں میں زخم لگائیں گے اور میں ضرور انہیں حکم دوں گا تو وہ ضرور اللہ کی تخلیق میں تغیر کردیں گے۔ اور جس نے بھی اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو دوست بنایا تو یقیناً اس نے کھلا کھلا نقصان اُٹھایا۔
یہ عظیم پیشگوئی بہت سے مطالب اور پیشگوئیاں اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔ اس کا اطلاق جینیٹک انجینیرنگ اور کلوننگ پر بھی ہو سکتا ہے اور ایک مطلب اس طرح جنس کی تبدیلی کی ناکام کوششوں پر بھی ہو سکتا ہے۔
مسئلہ صرف یہ نہیں ہے کہ ایک فیصد سے کم لوگ اپنی جنس تبدیل کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔ ایک اَور مسئلہ یہ ہے کہ ایسے لوگ ایسے دوسرے افراد کو بھی جو اس قسم کی نفسیات کا جزوی طور پر شکار ہیں ان کو سوشل میڈیا کے ذریعہ اس بات پر ابھارتے ہیں کہ وہ بھی اپنی جنس تبدیل کرنے کا اعلان کریں اور اس کے لیے ادویات ہورمونز اور آپریشنوں کا استعمال کریں۔ اور اگر اس عمل سے گذرنے کے بعد یہ افراد اپنی پیدائشی جنس کو دوبارہ اپنانے کا ارادہ کریں تو یہ طبقہ سوشل میڈیا پر ان کے خلاف مہم چلاتا ہے۔
ڈاکٹر لٹ مین (Littman)نے ایسے افراد پر اور ان کے گھرانوں پر تحقیق کی تو یہ حقائق سامنے آئے۔ٹرانسجنڈر افراد میں سے اَسّی فیصد پیدائشی طور پر لڑکیاں تھیں جنہوں نے بعد میں اپنی جنس تبدیل کرنے کا اعلان کیا۔بھاری اکثریت میں بچپن میں ایسی کوئی علامات نہیں پائی جاتی تھی کہ وہ اپنے آپ کو جنس مخالف سے وابستہ سمجھتے تھے۔ستّر فیصد کے دوستوں کے حلقہ میں ایک نہ ایک ایسا شخص موجود تھا جس نے اپنے ٹرانسجنڈر ہونے کا اعلان کیا تھا۔۶۵؍فیصد ایسے افراد اس تبدیلی سے پہلے معمول سے کافی زیادہ سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے تھے۔ستّر فیصد کے والدین اتنے تعلیم یافتہ ضرور تھے کہ انہوں نے بیچلر کی ڈگری حاصل کی ہوئی تھی۔ایسے بچوں اور بچیوں میں سے ۸۵؍فیصد کے والدین اپنی زندگی میں ہم جنس افراد کے حق میں آواز بلند کرتے رہے تھے۔صرف ۱۳؍فیصد والدین کا یہ خیال تھا کہ تبدیلی جنس کا اعلان کرنے کے بعد ان کے بچوں کی نفسیاتی صحت بہتر ہوئی ہے۔ ۴۷؍فیصد کا خیال تھا کہ اس تبدیلی کا اظہار کرنے کے بعد ان کے بچوں کی نفسیاتی صحت پہلے سے بھی خراب ہو گئی ہے۔
(Abigail Shrier (2021). Irreversible Damage. Swift Press. P37-38)
یہی وجہ ہے کہ امریکہ کی بہت سی ریاستوں میں اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کی جنسی تبدیلی کرنے کے لیے علاج یعنی conversion therapy کی قانونی ممانعت کر دی گئی ہے۔
سکولوں میں دی جانے والی تعلیم
جس کتاب Irreversible Damageکا اوپر حوالہ دیا گیا ہے اس میں مصنفہ نے بار بار اسی بات کا ماتم کیا ہے کہ کئی ریاستوں میں شروع ہی سے بچوں کو سکولوں میں یہ تعلیم دی جا رہی ہے کہ ضروری نہیں کہ آپ کی جنس وہی ہو جو پیدائش کے وقت تھی۔ آپ کو اختیار ہے کہ آپ اپنی جنس کا انتخاب خود کریں۔ اور آپ کی جنس کون سی ہے ؟ آپ سے بہتر یہ کون جانتا ہو گا اور بعض جگہوں کو پر سکولوں کے اساتذہ کو یہ ہدایت ہے کہ وہ طلبہ کو کہیں کہ وہ اپنی آنکھیں بند کریں اور دو مرتبہ گھومیں اور پھر تصور کریں کہ ان کی جنس اب اس کے برعکس ہےجو کہ پیدائش کے وقت تھی یعنی اگر لڑکا ہے تو وہ یہ سوچے کہ میں اب لڑکی ہوں اور اگر کوئی لڑکی ہے تو وہ یہ سوچے کہ میں اب لڑکا ہوں۔ اور پھر ان کے تاثرات معلوم کئے جاتے ہیں کہ اگر آپ کی جنس بدل جائے تو آپ کیا محسوس کریں گے۔ اس طرح کچی عمر میں ہی یہ خیالات دل میں پیدا کیے جاتے ہیں۔
(Abigail Shrier (2021). Irreversible Damage. Swift Press.P 66-67)
اس کے علاوہ امریکہ کے ڈاکٹروں نے ایسے بچوں یا نوجوانوں میں جو اپنی جنسی شناخت کے بارے میں تذبذب کا شکار ہوں ایسی ادویات کا استعمال تو شروع کر دیا جو ان کے بلوغت کے عمل کو روک دے لیکن بعد میں یہ اندازہ ہوا کہ ان ادویات کے بہت سےمضر اثرات یاside effectsتھے۔
Yelehe M, Klein M, El Aridi L, Maurier A, Gillet P, Feigerlova E. Adverse effects of gender-affirming hormonal therapy in transgender persons: Assessing reports in the French pharmacovigilance database. Fundam Clin Pharmacol. 2022 Dec;36(6):1115-1124. doi: 10.1111/fcp.12806. Epub 2022 Jun 6. PMID: 35653182; PMCID: PMC9796635.
