حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذات بابرکات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خُلق ِعظیم کا کامل انعکاس (قسط نمبر3)
٭…’’ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلمنے خود فرمایا ہے کہ مہدی جو آنے والا ہے ……وہ میرے خُلق پر ہو گا۔ اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا یہی مطلب تھا کہ وہ میرا مظہر ہو گا۔ ‘‘ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 521)
٭…’’یوں سمجھ لو کہ مہدی موعود خَلۡق اورخُلۡق میں ہمرنگ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم ہو گا‘‘ ۔
( ایک غلطی کا ازالہ روحانی خزائن جلد 18صفحہ 213)
اب آپ کا خلق عظیم اور اخلاق عالیہ آپ کے اپنے الفاظ میں تحریرات اور واقعات میں پیش کئے جاتے ہیں ۔
خدا تعالیٰ سے محبت اور جوش و غیرت
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ساری کتب اس بارہ میں بھری پڑی ہیں۔ اپنی محبت الٰہی کے بارہ میں آپ فرماتے ہیں ۔
’’ اگر مجھے اس امر کا یقین دلادیا جاوے کہ خدا تعالیٰ سے محبت کرنے اور اس کی اطاعت میں سخت سے سخت سزا دی جائے گی تو مَیں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میری فطرت ایسی واقع ہوئی ہے کہ وہ ان تکلیفوں اور بلائوں کو ایک لذت اور محبت کے جوش اور شوق کے ساتھ برداشت کرنے کو تیار ہے۔ ‘‘ ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 134۔ ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)
’’ میں جب کوئی کام کرتا ہوں تو میری غرض اور نیت اللہ تعالیٰ کے جلال کا اظہارہوتی ہے۔ ‘‘ ( ایضاًصفحہ 390)
’’اس وقت دنیا میں شرک پھیلا ہوا ہے اور ایک عاجز انسان کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کیا جاتا ہے اس لئے فطرتی طور پر ہماری توجہ اس طرف غالب ہو رہی ہے کہ دنیا کو اس شرک سے نجات ملے اور اللہ تعالیٰ کی عظمت قائم ہو ۔ اس کے سوا دوسری طرف ہم توجہ کر ہی نہیں سکتے… میری ساری توجہ اسی ایک امر کی طرف ہو رہی ہے کہ یہ مخلوق پرستی دور ہو اور صلیب ٹوٹ جاوے… یہ شرک جو پھیلا ہوا ہے اور حضرت عیسیٰ کو خدا بنایا گیا ہے اس کو نیست و نابود کر دیا جاوے یہ جوش سمندر کی طرح میرے دل میں ہے۔ ‘‘
(ملفوظات جلد سوم صفحہ 403)
’خدا تعالیٰ کی راہ میں ہر دکھ او رمصیبت اور بے عزتی اٹھانے کے لئے تیار رہو ۔‘‘ ( ایضاًصفحہ 402)
’’ ہم چاہتے ہیں کہ پھر خدا تعالیٰ کا جلال ظاہر ہو ۔ ‘‘ (ملفوظات جلد سوم صفحہ 84)
’’ میں تو خدا کو خوش کرنا چاہتا ہوں نہ لوگوں کو ۔‘‘ (ایضاً صفحہ 84)
’’ میرا تو یہ حال ہے کہ اگر مجھے صاف آواز آوے کہ تو مخذول ہے اور تیر ی کوئی مراد ہم پوری نہ کریں گے تو مجھے خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ اس عشق اور محبت الٰہی اور خدمت دین میں کوئی کمی واقع نہ ہو گی۔ ‘‘ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 302)
