متفرق مضامین

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذات بابرکات میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے خُلق ِعظیم کا کامل انعکاس

(ملک سعید احمد رشید ۔ مربی سلسلہ)

٭…’’ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ و سلمنے خود فرمایا ہے کہ مہدی جو آنے والا ہے ……وہ میرے خُلق پر ہو گا۔ اس سے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ و سلم کا یہی مطلب تھا کہ وہ میرا مظہر ہو گا۔ ‘‘ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 521۔ ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)

٭…’’یوں سمجھ لو کہ مہدی موعود خَلۡق اورخُلۡق میں ہمرنگ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ و سلم ہو گا‘‘ ۔ ( ایک غلطی کا ازالہ روحانی خزائن جلد 18صفحہ 213)

اللّٰہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے فرمایا : اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ ۔ (القلم5:) یقینا تُو بہت بڑے خلق پر فائز ہے۔

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں :

’’اخلاقی حالت ایک ایسی کرامت ہے جس پر کوئی انگلی نہیں رکھ سکتا۔ اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو سب سے بڑا اور قوی اعجاز اخلاق ہی کا دیا گیا جیسے فرمایا : اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ (القلم 5:)یوں تو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ہر ایک قسم کے خوارِق قوتِ ثبوت میں جملہ انبیاء علہیم السلام کے معجزات سے بجائے خود بڑھے ہوئے ہیں مگر آپ کے اخلاقی اعجاز کا نمبر ان سب سے اوّل ہے جس کی نظیر دنیا کی تاریخ نہیں بتلا سکتی اور نہ پیش کرسکے گی۔ ‘‘

 ( ملفوظات جلداول صفحہ 89۔ ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)

پھر فرمایا: ’’سب سے اکمل نمونہ اور نظیر آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہیں جو جمیع اخلاق میں کامل تھے۔ اسی لئے آپؐ کی شان میں فرمایا: اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ۔ (القلم 5:)‘‘

(ملفوظات جلداول صفحہ 84۔ ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)

خلق عظیم کی یہ صفت آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا مظہر کامل بروز اور ظلِ کامل ،ہونے کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں بھی پائی جاتی تھی بلکہ آنحضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی پیشگوئی بھی تھی کہ آنے والا مسیح و مہدی میرے خلق پر ہو گا۔ حضرت مسیح موعود ؑ اس پیشگوئی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے خود فرمایا ہے کہ مہدی جو آنے والا ہے اس کے باپ کا نام میرے باپ کا نام اور اس کی ماں کا نام میری ماں کا نام ہوگا اور وہ میرے خُلق پر ہو گا۔ اس سے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا یہی مطلب تھا کہ وہ میرا مظہر ہو گا۔ ‘‘

(ملفوظات جلد اول صفحہ 521۔ ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)

آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اس پیشگوئی کے مطابق ان تمام اخلاق و صفات کا مسیح موعود ؑ میں پایا جانا ضروری تھا جو آنحضرت ؐ کی ذاتِ بابرکات میں بدرجہ اتم موجود تھے اور ہر خُلق اپنے کمال کو پہنچا ہوا تھا جس کی گواہی خود خدا تعالیٰ نے اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیۡمٍ میں دی۔ اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اس حقیقت کو آشکار کرنے کے لئے فرمایا: ’’ کمالات متفرقہ جو تمام دیگر انبیاء میں پائے جاتے تھے وہ سب حضرت رسول کریم ؐ میں اُن سے بڑھ کر موجود تھے۔اور اب وہ سارے کمالات حضرت رسولِ کریم ؐ سے ظلی پر ہم کو عطا کئے گئے … پہلے تمام انبیاء ظل تھے نبی کریم ؐ کی خاص خاص صفات میں اور اب ہم ان تمام صفات میں نبی کریم ؐ کے ظل ہیں ۔ ‘‘

( ملفوظات جلد دوم صفحہ 201۔ ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)

 پھر آپ فرماتے ہیں : ’’ جب کہ مَیں بروزی طور پر آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدؐی مع نبوت محمدؐیّہ کے میرے آئینہ ظلیّت میں منعکس ہیں تو پھر کونسا الگ انسان ہوا… یوں سمجھ لو کہ مہدی موعود خَلۡق اورخُلۡق میں ہم رنگ آں حضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہو گا… …اور بعض حدیثوں میں ہے کہ مجھ میں سے ہوگا یہ عمیق اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ وہ روحانیت کے رُو سے اسی نبی میں سے نکلا ہو گا اور اسی کی روح کا روپ ہو گا۔ ‘‘

