مَصَالِحُ الْعَرَب(قسط نمبر 404)
(عربوں میں تبلیغ احمدیت کے لئےحضرت اقدس مسیح موعود؈ او رخلفائے مسیح موعودؑ کی بشارات،
گرانقدرمساعی اور ان کے شیریں ثمرات کا ایمان افروزتذکرہ)
مکرم السید شلبی صاحب (2)
قسطِ گزشتہ میں ہم نے مکرم السید شلبی صاحب کے احمدیت کی طرف سفر کا ایک حصہ پیش کیا تھا۔ اس قسط میں ان کے سفر کا باقی حصہ نذر قارئین کیا جائے گا۔ وہ لکھتے ہیں:
پروگرام الحوار المباشر سے تو میں بہت متاثر ہوا تھا لیکن مجھے معلوم نہ تھا کہ یہ پروگرام ہر ماہ پیش کیا جاتا ہے۔ لہٰذا میں نے ایک دفعہ تو اس پروگرام سے غیر معمولی روحانی اور علمی حظّ اٹھایا لیکن اس کے بعد بات آئی گئی ہوگئی تاہم اس چینل او رپروگرام کا نام میرے ذہن میں اٹک کررہ گیا۔
تحقیق ا ور کشف ِحقیقتِ مُلّاں
چند ماہ کے بعد یعنی 2010ء کی آخری سہ ماہی میں مَیں نے انٹرنیٹ سروس لی اورازدیاد علم اور انٹرنیٹ سے بھرپور استفادہ کی خاطر میں گھنٹوں کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ کر مختلف ویب سائٹس کو وزٹ کرنے لگا۔اچانک میرے دل میں ایم ٹی اے اور پروگرام الحوار المباشر کا خیال آگیا ۔ میں نے بغیر کسی مقصد کے ایم ٹی اے کی نائل ساٹ پر فریکوئینسی کے الفاظ لکھ کر تلاش کی تو اس کے متعدد نتائج سامنے آگئے۔یہ دیکھ کر میری خوشی کی انتہا نہ رہی لیکن محض چند ویب سائٹس کو ہی پڑھ کر شدید صدمہ ہوا کیونکہ ان میں اس چینل کو چلانے والی جماعت احمدیہ کے خلاف علماء کی طرف سے شدید مخالفت کا اظہار کیا جارہاتھا، یہاں تک کہ اسے جماعت احمدیہ کے علاوہ کسی اور نام سے پکارا جارہا تھا۔اس تحقیق کے دوران مجھے ایک مشہور مصری مولوی کی ویڈیو بھی ملی جس کا عنوان تھا کہ شیخ حسان کا مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کے بارہ میں بیان۔ میں نے اسے چلایا تو اس میں بیان ہونے والے گندے الفاظ اوردریدہ دہنی کو سن کر مجھے گھن آنے لگی۔ یہ ویڈیو ختم ہوتے ہی اسی مضمون کی دیگر ویڈیوز کے لنک بھی سامنے آتے گئے۔ ان میں سے الحوینی نامی ایک اور زبان درازمشہور مولوی کی ویڈیو بھی تھی جوپہلے مولوی کی ویڈیو سے بھی زیادہ گندگی سے پُر تھی۔
یہ سب کچھ پڑھ کر اور ویڈیوز دیکھ کر میری طبیعت خراب ہوگئی اورمیں اس رات جب سویا تو خوا ب میں دیکھا کوئی ہمارا دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے۔ میں نے جاکر دروازہ کھولاتو ایک شخص کو کھڑے پایا جس کی شکل میرے لئے معروف تھی لیکن اس کے چہرے پر نہ داڑھی تھی نہ مونچھ ۔میں نے اسے اندر بلاتے ہوئے کہا کہ آپ کا چہرہ دیکھا دیکھا سا لگتا ہے۔ اس نے کہا ہاں میں شیخ الحوینی ہوں۔ میں نے کہا ہاں اب میں نے آپ کو پہچان لیا ہے۔میں نے اسے بڑے احترام سے اندر بٹھایا اور پھل وغیرہ پیش کئے تو اس نے بغیر کسی انتظار کے ایک مالٹا اٹھایا اورانتہائی غیر مہذب طریق پر اپنے دانتوں سے کاٹ کر اسے چھیلنا شروع کردیااور منہ میں آنے والے مالٹے کے چھلکے تھوکنے کے انداز میں کمرے کی زمین پر پھینکناشروع کردیئے۔اور پھر اس مالٹے کو ایسے کھانا شروع کردیا جیسے زندگی میں پہلی بار مالٹا دیکھاہو۔میں اس صورتحال پر حیران اور شرمندہ تھا کہ جس مولوی کی میں عزت کرتا ہوں اور احترام کا مقام دے رہا ہوں وہ چھری میسر ہونے کے باوجود ایسے غیر مہذب طریق پر کھا رہا ہے جیسے وہ ادب وآداب سے بے بہرہ پتھر کے زمانے کا کوئی وحشی انسان ہو ۔
