قدرت ثانیہ
٭ٔ’’دوسری قدرت …. دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا۔‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)
٭’’پہلی زبردست قدرت الٰہیہ کو تو دیکھ چکے ہیں اور دوسری قدرت کا تماشا دیکھیں۔‘‘ (حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ)
حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ تعالیٰ سے علم پاکر آنے والے مسیح موعود و امام مہدی کے ذریعے جہاں کسر صلیب، احیاء دین، قتل دجال،وضع حرب وغیرہ جیسے عظیم الشان کاموں کی پیشگوئی فرمائی وہاں ایک عظیم الشان برکت و رحمت الٰہی ثُمَّ تَکُوْنُ خِلَافَۃٌ عَلیٰ مِنْھَاجِ النّبُوَّۃکی بھی نوید سنائی۔ چنانچہ ان پیشگوئیوں کے مصداق حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کی ذات میں وہ تمام پیشگوئیاں پوری ہوئیں جو کہ احادیث مبارکہ میں بیان ہوئی تھیں، باقی پیشگوئیاں تو وہ تھیں جن کا ظہور خود حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ہوا لیکن ثُمَّ تَکُوْنُ خِلَافَۃٌ عَلیٰ مِنْھَاجِ النّبُوَّۃ کی پیشگوئی تو طبعًا آپؑ کی وفات کے بعد ہی پوری ہونی تھی کیونکہ خلافت یعنی جانشینی تو غیر حاضری میں ہوا کرتی ہے۔ پس جب تک آپؑ زندہ تھے اس پیشگوئی کا ظہور ناممکن تھا۔ اسی لیے خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:
’’اور وہ دوسری قدرت نہیں آ سکتی جب تک مَیں نہ جاؤں لیکن مَیں جب جاؤں گا تو پھر خدا اُس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی۔‘‘(الوصیۃ۔ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 305)
بلکہ اپنی وفات کے الہامات کا ذکر کر کے مفصل طور پراپنے بعد خلافت حقہ کی پیشگوئی فرمائی۔ چنانچہ حضرت اقدس علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’غرض دو قسم کی قدرت ظاہر کرتا ہے (1) اوّل خود نبیوں کے ہاتھ سے اپنی قدرت کا ہاتھ دکھاتا ہے۔ (2) دوسرے ایسے وقت میں جب نبی کی وفات کے بعد مشکلات کا سامنا پیدا ہو جاتا ہے اور دشمن زور میں آجاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اب کام بگڑ گیا اور یقین کر لیتے ہیں کہ اب یہ جماعت نابود ہو جائے گی اور خود جماعت کے لوگ بھی تردّد میں پڑ جاتے ہیں اور اُن کی کمریں ٹوٹ جاتی ہیں اور کئی بد قسمت مرتد ہونے کی راہیں اختیار لیتے ہیں، تب خدا تعالیٰ دوسری مرتبہ اپنی زبردست قدرت ظاہر کرتا ہے اور گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال لیتا ہے۔ پس وہ جو اخیر تک صبر کرتا ہے خدا تعالیٰ کے اس معجزہ کو دیکھتا ہے جیسا کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ کے وقت میں ہوا جب کہ آنحضرت ﷺ کی موت ایک بے وقت موت سمجھی گئی اور بہت سے بادیہ نشین نادان مرتد ہوگئے اور صحابہؓ بھی مارے غم کے دیوانہ کی طرح ہوگئے۔ تب خدا تعالیٰ نے حضرت ابو بکر صدیقؓ کو کھڑا کر کے دوبارہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھایا اور اسلام کو نابود ہوتے ہوئے تھام لیا اور اُس وعدہ کو پورا کیا جو فرمایا تھا وَلَیُمَکِّنَنَّ لَھُمْ دِیْنَھُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَھُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّھُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِھِمْ اَمْنًا۔ (النور: 56) یعنی خوف کے بعد پھر ہم ان کے پیر جما دیں گے….
سو اے عزیزو! جب کہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ دو قدرتیں دکھلاتا ہے تا مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھلاوے، سو اب ممکن نہیں کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کر دیوے …. تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اُس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا۔ اور وہ دوسری قدرت نہیں آ سکتی جب تک مَیں نہ جاؤں۔ لیکن مَیں جب جاؤں گا تو پھر خدا اُس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی …. میں خدا کی طرف سے ایک قدرت کے رنگ میں ظاہر ہوا اور مَیں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے۔ سو تم خدا کی قدرت ثانی کے انتظار میں اکٹھے ہوکر دعا کرتے رہو۔ اور چاہیے کہ ہر ایک صالحین کی جماعت ہر ایک ملک میں اکٹھے ہوکر دعا میں لگے رہیں تا دوسری قدرت آسمان سے نازل ہو اور تمہیں دکھاوے کہ تمہارا خدا ایسا قادر خدا ہے…‘‘
(الوصیت، روحانی خزائن جلد 20صفحہ 304-306)
آپ ؑ مزید فرماتے ہیں:
’’اور چاہئے کہ جماعت کے بزرگ جو نفس پاک رکھتے ہیں میرے نام پر میرے بعد لوگوں سے بیعت لیں۔ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اُن تمام روحوں کو جو زمین کی متفرق آبادیوں میں آباد ہیں کیا یورپ اور کیا ایشیاء اُن سب کو جو نیک فطرت رکھتے ہیں توحید کی طرف کھینچے اور اپنے بندوں کو دین واحد پر جمع کرے۔ یہی خدا تعالیٰ کا مقصد ہے جس کے لئے مَیں دنیا میں بھیجا گیا۔ سو تم اس مقصد کی پیروی کرو مگر نرمی اور اخلاق اور دعاؤں پر زور دینے سے۔ اور جب تک کوئی خدا سے روح القدس پاکر کھڑا نہ ہو سب میرے بعد مل کر کام کرو۔‘‘
(الوصیت، روحانی خزائن جلد 20صفحہ306,307)
