الفضل ڈائجسٹ

الفضل ڈائجسٹ

(محمود احمد ملک)

اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔

مکرم نصیر احمد انجم صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ ۱۴ و ۱۵؍جولائی ۲۰۱۴ء میں مکرم نصیر احمد انجم صاحب کی وفات کا اعلان شائع ہوا ہے جو ۱۲؍جولائی کی صبح ۴۹؍سال کی عمر میں طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ ربوہ میں وفات پاگئے۔ آپ برین ہیمبرج کے بعد دو روز سے کومے میں تھے۔ اسی روز نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد بوجہ موصی ہونے کے بہشتی مقبرہ ربوہ میں تدفین عمل میں آئی۔

مکرم نصیر احمد انجم صاحب ۱۰؍مئی۱۹۶۵ء کو محترم عبدالقادر صاحب کے ہاں سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ آپ کُل تین بہنیں اور تین بھائی تھے۔ آپ میٹرک کرکے ۱۹۸۱ء میں وقف کرکے جامعہ احمدیہ ربوہ میں داخل ہوئے۔ تمام کلاسوں میں اوّل پوزیشن حاصل کرتے ہوئے ۱۹۸۸ء میں فارغ التحصیل ہوکر میدان عمل میں قدم رکھا اور جولائی ۱۹۸۸ء میں ٹوبہ ٹیک سنگھ میں مربی سلسلہ مقرر ہوئے۔ بعدازاں گوجرہ میں بھی فرائض سرانجام دیے۔ جامعہ میں دورانِ تعلیم ہی آپ نے بی اے بھی کیا اور جامعہ پاس کرنے کے بعد ایم اے عربی بھی کرلیا۔ روسی زبان بھی سیکھی اور ۲۹؍مئی ۱۹۹۰ء کو موازنہ مذاہب کے مضمون میں تخصّص مکمل کرلیا اور یکم ستمبر سے جامعہ احمدیہ میں تدریسی خدمات کا آغاز کیا۔ جامعہ احمدیہ میں صدر شعبہ موازنہ مذاہب، صدر مقالہ کمیٹی اور ممبر انتظامی کمیٹی کے علاوہ متعدد خدمات بجالاتے رہے۔ مجلس افتاء اور ریسرچ سیل کے ممبر اور دارالقضاء میں بطور وکیل خدمات سرانجام دیں۔ مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان کی مرکزی عاملہ میں ۱۹۹۴ء سے ۲۰۰۵ء تک بطور معاون صدر اور مختلف شعبہ جات میں بطور مہتمم خدمات سرانجام دینے کی توفیق بھی ملی۔ رسائل ’’تشحیذالاذہان‘‘ اور ’’انصاراللہ‘‘ کے ایڈیٹر بھی رہے۔ مسجد اقصیٰ میں خطباتِ جمعہ اور مسجد مبارک میں قرآن کریم اور حدیث کا درس دینے کی توفیق بھی ملی۔ آپ کو دو دفعہ جلسہ سالانہ یوکے میں بطور نمائندہ شامل ہونے اور جلسہ سالانہ۲۰۱۰ء میں تقریر کرنے کی توفیق بھی ملی۔ ایک بار چین کا تحقیقی سفر بھی کیا اور پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں متعدد بار ہائیکنگ کی۔ آپ ایک اچھے مقرر اور مصنف تھے۔ آپ کا (جامعہ کا) درجہ شاہد کا مقالہ ’’مجدّدین اُمّتِ محمدیہ‘‘ شائع ہوچکا ہے۔ ایم ٹی اے پر بہت سے پروگرام ریکارڈ کروائے۔ سوال و جواب میں مہارت تھی۔ ایک اچھے مقرر اور داعی الیٰ اللہ تھے۔ خلافت کے ساتھ والہانہ عشق تھا۔ آپ تصنّع سے پاک، ایک عاجز اور منکسرالمزاج انسان تھے۔ بڑی سفیدپوشی کے ساتھ باوقار زندگی گزاری۔ مستحقین کی خاموشی سے مالی مدد کرتے تھے۔ کئی لوگوں کی امانتیں آپ کے پاس رکھی ہوتی تھیں۔ اکرامِ ضیف اور بیوی بچوں کے ساتھ شفقت کا سلوک کرنے والے تھے۔ آپ کی شادی محترمہ ناصرہ انجم صاحبہ بنت مکرم محمد حسین صاحب آف صادق آباد ہوئی جن سے تین بیٹے اور تین بیٹیاں اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائے۔

حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے ایک خطبہ جمعہ میں مرحوم کا ذکر خیر کرتے ہوئے فرمایا کہ مکرم نصیر احمد انجم صاحب واقف زندگی اور جامعہ احمدیہ ربوہ میں استاد تھے۔ ۱۹۸۱ء میں انہوں نے میٹرک کا امتحان دیا۔ اس کے بعد زندگی وقف کی اور جامعہ میں پڑھائی کے لیے تشریف لے آئے۔ جامعہ میں آپ نے بی اے کیا۔ جامعہ سے فارغ ہوئے تو پھر ایم اے عربی کیا۔ رشین زبان میں بھی ان کو جماعت کی طرف سے کورس کروایا گیا۔ ۱۹۸۸ء میں جامعہ سے شاہد کی ڈگری لینے کے بعد میدان عمل میں آئے اور مختلف جماعتوں میں رہے۔ ۱۹۹۰ء میں موازنہ مذاہب کے تخصّص کے لیے ربوہ بلایا گیا اور تخصّص کے دوران ہی آپ نے جامعہ احمدیہ میں بطور استاد پڑھانا شروع کیا اور باقاعدہ طور پر ۱۸؍جولائی ۱۹۹۹ء کو آپ مستقل طور پر استاد موازنہ مذاہب مقرر ہوئے اور تادم آخر اسی ذمہ داری کو بااحسن نبھاتے رہے۔ جامعہ سے پاس ہونے کے بعد خدمت کا عرصہ تقریباً چھبیس سال ہے۔ باوجود اس کے کہ جوان مربیان اور علماء میں سے تھے، موازنہ مذاہب میں آپ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک اتھارٹی تھے۔ بڑا علم تھا۔ بڑا گہرا علم تھا۔ جامعہ میں تدریس کے علاوہ آپ کو مختلف شعبہ جات میں خدمت کی توفیق ملی۔ دارالقضا ء کے ان ابتدائی نمائندگان میں سے تھے جنہیں حضرت خلیفۃالمسیح الرابع ؒنے مقرر فرمایا تھا اور آخر تک یہ رہے۔ مجلس افتاء اور ریسرچ سیل کے ممبر بھی تھے۔ خدام الاحمدیہ میں مختلف عہدوں پہ آپ نے خدمات انجام دیں۔

ان کی ایک خوبی یہ تھی کہ نظام جماعت کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ اگر اپنے بچوں میں سے کوئی کسی عہدیدار کے خلاف بات کرتا تو اس کو سمجھاتے اور اگر کوئی شخص کسی جماعتی فیصلے یا شخصیت کے خلاف بات کرنے کی کوشش کرتا تو اس کو بھی بڑی حکمت سے سمجھا دیتے۔ جلسہ سالانہ یوکے میں بھی ان کو شمولیت کی سعادت ملی اور جلسہ سالانہ ۲۰۱۰ء میں تقریر بھی کی تھی۔ خلافت کے ساتھ ان کو غیرمعمولی تعلق اور پیار تھا اور حقیقی سلطان نصیر میں شامل تھے۔ تبلیغ کا بڑا شوق تھا۔ ہر جگہ مجلس میں جاتے تھے اور ان کو تبلیغی میدان میں بھی بڑا عبور تھا۔ پڑھے لکھے لوگوں کو بھی دلائل سے قائل کرلیا کرتے تھے۔ ان کی بیٹی خدیجہ ماہم نے لکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے والہانہ عشق تھا اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پڑھنے پر بہت زور دیتے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کی لغت یعنی مشکل الفاظ کی ڈکشنری لکھ رہے تھے تا کہ لوگ حضور علیہ السلام کی کتب سے مستفیض ہوسکیں۔ ’’راہ ہدیٰ‘‘ اور ایم ٹی اے کے متعدد پروگراموں میں شامل ہوتے اور بڑے مدلّل جواب دیا کرتے تھے۔