ایسے میں مَیں نے پوچھا کہ مولوی صاحب آپ کی مرزا غلام احمد قادیانی کے بارہ میں کیا رائے ہے؟اس نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے اپنے سامنے سے کچے گوشت کا ایک ٹکڑا اٹھایا اور اسے کپڑے کی طرح دونوں ہاتھوں میں بل دیتے ہوئے نچوڑا پھر منہ بھر کے اس کو کھاتے ہوئے نہایت گندی زبان استعمال کرتے ہوئے کہا: ان کی تو بات ہی نہ کرو۔ پھر اس نے منہ سے عجیب وغریب آوازیں نکالتے ہوئے گالی گلوچ اور لعن طعن کے ساتھ یہ کہا کہ لوگوں نے مجھے بتایا ہے کہ یہ لوگ کافر ہیں۔ میں نے کہا مولوی صاحب لوگوں کی باتیں چھوڑیں مجھے آپ اپنی رائے بتائیں، کیا آپ کے پاس شرعی لحاظ سے ان کے کفر پر کوئی دلیل ہے؟اس نے اس کا کوئی جواب نہ دیا اور غیرانسانی طریق پرآوازیں نکال نکال کر گوشت کھاتا رہا جبکہ شتم وتکفیر اورلعن طعن کا سلسلہ بھی جاری رہا۔یہ دیکھ کر ہم میاں بیوی اسے چھوڑ کر دوسرے کمرے میں چلے گئے۔
اس رؤیا سے اللہ تعالیٰ نے مجھے اس مولوی کی حقیقت سے آگا ہ کر دیا اور میرے دل میں اس کے لئے شدید نفرت پیدا ہوگئی تھی۔
بیعت
میں نے انٹرنیٹ پر اپنی تحقیق کا سلسلہ جاری رکھا تاآنکہ مجھے ایم ٹی اے العربیہ کے ایک پروگرام میں شیخ حسان کے مزاعم کے ردّ پر مبنی ویڈیو کلپ بھی مل گیا۔اس ردّ کو سن کر مجھے یوں محسوس ہوا کہ جیسے خدا تعالیٰ کے افضالمیرے دل کی بنجر زمین پر موسلا دھار بارش بن کر نازل ہونے لگ گئے ہیں۔اب حقیقت میرے لئے ظاہر وباہر ہو چکی تھی چنانچہ میں نے فورًا بیعت کا فیصلہ کر لیا۔
ایک روز میں ایم ٹی اے پر حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ کی بچوں کے ساتھ ایک کلاس دیکھ رہا تھااس میں حضور بچوں کے ساتھ نہایت پُرشفقت مسکراہٹ کے ساتھ کوئی بات کررہے تھے۔ مجھے حضور انور کی بات کی سمجھ تو نہ آسکی لیکن آپ کے چہرہ مبارک پر پھیلنے والی مسکراہٹ نے میرا دل موہ لیا اور میں نے بسرعت اپنی اور اپنی اہلیہ کی بیعت ارسال بھی کردی۔
حقیقی میراث
ابھی ہماری بیعت پر چند روز ہی گزرے تھے کہ مجھے ایک خط موصول ہوا۔ یہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ کی طرف سے قبول بیعت کا خط تھا۔ اس کو کھول کر پڑھتے ہی دل میں سکینت گھر کر گئی اوردل ہر قسم کے شک سے صاف ہو گیا۔ میں نے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ کے دیگر خطوط کے ساتھ اس خط کو بھی بطور خاص سنبھال کر رکھا ہوا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ میرے بچوں اور ان کے بچوں کے لئے یہ سب سے بہتر میراث ہوگی ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری اولاد اور ان کی نسلوں کو شیطان سے محفوظ رکھے اوروہ حضور انور کی دعاؤں کی برکات سے مستفیض ہوتی رہیں ۔ آمین۔
مخالفت اوراستہزاء
