متفرق مضامین

یہ خلافت کی ہی برکت ہے کہ تبلیغ اسلام کا وہ کام جو اس وقت دنیا میں کوئی اور جماعت نہیں کر رہی صرف جماعت احمدیہ کر رہی ہے

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ’’یہ خلافت کی ہی برکت ہے کہ تبلیغ اسلام کا وہ کام جو اس وقت دنیا میں کوئی اور جماعت نہیں کر رہی صرف جماعت احمدیہ کر رہی ہے۔ مصر کا ایک اخبار الفتح ہے، وہ ہماری جماعت کا سخت مخالف ہے مگر اس نے ایک دفعہ لکھا کہ جماعت احمدیہ کو بے شک ہم اسلام کا دشمن خیال کرتے ہیں لیکن اس وقت وہ تبلیغ اسلام کا جو کام کر رہی ہے گزشتہ تیرہ سو سال میں وہ کام بڑے بڑے اسلامی بادشاہوں کو بھی کرنے کی توفیق نہیں ملی۔ جماعت کا یہ کارنامہ محض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے طفیل اور تمہارے ایمانوں کی وجہ سے ہے۔ آپ کی پیشگوئیاں تھیں اور تمہارا ایمان تھا۔ جب یہ دونوں مل گئے تو خدا تعالیٰ کی برکتیں نازل ہونی شروع ہوئیں اور جماعت نے وہ کام کیا جس کی توفیق مخالف ترین اخبار الفتح کے قول کے مطابق کسی بڑے سے بڑے اسلامی بادشاہ کو بھی آج تک نہیں مل سکی۔ اب تم روزانہ پڑھتے ہو کہ جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے روز بروز بڑھ رہی ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو تم اور بھی ترقی کرو گے اور اس وقت تمہارا چندہ بیس پچیس لاکھ سالانہ نہیں ہو گا بلکہ کروڑ، دو کروڑ، پانچ کروڑ دس کروڑ، بیس کروڑ، پچاس کروڑ، ارب، کھرب، پدم بلکہ اس سے بھی بڑھ جائے گا اور پھر تم دنیا کے چپہ چپہ میں اپنے مبلغ رکھ سکو گے۔ انفرادی لحاظ سے تم اس وقت بھی غریب ہو گے لیکن اپنے فرض ادا کرنے کی وجہ سے، ایک قوم ہونے کے لحاظ سے تم امریکہ سے بھی زیادہ مالدار ہو گے۔ دنیا میں ہر جگہ تمہارے مبلغ ہوں گے اور جتنے تمہارے مبلغ ہوں گے، اتنے افسر دنیا کی کسی بڑی سے بڑی قوم کے بھی نہیں ہوں گے۔ امریکہ کی فوج کے بھی اتنے افسر نہیں ہوں گے جتنے تمہارے مبلغ ہوں گے اور یہ محض تمہارے ایمان اور اخلاص کی وجہ سے ہو گا۔ اگر تم اپنے ایمان کو قائم رکھو گے تو تم اس دن کو دیکھ لو گے۔ تمہارے باپ دادوں نے وہ دن دیکھا جب 1914ء میںپیغامیوں نے ہماری مخالفت کی۔ جب میں خلیفہ ہؤا تو خزانہ میں صرف سترہ روپے تھے۔ انہوں نے خیال کیا کہ اب قادیان تباہ ہو جائے گا لیکن اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایسی برکت دی کہ اب ہم اپنے کسی طالب علم کو سترہ روپے ماہوار وظیفہ بھی دیتے ہیں تو یہ وظیفہ کم ہونے کی شکایت کرتا ہے۔ ‘‘(خطبہ فرمودہ 19؍اکتوبر 1956ء، از الفضل 24اپریل 1957ء صفحہ 5)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button