متفرق شعراء

نوروں نہلائے ہوئے قامتِ گلزار کے پاس

(عبید اللہ علیمؔ)

نوروں نہلائے ہوئے قامتِ گلزار کے پاس
اِک عجب چھاؤں میں ہم بیٹھے رہے یار کے پاس

یہ محبت تو نصیبوں سے ملا کرتی ہے
چل کے خود آئے مسیحا کسی بیمار کے پاس

(علیمؔ)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button