رسالہ الوصیت دسمبر 1905ء میں طبع ہوا۔ اس کے چند دن بعد ہی یعنی 15 جنوری 1906ء کو ایک خادم باہر سے قادیان آئے اور حضور علیہ السلام کی وفات کے الہامات کی وجہ سے رو پڑے، حضرت اقدس علیہ السلام نے ان کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا:
’’یہ وقت تمام انبیاء کے متبعین کو دیکھنا پڑتا ہے اور اس میں ایک نشان خدا تعالیٰ دکھاتا ہے۔ نبی کی وفات کے بعد اس سلسلہ کو قائم رکھ کر اللہ تعالیٰ یہ دکھانا چاہتا ہے کہ یہ سلسلہ در اصل خدا تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے۔ بعض نادان لوگ نبی کے زمانہ میں کہاکرتے ہیں کہ یہ ایک ہوشیار اور چالاک آدمی ہے اور دکاندار ہے کسی اتفاق سے اس کی دکان چل پڑی ہے لیکن اس کے مرنے کے بعد یہ سب کاروبار تباہ ہو جاوے گا۔ تب اللہ تعالیٰ نبی کی وفات کے وقت ایک زبردست ہاتھ دکھاتا ہے اور اس کے سلسلہ کو نئے سرے سے پھر قائم کرتا ہے۔آنحضرت ﷺ کی وفات کے وقت بھی ایسا ہی ہوا تھا …. تب خدا تعالیٰ نے ابو بکر کو اٹھایا اور تمام کاروبار اسی طرح جاری رہا، اگر انسان کا کاروبار ہوتا تو اس وقت ادھورا رہ جاتا…اللہ تعالیٰ اپنی قدرت نمائی کا ایک نمونہ دکھانا چاہتا ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 2۔ نظارت اشاعت ربوہ)
خدائے عزیز و حکیم کے فضل و رحم سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے وقت اللہ تعالیٰ نے اپنی زبردست قدرت کو ایک مرتبہ پھر ظاہر کیا اور حضرت حکیم حافظ مولوی نور الدین صاحب بھیروی رضی اللہ عنہ کو خلعت خلافت سے نواز کر اس جماعت کو سنبھال لیا اور جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے فرمان ’’میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے ‘‘ نیز ’’ دوسری قدرت …دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا۔‘‘ کے مطابق ضروری تھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ’’اور وجود‘‘ ہوں جو ’’دوسری قدرت کا مظہر‘‘ ہوں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے موافق اَور وجودوں کو بھی اپنی قدرت ثانیہ کے مظاہر کے طور پر ظاہر کیا اور انہی مظاہر کے ہاتھ پر بیعت کرا کے جماعت کو پہلے بھی متّحد و متفق رکھا، آج بھی رکھے ہوئے ہے اور آئندہ بھی رکھے گا، انشاء اللہ۔
افسوس صد افسوس کہ بعض لوگ اس نعمت عظمیٰ کو پاکر بھی اس کے انکار کرنے والوں میں سے ہوگئے اور سورۃ آل عمران آیت 8 کے مطابق کج رَو اور ٹیڑھے پن والے لوگوں کی طرح اپنے مطلب کی تاویلیں کر کے دین میں فتنہ ڈالنے کی کوشش کی اور مختلف حلیے بدل کر حیلوں اور بہانوں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد قدرت ثانیہ یعنی خلافت احمدیت کا انکار کیا۔
منکرین خلافت کے دو ہی بہانے ہیں:
(1) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا رسالہ الوصیت میں تحریر فرمانا ’’ اور جب تک کوئی خدا سے روح القدس پاکر کھڑا نہ ہو سب میرے بعد مل کر کام کرو۔‘‘ جس کا مطلب ہے کہ امام یا خلیفہ کی ضرورت نہیں بس آپس میں مل کر کام کرنا چاہیے اور آئندہ کسی زمانے میں خدا سے روح القدس پاکر کوئی کھڑا ہو تو اس کی بیعت کر لی جائے۔
(2) حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کاجماعت کو قدرت ثانیہ کے ظہور کے لیے اکٹھے مل کر دعائیں کرنے کی تحریک کرنا۔
جہاں تک پہلی بات کا تعلق ہے کہ ’’ اور جب تک کوئی خدا سے روح القدس پاکر کھڑا نہ ہو سب میرے بعد مل کر کام کرو۔‘‘ تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا یہ جملہ قدرت ثانیہ کے متعلق تحریر کا اخیر ہے۔ یعنی قدرت ثانیہ کے بیان کے تسلسل میں ہی حضرت اقدس علیہ السلام نے یہ بات بیان فرمائی ہے پس اس سے یہ نتیجہ نکالنا کسی طور پر بھی درست نہیں کہ امام یا خلیفہ کی ضرورت نہیں بس آپس میں مل کر کام کرنا چاہیے اور آئندہ کسی زمانے میں خدا سے روح القدس پاکر کوئی کھڑا ہو تو اس کی بیعت کر لی جائے۔ کیونکہ یہ نتیجہ نکالنا گویا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس تمام تعلیم و تلقین پر پانی پھیرنا ہے جو قدرت ثانیہ کے متعلق آپؑ جماعت کو وصیۃً تحریرفرما رہے ہیں۔ حضور علیہ السلام نے تو واضح فرمایا ہے کہ ’’مَیں جب جاؤں گا تو پھر خدا اُس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی‘‘ ۔ قدرت ثانیہ کا ظہور کوئی پہلی دفعہ دنیا میں نہیں ہونا تھا بلکہ ’’قدیم سے سنّت اللہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ دو قدرتیں دکھلاتا ہے‘‘ ۔یعنی پہلے بھی انبیاء کی وفات پر اس کو ظاہر کرتا آیا ہے اور اب حضرت اقدس علیہ السلام کی وفات پر اس کا ظہور ہوگا اور ’’جیسا کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ کے وقت میں ہوا اور ’’تب خدا تعالیٰ نے حضرت ابو بکر صدیقؓ کو کھڑا کر کے دوبارہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھایا‘‘ کی مثال دے کر آپؑ نے ہر قسم کے شک و شبہ کو دُور فرما دیا۔ کیا اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو بکر صدیق ؓ کو روح القدس کے بغیر ہی کھڑا کر دیا؟ اور ان کے بعد حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ بھی کیا بغیر روح القدس کے خود ہی کھڑے ہوگئے؟