( ایک غلطی کا ازالہ۔ روحانی خزائن جلد 18صفحہ 212)

پھر فرمایا : ’’مَیں وہ آئینہ ہوں جس میں محمدی شکل اور محمدی نبوت کا کامل انعکاس ہے۔‘‘

(نزول المسیح۔ روحانی خزائن جلد 18صفحہ 381)

فرمایا: ’’محمدی مسیح محمدی کمالات کا جامع ہے۔ جیسے رسول ا للہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم میں تمام نبیوں کے کمالات یکجا جمع تھے۔ اس لئے مسیح موعود جو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا بروزی ظہور ہے ان کمالات کو اپنے اندر رکھتا ہے۔ ‘‘

( ملفوظات جلد دوم صفحہ 278۔ ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)

گویا آپ نے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی پیشگوئی اور مندرجہ ذیل بزرگان امت کے اقوال کی تصدیق فرما دی اور وہ سچے ثابت ہوئے۔

حضرت شاہ ولی اللّٰہ محدث دہلوی جو مسلمہ طور پر بارہویں صدی کے مجدد اُمّت ہیں ، وہ امام مہدی کے بارہ میں فرماتے ہیں: حَقٌّ لَہٗ اَنۡ یَنۡعَکِسَ فِیۡہِ اَنۡوَارُ سَیِّدِالۡمُرۡسَلِیۡنَ۔

( الخیر الکثیر صفحہ72مطبوعہ بجنور ازشاہ ولی اللّٰہ محدث دہلویؒ )

یعنی (مسیح موعود) امام مہدی کے لئے ضروری ہے کہ وہ نبیوں کے سردار صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے نوروں کا کامل عکس ہو ۔ یعنی وہ آنحضرت ؐ کے خلق عظیم ، و دیگر کمالات کا ظِلّ کامل اور بروزِ کامل ہو۔

حضرت غوث الاعظم سید عبدالقادر جیلانی ؒ فرماتے ہیں: ’’اِنَّ بَاطِنَہٗ بَاطِنُ مُحَمَّدٍ ‘‘

( شرح فصوص الحکم صفحہ 51-52مطبعۃ الزاہر یہ مصریہ )

شیخ محمد اکرم صابری صاحب لکھتے ہیں ۔

’’محمد بُود کہ بصورت آدم مبدا ظہور نمود …وہم او باشد کہ در آخر بصورت خاتم ظاہر گردد یعنی در خاتم الولایۃ کہ مہدی است نیز روحانیت محمد مصطفی بروز ظہور خواہد کردد …‘‘ ( اقتباس الانوار صفحہ 52مؤلفہ شیخ محمد اکرم صابری )

ترجمہ :یعنی وہ محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہی تھے … جنہوں نے آدمؑ کی صورت میں ابتداء میں ظہور فرمایا … اور محمد مصطفی ہی ہوں گے جو آخری زمانہ میں خاتم الولایت ( جو کہ امام مہدی ہیں ) کی شکل میں ظاہر ہوں گے۔ یعنی محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی روحانیت بروز اور ظہور کرے گی۔

مولانا محمد سبطین صاحب نے امام مہدی کے بارہ میں یوں نقشہ کھینچا۔

’’ مہدی نفس رسول و مظہر اوصاف ِ رسول و نائب خاص رسول ؐ اور آئینہ کمالات رسول ہے اور ظہور انوار محمدیؐ و اوصاف و کمالات محمدی ؐ اس جناب پر موقوف ہیں ۔ پس چاہئے کہ وہ ہم شکل … و جزو نوری محمد ی خلق اور سیرۃ میں بھی مثل محمد ہو۔ بلکہ ایسا ہونا ضروری ولازمی ہے۔ ‘‘

 (الصراط السوی فی احوال المہدی ۔ صفحہ 405از مولانا محمد سبطین صاحب )

قاری محمد طیب صاحب فرماتے ہیں:

’’ حضرت عیسوی کو بارگاہ محمدی سے خُلۡقًا وَ خَلۡقًا رُتۡبًا وَ مَقَامًاایسی ہی مناسبت ہے جیسی کہ ایک چیز کے دو شریکوں میں یا باپ بیٹوں میں ہونی چاہئے۔ ‘‘