………٭………٭………٭………

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ ۱۵؍نومبر۲۰۱۴ء میں شامل اشاعت ایک مختصر مضمون میں مکرم مولانا نصیر احمد انجم صاحب کا ذکرخیر کرتے ہوئے مکرم میر انجم پرویز صاحب تحریر کرتے ہیں کہ خاکسار (جامعہ احمدیہ میں) درجہ ثانیہ میں پہنچا تو مطالعہ کی عادت نہ ہونے کی وجہ سے پڑھائی کا بہت بوجھ محسوس ہوا۔ کورس بھی مکمل نہیں ہوا اور موازنہ مذاہب کے مضمون میں اپنے پہلے ہفتہ وار جائزے میں فیل ہوگیا۔ مرحوم نے خاکسار سے کہا کہ ایک دن اَور لے لیں اور تیاری کرکے کل دوبارہ امتحان دے دیں۔ خاکسار ساری رات پڑھتا رہا، بمشکل نصاب پورا کیا لیکن اکثر چیزیں پھر ذہن سے اُتر گئیں۔ دوسرے دن کا جائزہ دیا جو پہلے سے کچھ بہتر تھا تاہم پاس ہونے کے لائق نہ تھا۔ میرے ایک رُوم میٹ نے آپ کو بتادیا تھا کہ یہ ساری رات پڑھتا رہا ہے۔ آپ نے میری حوصلہ افزائی کرتے ہوئے فرمایا کہ مَیں آپ کو پاس کردیتا ہوں، اگر محنت کرتے رہے تو کامیاب ہوجاؤگے۔ وہ وقت ایسا تھا کہ شاید مَیں جامعہ چھوڑ جاتا لیکن آپ کی حوصلہ افزائی کے نتیجے میں میری تعلیم جاری رہی۔

آپ کو تقریر کا خاص ملکہ حاصل تھا۔ فی البدیہہ تقریر بھی ایسے کرتے گویا خوب تیاری کی ہو۔ آپ کے ساتھ مجھے ایم ٹی اے کے لیے بیسیوں پروگرام ریکارڈ کروانے کی توفیق بھی ملی۔ آپ بیان میں روانی کے ساتھ موضوع کا ایسا خوش اسلوبی سے احاطہ کرتےکہ حیرت ہوتی تھی۔ اگر دوسروں سے کوئی غلطی ہوجاتی تو غیرمحسوس طریقے سے اس کی درستی کروادیتے۔ آپ میں غصہ نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ کبھی گلہ شکوہ نہ کرتے۔ ہر ایک سے خندہ پیشانی سے ملتے اور اپنے شاگردوں سے بھی عزت سے پیش آتے۔خوش مزاجی اور ظرافت طبعی آپ کے نمایاں اوصاف میں شامل تھی لیکن کبھی وقار اور متانت کو ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔ آپ ایسی منکسرالمزاج شخصیت تھے جس کا مطمحِ نظر محض خدمت دین تھا۔ غیرضروری باتوں اور دوسروں کی تنقید میں وقت ضائع نہیں کرتے تھے۔ تربیتی کلاس میں منتظم ہونے کے باوجود ہم معاونین کے ساتھ مل کر کام کرواتے اور نماز وغیرہ کے لیے صفیں بچھواتے۔ اگر ہم کہتے کہ آپ رہنے دیں تو یہی کہتے کہ اس میں کیا حرج ہے۔

ایک بار ایک پروگرام کی ریکارڈنگ کے دوران آپ سے کوئی غلطی ہوگئی تو ایڈیٹر صاحب نے آپ کو ڈانٹا۔ آپ خاموش رہے اور دوبارہ ریکارڈنگ کروادی۔ اس کے بعد ایک اَور منتظم نے بتایا کہ ریکارڈنگ ٹھیک نہیں ہوسکی۔ چنانچہ آپ نے تیسری بار اُسی خوش دلی سے ریکارڈنگ کروادی۔

آپ ہمیشہ دوسروں کا خیال رکھنے والے اور خدمتِ خلق کرنے والے انسان تھے۔ مکرم فضل الرحمٰن ناصر صاحب مربی سلسلہ نے بتایا کہ مکرم نصیر انجم صاحب ہمارے بہترین ہمسائے ہیں۔ آپ کی وفات سے چند دن پہلے مَیں لاہور گیا ہوا تھا کہ ایک رات ہمارے گھر کی بجلی اچانک خراب ہوگئی۔ آپ نے ایک الیکٹریشن کو بلاکر چیک کروایا تو معلوم ہوا کہ خرابی گھر کے اندر سے نہیں بلکہ باہر سے ہے جس کے لیے واپڈا کے آدمی کو بلانے کی ضرورت تھی۔ چنانچہ آپ نے رابطہ کرکے واپڈا سے آدمی بلوایا اور آدھی رات کو بجلی ٹھیک کروائی۔