پس حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے اس قدر واضح اور روشن بیان کے بعد امامت یا خلافت کا انکار کرنا اپنے دل کے زیغ کو ظاہر کرنا ہے۔ جب حضرت اقدس علیہ السلام نے قدرت ثانیہ کا وقت ’’ جیسا کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ کے وقت میں ہوا جب کہ آنحضرت ﷺ کی موت ایک بے وقت موت سمجھی گئی اور بہت سے بادیہ نشین نادان مرتد ہوگئے اور صحابہؓ بھی مارے غم کے دیوانہ کی طرح ہوگئے۔‘‘ کے الفاظ سے ظاہر فرمایا ہے تو طبعًا ’’ اور جب تک کوئی خدا سے روح القدس پاکر کھڑا نہ ہو سب میرے بعد مل کر کام کرو۔‘‘ کے الفاظ میں بھی آنحضرت ﷺ کی وفات اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے خلیفہ بننے سے پہلے کے نازک وقت کی طرف اشارہ ہے کہ میری وفات پر نہ بادیہ نشینوں کی طرح مرتد ہونا اور نہ ہی اُن لوگوں کی طرح الگ مجلسیں لگا لینا جنہوں نے حضرت نبی کریم ﷺ کی وفات پر سقیفہ بنی ساعدہ میں بیٹھ کر ’’مِنَّا اَمِیْرٌ وَ مِنْکُمْ اَمِیْرٌ‘‘ (یعنی اب ایک امیر ہم (انصار) میں سے اور ایک امیر تم (مہاجرین) میں سے ہوگا) کا فیصلہ کر لیا تھا اور سمجھانے پر بھی ’’ لَا وَاللّٰہِ لَا نَفْعَلُ، مِنَّا اَمِیْرٌ وَ مِنْکُمْ اَمِیْر‘‘ پر تُلے ہوئے تھے۔ لیکن موقع پر ہی اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر اکثریت کی بیعت کراکے اُن کی غلط فہمی کو بھی دور کر دیا اور امت مسلمہ ایک مرتبہ پھر حبل اللہ کو پکڑ کر تفرقہ سے بچ گئی۔ اس پس منظر میں حضرت اقدس علیہ السلام کے اس فرمان کا یہی مطلب ہے کہ اے جماعت احمدیہ! تم ان مجرّب غلطیوں کو نہ دہرانا بلکہ سب میرے بعد مل کر کام کرنا۔ اورخلافت پر ایمان لاتے ہوئے انتخاب خلافت بھی ان کاموں میں سے ایک اہم کام ہے اسی لیے امام ابن حجر العسقلانیؒ نے اپنی شرح بخاری میں یہ بات درج فرمائی ہے کہ ’’اَنّ اِقَامۃ الْخَلِیفَۃ سُنّۃٌ مؤکّدَۃٌ …. و بِأَنَّھُمْ تَرَکُوْا لِأَجْلِ اِقَامَتِھَا أَعْظَمَ الْمُھِمَّاتِ وَ ھُوَ التَّشَاغُلُ بِدَفْنِ النَّبِیّ ﷺ حَتّٰی فَرَغُوْا مِنْھَا۔‘‘
(فتح الباری شرح صحیح البخاری کتاب فضائل الصحابہ باب قول النبی ﷺ ’’لَوْ کُنتُ مُتَّخِذًا خَلِیْلً‘‘ا)
یعنی خلافت کا قیام ایک سنت مؤکدہ ہے …. یہ بھی کہ اس (خلافت) کے قائم کرنے کی خاطر بعض عظیم الشان کام بھی چھوڑ دیے جن میں سے حضرت نبی کریم ﷺ کی تدفین بھی تھی، جب تک کہ وہ اس (قیام خلافت) سے فارغ نہیں ہوئے۔
پس نبی یا خلیفہ کی وفات کا وقت صبر اور آپس میں اتحاد دکھانے کا ہوتا ہے کیونکہ یہ چند لمحے جماعت بغیر امام کے ہوتی ہے اور امام یا خلیفہ جو کہ وحدت کا اصل سبب ہے اس کی عدم موجودگی میں یہی نصیحت ہے کہ مل کر کام کرنا۔ اسی لیے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے اپنے خلیفہ بننے کے بعد بارہا جماعت کو یہ نصیحت فرمائی کہ ’’تم شکر کرو کہ ایک شخص کے ذریعہ تمہاری جماعت کا شیرازہ قائم ہے۔‘‘ (بدر 24اگست 1911ء) یعنی جماعت کا شیرازہ کسی امام یا خلیفہ کے بغیر قائم رہنا ممکن نہیں پس جب تک اللہ تعالیٰ شیرازہ قائم کرنے والانہ چن لے آپس میں مل کر کام کرنا۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے رسالہ ’’الوصیت‘‘ کے آغاز میں ہی یہ الفاظ تحریر فرمائے ہیں:
’’میں نے مناسب سمجھا کہ اپنے دوستوں اور اُن تمام لوگوں کے لئے جو میرے کلام سے فائدہ اُٹھانا چاہیں، چند نصائح لکھوں۔‘‘(الوصیت، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 301)
پس جو لوگ حضور علیہ السلام کے کلام سے فائدہ اٹھانا نہیں چاہتے وہی اس قسم کے حیلے بہانے کر کے بیٹھے ہیں یہی وجہ ہے کہ خلافت کو چھوڑ کر جس طرح انہوں نے مل کر کام کیا ہے وہ بھی دنیا نے دیکھ لیا ہے۔
دوسری دلیل منکرین خلافت کی یہ ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کا قدرت ثانیہ کے نزول کے لیے جماعت کو دعا کی تحریک فرمانا ثابت کرتا ہے کہ حضور رضی اللہ عنہ بھی اس بات کے قائل تھے کہ ابھی تک قدرت ثانیہ ظاہر نہیں ہوئی اور آئندہ کبھی ہوگی۔
یہ درست ہے کہ خلافت اولیٰ کے ابتداء میں ہی حضرت مولوی محمد علی صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کی یہ تحریک اعلان کرائی کہ احباب جماعت کو قدرت ثانیہ کے ظہور کے لیے مل کر دعائیں کرنی چاہییں۔ (الحکم 6؍جون 1908ء صفحہ 8کالم 3) لیکن اس سے یہ نتیجہ نکالنا کسی طور بھی درست نہیں کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ خود قدرت ثانیہ کے مظہر نہیں تھے۔ کیا کبھی حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے اس بات سے انکار کیا کہ میں اللہ تعالیٰ کی دوسری قدرت کا مظہر نہیں ہوں؟ آپ کو خلیفۃ المسیح بھی لکھا گیا اور قدرت ثانیہ کا مظہر اول بھی کہا گیا لیکن کبھی بھی آپؓ نے جماعت کو اس بات سے منع نہیں کیا کہ مجھے قدرت ثانیہ کا مظہر اول نہ لکھا کرو۔ بلکہ اخبار الحکم میں جہاں حضور رضی اللہ عنہ کی احباب جماعت کو اس تحریک کا اعلان ہے اُسی اعلان میں ایڈیٹر اخبار الحکم حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب رضی اللہ عنہ نے یہ بھی لکھا ہے:
’’سب سے بڑی بات جس کے لیے ہمیں طیار ہونا چاہیے وہ یہ ہے کہ قدرت ثانیہ کے ظہور کے لیے مل کر دعائیں کریں جیسا کہ حضرت امام علیہ السلام نے ہدایت فرمائی ہے …. اور بڑی خوشی کا مقام ہے کہ خدا تعالیٰ نے قدرت ثانیہ کے ظہور کا مظہر اول ہمیں عطا کیا، وہ مظہر اول وہی ہے جس کا ذکر میں پہلے کر آیا ہوں یعنی حضرت حکیم الامۃ۔ ‘‘