( تعلیمات اسلام اور مسیح اقوام۔ صفحہ 129از قاری محمد طیب صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند )

الغرض آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی پیشگوئی اور ان واضح اقوال بزرگان سلف کی روشنی میں مسیح موعود علیہ السلام اور امام مہدی میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے تمام کمالات ، اوصاف اور اخلاق پائے جائیں گے ۔

حضرت مسیح موعودؑ۔ایک عظیم نورانی وجود

حضرت مسیح موعود ؑفرماتے ہیں :

’’ اسلام میں ہزاروں ہوئے ہیں کہ لوگوں نے صرف ان کے نور سے ان کو شناخت کیا ہے۔ا ن کو مکاروں کی طرح بھگوے کپڑے یا لمبے چوغے اور خاص خاص متمیز کرنے والے لباس کی ضرورت نہیں ہے اور نہ خدا کے راستبازوں نے ایسی وردیاں پہنی ہیں ۔ پیغمبر خدا صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا کوئی خاص ایسا لباس نہ تھا جس سے آپ لوگوں میں متمیز ہو سکتے۔ ‘‘

( ملفوظات جلد 3صفحہ 619۔ ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)

 اپنے ایک رؤیا کا ذکر کرتے ہوئے حضورؑ نے فرمایا:

’’ایک دفعہ مَیں نے دیکھا کہ ایک وسیع میدان ہے اس میں ایک مجذوب (جس میں محبتِ الٰہی کا جذبہ ہو) میری طرف آرہا ہے تو اس نے یہ شعر پڑھا:

عشق الٰہی وسے منہ پر ولیاں ایہہ نشانی ‘‘

(ولیوں کی یہ نشانی ہے کہ عشق الٰہی منہ پر برس رہا ہوتا ہے۔)

 ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 288۔ ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)

حضر ت مسیح موعودعلیہ السلام کو اپنے مولا کریم کی طرف سے ’’ عظیم الشان نور ‘‘ عطا کیا گیاتھا ۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں:

٭’’ اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے کہ اس نے میری طرف نظر کی مجھے قبول کیا …اور کتنے ہی نور ہیں جو میرے دل میں ڈالے۔ ‘‘ (روحانی خزائن جلد 7صفحہ 284-285۔ ترجمہ از عربی حمامۃ البشریٰ )

٭’’اِنِّی غُسِلْتُ بِمَآئِ النُّوْرِ‘‘۔’’ مَیں نور کے پانیوں سے غسل دیا گیا ہوں ۔ ‘‘

(خطبہ الہامیہ روحانی خزائن جلد 16صفحہ 53ترجمہ از عربی )

٭’’مَیں دیکھتا ہوں کہ اسلام کے ماننے سے نور کے چشمے میرے اندر بہہ رہے ہیں ۔ ‘‘

(آئینہ کمالات اسلام۔ روحانی خزائن جلد5صفحہ 276)

٭پھر فرمایا : ’’ اس زمانہ میں خدا نے مجھے مامور کیا اور اپنی معرفت کا نور مجھے بخشا ۔ ‘‘

( ملفوظات جلد اول صفحہ 494۔ ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)

٭’’ خدا تعالیٰ نے اس عاجز کو ان نوروں سے خاص کیا ہے جو برگزیدہ بندوں کو ملتے ہیں ۔ ‘‘

(فتح اسلام۔ روحانی خزائن جلد 3صفحہ 14حاشیہ)

٭’’ مجھ پر اور میرے گھر پر اور گھر کی چار دیواری پر اس نے اپنے انوار اُتارے ہیں۔ ‘‘

(حمامۃالبشریٰ۔ روحانی خزائن جلد 7صفحہ324ترجمہ از عربی )

اس لئے آپ فرماتے ہیں : ’’اس تاریکی کے زمانے کا نور مَیں ہی ہوں۔ جو شخص میری پیروی کرتا ہے وہ ان گڑھوں اور خندقوں سے بچایا جائے گا جو شیطان نے تاریکی میں چلنے والوں کے لئے تیار کئے ہیں ۔ ‘‘

(مسیح ہندوستان میں۔ روحانی خزائن جلد 15صفحہ 13)

آپ کی قُوّتِ قُدسیہ

اپنے جذب اورکشش کے بارہ میں فرمایا :