’’ سچی لذّت ، اللہ تعالیٰ کی محبت کے سوا اور کسی شئے میں نہیں ہے ۔ ‘‘ ( ایضاً:صفحہ 508)
’’ میں جس کام میں لگا ہوا ہوں اس کا اصل مقصد خدا تعالیٰ کی عظمت اور جلال کو قائم کرنا ہے۔ ‘‘
( ملفوظات جلد اول صفحہ 570)
’’ ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں … یہ دولت لینے کے لائق ہے اگرچہ جان دینے سے ملے اور یہ لعل خریدنے کے لائق ہے اگرچہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو…… خدا ایک پیارا خزانہ ہے اس کی قدر کرو۔ ‘‘
(کشتیٔ نوح۔ روحانی خزائن جلد 19صفحہ 21,22)
اسی فکر میں رہتے ہیں روز و شب
کہ راضی وہ دلدار ہوتا ہے کب
اسے دے چکے مال و جاں بار بار
ابھی خوف دل میں کہ ہیں نابکار
………………………
خدا سے ملنے کی تڑپ
تیرے ملنے کے لئے ہم مل گئے ہیں خاک میں
تا مگر درماں ہو کچھ اس ہجر کے آزارکا
ایک دم بھی کل نہیں پڑتی مجھے تیرے سوا
جاں گھٹی جاتی ہے جیسے دل گھٹے بیمار کا
شور کیسا ہے تیرے کوچہ میں لے جلدی خبر
خوں نہ ہو جائے کسی دیوانہ مجنوں وار کا
………………………
خدا تعالیٰ سے مناجات اورعشق و محبت کا اظہار
تیرا ہوں میں ہمیشہ جب تک کہ دم میں دم ہے
یہ روز کر مبارک سبحٰن من یرانی
…………………………
اس دل میں تیرا گھر ہے تیری طرف نظر ہے
تجھ سے میں ہوں منور میرا تو تُو قمر ہے
تجھ پر مرا توکّل در پر ترے یہ سر ہے
یہ روز کر مبارک سبحٰن من یرانی
(روحانی خزائن جلد12صفحہ 319)
ہر اک عاشق نے ہے اک بت بنایا
ہمارے دل میں یہ دلبر سمایا
وہی آرام جاں اور دل کو بھایا
وہی جس کو کہیں رَبُّ الۡبَرَایَا
…………………………
مجھے اُس یار سے پیوند جاں ہے
وہی جنت، وہی دَارُالامَاں ہے
بیاں اس کا کروں طاقت کہاں ہے
محبت کا تو اک دریا رواں ہے
(الحکم10دسمبر1901ء)
…………………………
جلد آ پیارے ساقی! اب کچھ نہیں ہے باقی
دے شربتِ تلاقی حرص و ہوا یہی ہے
……………………
ہم خاک میں ملے ہیں شاید ملے وہ دلبر
جیتا ہوں اس ہوس میں میری غذا یہی ہے
دنیا میں عشق تیرا ، باقی ہے سب اندھیرا
معشوق ہے تو میرا عشق صفا یہی ہے
اے میرے یارِ جانی ! کر خود ہی مہربانی
مت کہہ کہ لَنۡ تَرَانیِۡ تجھ سے رَجَا یہی ہے
(روحانی خزائن جلد 20صفحہ 449)
…………………………
ایک خواہش، تمنّا اور اصل غرض
فرمایا: ’’ انسان کا دل خدا تعالیٰ کی خالص محبت سے اس طرح پر لبریز ہو جاوے جیسے کہ عطر کا شیشہ بھرا ہوا ہو اور خدا تعالیٰ اس سے خوش ہو جاوے … جب اللہ تعالیٰ سے ایسا قرب اور تعلق ہو کہ اس کا دل اللہ تعالیٰ کا تخت گاہ ہو تو یہ ناممکن ہے کہ یہ ا س کے انوار وبرکات سے مستفیض نہ ہو اور اس کا کلام نہ سنے… انسان اپنی غرض کو صاف کرے اور خالصتاً روبخدا ہو ۔ اس کے ساتھ اپنے تعلقات کو صاف کرے او ربڑھائے اور وَجۡہُ اللّٰہ کی طرف دوڑے وہی اس کا مقصود اور محبوب ہو… جب وفاداری اور اخلاص کے ساتھ اس کی طرف آئے گا اور اس کا قرب حاصل ہو گا تو یہ وہ سب کچھ دیکھے گا جو اس کے وہم و گمان میں بھی کبھی نہ گزرا ہو گا… پس میں تو اس راہ پر چلانا چاہتا ہوں اور یہی اصل غرض ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد 5صفحہ 77)