(الحکم 6؍جون 1908ء صفحہ 8 کالم 3)
اور ایک بار نہیں کئی بار حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ کی دوسری قدرت کا مظہر کہا گیا، ایک اور جگہ حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحبؓ لکھتے ہیں:
’’خدا تعالیٰ کی فوق الفوق اور وراء الوراء طاقت و قدرت نے دکھا دیا تھا کہ یہ درخت اس نے خود لگایا ہے اور وہ آپ اس کا نگہبان اور متولی ہے۔ بہر حال خدا تعالیٰ نے حضرت امام علیہ الصلوٰۃ و السلام کی وفات پر اپنی قدرت کا ہاتھ پھر دکھایا اور ہم سب کو ایک واجب الاحترام معالج کے ہاتھ میں ہاتھ دینے اور اسے اپنا امام یقین کرنے کی توفیق دی۔‘‘(الحکم 26 جولائی 1908ء صفحہ 1 کالم 1,2)
پھر ایک اور جگہ حضرت عرفانی صاحبؓ نے حضرت اقدس علیہ السلام کے وصال اور رفع کو قدرت ثانیہ کے ظہور و نزول کا مقدمۃ الجیش قرار دیتے ہوئے لکھا:
’’حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کی اس وصیت کی تکمیل اور تعمیل کے لیے قدرت ثانیہ کے مظہر اول حضرت خلیفۃ المسیح نے اخبارات میں اعلان کر دیا ہے….‘‘
(الحکم 22؍ اگست 1908ء صفحہ 5 کالم 1)
1908ء کا جلسہ سالانہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد پہلا جلسہ سالانہ تھا چنانچہ احباب جماعت میں مخالفین کی امیدوں کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے جلسے میں شامل ہونے کا ایک جوش اور ولولہ تھا، حضرت ملک نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ نقشہ نویس لائل پور نے اپنے ایک خط میں لکھا:
’’ہر ایک احمدی کو ابھی سے اس میں حصہ لینے کے لیے کوشش فرمانی چاہیے۔ قدرت ثانیہ میں یہ پہلا سالانہ جلسہ ہے۔‘‘(الحکم 18 ستمبر 1908ء صفحہ 4 کالم 2)
اگر صحابہ کرام کا آپؓ کو قدرت ثانیہ کا مظہر لکھنا غلط تھا تو کیوں نہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے اس کا نوٹس لیا اور اس کی تردید فرمائی ؟ آپؓ کیسے تردید فرماتے، آپؓ تو خود قدرت ثانیہ کے ظہور کا اعلان فرما چکے تھے، آپؓ اپنے مضمون ’’وفات مسیح موعودؑ‘‘ محررہ 14؍ جون 1908ء میں مخالفین و معترضین کو مخاطب کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
’’خیر بہر حال اب دشمن جلسے کریں اور خوشیاں منائیں، پہلی زبردست قدرت الٰہیہ کو تو دیکھ چکے ہیں اور دوسری قدرت کا تماشا دیکھیں۔ اب یہ درخت محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے جیسے محفوظ رہا ہے ویسا ہی اب پھولے گا اور پھلے گا۔‘‘(ریویو آف ریلیجنز جون و جولائی 1908ء صفحہ 267)
اگر حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ خلافت کو قدرت ثانیہ یقین نہیں کرتے تھے تو کس بات پر دشمنوں کو فرما رہے تھے کہ دوسری قدرت کا تماشا دیکھیں۔ حضور رضی اللہ عنہ کا لفظ تماشا استعمال کرنا بھی دلچسپ ہے۔ آپؓ نے اپنے اسی مضمون کے شروع میں دشمنوں کو ’’مسخرے‘‘ کے لفظ سے بیان فرمایا ہے یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں سے تمسخر کرتے ہوئے ان کی تعلیمات کو محض تماشا سمجھتے ہیں۔ چنانچہ اسی سوچ کو مد نظر رکھ کر آپؓ نے فرمایا دوسری قدرت کا تماشا دیکھیں۔ بہرحال آپ دوسری قدرت کے ظاہر ہونے کے یقین پر ہی یہ بات بیان فرما رہے تھے ورنہ اگر دوسری قدرت ابھی آئی ہی نہیں تھی تو حضورؓ کس بنیاد پر مخالفین کو تماشا دیکھنے کا کہہ رہے تھے؟
حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے خلیفہ بننے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں بھی اس امر کا اعلان کر دیا تھا اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی مثال دیتے ہوئے فرمایا:
’’… مگر آخر خدا نے اپنی قدرت کا ہاتھ دکھلایا وَلَیُمَکِّنَنَّ لَھُمْ دِیْنَھُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَھُم کا زمانہ آگیا۔ اِس وقت بھی اس قسم کا واقعہ پیش آیا ہے۔ مَیں چاہتا ہوں کہ دفن ہونے سے پہلے تمہارا کلمہ ایک ہو جائے …. اب تمہاری طبیعتوں کے رخ خواہ کسی طرف ہوں، تمہیں میرے احکام کی تعمیل کرنی ہوگی۔‘‘
(الحکم 6؍جون 1908ء صفحہ 8 و اخبار بدر 2؍ جون 1908ء صفحہ 8 کالم 3)
حضرت مولوی محمد علی صاحب ایم اے نے 21؍ جون 1908ء کو لاہور میں اپنی ایک پُر جوش تقریر میں فرمایا:
’’ان لوگوں کا خیال بلکہ یقین تھا کہ آپؑ کی وفات کے ساتھ ہی یہ کارخانہ درہم برہم ہو جائے گا اور یہ درخت جڑ سے اکھڑ جائے گا…. مگر خدا کی شان کہ جب وہ وقت آیا تو ان کی تمام امیدوں اور آرزوؤں پر پانی پھر گیا اور ان کی رہی سہی ہمت بھی ٹوٹ گئی….۔
میں خود اپنے دل کو اور اپنے احباب کے دلوں کو دیکھتا ہوں تو ایسا پاتا ہوں کہ جس طرح کسی عظیم الشان فتح کے بعد ایک انشراح اور اطمینان ہوتا ہے، کوئی قبض نہیں، کوئی گھبراہٹ نہیں، نہ کسی قسم کی کمزوری ہے اور نہ ہی تزلزل۔ کیا یہ اس قدرت ثانیہ کا ابتدا نہیں جس کا ہمیں وعدہ دیا گیا تھا۔‘‘(الحکم 18 جولائی 1908ء صفحہ 4 کالم 3)
حضرت مولوی محمد علی صاحب نے قدرت ثانیہ کی ابتدا کا اعتراف تو کر لیا لیکن افسوس کہ اس کے دائمی اور قیامت تک منقطع نہ ہونے کا انکار کر بیٹھے۔