جب اس قسم کی ذہنی رَو زور پکڑ رہی ہو تو اس میں بہ کر جو پہلی چیز غرق ہوتی ہے وہ متوازن سوچ ہے۔سکولوں میں بعض اساتذہ طلبہ کو یہ بھی پڑھا رہے ہوتے ہیں کہ تاریخ میں ہمیشہ کئی لڑکیاں یا خواتین مردوں کا کردار ادا کرتی آئی ہیں۔ لیکن اس سلسلے میں جو مثالیں پیش کی جاتی ہیں ان کا جنس کی تبدیلی یا ٹرانسجنڈر بننے سے دور دور کا کوئی تعلق نہیں ہے۔مثال کے طور پر جون آف آرک کی مثال پیش کی جاتی ہے۔ آپ اس تاریخی کردار کے بارے میں جتنا مرضی مطالعہ کر لیں۔ اپنی ذاتی زندگی میں جون آف آرک مکمل طور پر اتنی ہی لڑکی تھی جتنی اس دور کی کوئی لڑکی ہو سکتی تھی۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ایک طبقہ مُصر ہے کہ پیدائشی جنس (Biological Sex) اور gender یعنی وہ جنس جس کی طرف کوئی فرد اپنے آپ کو منسوب کرنا پسند کرے یعنی وہ اپنے آپ کو لڑکا کہلانا چاہتا ہے یا لڑکی کہلانا چاہتا ہے، ان دونوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔ ایک مضمون میں ساری تفصیلات بیان نہیں کی جا سکتیں لیکن اس بارے میں آپ جتنا زیادہ سائنسی مطالعہ کریں، اس سوچ کے بارے میں اتنے ہی زیادہ سائنسی سوالات اٹھتے ہیں۔
حقائق بیان کرنے والوں کی کردار کشی
اگر سائنسی طور پر اور علم نفسیات کی روشنی میں اس نفسیاتی کیفیت پر بحث کی جائے اور ٹھوس حقائق کی روشنی میں کی جائے تو یہ ایک قابل تحسین بات اور مثبت تبادلہ خیالات ہو گا۔ لیکن مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب اسے محض ایک سیاسی مسئلہ بنا لیا جاتا ہے۔ اور جو اس رَو کے منافی جزوی طور پر بھی رائے دے اسے تختہ ٔمشق بنا کر ٹرانسجنڈر افراد کے حقوق کو تلف کر نے والا قرار دیا جاتا ہے۔ اور اس زد میں اس میدان کے چوٹی کے ڈاکٹر اور تحقیق کرنے والے بھی آجاتے ہیں جو اس طریق سے جزوی طور پر بھی اختلاف کریں کہ اگر کوئی لڑکا یہ اظہار کرے کہ میں لڑکی ہوں تو معالج کا فرض ہے کہ ہاں میں ہاں ملائے کہ ہاں تم ہی بہتر جانتے ہو تم لڑکی ہی ہو۔ تم لڑکی کا نام اختیار کر لو۔ لڑکیوں کا لباس پہنو اور میں کچھ ادویات لکھ دیتا ہوں جو تمہیں لڑکی بنانے میں مدد دیں گی۔ اور اگر کوئی لڑکی کہے کہ میں اپنے آپ کو لڑکا محسوس کرتی ہوں تو نہ صرف معالج بلکہ والدین بھی اس کی اسی طرح حوصلہ افزائی کریں اور کوئی اس کی نفسیاتی وجہ اور کیفیت کو سمجھنے اور اس کا علاج کرنے کی کوشش نہ کرے۔
ڈاکٹر کینتھ ذکر (Kenneth J. Zucker) اس میدان کے چوٹی کے ڈاکٹر ہیں۔ وہ ٹورانٹو (کینیڈا) کے Centre for Addiction and Mental Healthمیں اس نفسیاتی کیفیت کے کلینک کے انچارج تھے اور سینکڑوں ریسرچ پیپر لکھ چکے تھے۔ لیکن ان کا طریقہ علاج یہ تھا کہ جب ان کے پاس اس نفسیاتی کیفیت میں مبتلا کوئی فرد آتا تھا جو کہ یہ اصرار کر رہا ہوتا تھا کہ میں اس جنس کا نہیں ہوں جو پیدائش کے وقت میری جنس تھی تو وہ پہلے اسے یہی قائل کرنے کی کوشش کرتے رہتے کہ وہ اسی جنس کے مطابق اپنی زندگی گذارے جو پیدائش کے وقت اس کی جنس تھی۔ لیکن ایک طبقہ کو یہ بات بھی گوارا نہیں ہوئی۔چنانچہ ان کے خلاف ایک طوفان برپا کر دیا گیا۔