پرسیکیوشن رپورٹس

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں احمدیوں پر ہونے والے دردناک مظالم کی الم انگیزداستان (قسط نمبر192)

(’عبد الرحمان‘)

{ 2015ء میں سامنے آنے والے چند تکلیف دہ واقعات سے انتخاب}

سال 2015ء اور احمدیوں پر مظالم

پاکستان میں جماعت احمدیہ کے مرکزی دفتر نظارت امورِ عامہ نے سال 2015ء کے اختتام پر پاکستان میں احمدیوں پر ہونے والے مظالم کے بارہ میں ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے۔ اس رپورٹ کے اکثر مندرجات ہماری گزشتہ رپورٹس میں شائع ہو چکے ہیں۔ ایک خلاصہ کے طور پر کچھ اعدادد وشمار قارئین کی خدمت میں پیش ہیں۔

جماعت احمدیہ کے مؤقف کی اشاعت

پاکستان میں جماعت احمدیہ کے بارہ میں جھوٹی خبریں اتنی کثیر تعداد میں شائع کی جاتی ہیں کہ ہر جھوٹ کی تردید بھجوانی ممکن نہیں رہتی۔ ان جھوٹی خبروں کی اصل تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ تاہم بعض بے بنیاد الزامات کی تردید اور اہم واقعات کی اشاعت کے لئے اخبارات کو جماعت احمدیہ کی طرف سے لکھا جاتا ہے۔ پریس ریلیز جاری کی جاتی ہے جسے پاکستان کے نمایاں اخبارات کو بھجوایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ صحافیوں اور مدیروں سے رابطہ کر کے انہیں براہِ راست بھی آگاہ کیا جاتا ہے۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مذہبی تعصب اور مولویوں کے خوف کی وجہ سے اخبارات ترجمان جماعت احمدیہ کے بیان کو عمومًا شائع نہیں کرتے اور اگر بادلِ ناخواستہ شائع بھی کریں تو مناسب حال جگہ نہیں دیتے۔ اس کے برعکس جماعت احمدیہ کے خلاف بڑی تعداد میں مواد شائع کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ بعض مواقع پر بعض اخبارات جماعت کے خلاف خصوصی اشاعت کا اہتمام بھی کرتے ہیں۔ ان مخالفانہ اور سچائی سے متصادم پروپیگنڈہ کے جواب میں حقائق کو واضح کرنے کی غرض سے مضامین محض اتمام حجت کے لئے بھجوائے جاتے رہے۔ مگر آزاد اور بے باک ہونے کے دعویدار ذرائع ابلاغ شاید ان مضامین کی اشاعت کے لئے تیار نہیں تھے۔

 جماعت احمدیہ کے موقف پر مبنی اشتہار کی اشاعت سے انکار

سال 2015ء میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ہوا۔ پاکستان میں جداگانہ طرز انتخاب کو خیر باد کہتے ہوئے بظاہر مخلوط طرز انتخاب کا اعلان کیا جا چکا ہے لیکن اس طرز انتخاب کی روح آئینِ پاکستان کے منشاء اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے بیان کردہ روشن اصولوں کی صریحًا خلاف ورزی کررہی ہے۔ محض مذہبی بنیادوں پر تعصب کا اظہار کرتے ہوئے احمدیوں کو مشترکہ سیاسی دھارے سے علیحدہ کرنے کی سوچی سمجھی سکیم کے مطابق ایسا طریق اختیار کیا گیا کہ احمدیوں کے لئے ان انتخابات میں حصہ لینا ممکن نہیں رہا۔ گزشتہ کئی انتخابات میں رائے دہندگان کی جو فہرست ترتیب دی جا رہی ہے اس میں ایک دفعہ پھر امتیازی سلوک کرتے ہوئے محض تعصب کے تحت احمدیوں کے لئے الگ فہرست مرتب کی گئی۔ اس وقت عملی طور پر یہ صورتحال ہے کہ آئینِ پاکستان کی تعریف کے مطابق مسلمان کہلائے جانے والے لوگ، مسیحی، ہندو، سکھ، پارسی، یہودی اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے پاکستانی تو ایک فہرست میں اکٹھے ہیں جبکہ صرف احمدیوں کے لئے الگ فہرست بنائی گئی ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان کے احمدیوں کے لئے ممکن نہیں رہا کہ وہ انتخابات میں حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔ جماعت احمدیہ نے اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کی خاطر ایک اشتہار اردو اور انگریزی اخبارات کو بغرضِ اشاعت ارسال کیا۔ لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اخبارات نے اس اشتہار کو قیمتًا بھی شائع کرنے سے انکار کر دیا۔ انگریزی کے اخبارات جو وقتًا فوقتًا احمدیوں کے انسانی حقوق کی پامالی کے حوالے سے خبریں اور مضامین شائع کرتے رہے ہیں انہوں نے بھی اشتہار شائع کرنے سے معذرت کر لی۔ جبکہ ماضی میں انتخابات کے موقع پر اسی مضمون کا اشتہار اردو اور انگریزی اخبارات میں شائع ہوتا رہا ہے۔