خشیۃ اللّٰہ
’’ رات کے وقت جب ہر طرف خاموشی ہوتی ہے اور ہم اکیلے ہوتے ہیں ۔ اس وقت بھی خدا کی یاد میں دل ڈرتا رہتا ہے کہ وہ بے نیاز ہے۔‘‘
( ملفوظات جلد اول صفحہ 306)
’’ اس خسیس دنیا کو خوش کرکے اپنے خدا کی دھتکار کی طاقت ہم کہاں رکھ سکتے ہیں ۔ ‘‘ ( ایضاًصفحہ 215)
………………………
لِلّٰہ بُغۡض
فرمایا: ’’ ہم بھی بعض دفعہ کسی پر ناراض ہوتے ہیں مگر ہماری ناراضگی دین کے واسطے اور اللہ کے لئے ہے ۔ جس میں نفسانی جذبات کی ملونی نہیں اور دنیوی خواہشات کا کوئی حصہ نہیں ۔ ہمارا بغض اگر کسی کے ساتھ ہے تو وہ خدا تعالیٰ کے واسطے ہے۔ اور اس واسطے وہ بغض ہمارا نہیں بلکہ خود خداتعالیٰ کا ہی ہے کیونکہ اس میں کوئی ہماری نفسانی یا دنیوی غرض نہیں ۔ ہم کسی سے کچھ لینا نہیں چاہتے نہ کسی سے کوئی خواہش رکھتے ہیں ۔ ‘‘ ( ملفوظات جلد 5صفحہ 171)
………………………
تَوکّل علی اللہ
فرمایا: ’’ ہم کو تو خدا پر اتنا بھروسہ ہے کہ ہم تو اپنے لئے دعا بھی نہیں کرتے کیونکہ وہ ہمارے حال کو خوب جانتا ہے۔ ‘‘
(ملفوظات جلد اول صفحہ 444)
’’ جب میں اپنی صندوقچی کو خالی دیکھتا ہوں تو مجھے خدا کے فضل پر یقین واثق ہوتا ہے کہ اب یہ بھرے گی اور ایسا ہی ہوتا ہے۔ ‘‘
خداتعالیٰ کی قسم کھا کر فرمایا: ’’ جب میرا کیسہ خالی ہوتا ہے تو جو ذوق وسرور اللہ تعالیٰ پر توکّل کا اس وقت مجھے حاصل ہوتا ہے میں اس کی کیفیت بیان نہیں کر سکتا اور وہ حالت بہت ہی زیادہ راحت بخش اور طمانیت انگیز ہوتی ہے ۔ ‘‘ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 216)
’’ ہم کو اگر اس کام کے مقابلہ میں جو خدا تعالیٰ نے ہمارے سپرد کیا ہے آگ میں ڈالا جاوے تو ہمارا یقین ہے کہ آگ جلا نہیں سکے گی اور اگر شیروں کے پنجرہ میں ڈالا جاوے تووہ کھا نہ سکیں گے۔ میں یقینا کہتا ہوں کہ ہمارا وہ خدا نہیں جو اپنے صادق کی مدد نہ کر سکے۔‘‘
( ملفوظات جلد دوم صفحہ 218)
’’ ایک عرب کی طرف سے خط آیا کہ اگر آپ ایک ہزار روپیہ مجھے بھیج کر اپنا وکیل مقرر کر دیویں تو میں آپ کے مشن کی اشاعت کروں گا۔ ‘‘
فرمایا : ’’ان کو لکھ دو ہمیں کسی وکیل کی ضرورت نہیں۔ ایک ہی ہمارا وکیل ہے۔ جو عرصہ بائیس سال سے اشاعت کر رہا ہے اس کے ہوتے ہوئے کسی اَور کی کیا ضرورت ہے۔ ‘‘ (ملفوظات جلد سوم صفحہ 46)
’’ ہمارے مخالف ہر طرف سے کوشش کرتے ہیں کہ ہمارے نابود کرنے میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہ کریں۔ ہر قسم کی تدبیریں اور منصوبے کرتے ہیں مگر ان کو معلوم نہیں کہ … خدا کے ساتھ لڑ کر کبھی کوئی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ ان کا بھروسہ اپنی تدابیر اور حیل پر ہے اور ہمارا خدا پر ۔ ‘‘
( ایضاً صفحہ 202)
…………………………
اللہ تعالیٰ سے عشق
حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب ؓفرماتے ہیں :