’’ مجھے خدا سے جو میرا پیدا کرنے والا ہے ایک تاثیر دی گئی ہے اور پاک دل میری طرف رجوع کرتے ہیں اور میر ادل اپنی صفات کے ساتھ کشش کر رہا ہے اور میرا بیان پتھروں میں تاثیر پیدا کر دیتا ہے اور مجھے ایک نئی پیدائش ہدایت کی دی گئی ۔ پس میں ہر ایک بیان دلوں میں نقش کر دیتا ہوں ۔ ‘‘ ( ضمیمہ ماہنامہ انصاراللّٰہ ربوہ جولائی 1987ء صفحہ 3ترجمہ از عربی )

یہی وجہ ہے کہ آپ کی پُر کشش شخصیت، آپ کا پُرنور چہرۂ مبارک دیکھتے ہی سعید فطرت روحیں آپ پر دل و جان سے فدا اور قربان ہونے لگتیں ۔ چنانچہ آپ کے ایک صحابی حضرت منشی عبداللّٰہ سنوری صاحبؓ اس کی گواہی دیتے ہوئے اپنی پہلی ملاقات کا ذکر کچھ اس طرح فرماتے ہیں:

’’حضرت اقدس کی خدمت عالی میں حاضر ہوا۔ چہرۂ مبارک دیکھتے ہی مَیں بیتاب ہو گیا اور دل میں عشق کی آگ بھڑک اٹھی… تین دن قادیان میں رہ کر اجازت لے کر واپس آیا۔ جب پٹیالہ پہنچا تو دل ایسا بیقرار ہوا کہ پھر قادیان چلا گیا۔

حضرت اقدس نے پوچھا کہ کیوں واپس گئے تھے؟ عرض کیا یا حضرت حضور سے جدا ہونے کو دل نہیں چاہتا۔ مسکرا کر فرمایا ’’اچھا اور رہو ۔ ‘‘

 ( الفضل انٹرنیشنل 12دسمبر 2003ء صفحہ 12)

آپ کے جانشین اور پہلے خلیفہ حضرت الحاج مولانا نور الدین رضی اللّٰہ عنہ اپنی پہلی ملاقات اور دلی کیفیت کا اظہار یوں فرماتے ہیں :

’’ آپ اس وقت سیڑھیوں سے اُترے تو میں نے دیکھتے ہی دل میں کہا یہی مرزا ہے اور اس پر میں سارا ہی قربان ہو جائوں ۔‘‘ ( حیات نو رصفحہ 116جدید ایڈیشن )

پھر اپنے ایک خط میں حضرت اقدس مسیح موعود ؑ کی خدمت میں لکھا:

’’ میری دعا یہ ہے کہ ہر وقت حضور کی جناب میں حاضر رہوں… اگر اجازت ہو تو میں نوکری سے استعفیٰ دے دوں اور دن رات خدمت عالی میں پڑا رہوں… میں آپ کی راہ میں قربان ہوں۔ میرا جو کچھ ہے میرا نہیں آپ کا ہے … سب کچھ اس راہ میں فدا کرنے کے لئے تیار ہوں۔ دعا فرماویں کہ میری موت صدیقوں کی موت ہو۔ ‘‘ ( فتح اسلام۔ روحانی خزائن جلد 3صفحہ 35تا37)

حضرت منشی اروڑے خاں صاحب کی مسٹر والٹر سے ملاقات کا درد انگیز منظر

اوائل جنوری 1916ء کا واقعہ ہے کہ ایک یورپین مسٹر والٹر ( سیکرٹری کرسچن ینگ مین ایسوسی ایشن )تحریک احمدیت سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لئے قادیان آئے۔ دوران قیام مسٹر والٹر حضرت منشی اروڑے خاں صاحب تحصیلدار کپور تھلہ سے بھی ملے اور آپ سے رسمی گفتگو کے بعد دریافت کیا کہ آپ پر مرزا صاحب کی صداقت میں سب سے زیادہ کس دلیل نے اثر کیا ؟ حضرت منشی صاحب نے جواب دیا : ’’میں زیادہ پڑھا لکھا آدمی نہیں اور زیادہ علمی دلیلیں نہیں جانتا مگر مجھ پر جس بات نے زیادہ اثر کیا وہ حضرت صاحب کی ذات تھی۔جس سے زیادہ سچا اور زیادہ دیانت دار اور خدا پر زیادہ ایمان رکھنے والا شخص مَیں نے نہیں دیکھا۔ انہیں دیکھ کر کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ شخص جھوٹا ہے۔ باقی میں تو ان کے منہ کا بھوکا ہوں مجھے زیادہ دلیلوں کا علم نہیں ۔ ‘‘ یہ کہہ کر حضرت منشی صاحب پر رقّت کی ناقابل بیان اور دردناک کیفیت طاری ہو گئی اور آپ حضرت مسیح موعودؑ کی یاد میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اور گریہ وزاری سے آپ کی ہچکی بندھ گئی ۔