اگرچہ پاکستان میں میڈیا کی آزادی کا نعرہ بلند کیا جاتا ہے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس آزادی کی جڑیں ابھی اس قدر مضبوط نہیں ہوئیں کہ مذہبی انتہا پسندوں کا دباؤ برداشت کرتے ہوئے سچ کی اشاعت کر سکیں۔

انسانی حقوق کے علمبردار صحافی

اس رپورٹ میں اخبارات اور کارپردازانِ صحافت کے منفی رویوں کو آپ ملاحظہ کر چکے ، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ پاکستان کے صحافیوں اور دانشوروں کی ایک قابلِ ذکر تعداد پاکستانی احمدیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے ناروا سلوک پر اگرچہ نرم طریق پر ہی سہی لیکن آواز بلند کرتی رہی ہے۔ اور سرِ دست یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ آوازیں نفرت اور تعصب کے بلند و نعروں کے مقابل دب سی جاتی ہیں۔ ایسے رپورٹر بھی ذرائع ابلاغ میں کام کر رہے ہیں جنہیں احمدیوں کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کو اخبارات میں رپورٹ کرنے پر دھمکیاں بھی دی گئیں لیکن انہوں نے اپنے فرض کی ادائیگی کو مقدم جانا۔

اسی طرح ایسے کالم نگاروں کی بھی کمی نہیں جو محض اصولوں کی بنیاد پر احمدیوں کے لئے پاکستان میں بنیادی انسانی حقوق کی بحالی کے لئے آواز بلند کر رہے ہیں۔ جویہ سمجھتے ہیں کہ احمدیوں کے ساتھ پاکستان میں امتیازی اور متعصبانہ سلوک مسلسل جاری ہے اور وہ پاکستان کی ریاست اور عوام کو توجہ دلاتے رہتے ہیں کہ تمام پاکستانیوں کے یکساں حقوق کو یقینی بنائے جانے میں ہم سب کی فلاح ہے۔ ہم ایسے تمام کالم نگاروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہیںکہ خوف و جبر کے اس ماحول میں بھی وہ اپنا فرض ادا کیے جا رہے ہیں۔

 سال 2015ء، ایک طائرانہ نظر

٭سانحہ جہلم: ایک بپھرے ہوئے ہجوم نے جہلم میں احمدیوں کی ملکیتی ایک فیکٹری کو آگ لگا دی اور ایک مسجد پر قبضہ کر لیا۔ یہ سب کچھ پولیس کی موجودگی میں ہوا۔ علاقہ کے تمام احمدیوں کواپنی جان بچانے کے لئے فوری طور پر علاقہ چھوڑنا پڑا۔

٭ حکومتِ پنجاب نے متحدہ علماء بورڈ کی سفارشات پر اندھا دھند عمل کرتے ہوئے احمدیوں کی نوّے سے زائد کتب و رسائل کی اشاعت و ترویج پر پابندی عائد کر دی۔ ان کتب میں بانیٔ سلسلہ عالیہ احمدیہ حضرت اقدس مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی مسعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تمام تصانیف شامل ہیں۔

٭ربوہ میں قائم واحد بکڈپوپر انتظامیہ کے کارندوں نے چھاپہ مار کر اس کے معمّر مالک کوگرفتار کر لیا۔ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے ان پر دِنوں میں مقدمہ چلا کر آٹھ سال قید اور جرمانہ کی سزا سنا دی۔