………٭………٭………٭………

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ ۲؍مارچ۲۰۱۵ء میں شامل اشاعت ایک مختصر مضمون میں مکرم مولانا نصیر احمد انجم صاحب کا ذکرخیر کرتے ہوئے مکرم شبیر احمد ثاقب صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ہم ۱۹۸۱ء میں اکٹھے جامعہ احمدیہ میں داخل ہوئے اور کلاس فیلو ہونے کے علاوہ رُوم میٹ بھی رہے۔ دوستی کا ایسا تعلق قائم ہوا کہ کبھی اس میں رخنہ نہیں آیا۔ آپ ہمیشہ نہ صرف کلاس میں اوّل آتے بلکہ تقریر و تحریر کے مقابلوں میں بھی اعلیٰ پوزیشن حاصل کرتے۔ کھیل کے میدان کے بھی شاہسوار تھے۔ طبیعت مرنجاں مرنج تھی اور محفل کو کِشت زعفران بنادیتے تھے۔ مطالعہ کا بہت شوق تھا اور غیرنصابی کتب بھی بکثرت اُن کے مطالعہ میں رہتیں۔ اُن کی کتاب دوستی نے مجھےبھی مطالعہ کی ترغیب دی۔

ایک بار مَیں گھر سے واپس ہوسٹل پہنچا تو ہوسٹل کے گیٹ پر آپ سمیت کئی دوستوں سے ملاقات ہوئی۔ پھر آپ میرے ساتھ ہی کمرے میں آگئے اور کہنے لگے کہ تم سفر میں سگریٹ پیتے رہے ہو؟ مَیں نے نفی میں جواب دیا تو کہا کہ تمہارے کپڑوں میں سے سگریٹ کی بدبو آرہی ہے۔ مَیں نے بتایا کہ بس میں میرے ساتھ بیٹھے مسافر یہ کام کررہے تھے۔ آپ کے انداز سے نہ صرف آپ کے حُسنِ ظن اور دوست پر اعتماد کا پتہ چلتا ہے بلکہ سمجھ داری بھی عیاں ہوتی ہے کہ یہ بات سب کے سامنے نہیں پوچھی بلکہ علیحدگی میں اس کا اظہار کیا۔

آپ میں بناوٹ اور تکبّر کا شائبہ تک نہ تھا۔ آپ طلبہ کی مجلس علمی کے صدر بھی رہے۔ ایک بار ایک سیمینار میں آپ سٹیج سیکرٹری بھی تھے اور اس میں آپ کی تقریر بھی تھی۔ جب آپ نے پروگرام کا اعلان کیا تو اپنا نام لیے بغیر صرف اتنا کہا کہ فلاں موضوع پر بھی ایک تقریر ہوگی۔

آپ ہماری کلاس کے سیکرٹری بھی رہے۔ درجہ خامسہ میں محترم سیّد میر محمود احمد ناصر صاحب پرنسپل جامعہ نے ہماری کلاس کو اس شرط پر ہائیکنگ پر جانے کی اجازت دی کہ مَیں ترجمۂ قرآن کا امتحان لوں گا اور سب نے اگر ۹۰؍فیصد سے زیادہ نمبر لیے تو پھر جانے کی اجازت ہوگی۔ چنانچہ امتحان ہوا اور ہمیں اجازت مل گئی تو پرنسپل صاحب نے خاکسار کو نگران بنادیا۔ خاکسار نے ساتھی طلبہ کے سپرد مختلف کام کیے اور مکرم نصیر انجم صاحب کو خزانچی بنایا۔ زیادہ قابل اور کلاس سیکرٹری ہونے کے باوجود آپ نے اطاعت اور تعاون کی روح کے ساتھ اس ڈیوٹی کو پوری فرض شناسی سے ادا کیا۔

جامعہ سے اکٹھے فراغت کے بعد ہم دو سال میدانِ عمل میں رہے اور خط و کتاب کے ذریعے رابطہ رکھا۔ پھر تخصّص کے لیے دونوں کے ناموں کی منظوری ہوئی اور اکٹھے جامعہ میں پڑھاتے بھی رہے۔ اس دوران کئی سفر اور دورے اکٹھے کیے۔ آپ ایک بہت اچھے مقرر اور مجالس سوال و جواب میں بڑی مہارت رکھتے تھے۔ لطائف اور اشعار آپ کو سننے بھی آتے تھے اور سنانے بھی۔ اگر کسی مجلس میں کسی چٹکلے کا وہ نشانہ بن جاتے جس سے مجلس محظوظ ہوتی تو بھی بُرا ماننے کی بجائے اس سے خود بھی لطف اندوز ہوتے۔