میرے بہن بھائیوں پر میری بڑی بہن کا بہت کنٹرول ہے ۔ میری یہ بہن بانقاب اور متدیّن مزاج ہے۔ میں نے سوچا کہ اگر میں اپنی اس بہن کو تبلیغ کروں اور یہ قائل ہو جائے تو سارے خاندان تک احمدیت کا پیغام نہایت آسانی سے پہنچ سکتا ہے ۔ چنانچہ ایک روز میں نے اس کو اپنی ہدایت یابی کی داستان سنا ڈالی۔ لیکن خلاف توقع اس کی کیفیت بدل گئی۔اس پر رعشہ طاری ہوگیا اوراس نے تعوّذ و استغفار پڑھنا شروع کردیا۔ قبل ازیںاس پر یہ حالت عمومًا جنّوں اور بدارواح کے کسی پر تسلّط کا ذکر سن کر طاری ہوا کرتی تھی۔وہ بار بار آیت کریمہ:{سَلَامٌ قَوۡلًا مِن رَّبٍّ رَّحِیۡم} کا ورد کرنے لگ گئی۔اگرچہ بظاہر تو وہ قرآن کریم کی آیت پڑھ رہی تھی لیکن میری ہدایت یابی کی داستان سن کر اس قسم کے اظہار کا مطلب یہی تھا کہ اس کی دانست میں مجھ پر یا تو جن سوار ہوگیا ہے یا کسی آسیب کا سایہ ہے یا میرا دماغ چل گیا ہے۔میں نے بارہا اسے یقین دلانے کی کوشش کی کہ میں بالکل ٹھیک ہوں اور بقائمی ہوش وحواس یہ باتیں کررہا ہوں لیکن اسے یقین نہ آیا۔
اس کے بعد جلدہی یہ خبر سارے خاندان میں پھیل گئی اور میری بہنوں اور بھائیوں نے تو یہاں تک کہنا شروع کردیا کہ تمہارا قبول احمدیت خدا کی طرف سے عذاب ہے۔ اور خدا کا تمہارے ساتھ یہ سلوک اس بات کی دلیل ہے کہ جو کچھ ہم نے تمہارے ساتھ بچپن میں روا رکھا وہ سب ٹھیک تھا بلکہ تم اسی قسم کے سلوک کے ہی مستحق تھے۔ اور بالآخر ان میں سے بعض نے ہمارے ساتھ قطع تعلق کرلیا۔
جب مخالفت بڑھی تو اس کا اثر ہمارے گھر پر بھی ہوا۔ میرے بچوں نے خاندان کی کنارہ کشی کو بہت محسوس کیا۔ میں ہمیشہ انہیں یہی کہتا رہا کہ تھوڑا صبر سے کام لو ، کیونکہ اللہ تعالیٰ استقامت اختیار کرنے والوں اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑنے والوں کو بہت نوازتا ہے۔ لہٰذا اگر ہمارے رشتہ داروں نے ہمیں چھوڑ دیا ہے تو خدا اس بات پر قادر ہے کہ ہمارا گھر احمدیوں سے بھر دے۔
گھر احمدیوں سے بھر گیا
میں نے ایم ٹی اے پر حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ کی زبانی یہ نصیحت سنی تھی کہ جو لوگ اپنے علاقوں میں اکیلے احمدی ہیں انہیں تبلیغی کوششوں کے ساتھ ساتھ ’’رَبِّ لَاتَذَرْنِیْ فَرْدًا وَّأَنْتَ خَیْرُ الْوَارِثِیْن‘‘ کی دعا کرنی چاہئے۔میں نے اس دعا کی عجیب تاثیردیکھی۔ گومیری ساری اولاد بفضلہ تعالیٰ میرے ساتھ تھی لیکن میں نے کسی کو مجبور نہ کیا اور خود فیصلہ کرنے کا کہا۔ میری بڑی بیٹی جب اٹھارہ سال کی ہوئی تو اس نے خود ہر طرح کے اطمینان کے بعد حضور انورکی خدمت میں بیعت کا خط لکھ دیا۔ اسی طرح جب دوسری بچی ملکی قانون کے حساب سے بلوغت کی عمر کو پہنچی تو اس نے بھی اپنی مرضی سے بیعت کا خط لکھ دیا۔نیز اب میرے دونوں بیٹے بھی بفضلہ تعالیٰ احمدی ہیں۔
اس کے بعد مذکورہ بالا دعا کی قبولیت کے مزید آثار یوں ظاہر ہوئے کہ ایم ٹی اے کے ذریعہ میرے علاقے کے بعض لوگ احمدیت میں دلچسپی لینے لگ گئے۔ بعض تحقیق کے بعد مطمئن ہو کر بیعت پر آمادہ ہوگئے اور جماعت سے رابطہ کی خواہش کا اظہار کیا۔ اسی طرح بعض نے اس علاقے میں کسی احمدی سے مل کر مختلف سوالوں کے جواب حاصل کرنے کا عندیہ دیا ۔ ایسے تمام افراد کے نام صدر جماعت مصر کو ارسال کئے گئے اور ان کے ذریعہ سے بغرض رابطہ مجھے بھیجے گئے۔ جب میرا ان سے رابطہ ہوا تو کچھ ہی عرصہ میں میرے علاقے میں احمدیت قبول کرنے والوں کی ایک جماعت بن گئی اور میرا گھر احمدی احباب سے بھر گیا۔ چنانچہ ہم سب نے مل کر نماز بھی پڑھنا شروع کردی۔