’’ آپ سے زیادہ اللہ اور رسول کی محبت میں غرق کوئی شخص نہیں دیکھا ۔ ‘‘
( تاریخ احمدیت جلد دوم صفحہ 597)
’’اللہ تعالیٰ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بے حد عشق تھا۔ سوتے ہوئے بھی آپ کی یہی کیفیت ہوتی تھی کہ لبوں پر سبحان اللہ کے الفاظ ہوتے تھے۔ ‘‘
( سیرت المہدی جلد اول صفحہ 287)
…………………………
حضرت محمد مصطفی ﷺ سے محبت او رآپؐ کے لئے غیرت
یوں تو آپ کی ساری کتب ، نظم و نثر عربی ، اردو ، فارسی ، اللہ تعالیٰ کے مشق و محبت ، جوش و غیرت سے بھری پڑی ہیں۔ اسی طرح عشق محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ ؐ کے لئے جوش و غیرت سے بھی بھری پڑی ہیں چند ایک نمونے پیش خدمت ہیں ۔
آپ فرماتے ہیں :
’’ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم … جو عارف ترین اور اکمل ترین انسان دنیا میں تھے… رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو اپنا امام اور حکم مانتے ہیں… ہمارا مدعا جس کے لئے خدا تعالیٰ نے ہمارے دل میں جوش ڈالا ہے یہی ہے کہ صرف اور صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت قائم کی جائے جو ابدالآباد کے لئے خدا تعالیٰ نے قائم کی ہے اور تمام جھوٹی نبوتوں کو پاش پاش کر دیا جائے۔ ‘‘ ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 64)
’’ ہمارا اصل منشاء اور مدعا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جلال ظاہر کرنا ہے اور آپؐ کی عظمت کو قائم کرنا ۔ ‘‘ (ایضاًصفحہ 200)
’’ مجھے بھیجا گیا ہے تاکہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کھوئی ہوئی عظمت کو پھر قائم کروں ۔ ‘‘ ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 9)
’’ ہم کو الہام ہوا ہے کُلُّ بَرَکَۃٍ مِّنۡ مُحَمَّّدٍؐ ۔ہم اس دائرہ سے باہر نہیں جاتے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے باہر جانا تو کفرہے۔ ‘‘ (ملفوظات جلد 4صفحہ 513)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بے نظیر عشق و محبت آپ کے اندر اس کمال کو پہنچا ہوا تھا کہ آپ کے ہر قول و فعل اور حرکت و سکون میں اس کا ایک پُر زور جلوہ نظر آتا تھا۔ جس کا ایک جلوہ اور اظہار نمونۃً ان چند اشعار میں ملاحظہ کر سکتے ہیں۔
جان و دِلَم فدائے جمال محمدؐ است
خاکم نثار کوچہ آل محمدؐ است
(مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 93نیا ایڈیشن)
یعنی میرے جان و دل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن خداداد پر قربان ہیں اور میں آپؐ کے آل وعیال کے کوچہ کی خاک پر نثار ہوں۔
بعد از خدا بعشق محمدؐ مخمرم
گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم
( روحانی خزائن جلد3صفحہ 185)
یعنی خدا سے اتر کر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کی شراب سے متوالا ہو رہا ہوں ۔ اور اگر یہ بات کفر میںداخل ہے تو خدا کی قسم میں سخت کافر ہوں ۔