٭سال کے دوران ایک احمدیہ مسجد کو منہدم اور دو کو سِیل کر دیا گیا۔ جبکہ ایک مسجد کے میناروں وغیرہ کو منہدم کیا گیا اور ایک مسجد پر عارضی طور پر قبضہ کر کے اس میں موجود ساز و سامان کو نذرِ آتش کر دیا گیا۔

٭دو احمدی مسلمانوں کو ان کے عقیدہ کی پاداش میں شہید کر دیا گیا۔ایک احمدی کی شہادت پر ’دولتِ اسلامیہ‘ نامی تنظیم کی جانب سے انٹرنیٹ پر باقاعدہ پریس ریلیز جاری کی گئی۔

٭ایک احمدی پرنٹر طاہر مہدی امتیاز احمد وڑائچ کو 30؍ مارچ 2015ء کے روز لاہور سے ایک جھوٹے طور پر قائم کئے جانے والے مقدمہ میں گرفتار کر لیا گیا۔ان کی ضمانت لینے سے کسی بھی عدالت حتیّٰ کہ سپریم کورٹ نے بھی انکار کر دیا۔جبکہ ان پر لگایا جانے والا الزام ابھی تک ثابت نہیں ہو سکا۔

٭ضلع شیخوپورہ سے تعلق رکھنے والے تین احمدی جنہیں 18؍ جولائی 2014ء کو گرفتار کیا گیا تھا سارا سال بدستور زیرِ حراست رہے۔ ان کے ایک ساتھی کو پولیس کی حراست کے دوران، پولیس اسٹیشن کے اندر ایک شرّ پسند نے گولیاں مار کر شہید کر دیا تھا۔

٭ سانحہ آرمی پبلک ہائی اسکول پشاور کے بعد لاگو کیے جانے والے نیشنل ایکشن پلان کے باوجود اس سال بھی ربوہ شہر میں جہاں کی پچانوے فیصد سے زائد آبادی بلاشبہ احمدیوں پر مشتمل ہے مخالفینِ احمدیت کو احمدیت کے خلاف کانفرنسز کرنے کی کھلم کھلا اجازت دی جاتی رہی۔ ان کانفرنسز میں احمدیوں کے خلاف جھوٹ اور غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے لوگوں کو احمدیوں کے خلاف اشتعال دلایا گیا، احمدی عمائدین اور بزرگان کو گالیاں دی گئیں اور احمدیوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی جاتی رہی۔

٭پاکستان میں صرف ربوہ میں ہی اینٹی احمدیہ کانفرنسز کا انعقاد نہیں کیا جاتا رہا۔ ربوہ کے علاوہ چیچہ وطنی، نارووال، قصور، لاہور، ٹوبہ ٹیک سنگھ، حافظ آباد، فیصل آباد، جھنگ، ننکانہ صاحب و دیگر شہروں میں بھی یہ کانفرنسز کی گئیں اور لوگوں کو احمدیوں کے خلاف جھوٹی باتیں بیان کر کے اور غلط انداز سے مذہبی غیرت دلا کر احمدیوں کے خلاف اکسایا جاتا رہا۔ انہیں احمدیوں سے مکمل سوشل بائیکاٹ کرنے اور انہیں قتل تک کر دینے کی تحریص دلائی جاتی رہی۔

٭ضلع فیصل آباد کے ایک گاؤں میں احمدیہ مسجد کے ایک جانب حفاظتی دیوار تعمیر کرنے پر چھ احمدیوں کو زیرِ حراست لے لیا گیا۔ موقعہ پر بیس کے قریب بریلوی شدّت پسند موٹر سائیکل سوار دندناتے ہوئے آئے اور انہوں نے شدید ہوائی فائرنگ کرنے کے بعد اس نَو تعمیر شدہ حفاظتی دیوار کو تسلّی کے ساتھ گرایا اور فرار ہو گئے۔

٭ایک احمدی کو امتناعِ قادیانیت آرڈینس کے تحت ایک مجسٹریٹ نے ایک سال قید اور بیس ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔

٭بھڑی شاہ رحمان ضلع گوجرانوالہ میں ایک احمدی لقمان شہزاد کو شہید کر دیا گیا۔ ان کے قاتل نے گرفتاری کے بعد اپنے اقراری بیان میں ایک احمدی مختار احمد کے خلاف اس کارروائی کے لئے اسلحہ مہیا کرنے کا الزام لگادیا جو بعد میں سراسر جھوٹ ثابت ہوا۔ پولیس نے مختار احمد کو زیرِ حراست لے لیا اور سراسر اس جھوٹے الزام کی بنیاد پر انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کر کے بہیمانہ تشدّد کا نشانہ بنایا۔

٭کوئٹہ میں جماعتِ احمدیہ کی مسجد کے پاس رہنے والے ایک احمدی کو پولیس نے بغیر کسی وجہ کے زیرِ حراست لے لیا۔ اور کچھ دیر بعد ایک بیان حلفی دینے کے بعد انہیں جانے دیا۔ یاد رہے کہ کوئٹہ میں احمدیہ مسجد کو 1986ء میں سِیل کیا گیا تھا جو کہ بدستور سِیل ہی ہے۔

٭گوجرانوالہ میں احمدیوں کے خلاف ایک قائم کیے جانے والے ایک مقدمہ کی سماعت کے دوران مخالفین بیس پچیس شرّ پسند ملّاں کی ٹولی کمرۂ عدالت میں لے آئے۔ گواہ کے بیان کو اپنے خلاف جاتے ہوئے پایا تو انہوں نے خاتون جج کی عدالت میں ’پکڑو اور مارو‘ کا شور مچانا شروع کر دیا۔ وہاں پرموجود ’وکلاء‘ بھی ملّاں کے ساتھ شامل ہو گئے۔ اس پر مقدمہ کی کارروائی کو روکنا پڑا اور اگلی تاریخ دی گئی۔ فاضلہ جج نے توہینِ عدالت کرنے والے ان شرّ پسندوں کے خلاف کوئی کارروائی کرنا مناسب نہ سمجھا۔

٭بظاہر لِبرل ہونے کا دعویٰ کرنے والی سیاسی پارٹی پاکستان تحریکِ انصاف سے تعلق رکھنے والے صوبہ خیبر پختونخواہ اسمبلی کے سپیکر نے ایک اینٹی احمدیہ کانفرنس میں یہ اعلان کیا کہ کے پی کے(KPK) حکومت ختمِ نبوّت کے موضوع کو جلد سکول کے نصاب میں شامل کرے گی۔ یہاں یہ بات یاد رکھنے لائق ہے کہ ختمِ نبوّت کے عقیدہ سے مراد اس عقیدہ کی وہ تعریف ہے جس کو یہ لوگ مانتے ہیں۔ وگرنہ جماعتِ احمدیہ ختمِ نبوّت کے عقیدہ پر قرآن و حدیث میں بیان کیے گئے مطالب کی روشنی میں دل و جان سے ایمان رکھتی ہے ۔ اور آج بلا شبہ جماعت ِ احمدیہ سے بہتر اور عمدہ طور پر کوئی بھی اس عقیدہ پر ایمان لانے والانہیں۔

٭مجلس تحفظ ختمِ نبوّت پشاور کی جانب سے ایک پمفلٹ نکالا گیا جس میں واضح طور پر لکھا تھا کہ احمدیوں کو کھلے عام گولی مارنا جہاد کا کام ہے۔

٭لاہور میں بھی احمدیوں کے خلاف سرگرمیاں جاری رہیں۔ ملّاں کھلے عام نفرت کا بیوپار کرتے رہے۔

٭پنجاب اسمبلی میں ایک ریزولیوشن پاس کیا گیا جس میں لندن میںمقیم پاکستان کے سابق ہائی کمشنر واجد شمس الحسن کے ایک بیان کی تردید کی گئی۔ انہوں نے اس بیان میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کو ذوالفقار علی بھٹو کی ایک غلطی قرار دیا تھا۔

٭لوکل گورنمنٹ کے الیکشن میں حصہ لینے والے ایک امیدوار نے اپنے پمفلٹ میں یہ لکھوایا کہ قادیانی حضرات انہیں ووٹ دینے کی زحمت نہ کریں۔

 ٭حکومتی تنخواہ دار ایک ملّاں زاہد قاسمی نے یہ بیان دیا کہ قادیانی ایک بہت بڑا فتنہ ہیں۔ امتِ مسلمہ کو اس کی سرکوبی کے لئے متحد ہونا چاہئے۔

 (باقی آئندہ)

………………

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button