پابندیوں کا سامنا
ابھی تھوڑا عرصہ ہی گزرا تھا کہ مجھے سی آئی ڈی کی طرف سے بلاوا آگیا۔ مَیں فورًابلا خوف وخطر وقتِ مقررہ پر جا پہنچا۔ آفیسر نے سوالات کی ایک لمبی لسٹ تیار کی ہوئی تھی۔ لیکن جب وہ سوال پڑھتا اور میں جواب دینے لگتا تو وہ میری بات کاٹ کر دوسرا سوال کردیتا۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ اس نے کوئی فیصلہ کیا ہوا ہے اور میری بات بھی نہیں سننا چاہتا ۔ اس سے ملاقات کے بعد دوبارہ مجھے بڑے آفیسر کے ساتھ میٹنگ کے لئے بلایا گیا۔جس سے ملاقات کے لئے میں سلسلہ کا کچھ لٹریچر اور حضور انور کے بعض خطبات پرنٹ کر کے لے گیا خصوصًا حضور انور کا ایک خطبۂ عید الاضحی، جس میںحضور انور نے قربانی کا فلسفہ نہایت پُرکشش رنگ میں بیان فرمایا ہے۔ آفیسر نے نہایت احترام کے ساتھ یہ سب لٹریچر لیا اور غیر معمولی دلچسپی کا اظہار کیا جس کی بنا پر میں نے جرأت کر کے اسے یہ کہہ دیا کہ مجھے تو آپ میں سعادت کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ آپ کو چاہئے کہ استخارہ کریں اوردعاکریں۔اس نے میری بات کاٹ کر کہا کہ بلکہ میں یہ دعاکرتا ہوں کہ اللہ آپ کو ہدایت دے۔ میں نے کہا کہ اگر منصفانہ طور پر یہ دعا کی جائے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں، چنانچہ آپ یہ دعا کریں اے خدا! اگر السید شلبی جماعت احمدیہ میں شمولیت کے معاملہ میں حق پر نہیں ہے تو اسے ہدایت دے کر اس جماعت سے علیحدہ کر دے اور اگر یہ جماعت سچی ہے اور اس کا بانی سچا ہے اور السید شلبی حق پر ہے تو مجھے بھی اس کی طرح ہدایت کا راستہ دکھا دے۔ اس کے جواب میں وہ ’’اچھا اچھا‘‘ کے علاوہ اور کچھ نہ کہہ سکا۔ میں اس کے دفتر سے نکلا توان کی طرف سے فیصلہ بھی صادر ہوچکا تھاجس کے تحت ہمیں اکٹھے ہو کر نماز پڑھنے سے روک دیا گیا تھا۔یہ سن کر یوں محسوس ہوا جیسے ہمیں کسی غار میں پھینک کر اس کا منہ بند کردیا گیا ہو۔
چند روز کے بعد میں نے خواب میں اسی آفیسر کو دیکھا اور اس سے شکوہ کیا کہ تم نے ہمیں نماز سے روک کر بہت ظلم کیا ہے۔ اس نے کہا کہ میں اپنے اعلی افسران کو آپ کے بارہ میں لکھنے کے لئے سوچ رہاہوں کہ آپ کو نماز پڑھنے کی اجازت دے دی جائے۔ یہ سنتے ہی میرے آنسو اُمڈ آئے اور جب بیدا ر ہوا تو میرا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا۔ مجھے خدا تعالیٰ سے بہت امید ہے کہ وہ دوبارہ ہمارے اکٹھے ہونے کی کوئی نہ کوئی سبیل پیدا فرمادے گا ۔وماذالک علی اللہ بعزیز۔
آخر پر خدا تعالیٰ کا شکر ہے جس نے خود پکڑ کر ہمیں ہدایت دی ۔ ہمیں خلافت کی نعمت سے متعارف کروایا اورعظیم روحانی لذتوں سے آشنائی بخشی۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے ملک میں بھی پابندیوں کو ختم فرمائے اور سعید روحوں کو اس چشمہ کی طرف کھینچ لائے۔ آمین۔
………………
(باقی آئندہ)