پہلے ان کے سینٹر میں ان کے مزید مریضوں کو وقت دینا بند کیا گیا۔ ان کے کلینک پر آڈٹ کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اور پھر ان کے کلینک کو بند کر دیا گیا اور ان کو ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔ نہ صرف یہ بلکہ ان کے طریقہ علاج اور ان کی مذمت میں اس مرکز کی ویب سائٹ پر تبصرہ بھی درج کیا گیا۔ ڈاکٹر صاحب نے عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا۔ اس پر ان کے خلاف تبصرہ پر معذرت کر لی گئی اور جرمانہ بھی ادا کیا گیا لیکن انہوں نے نہ بحال ہونا تھا اور نہ بحال ہوئے۔ اس میدان کے سینکڑوں ماہرین نے اس پر تحریری طور پر شدید احتجاج کیا۔ لیکن سب بے سود۔ ایک بین الاقوامی شہرت رکھنے والے ماہر کو اس کے کام سے علیحدہ کردیا گیا۔
(https://www.google.com/url?client=internal-element-accessed on 9th October 2026)
ایک طبقہ سوشل میڈیا پر اور دوسرے طریقوں سے دبائو ڈال کر اب ایسے ڈاکٹرز کے لیے اس قسم کے مسائل پیدا کر دیتا ہے کہ ایسا بھی ہوتا ہے اگر کوئی ڈاکٹر affirmative therapy یعنی ہاں میں ہاں ملانے کے بارے میں منفی رائے رکھتا ہے تو وہ اس مسئلہ پر اپنی رائے کا اظہار کرنے سے گریز کرتا ہے۔
یہ صرف چند حقائق ہیں۔ مذہبی پہلو تو پہلے درج کیا جا چکا ہے۔ لیکن اگر غیر مذہبی نقطہ نگاہ سے بھی دیکھا جائے تو اظہار خیال اگر ایک گروہ کا حق ہے تو اخلاقی حدود میں رہتے ہوئے یہی حق دوسرے گروہ کو بھی حاصل ہوتاہے۔ پہلے ایک ڈاکٹر کی مثال پیش کی گئی تھی۔ اب ایک مصنف کی مثال پیش کی جاتی ہے۔ جیسا کہ پہلے ایک کتاب Irreversible Damageکا حوالہ پیش کیا گیا تھا جو کہ صحافی Abigail Shrier نے لکھی تھی۔ خاکسار نے شروع سے آخر تک اس کتاب کا مطالعہ کیا ہے۔ اس میں کہیں پر حدود سے تجاوز نہیں کیا گیا۔ کہیں پر دشنام طرازی سے کام نہیں لیا گیا۔ صرف اس موضوع پر اپنا نقطہ نگاہ بیان کیا گیا ہے اور کچھ تحقیقات کے حوالے ہیں، متاثرہ خاندانوں کے انٹرویو ہیں اور ماہرین کی آراء ہیں۔ بہت سے تبصرہ نگاروں نے اس تحقیق کو سراہا بھی۔ اکانومسٹ جریدے نے سال کی اہم ترین کتابوں میں اس کا شمار کیا۔ بعض ماہرین نفسیات نے اس کی تعریف کی۔ لیکن اس کتاب کا شائع ہونا تھا کہ ایک طبقہ کی طرف سے یہ ہنگامہ برپا کر دیا گیا کہ یہ Transphobiaہے۔امریکہ کی بک سیلرز ایسوسی ایشن نے اس کی تقسیم پر معذرت کی۔کئی کتابوں کی دکانوں نے اس کی فروخت بند کر دی کیونکہ ان پر دبائو ڈالا جا رہا تھا۔ ایمازون پر بھی دبائو ڈالا جا رہا تھا کہ اس کی ترسیل بند کی جائے لیکن اس کمپنی نے انکار کر دیا۔ اس دھینگامشتی کے ماحول میں کوئی متوازن اور سائنسی بحث نہیں ہو سکتی۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ حقائق کو حوصلے سے سنا اور برداشت کیا جائے۔ورنہ چرچ نے گلیلیو پر دبائو ڈال کر اس سے یہ اعتراف تو کرالیا تھا کہ سورج زمین کے گرد گھومتا ہے۔ لیکن کیا اس کے نتیجہ میں سورج نے زمین کے گرد گھومنا شروع کر دیا؟
مزید پڑھیں: پروفیسر رابرٹ سراج الدین آف’’سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب‘‘