بہر کیف ان حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ خود حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی خلافت کو قدرت ثانیہ کا ظہور قرار دیا اور اپنے متعلق قدرت ثانیہ کا مظہر اول لکھے جانے پر کبھی اس کی تردید نہیں کی۔
لیکن سوال یہ ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کا احباب جماعت کو قدرت ثانیہ کے ظہور کے لیے مل کر دعائیں کرنے کی تحریک کرنے کا کیا مطلب تھا؟ یہ کوئی عجیب بات نہیں، اس کا مطلب ہمیں بعض قرآنی دعاؤں سے بآسانی سمجھ آ سکتا ہے، سورۃ فاتحہ میں ہم روز یہ دعا کرتے ہیں:
اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ (الفاتحہ: 6)یعنی ہمیں سیدھے راستے کی طرف ہدایت دے۔ آنحضرت ﷺ بھی نماز میں یہی دعا پڑھا کرتے تھے۔ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ نعوذ باللہ آپؐ صراط مستقیم پر نہیں تھے؟ حالانکہ خود قرآن کریم آپؐ کے حق میں فرماتا ہے:
(1) وَ اِنَّکَ لَتَھْدِیْ اِلیٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِیْمٍ (الشوریٰ:53)
(2) وَ اَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ (الانعام: 154)
(3) یٰسٓ۔ والْقُراٰنِ الْحَکِیْمِ۔ اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ۔عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۔
اس کا جواب مفسّرین نے دیا ہوا ہے۔ علامہ طبری اپنی تفسیر میں اس آیت کے معانی میں لکھتے ہیں:
قَال أبو جعفر : و معنی قولِہٖ (اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ) فِی ھٰذَا المَوْضع عِنْدَنا : وَفِّقْنَا لِلثبات عَلیہ، کَما رُوِیَ ذالک عن ابن عباس۔
(تفسیر جامع البیان فی تفسیر القرآن للطبری (متوفّٰی 310ھ) سورۃ الفاتحہ زیر آیت اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ)
یعنی اس جگہ صراط مستقیم کی دعا مانگنے سے مراد صراط مستقیم پر ثابت قدمی مانگنا ہے۔
پھر آنحضور ﷺ کے صحابہ کے متعلق لکھا ہے کہ ان میں سے اکثر کے نزدیک الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْم سے مراد اسلام ہے۔ اب جبکہ ایک انسان بحیثیت مسلمان الصراط المستقیم بمعنی اسلام کی دعا مانگتا ہے تو لازمی بات ہے کہ وہ اسلام پر ثابت قدم رہنے ہی کی دعا مانگتا ہے کیونکہ دینِ اسلام پر تو وہ پہلے ہی پہنچ چکا ہے۔
اسی طرح نماز کے آخر میں ہم رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوۃِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ…. (ابراہیم:41) کی دعا مانگتے ہیں۔ یہ دعا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہے ، کیا اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوۃ کی دعا مانگنے کا یہ مطلب ہے کہ نعوذ باللہ حضرت ابراہیمؑ نماز قائم کرنے والے نہیں تھے! اس کا درست مطلب مفسرین نے اپنی تفاسیر میں بیان فرما دیا ہے، علامہ ابو حیان اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
وَدُعَائُ ہٗ بِأنْ یَّجْعَلَہٗ مُقِیْمَ الصّلٰوۃ وَ ھُوَ مُقِیْمُھَا، اِنَّمَا یُرِیْدُ بِذَالِک الدَیْمُوْمَۃَ۔
(تفسیر البحر المحیط لعلامۃ ابو حیان متوفّٰی 754ھ زیر تفسیر سورۃ ابراہیم آیت 41)
یعنی حضرت ابراہیم ؑ کا دعا مانگنا کہ اللہ انہیں نماز قائم کرنے والا بنائے حالانکہ آپؑ پہلے ہی اس کے قائم کرنے والے تھے، اِس دعا سے آپؑ کی مراد صرف دوام یعنی ہمیشگی مانگنا ہے۔
ایک آخری مثال بیان کرکے اس بحث کو ختم کیا جاتا ہے۔ قرآن پاک میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی ایک دعا یوں بیان ہوئی ہے:
رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ (البقرۃ 129)
یعنی اے ہمارے ربّ! ہمیں اپنا فرمانبردار بنا۔
اس کا بھی یہ مطلب نہیں کہ نعوذ باللہ حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیل ؑ دونوں فرمانبردار نہیں تھے، وہ دونوں تو انتہائی فرمانبردار تھے اور دعا میں فرمانبرداری پر ثابت قدمی مانگ رہے تھے۔ علامہ قرطبی نے اس کے معنے ’’سَأَلَا التَّثْبِیْتَ و الدَّوَامَ۔‘‘ کے کیے ہیں یعنی دونوں فرمانبرداری میں ثابت قدمی اور مداومت مانگ رہے تھے۔
حضرت امام رازیؒ نے اس آیت کی تفسیر میں اصل اصول بیان فرما دیا ہے، آپؒ بیان کرتے ہیں:
’’و طَلَبُ تَحْصِیلِہٖ فِی الزمان المستقبل لَا یُنَافِی حُصُولہٗ فِی الحال۔‘‘
(التفسیر الکبیر للامام الرازیؒ۔ سورۃ البقرۃ آیۃ 129 رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَک)
یعنی زمانہ مستقبل میں اس (فرمانبرداری) کے مانگنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ زمانہ حال میں یہ حاصل ہی نہیں ہے۔
پس ان دعاؤں اور ان کی تفسیر سے حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کی قدرت ثانیہ کے ظہور کے لیے دعا کی تحریک کی حکمت بھی سمجھ آ جاتی ہے خصوصًا جبکہ آپ خود اپنی خلافت کے ذریعے قائم ہونے والے اتحاد کے بعد دشمنوں کو دوسری قدرت کا تماشا دیکھیں کا اعلان کر چکے تھے مزید یہ کہ جو پیشگوئی قرآن و حدیث میں موجود ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نص صریح اس کے متعلق موجود ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ اس کے بر عکس کہیں!