(الفضل 9ستمبر 1941ء صفحہ 5-4مضمون حضرت مرزا بشیر احمد صاحب )

حضرت شیخ محمد اسماعیل صاحب سرساویؓ مہاجر قادیان فرماتے ہیں: ’’ ہم جب حضور کے روئے انور کو دیکھتے تو ہم کو ایسا معلوم ہوتا کہ ہم جنت میں ہیں ۔ آپ کے چہرۂ منور کو دیکھ کر ہم کو کوئی غم باقی نہ رہتا۔ نہ ہماری آنکھیں حضور کے چہرۂ منور کو دیکھ کر اکتاتی تھیں ۔ آپ کے ساتھ نماز پڑھنے سے دل میں خشیت اللّٰہ پیدا ہوتی تھی اور دل محبت الٰہی سے سرشار ہو جاتا تھا اور اگر کبھی ایسا اتفاق ہوجاتا کہ ہماری آنکھیں اس چہرۂ منور کو دیکھنے سے محروم ہوجاتی تھیں تو ہمارے اندر ایک شدید کرب و بے چینی پیدا ہوجاتی تھی ۔ ‘‘ ( الحکم 7دسمبر 1940ء صفحہ 4)

ایک آفتاب۔جس کے جلوہ کی تاب عارفوں کو نہ تھی

٭حضرت چوہدری غلام محمد خان صاحبؓ گرداور قانونگو پھگلانہ ضلع ہوشیار پور ( والد ماجد ڈاکٹر غلام اللّٰہ خاں ’’تمغہ قائد اعظم ‘‘ ) 1893ء میں مبایعین کے پاک زمرہ میں شامل ہوئے۔آپ کا بیان ہے :

’’ رسالہ الوصیت ‘‘شائع ہونے کے جلد بعد میں ایک دفعہ حضرت اقدس کی خدمت میں گیا۔ یہ 1906ء کی بات ہے۔ حضور پرنور نماز ظہر پڑھ کر مسجد مبارک میں ہی لیٹ گئے ۔ دوسرے خدام کے ہمراہ یہ عاجز بھی حضور کا جسم مبارک دبانے لگا۔ حضور کی آنکھیں اتنی روشن تھیں جیسے سورج۔ ان کے سامنے ہماری آنکھیں نہیں کھل سکتی تھیں ۔ اسی طرح چہرہ مبارک پر نظر نہ ٹکتی تھی۔ مَیں نے کئی بار حضور پرنور کو غور سے دیکھنے کی کوشش کی مگر آنکھیں دیکھنے کی تاب نہ لا سکیں ۔ پیرانہ سالی کے باوجود چہرے پر اتنی رونق تھی کہ بچے اور جوان کے چہرے پر بھی نہیں ہو سکتی ۔‘‘

( حضرت چوہدری غلام محمد خاں صفحہ 13مولفہ جناب ڈاکٹر غلام اللّٰہ خاں مرحوم اشاعت مارچ 1986ء 6۔ ای ماڈل ٹائون لاہور نمبر14)

یہ نورانی شخص

٭حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ ایڈیٹر ’’بدر ‘‘ 1909ء کے آغاز میں دورہ کرتے ہوئے ضلع امرتسر کے گائوں مدّ پہنچے تو انہیں ایک بزرگ محمد یعقوب صاحب نے ایک نہایت دلچسپ اور عجیب واقعہ سنایا جو آپ ہی کے قلم سے ہدیۂ قارئین ہے۔ آپ تحریر فرماتے ہیں:

’’ وہ سلسلہ کے سخت مخالف تھے…اتفاق سے ان کا بھائی بیمار ہو کر علاج کے واسطے قادیان گیا تو وہ بھی اپنی والدہ مکرمہ کے اصرار سے بھائی کی خبر گیری کے واسطے قادیان چلے گئے۔… کسی مغالطہ کے سبب بڑی مسجد کو غیراحمدیوں کی مسجد سمجھ کر اس میںجا داخل ہوئے۔ وہاں اس وقت حضرت مولوی نور الدین صاحب وعظ فرما رہے تھے اور حضرت مسیح موعودؑ بھی رونق افروز تھے اب ان کے خیال میں یہ مسجد غیراحمدیوں کی ہے اس واسطے واعظ اور سامعین سب غیر احمدی ہیں ۔ حضرت موصوف کا وعظ سن کر بہت خوش ہوئے کہ اس جگہ ایک ایسا لائق اور بااثر واعظ ہے۔ پھر جب حضرت مرزا صاحب کے نورانی چہرے پر نظر پڑی تو کہنے لگے کہ مرزا کی تو لوگ خواہ مخواہ بیعت کرتے ہیں اس میں کیا رکھا ہوگا۔ بیعت کرنے کے لائق تو یہ نورانی شخص نظر آتا ہے۔ مَیں تو اگر بیعت کروں گا تو اس شخص کی کروں گا۔اتنے میں ان کے بھائی صاحب جو احمدی ہیں وہ بھی آ گئے۔ ان کو تعجب ہوا کہ یہ غیر احمدیوں کی مسجد میں کیوںآ گئے مگر بے اختیار ان سے بھی ذکر کیا کہ دیکھو بیعت کے لائق یہ شخص ہے۔ بھائی نے سمجھا کہ ان کو غلطی لگی ہے مگر جان بوجھ کر وہ خاموش ہو رہے کہ اچھا میاں تم اسی کی بیعت کر لو۔ قادیان میں تو اس بہانے سے آتے رہو گے تو باہم ملاقات بھی ہو جائے گی۔ الغرض اس طرح برادر محمد یعقوب صاحب نے حضرت کو پہچانا۔ ‘‘

 ( اخبا ربدر7 و 15؍اپریل 1909ء صفحہ 1)

ساتویں مثال ڈاکٹر بشارت احمد کی ہے آپ تحریر فرماتے ہیں: ’’ حضرت مرزا صاحب اندر سے تشریف لائے مجھے ایسا معلوم ہوا کہ ایک نور کا جھمکڑا سامنے آ گیا ہے۔ ‘‘ ( الفضل 18؍مارچ 1999ء)

سر تا پا نور کے پتلے

٭مولانا حسن علی صاحب مونگھیرویؓ جو برصغیر کے نامور بزرگوں میں شامل تھے۔حضرت مولانا صاحب اپنے پہلے سفر قادیان (2جنوری 1894ء) کا تذکرہ کرتے ہوئے رقم طرزا ہیں :

’’1887ء میں جب مرزا صاحب کو دیکھا تھا وہ نہ تھے آواز و نقشہ تو وہی تھا لیکن کُل بات ہی بدلی ہوئی تھی۔ اللّٰہ اللّٰہ سر سے پا تک ایک نور کے پتلے نظر آتے تھے۔ جو لوگ مخلص ہوتے ہیں اور اخیر رات کو اٹھ کر اللّٰہ کی یاد میں رویا دھویا کرتے ہیں ان کے چہروں کو بھی اللّٰہ اپنے نور سے رنگ دیتا ہے اور جن کو کچھ بھی بصیرت ہے وہ اس نور کو پرکھ لیتے ہیں لیکن حضرت مرزا صاحب کو تو اللّٰہ تعالیٰ نے سر سے پائوں تک محبوبیت کا لباس اپنے ہاتھوںسے پہنایا تھا۔ ‘‘

( ’’تائیدحق ‘‘ صفحہ 66طبع سوم اشاعت 23دسمبر 1932ء قادیان از الفضل 18مارچ 1999ء)

٭سید وزارت حسین صاحب امیر صوبہ بہار اپنی دستی بیعت کی روح پرور کیفیت کا تذکرہ یوں بیان فرماتے ہیں:

’’ جمعہ مسجد اقصیٰ میں ہوااور حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے پڑھایا۔ نماز کے بعد حضرت مسیح موعود نے فرمایا اب تمہاری بیعت لی جائے گی۔ میں حضور کے سامنے بیٹھ گیا ۔اگرچہ اس وقت اور لوگ بھی بیعت کرنے والے تھے مگر خدا تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر کہ حضور نے میرا ہاتھ اپنے دست مبارک میں لیا اور باقی لوگوں کے ہاتھ میرے ہاتھ پر تھے اور کچھ حضرت کے ہاتھ پر ۔ بیعت کے وقت میں نے محسوس کیا کہ ایک روشنی حضور کی روح پاک سے نکل کرمیرے جسم میں سرایت کر رہی ہے۔

( الحکم 28جنوری 1938ء صفحہ 4)

حضرت بانی سلسلہ کا نورانی چہرہ ۔ایک ہندو کے تاثرات

٭حضرت ملک گل محمد صاحب پنشنر ریڈر مرحوم کا بیان ہے کہ 1933ء میں سلانوالی تحصیل سرگودھا میں ایک بھاری اجتماع ہوا۔ فیصلہ کے مطابق آخری خطاب احمدی مقرر کو کرنا تھا۔ ایک گدی نشین کے بھائی اور ان کے زیر اثر لوگوں نے شور مچانا شروع کر دیا کہ تقریر سننے کی ضرورت نہیں ۔ سب انسپکٹر پولیس بھی اس شور کو بند نہ کر سکا۔ ’’ ایک شخص ہندو مسمی جوالا سہائے ساکن حضور پور تحصیل بھیرہ کھڑا ہوا اور تمام لوگوں کو زور سے پکارکر کہا کہ مَیں ہندو ہوں ۔ ذرا ٹھہر جائو اور میری بات سنو۔ اس پر لوگ ٹھہر گئے۔ لالہ جوالا سہائے نے بلند آواز سے کہا دوستو ! میں بیمار ہو کر علاج کے لئے مولوی نور الدین صاحب کی خدمت میں قادیان گیا تھا وہ ہمارے شہر بھیرہ کے رہنے والے تھے۔ اس زمانہ میں حضرت مرزا صاحب زندہ تھے۔ مَیں نے وہاں ان کے درشن کئے ۔ مجھے معلوم نہیں کہ …تم میں سے کسی نے ان کا درشن کیا ہے یا نہیں مگر مَیں نے درشن کیا تھا۔

وہ ایسا نورانی اور مہاتما شکل تھا کہ اس کے درشن کرنے سے تسلی اور شانتی ہو جاتی تھی اور کوئی شخص اس کو جھوٹا نہیں کہہ سکتا تھا۔یہ الفاظ سن کر مخالف شرمندہ ہوئے ۔ ایک ہندوکی اس نہایت اعلیٰ شہادت سے عوام پر بڑا اثر ہوا۔ ‘‘ (ریویو آف ریلیجنز اردو قادیان مارچ 1943ء صفحہ 40)

٭اب ایک ایسی مثال اور گواہی پیش کی جاتی ہے جو آپ کے دعویٰ ماموریت سے پہلے اور آپ کی جوانی کی ہے جس میں آپ کو نو رٌ علیٰ نورانسان کے طور پرپیش کیا گیا ہے۔

٭جناب مولوی حکیم بابا اللّٰہ بخش صاحب دربان دارالمسیح کی روایت ہے، آپ بیان فرماتے ہیں:

خواجہ عبداللّٰہ صاحب میرے مخلص دوست تھے۔ انہوںنے ایک دفعہ مجھے نصیحت کی کہ تم کو مولویوں سے ملنے کا ہر وقت خیال رہتا ہے۔ مگر تم کو ان مولویوں کے حال و قال اور حال و اعمال کا علم نہیں ۔ ان کی حالت یہ ہے کہ اگر کھانا کہو تو بغل میں تھالی ہے۔ پیسے نکالو تو کہہ دو رومال ہے۔ دین کا کام پیش آئے تو محال ہے۔ ایسے مولویوں کو چھوڑو اور قادیان کی طرف منہ موڑو ۔ قادیان میں خاندان مغلیہ میںحکیم مرزا غلام مرتضیٰ کے صاحبزادے ہیں جو نوجوان ہیں ۔ان کا خدا تعالیٰ کی طرف ایسا رجوع ہے کہ اس کی نظیر نہیں ملتی۔ ہر مذہب و ملت کی کتب آپ کے پاس ہیں ۔ قرآن کریم کی تلاوت میں اکثر مشغول رہتے ہیں ۔ ان کی خدمت میں حاضر ہو کر دیکھیں کہ کیسے نُوۡرٌ عَلٰی نُور انسان ہیں ۔ ان کے اس فرمانے پر میں فوراً روانہ ہو گیا اور اس پنجابی شعر کا مصداق ہو گیا ۔ ؎