پھر فرماتے ہیں :
وہ پیشوا ہمارا جس سے ہے نور سارا
نام اس کا محمدؐ دلبر میرا یہی ہے
اُس نور پر فدا ہوں اُس کا ہی میں ہوا ہوں
وہ ہے ، مَیں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے
گویا آپ فنا فی الرسول کے مقام تک پہنچے ہوئے تھے۔ یعنی آپ کا اپنا وجود محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت وعشق میں فنا ہو گیا۔
پھر آپ فرماتے ہیں :
’’ میں قرآن اور … آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک مذہب کی خدمت کے واسطے کمربستہ ہوں اور جان تک میں نے اپنی اسی راہ میں لگا دی ہے۔ ‘‘
( ملفوظات جلد 5صفحہ 586)
پھر آنحضرت ؐ کی اعلیٰ و ارفع شان بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’ وہ اعلیٰ درجہ کا نور جو انسان کو دیا گیا یعنی انسان کامل کو وہ ملائک میں نہیں تھا۔ نجوم میں نہیں تھا ،قمر میں نہیں تھا۔ آفتاب میں بھی نہیں تھا۔ وہ زمین کے سمندروں اور دریائوں میں بھی نہیں تھا وہ لعل اور یا قوت اور زمرد اور الماس اور موتی میں بھی نہیں تھا۔ غرض وہ کسی چیز ارضی و سماوی میں نہیں تھا صرف انسان میں تھا یعنی انسان کامل میں جس کا اتم اور اکمل اور اعلیٰ اور ارفع فرد ہمارے سید و مولیٰ سیدالانبیاء ، سید الاحیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔‘‘
(آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد 5صفحہ 160-161)
…………………………
غیرت کا اظہار
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے دین کے لئے غیرت آپ کی فطرت میں ودیعت تھی۔ بے شمار مواقع پر آپ نے اس کا اظہار فرمایا۔ اور آپ کی تحریروں میں بھی کئی جگہ اس کی جھلک یا برملا اظہار نظر آتا ہے۔ایک بڑا مشہور واقعہ پنڈت لیکھرام کا ہے جو آنحضرت ؐ کے خلاف اپنی بدزبانی اور دیدہ دلیری میں مشہور زمانہ تھا۔ ایک بار اُس نے حضرت مسیح موعود ؑ کو سلام کیا تو آپ نے کوئی جواب نہ دیا اور منہ دوسری طرف پھیر لیا ۔ اس نے دوسری طرف سے آ کر سلام کیا تو آپ نے کوئی جواب نہ دیا ۔ احباب نے آپ سے عرض کی کہ لیکھرام سلام عرض کرتا ہے۔ تو آپ نے نہایت غیرت مندانہ لہجے میں ( نہایت جوش سے ) فرمایا ۔ میرے آقا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو تو گالیاں دیتا ہے اور مجھے سلام کہتا ہے۔
اسی طرح آپ کی کئی تحریروں میں سے ایک نمونہ پیش خدمت ہے۔ فرماتے ہیں ۔
’’ اس زمانے میں جو کچھ دینِ اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی گئی … اس کی نظیر کسی دوسرے زمانہ میں بھی مل سکتی ہے؟ … اس قدر بد گوئی اور اہانت اور دشنام دہی کی کتابیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں چھاپی گئیں …کہ جن کے سننے سے بدن پر لرزہ پڑتا اور دل رو رو کر یہ گواہی دیتا ہے کہ اگر یہ لوگ ہمارے بچوں کو ہماری آنکھوں کے سامنے قتل کرتے اور ہمارے جانی اور دلی عزیزوں کو جو دنیا کے عزیز ہیں ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالتے اور ہمیں بڑی ذلّت سے جان سے مارتے اور ہمارے تمام اموال پر قبضہ کر لیتے تو واللہ ثم واللہ ہمیں رنج نہ ہوتا اور اس قدر کبھی دل نہ دکھتا جو اِن گالیوں اور اس توہین سے جو ہمارے رسول کریم ؐ کی کی گئی دُکھا۔‘‘