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اپنی جماعت کو نشانات کی قدر دانی کی تلقین کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’مجھے پختہ وعدہ دیا گیا ہے کہ بہت سے عظیم الشان نشان تیرے ہاتھ سے ظاہر ہوں گے مگر یہ علم مجھ کو نہیں دیا گیا کہ کون کون لوگ اس سے مستفید ہوں گے۔
نشانوں کی نا قدر دانی دو طرح سے وقوع میں آتی ہے، ایک کفر و انکار سے، اور ایک اس طرح کہ دو روز تک اس کے وقوع کے بعد واہ واہ کی جائے اور پھر اُسے قطعًا فراموش کر ڈالا جائے اور خدا تعالیٰ کی عظمت و جبروت اس کے وقوع کے بعد نئے سرے دل پر وارد نہ کی جائے…. خدا تعالیٰ اس وقت دیکھتا ہے کہ کن لوگوں نے گذشتہ نشانوں کی قدردانی کی اور اپنے اعمال میں تبدیلی پیدا کی، وہ اُن ہی کو آئندہ بھی مستفید ہونے کی توفیق بخشے گا۔ ‘‘
(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 326,327۔ نظارت اشاعت ربوہ)
حضرت اقدس علیہ السلام کے اس اقتباس سے ہمیں حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کی قدرت ثانیہ کے ظہور کے لیے دعا کرانے کی ایک اور حکمت سمجھ آتی ہے۔ قدرت ثانیہ اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم الشان انعام اور نشان ہے پس بقول حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ نہ ہو کہ ’’ دو روز تک اس کے وقوع کے بعد واہ واہ کی جائے اور پھر اُسے قطعًا فراموش کر ڈالا جائے ‘‘ بلکہ ہر ایک جماعت ہر ایک ملک میں اکٹھے ہوکر دعا میں لگے رہیں تا اللہ تعالیٰ آئندہ بھی اس نعمت سے مستفید ہونے کی توفیق بخشے۔
مفسرّین نے دعا کے معنی ایمان اور اللہ کی نعمت پر شکر بجالانے کے بھی کیے ہیں جیسا کہ آیت قُلْ مَا یَعْبَأُ بِکُمْ رَبِّیْ لَوْ لَا دُعَاؤُکُمْ (الفرقان: 78)کی تفسیر میں امام رازیؒ نے لفظ دُعَاؤُکُمْ کے مختلف معانی میں (1) لَوْ لَا اِیْمَانُکُمْ (اگر تمہارا ایمان نہ ہو) اور (2) لَوْ لَا شَکَرْتُمْ عَلیٰ اِحْسَانِہٖ (اگر تم اس کے احسان پر شکر نہ کرو)( تو وہ تمہاری کچھ بھی پرواہ نہیں کرتا) بھی بیان فرمائے ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کی تحریک میں یہی حکمت تھی۔ حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحبؓ حضورؓ کی اس تحریک دعا کے ضمن میں لکھتے ہیں:
’’ خدا تعالیٰ کے مامور و مرسل اور ان کے خلفاء اور نُوّاب جن امور کو اپنی بیعت یا تعلیم میں رکھتے ہیں وہ بے محل نہیں ہوا کرتی ….. یہ لوگ طبیب روحانی ہوتے ہیں جس مرض میں قوم کو مبتلا دیکھتے ہیں اسی کا علاج کرتے ہیں۔‘‘
(الحکم 22؍ اگست 1908ء صفحہ 5 کالم 1)
یعنی حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کی جہاںجماعت کا شیرازہ بکھیرنے والے بیرونی حملوں اور سازشوں پر نظر تھی وہاں جماعت کی اندرونی تعلیم و تربیت کی بھی فکر تھی اسی لیے آپؓ ہمیشہ جماعت کو باہم پیار و محبت سے رہنے کی تلقین کرتے رہے ، خلافت کے ذریعے قائم ہونے والے اتحاد و اتفاق کے متعلق حضورؓ جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’اس موجودہ اتفاق و وحدت سے ہمارے احباب فائدہ اٹھائیں۔‘‘
(ریویو آف ریلیجنز جون و جولائی 1908ء صفحہ 263,264)
اسی نعمت کی قدر اور شکر کی طرف توجہ دلاتے ہوئے جماعت کو فرمایا:
’’تم شکر کرو کہ ایک شخص کے ذریعہ تمہاری جماعت کا شیرازہ قائم ہے۔ اتفاق بڑی نعمت ہے اور یہ مشکل سے حاصل ہوتا ہے۔ یہ خدا کا فضل ہے کہ تم کو ایسا شخص دے دیا جو شیرازۂ وحدت قائم رکھے ہوئے جاتا ہے۔‘‘
(بدر 24اگست 1911ء)
اکتوبر 1909ء میں خطبہ عید الفطر میں اسی اہم امر کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا:
’’اب ضرورت ہے اس جماعت میں اتفاق، اتحاد اور وحدت کی اور وہ موقوف ہے خلیفہ کی فرمانبرداری پر۔‘‘
(خطبات نور صفحہ 418)
’’بم کے گولے اور زلزلہ سے بھی زیادہ خوفناک بات یہ ہے کہ تم میں وحدت نہ ہو۔‘‘
(خطبات نور صفحہ 422)
آپؓ نے منکرین خلافت کے اس وسوسے کا بھی اچھی طرح ازالہ کیا کہ خلیفہ لوگوں کا منتخب کردہ ہے نہ کہ خدا تعالیٰ کا بنایا ہوا۔ آپؓ فرماتے ہیں:
’’میں خلیفۃ المسیح ہوں اور خدا نے مجھے بنایا ہے‘‘
(بدر 25 جنوری 1912ء صفحہ 6 کالم 1)
’’جس کو خدا تعالیٰ نے چاہا خلیفہ بنا دیا اور تمہاری گردنیں اس کے سامنے جھکا دیں، خدا تعالیٰ کے اس فعل کے بعد بھی تم اس پر حماقت کرو تو سخت حماقت ہے۔‘‘
(بدر 4؍ جولائی 1912ء صفحہ 6 کالم 3)
’’یہ رفض کا شبہ ہے جو خلافت کی بحث تم چھیڑتے ہو، یہ تو خدا سے شکوہ کرنا چاہیے کہ بھیرہ کا رہنے والا خلیفہ ہوگیا …. ہزار نالائقیاں مجھ پر تھوپو، مجھ پر نہیں یہ خدا پر لگیں گی جس نے مجھے خلیفہ بنایا۔ یہ لوگ ایسے ہی ہیں جیسے رافضی ہیں جو ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما پر اعتراض کرتے ہیں۔‘‘
(بدر 11؍ جولائی 1912ء صفحہ 3کالم 3)