توت پکے۔ انب لگ رہے۔ اوڈ کوئل چل کول

میوے دار درخت پر تو بہو۔ توں ہُو بول

حضورؑ کی زیارت سے مشرف ہو کر شکر بجالا یا۔ مگر حضور ؑ نے اس وقت ابھی کوئی دعویٰ نہیں فرمایا تھا۔ خواجہ محمد عبداللّٰہ صاحب نے یہ بھی کہا تھا کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جو مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کی علامات بیان فرمائی ہیں ۔ وہ سب نشان آپ میںپائے جاتے ہیں ۔

 ( ماہنامہ انصاراللّٰہ جنوری 1994ء صفحہ 25-26)

الغرض آ پ کی شخصیت ایسی پُر نور، پُر کشش اور خدانما تھی کہ سعید روحیں ایک ہی نظر میں فدا و قربان ہونے اور اپنا سب کچھ اس وجودِ پاک کی خاطر لٹانے کے لئے تیار ہو جاتیں ۔

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ جماعتی ترقی کا ایک عظیم اور بڑا سبب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذات اور شخصیت کو قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔

’’اِس وقت تک جو جماعت کی ترقی ہوئی اس کے اسباب مختلف تھے جن میں سے ہم بعض کو اس جگہ اختصار کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ اوّل ایک بہت بڑا او رنہایت مؤثر سبب خود حضرت مسیح موعود ؑ کی ذات تھی۔ آپ کو اللّٰہ تعالیٰ نے ایسا مقناطیسی وجود عطا کیا تھا کہ وہ اپنے ساتھ مناسبت رکھنے والی روح کو فوراً اپنی طرف کھینچ لیتا تھا… سینکڑوں ہزاروں لوگ ایسے ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود ؑ کا چہرہ دیکھ کر بغیر کسی دلیل کے آپ کو مان لیا اور ان کی زبان سے بے اختیار یہ الفاظ نکلے کہ یہ منہ جھوٹوں کا نہیں ہو سکتا۔ سینکڑوں ، ہزاروں ایسے ہیں جو چند دن کی صحبت میں رہ کر ہمیشہ کے لئے رام ہو گئے۔ اور پھر انہوں نے آپ کی غلامی کو سب فخروں سے بڑا فخر جانا۔

غرض آپ کی کامیابی کا ایک بڑا سبب آ پ کی ذات اور آپ کا اخلاقی اور روحانی اثر تھا۔… بعض لوگوں نے آپ کے اس روحانی اثر کو سحر اور جادو کے نام سے تعبیر کیا اور مشہور کیا کہ مرزا صاحب کے پاس کوئی نہ جائے کیونکہ وہ جادو کر دیتے ہیں۔ مگر یہ جادو نہیں تھا بلکہ آپ کی روحانیت کی زبردست کشش تھی جو سعید لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی تھی۔

( سلسلہ عالیہ احمدیہ۔ جلد اول صفحہ 97-98نیا ایڈیشن )

آپ کے ایک صحابی اور محب حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحبؓ جنہوں نے نہایت باریک نظر سے 25سال تک آپ کی شخصیت کا جائزہ لیا ۔ آپ کی شخصیت کو یوں بیان کرتے ہیں ۔

’’ آپ میں ایک مقناطیسی جذب تھا۔ ایک عجیب کشش تھی۔ رعب تھا۔ برکت تھی۔ موانست تھی۔ بات میں اثر تھا۔ دعا میں قبولیت تھی۔ خدام پروانہ وار حلقہ باند ھ کر آپ کے پاس بیٹھتے تھے اور دلوں سے زنگ خود بخود دھلتا جاتا تھا۔ غرض یہ کہ آپ نے اخلاق کا وہ پہلو دنیا کے سامنے پیش کیا جو معجزانہ تھا۔ سراپا حسن تھے۔ سراسر احسان تھے۔ اور اگر کسی شخص کا مثیل آپ کو کہا جاسکتا ہے تو وہ صرف محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہے و بس۔ ‘‘

(تاریخ احمدیت جلد دوم صفحہ 597جدید ایڈیشن )

(باقی آئندہ)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button