(آئینہ کمالات اسلام،روحانی خزائن جلد 5صفحہ 51,52)
…………………………
اردو منظوم کلام کی ایک جھلک ملاحظہ فرمائیں :
تیرے منہ کی ہی قسم میرے پیارے احمدؑ
تیری خاطر سے یہ سب بار اٹھایا ہم نے
پھر اپنے عشق و محبت کا اظہار یوں فرماتے ہیں :
ربط ہے جان محمدؐ سے مری جاں کو مدام
دل کو وہ جام لبالب ہے پلایا ہم نے
تیری اُلفت سے ہے معمور مرا ہر ذرہ
اپنے سینہ میں یہ اک شہر بسایا ہم نے
دلبرا ! مجھ کو قسم ہے تری یکتائی کی
آپ کو تیری محبت میں بھلایا ہم نے
بخدا دل سے مرے مٹ گئے سب غیروں کے نقش
جب سے دل میں یہ تیرا نقش جمایا ہم نے
( روحانی خزائن جلد 5صفحہ 224)
………………………
پھر اپنے عربی قصیدہ میں اپنے عشق و محبت کا اظہار یوں فرماتے ہیں :
یَا حِبِّ اِنَّکَ قَدۡ دَخَلۡتَ مَحَبَّۃً
فِیۡ مُھۡجَتِیۡ وَ مَدَارِ کی وَ جَنَانِی
اے میرے محبوب یقینا آپ کی محبت میں میری جان اور میرے دماغ اور دل میں رَچ گئی ہے۔
مِنۡ ذِکۡرِ وَجۡھِکَ یَا حَدِیۡقَۃَ بَھۡجَتِیۡ
لَمۡ اَخۡلُ فِی لحۡظٍ وَلَا فِیۡ آنٖٖ
اے میری خوشی کے باغ میں تو آپؐ کے ( مبارک ) منہ کی یاد سے ایک لمحہ اور لحظہ بھی غافل نہیں رہتا۔
جِسۡمِیۡ یَطِیۡرُ اِلَیۡکَ ِمنۡ شَوۡقٍ عَلَا
یَا لَیۡتَ کَانَتۡ قُوَّۃُ الطَّیَرَانٖ
میر ا وجود ( تیرے دیدار کے لئے) اُڑ کر آنا چاہتا ہے۔ اے کاش مجھے اڑنے کی طاقت ہوتی ۔(تو میں اڑ کر آپؐ کے پاس پہنچ جاتا)۔
یَارَبِّ صَلِّ عَلٰی نَبِیِّکَ دَائِمًا
فِیۡ ھَذِہِ الدُّنۡیَا وَ بَعۡثٍ ثَانٖ
اے میرے رب تو اپنے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم )پر ہمیشہ ( درود و سلام اور ) رحمتیں نازل فرما اس دنیا میں بھی او ر دوسرے جہان میں بھی۔
…………………………
آنحضرت ؐ سے عشق
آپ کے بیٹے حضرت مرزا سلطان احمد صاحبؓ فرماتے ہیں:
’’ رسول اللہ سے تو والد صاحب کو عشق تھا۔ ایسا عشق میں نے کبھی کسی شخص میں نہیں دیکھا ۔ ‘‘
( سیرت المہدی جلد اول صفحہ 201)
…………………………
قرآن کریم سے عشق و محبت
اس بارہ میں بھی آپ کی تمام کتب ، اور نظم و نثر ، عربی، اردو اور فارسی میں آپ کے عشق قرآن پر زبردست دلیل ہیں ۔ اسی طرح آپ کی تفسیر قرآن ، اور پر معارف تشریح اور اس کے مقابل پر تمام ادیان باطلہ کو چیلنج اور فضائل القرآن بیان فرما کر اپنے عشق و محبت کا ثبوت دیا۔ مثلاً عیسائیوں کو چیلنج دیتے ہوئے فرمایا ۔
آئو عیسائیو ادھر آئو
نور حق دیکھو راہِ حق پائو
جس قدر خوبیاں ہیں فرقاں میں
کہیں انجیل میں تو دکھلائو
اسی طرح آپ کی جملہ کتب ان چیلنجوں سے بھری پڑی ہیں۔ بعض جگہ تو بڑے بڑے انعام بھی رکھے ہیں۔ آپ نے ، آریوں ، ہندوئوں اور عیسائیوں غرضیکہ تمام مذاہب والوں کو دین حق اور قرآن کریم سے مقابلہ کے چیلنجز دئیے اور قرآن کریم کی برتری اور عظمت شان بیان فرمائی ہے اسی طرح فرماتے ہیں :