’’مَیں خدا کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ مجھے بھی خدا نے خلیفہ بنایا ہے …. جس طرح پر آدم و داؤد اور ابو بکر و عمر کو اللہ تعالیٰ نے خلیفہ بنایا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ ہی نے مجھے خلیفہ بنایا ہے۔ اگر کوئی کہے کہ انجمن نے خلیفہ بنایا ہے تو وہ جھوٹا ہے …. پھر سن لو کہ مجھے نہ کسی انسان نے، نہ کسی انجمن نے بنایا اور نہ مَیں کسی انجمن کو اس قابل سمجھتا ہوں کہ وہ خلیفہ بنائے۔‘‘(بدر 11؍ جولائی 1912ء صفحہ 6,7)
منکرین خلافت کو یہ بھی کھول کر بتا دیا کہ نہ صرف یہ کہ خدا نے مجھے خلیفہ بنایا ہے بلکہ آئندہ آنے والا خلیفہ بھی خدا کا ہی بنایا ہوا خلیفہ ہوگا:
’’خلافت کیسری کی دکان کا سوڈا واٹر نہیں، تم اس کے بکھیڑے سے کچھ فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ نہ تم کو کسی نے خلیفہ بنانا ہے اور نہ میری زندگی میں کوئی اور بن سکتا ہے۔ مَیں جب مروں گا تو پھر وہی کھڑا ہوگا جس کو خدا چاہے گا اور خدا اُسے آپ کھڑا کرے گا۔‘‘
(بدر 11؍ جولائی 1912ء صفحہ 4)
قدرت ثانیہ کے ظہور کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ: ’’مَیں جب جاؤں گا تو پھر خدا اُس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا‘‘ اور یہاں حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ فرما رہے ہیں کہ ’’مَیں جب مروں گا تو پھر وہی کھڑا ہوگا جس کو خدا چاہے گا۔‘‘ یعنی خلافت ہی قدرت ثانیہ ہے اور ہر خلیفہ کی وفات پر اللہ تعالیٰ کسی اور کو خلیفہ بنا کر اس جماعت کی وحدت کے سامان کرتا رہے گا ۔ اورسورۃ نور میں بیان شدہ علامت یعنی ان کے دین کی تمکین اور ان کے خوف کا امن میں بدلنا اس کی صداقت کی گواہی ہے۔ انہی علامتوں کا ذکر کر کے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب ’’سرّ الخلافۃ‘‘ میں منکرین خلفاء ثلاثہ کو ہوش کے ناخن لینے کی نصیحت فرمائی ہے۔ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ھذا مَا بَشّر رَبُّنَا لِلْمُؤمِنین، وَ أَخْبَر عَنْ عَلَامَات المُستخلفین، فَمَن أتَی اللّٰہَ لِلْاِسْتِماحَۃ، وَمَا سَلَکَ مَسلک الوَقاحۃ، وَ مَا شدّ جبائر التلبیس علیٰ ساعِدِ الصراحۃ، فَلا بُدّ لہٗ مِن أَنْ یَقْبل ھذَا الدلیل و یَترُک المعاذِیر و الأقاوِیْل، وَ یَأْخُذَ طُرُق الصالحین۔‘‘
(سرّ الخلافۃ، روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 334)
ترجمہ: یہ وہ بشارت ہے جو ہمارے ربّ نے مومنوں کو دی ہے اور اللہ نے مومنوں میں سے خلیفہ بننے والوں کی علامتیں بتا دی ہیں۔ پس جو شخص اللہ تعالیٰ کی درگاہ میں مانگنے کے لیے آئے گا اور بے حیائی کے راستے پر گامزن نہیں ہوگا اور مکر و فریب کی پٹیاں صراحت کی کلائی پر نہیں باندھے گا اُس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس دلیل کو قبول کرلے اور حیلے بہانے اور جھوٹی باتیں چھوڑ دے اور صالحین کا طریق اختیار کرے۔
حضرت اقدس علیہ السلام کی یہی نصیحت ہم منکرین خلافت احمدیہ کے نام کرتے ہیں کہ حیلے بہانے اور جھوٹی باتیں چھوڑ دیں اور صالحین کا طریق اختیار کریں۔
وَ اِنْ کُنْتَ قَدْ سَائَ تْکَ اَمْرُ خِلَافِتِیْ
فَسَلْ مُرْسِلِیْ مَا سَائَ قَلْبَکَ وَاحْصُرُ
(اعجاز احمدی)
ایک دفعہ جماعت کا ایک وفد شیعوں کے ساتھ مباحثے کی غرض سے جانے سے قبل حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بغرض دعا حاضر ہوا، حضورؓ نے فرمایا:
’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ منافق کی نشانی ہے وَ ھَمُّوْا بِمَا لَمْ یَنَالُوْا انہوں نے اس بات کا ارادہ کیا جسے نہ پاسکے۔ ہم تو نہیں مانتے کہ مولیٰ مرتضیٰ کو خلافت کی خواہش تھی لیکن اگر تھی تو انہوں نے بقول شیعوں کے وہ خواہش کی جو پوری نہ ہوئی۔ اور ہم یہ بھی نہیں مانتے کہ حضرت ابو بکرؓ نے خلافت کی خواہش کی لیکن اگر شیعوں کے نزدیک انہوں نے خواہش کی اور ان کی وہ خواہش پوری ہوگئی اور ھَمُّوْا بِمَا نَالُوْا ہوگئے، پس وہ منافق نہیں ہو سکتے کیونکہ جو انہوں نے چاہا اُن کو مل گیا اور منافق تو وَ ھَمُّوْا بِمَا لَمْ یَنَالُوْا ہوتے ہیں۔‘‘
(الفضل 25؍ فروری 1914ء صفحہ 16 کالم 3)
حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کا یہ معنی خیز نکتہ خلافت احمدیت اور اس کے منکرین پر بھی بعینہٖ چسپاں ہوتا ہے۔
ایک اور جگہ حضورؓ منکرین خلافت و مومنین خلافت کا موازنہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ مُّعْرِضُوْنَ میں جس گروہ کا ذکر ہے وہ نہ حضرت ابو بکرؓ کے زمانہ میں، نہ حضرت عمرؓ کے زمانے میں، نہ حضرت عثمانؓ و علیؓ کے زمانے میں، غرض کبھی مظفر و منصور نہیں ہوا۔ مگر دوسرا فریق سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا (البقرہ:286) کہنے والا مظفر و منصور رہا۔‘‘
(حقائق الفرقان جلد سوم صفحہ 223۔ تفسیر سورۃ نور آیت 53)