’’ کوئی سچائی اور صداقت نہیں جو قرآن مجید میں نہ ہو۔میں نے اگنی ہو تری کو بار ہا کہا کہ کوئی ایسی سچائی بتائو جو قرآن شریف میں نہ ہو مگر وہ نہ بتا سکا۔
ایسا ہی ایک زمانہ مجھ پر گزرا ہے کہ میں نے بائبل کو سامنے رکھ کر دیکھا جن باتوں پر عیسائی ناز کرتے ہیں وہ تمام سچائیاں مستقل طور پر اور نہایت ہی اکمل طور پر قرآن مجید میں موجود ہیں ۔ ‘‘ ( ملفوظات جلد 4صفحہ 672-73)
پھر آپ قرآن شریف سے اپنے عشق و محبت کا اظہار یوں فرماتے ہیں :
دل میں یہی ہے ہر دم تیرا صحیفہ چوموں
قرآن کے گرد گھوموں کعبہ میرا یہی ہے
جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا :
قرآن کو یاد رکھناپاک اعتقاد رکھنا
فکر معاد رکھنا پاس اپنے زاد رکھنا
اکسیر ہے پیارے صدق و سداد رکھنا
یہ روز کر مبارک سبحن من یرانی
(روحانی خزائن جلد1صفحہ 299)
اے عزیزو ! سنو کہ بے قرآں
حق کو ملتا نہیں کبھی انساں
جن کو اس نور کی خبر ہی نہیں
ان پہ اس یار کی نظر ہی نہیں
(روحانی خزائن جلد1صفحہ 299)
پھر اپنے عشق و محبت کا اظہار یوں فرمایا :
جمال و حسن قرآن نور جان ہر مسلماں ہے
قمر ہے چاند اوروں کا ہمارا چاند قرآں ہے
قرآن پر ایمان و اعتقاد
اس بارہ میں فرمایا :
’’ ہم نے بارہا ظاہر کیا ہے اور کتابوں میں شائع کیا ہے کہ ہم قرآن شریف پر ایمان لاتے ہیں اگر کوئی شخص ایک آیت کا بھی انکار کرے وہ گمراہ اور جہنمی ہے۔ ‘‘
( ملفوظات جلد4صفحہ 128)
خادم قرآن
فرمایا : ’’ میں قرآن اور احکام قرآنی کی خدمت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک مذہب کی خدمت کے واسطے کمر بستہ ہوں اور جان تک میں نے اپنی اسی راہ میں لگا دی ہے۔ ‘‘ ( ملفوظات جلد 5صفحہ 586)
نیز فرمایا :
’’ میں قرآن شریف کا ایک خادم ہوں ۔ ‘‘
( ایضاً صفحہ 74)
قرآن کریم سننے کا شوق
سیر کے دوران حافظ محبوب الرحمن صاحب کی طرف اشارہ کر کے فرمایا :
’’ یہ قرآن شریف اچھا پڑھتے ہیں اور میں نے اسی واسطے ان کو یہاں رکھ لیا ہے کہ ہر روز ان سے قرآن شریف سنا کریں گے۔ مجھے بہت شوق ہے کہ کوئی شخص عمدہ، صحیح، خوش الحانی سے قرآن شریف پڑھنے والا ہو تو اس سے سنا کروں۔ ‘‘ ( ملفوظات جلد 5صفحہ 197)
قرآن کریم برکات کا سر چشمہ
اس بارہ میں آپ فرماتے ہیں :
’’ یاد رکھو قرآن شریف حقیقی برکات کا سرچشمہ اور نجات کا سچا ذریعہ ہے۔ یہ ان لوگوں کی اپنی غلطی ہے جو قرآن شریف پر عمل نہیں کرتے۔ ‘‘
(ملفوظات جلد4صفحہ 140)
نیز فرمایا :
دل میں ہر وقت نور بھرتا ہے
سینہ کو خوب صاف کرتا ہے
اس کے اوصاف کیا کروں بیاں
وہ تو دیتا ہے جاں کو اور اِک جاں
بحرِ حکمت ہے وہ کلام تمام
عشقِ حق کا پلا رہا ہے جام
درد مندوں کی ہے دوا وہی ایک
ہے خدا سے خدا نما وہی ایک
(روحانی خزائن جلد1صفحہ 299)
پھر فرمایا :
’’ میں جوان تھا اور اب بوڑھا ہو گیا اور اگر لوگ چاہیں تو گواہی دے سکتے ہیں کہ … دینی شغل میں ہمیشہ میری دلچسپی رہی۔ میں نے اس کلام کو جس کا نام قرآن ہے نہایت درجہ تک پاک اور روحانی حکمت سے بھرا ہوا پایا … اور وہ برکت جس کے لئے مذہب قبول کیا جاتا ہے اس کو یہ کلام آخر انسان کے دل پر وارد کردیتا ہے اور خدا کے فضل کا اس کو مالک بنا دیتا ہے۔ ‘‘
(سناتن دھرم۔ روحانی خزائن جلد 19صفحہ 474)
جو لوگ قرآن کو عزت دیں گے
وہ آسمان پر عزت پائیں گے
جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا :
’’ تمہارے لئے ایک ضروری تعلیم یہ ہے کہ قرآن شریف کو مہجور کی طرح نہ چھوڑ دو کہ تمہاری اسی میں زندگی ہے۔ جو لوگ قرآن کو عزت دیں گے وہ آسمان پر عزت پائیں گے … نوع انسان کے لئے رُوئے زمین پر اب کوئی کتاب نہیں مگر قرآن اور تمام آدم زادوں کے لئے اب کوئی رسول اور شفیع نہیں مگر محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘
( کشتیٔ نوح۔ روحانی خزائن جلد 19صفحہ 13)
تمام قسم کی بھلائیاں قرآن میں ہیں
فرمایا :
’’ حقیقی اور کامل نجات کی راہیںقرآن نے کھولیں اور باقی سب اُس کے ظل تھے۔ سو تم قرآن کو تدبر سے پڑھو اور اس سے بہت ہی پیار کرو ایسا پیار کہ تم نے کسی سے نہ کیا ہو۔ کیونکہ جیسا کہ خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا ’’ اَلۡخَیۡرُ کُلُّہٗ فِی الۡقُرآنِ ‘‘کہ تمام قسم کی بھلائیاں قرآن میں ہیں۔ یہی بات سچ ہے ۔ ‘‘
(کشتیٔ نوح۔ روحانی خزائن جلد 19صفحہ 26-27)
فلاح اور نجات کا سر چشمہ قرآن
’’ تمہاری تمام فلاح اور نجات کا سر چشمہ قرآن میں ہے۔ کوئی بھی تمہاری ایسی دینی ضرورت نہیں جو قرآن میں نہیں پائی جاتی… خدا نے تم پر بہت احسان کیا ہے جو قرآن جیسی کتاب تمہیں عنایت کی …پس اس نعمت کی قدر کرو جو تمہیں دی گئی۔ یہ نہایت پیاری نعمت ہے۔ یہ بڑی دولت ہے ۔ اگر قرآن نہ آتا تو تمام دنیا ایک گندے مضغہ کی طرح تھی ۔ قرآن وہ کتاب ہے جس کے مقابل پر تمام ہدایتیں ہیچ ہیں … پس اپنی ہمتیں بلند کر لو اور قرآن کی دعوت کو ردّ مت کرو۔ وہ تمہیں وہ نعمتیں دینا چاہتا ہے جو پہلوں کو دی تھیں۔‘‘ (کشتیٔ نوح۔ روحانی خزائن جلد 19صفحہ 27)
قرآں خدا نما ہے خدا کا کلام ہے
بے اس کے معرفت کا چمن ناتمام ہے
عشق قرآن
مولوی میر حسن صاحب سیالکوٹی نے تحریراً حضرت مرزا بشیراحمد صاحبؓ کو اپنے خط میں لکھا:
’’ حضرت مرزا صاحب پہلے محلہ کشمیریا ں میں جو اس پُر معاصی کے غریب خانہ کے بہت قریب ہے کرایہ پر رہا کرتے تھے۔ کچہری سے جب تشریف لاتے تو قرآن مجید کی تلاوت میں مصروف ہو تے تھے ، بیٹھ کر، کھڑے ہو کر، ٹہلتے ہوئے تلاوت کرتے تھے اور زار زار رویا کرتے تھے۔ ایسی خشوع خضوع سے تلاوت کرتے تھے کہ اس کی نظیر نہیں ملتی ۔ ‘‘ ( سیرت المہدی جلد اول صفحہ 252)
اس گواہی پر آپؑ کا یہ شعر صادق آتا ہے۔ ؎
دل میں یہی ہے ہر دم تیرا صحیفہ چوموں
قرآں کے گرد گھوموں کعبہ میرا یہی ہے
(باقی آئندہ)