اللہ تعالیٰ نے جو وعدے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ کیے تھے وہ آپؑ کے بعد خلافت کے ذریعے پورے کیے اور خلافت کے ہی سائے میں سلسلہ احمدیہ کو ترقی سے نوازا۔ وہ سارے کام جن کی بنیاد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رکھی، اللہ تعالیٰ نے خلافت کے ذریعے ان بنیادوں پر عالی شان عمارات تعمیر کیں۔ حیرت ہے منکرین خلافت ان ترقیات و برکات کو دیکھ کر بھی اپنی ضد اور ہٹ دھرمی میں صلح کے پیغام دیتے ہیں یا اصلاح پسندی کے دعوے کرتے ہیں۔ خود تو قرآنی فرمان ضَلُّوْا کا مصداق ہوتے ہیں پھر آگے خلافت اور نظام جماعت کے خلاف خفیہ ٹریکٹس اور پمفلٹس(کاغذوں کے گھوڑے) تقسیم کر کے وَ أَضَلُّوْا کَثِیْرًا کا مصداق بننا چاہتے ہیں۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی کتاب ’’فتح اسلام‘‘ میں اپنے قائم کردہ سلسلہ کی پنج شاخوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’بلا شبہ یہ بات یقینی اور امور مسلمہ میں سے ہے کہ یہ مہم عظیم اصلاح خلائق کی صرف کاغذوں کے گھوڑے دوڑانے سے روبراہ نہیں ہو سکتی۔ اس کے لئے اِسی راہ پرقدم مارنا ضروری ہے جس پر قدیم سے خدا تعالیٰ کے پاک نبی مارتے رہے ہیں۔‘‘
(فتح اسلام، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 19)
پس خلافت احمدیہ کے ذریعے حاصل ہونے والی ترقیات اس بات کا بیّن ثبوت ہیں کہ یہ قدم اُسی راہ پر ہے جس پر کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام تھے۔
ہم تو ہر دم چڑھ رہے ہیں اِک بلندی کی طرف
وہ بلاتے ہیںکہ ہو جائیں نہاں ہم زیرِ غار
اب خدائے عزیز و حکیم نے قدرت ثانیہ یعنی خلافت کے ذریعے اپنی رحمت کا دروازہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت پر کھول دیا ہے اب کوئی نہیں جو اس دروازہ کو بند کر سکے، مَا یَفْتَحِ اللّٰہُ لِلنَّاسِ مِنْ رَّحْمَۃٍ فَلَا مُمْسِکَ لَھَا (فاطر: 3) اب تو یہ دائمی ہے اور اس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا، انشاء اللہ۔ اس سچائی کے ظاہر ہوجانے کے بعد جو کوئی اس کے مقابل پر آنے کی کوشش کرتا ہے وہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی ان مثالوں کا مصداق بن جاتا ہے:
’’پیغمبر خدا ﷺ کے زمانہ میں بھی بہت سے جھوٹے نبی پیدا ہوئے تھے مگر جھوٹا ہمیشہ بعد میں پیدا ہوتا ہے، سچا پہلے ظاہر ہو جاتا ہے تو پھر اُس کی رِیس کر کے جھوٹے بھی نکل کھڑے ہوتے ہیں۔‘‘(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 243)
’’جب تک کوئی سچی بات نہ ہو تب تک جھوٹی بات نہیں بنائی جاتی۔ مثلًا اگر دنیا میں سچا اور اصل سونا نہ ہوتا تو کیمیا گر کبھی جھوٹا سونا نہ بناتا۔ اگر سچے ہیرے اور موتی کانوں سے نہ نکلتے تو جھوٹے ہیرے اور موتی بنانے کا خیال کسی کو نہ پیدا ہوتا۔ اِن جھوٹوں کا ہونا خود اس بات کی دلیل ہے کہ سچے ضرور ہیں۔‘‘
(ذکر حبیبؑ از حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ عنہ صفحہ 283)
’’ جب آسمان سے بارش نازل ہوتی ہے اور ایک وادی کو پُر کرتی ہے اور زور سے چلنا چاہتی ہے تو یہ قانون قدرت ہے کہ اس پر ایک قسم کی جھاگ آ جاتی ہے، وہ جھاگ بظاہر ایک غلبہ اور فوقیت رکھتی ہے کہ پانی اس کے نیچے اور وہ اوپر ہوتی ہے بلکہ بسا اوقات اس قدر بڑھتی ہے کہ پانی کے اوپر کی سطح کو ڈھانک لیتی ہے لیکن بہت جلد نابود کی جاتی ہے اور پانی جو لوگوں کو فائدہ پہنچانے والی چیز ہے، باقی رہ جاتی ہے۔‘‘(مکتوبات احمد جلد دوم صفحہ 123,124۔ نیو ایڈیشن)
حضرت اقدس علیہ السلام کی ان مثالوں پر اللہ تعالیٰ کی فعلی شہادت کو تاریخ نے مشاہدہ کیا ہے اور آئندہ بھی کرتی چلی جائے گی۔
قدرت ثانیہ کے مظہر خامس امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے آغاز خلافت میں جماعت کو ایک مرتبہ پھر اسی قدرت ثانیہ کے ساتھ وابستہ رہنے اوراس کی برکات سے فائدہ اٹھانے کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:
’’یہ خدا تعالیٰ کا بے شمار فضل اور احسان ہے کہ اس نے اپنے وعدہ کے موافق حضور رحمہ اللہ کی وفات پر جو خوف کی حالت پیدا ہوئی اس کو امن میں بدل دیا اور اپنے ہاتھ سے قدرت ثانیہ کو جاری فرما دیا…. دعائیں کریں اور بکثرت دعائیں کریں اور ثابت کر دیں کہ ہمیشہ کی طرح آج بھی قدرتِ ثانیہ اور جماعت ایک ہی وجود ہیں اور انشاء اللہ ہمیشہ رہیں گے۔
قدرت ثانیہ خدا کی طرف سے ایک بڑا انعام ہے جس کا مقصد قوم کو متحد کرنا اور تفرقہ سے محفوظ رکھنا ہے۔ یہ وہ لڑی ہے جس میں جماعت موتیوں کی مانند پروئی ہوئی ہیں، اگر موتی بکھرے ہوں تو نہ تو محفوظ ہوتے ہیں اور نہ ہی خوبصورت معلوم ہوتے ہیں ۔ ایک لڑی میں پروئے ہوئے موتی ہی خوبصورت اور محفوظ ہوتے ہیں اگر قدرت ثانیہ نہ ہو تواسلام کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔ پس اس قدرت کے ساتھ کامل اخلاص اور محبت اور وفا اور عقیدت کا تعلق رکھیں اور خلافت کی اطاعت کے جذبہ کو دائمی بنائیں اور اس کے ساتھ محبت کے جذبہ کو اس قدر بڑھائیں کہ اس محبت کے بالمقابل دوسرے تمام رشتے کمتر نظر آئیں….‘‘
(الفضل 23,30مئی 2003ء صفحہ 1)