………٭………٭………٭………

روزنامہ ’’الفضل‘‘ربوہ ۳۰؍جنوری۲۰۱۶ء میں مکرم عبدالعزیز صاحب اپنے برادراصغر مکرم نصیر احمد انجم صاحب کا ذکر خیر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ آپ مجھ سے دو سال چھوٹے تھے۔ والدین کے فرمانبردار ہونے کی وجہ سے اُن کی دعائیں لینے والے تھے۔ بچپن سے پڑھائی میں محنت اور طبیعت میں سادگی کی عادت نمایاں تھی۔ سرگودھا میں ہمارا آبائی مکان حضرت مرزا عبدالحق صاحب کی رہائشگاہ کے قریب تھا۔ چنانچہ اُن کی صحبت میں بھی بھائی کا وقت گزرتا اور اُن سے کتب لے کر بھی مطالعہ کرتے۔ حضرت مرزا صاحب کی ترجمۃالقرآن میں بھی شریک ہوتے اور وہ گزشتہ سبق کا جائزہ لیتے ہوئے یہ اظہار بھی کرتے کہ سب سے اچھی تیاری نصیر کی ہوتی ہے۔ میٹرک کرنے کے بعد آپ نے حضرت مرزا صاحب کی تحریک پر ہی جامعہ احمدیہ میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا۔ آپ کو جامعہ کی تعلیم کے دوران ان قرآن کلاسوں کا بہت فائدہ ہوا جو حضرت مرزا صاحب لیا کرتے تھے۔

جامعہ میں ہر کلاس میں آپ اوّل آتے رہے۔ تعلیم کے دوران ہی معمولی تیاری کے ساتھ بی اے کرلیا تھا۔ پھر کسی کو ایم اے عربی کی تیاری کرواتے ہوئے خود بھی ایم اے عربی کرلیا۔ یہ سارے امتحانات فرسٹ ڈویژن میں پاس کیے۔

آپ گھر میں آنے والے مہمانوں کا بہت خیال رکھتے۔ جن مہمانوں کو جلد سونے کی عادت ہوتی اُن کا بستر جلد لگوانے کی فکر میں رہتے۔ جنہیں چائے کی عادت ہوتی اُن کا بھی خیال رکھتے۔ ایک رشتہ دار کہتے کہ دارالضیافت کی طرح نصیر انجم صاحب کے گھر میں بھی ہر وقت کھانا تیار رہتا ہے۔ آپ نہ صرف اپنے بچوں کی تربیت کا خاص خیال رکھتے بلکہ خاندان کے دیگر بچے بھی راہنمائی کے لیے آپ سے رابطہ کرتے۔ اپنے سکول کے زمانے سے ہی آپ کو دعوت الی اللہ کا شوق تھا۔

آپ کو برین ہیمرج ہوا تو دنیابھر سے بےشمار احباب نے دعائیں کیں اور آپ کی صحت کے متعلق رابطہ کیا۔ مکرم مرزا نثار صاحب (پِسر حضرت مرزا عبدالحق صاحب) نے بتایا کہ ان کی وفات سے دو دن قبل دعا کے دوران یہ بشارت ملی کہ گویا اللہ تعالیٰ نے اب ان کو اپنی رحمت کے لیے چُن لیا ہے اور اپنے پاس بلانے کا ارادہ کرلیا ہے اور یہ چنیدہ لوگوں میں سے ہیں۔

………٭………٭………٭………

پاکستان کی پہلی اوپن ہارٹ سرجری

لجنہ اماءاللہ کینیڈا کے سہ ماہی ’’النساء‘‘ برا ئے جنوری تا مارچ ۲۰۱۴ء میں مکرمہ طیبہ طاہرہ صاحبہ نے قبولیتِ دعا کا ایک واقعہ بیان کیا ہے جس سے ربوہ میں طبّی سہولتوں کی تاریخ پر بھی روشنی پڑتی ہے۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ ۱۹۶۷ء میں میری بہن امۃالمجید جو سیکنڈایئر کی طالبہ تھی، اُسے اچانک چلنے کے نتیجے میں سانس پھولنے کی بیماری ہوگئی تو والدین اُسے فضل عمر ہسپتال لے گئے جہاں معائنہ کرنے پر علم ہوا کہ اُس کے دل کے دو والو بند ہیں جو سرجری کے بغیر نہیں کھل سکتے۔ اُس وقت اوپن ہارٹ سرجری پاکستان میں نہیں ہوتی تھی چنانچہ مشورہ دیا گیا کہ اسے امریکہ لے جائیں۔ اس پر والدین شدید پریشان ہوئے۔ جواں سال بیٹی کی بیماری نے اُن کی راتوں کی نیند اُڑادی تھی۔ میرے والد محترم میاں عبدالسلام صاحب رات کودعا کے لیے اٹھتے تو بےچینی سے صحن کے چکر لگاتے اور کہتے جاتے کہ یا اللہ! ہم اسے امریکہ نہیں لے جاسکتے تُو امریکہ کو یہاں لے آ۔ والدہ محترمہ سکینہ بیگم صاحبہ اکثر یہ شعر پڑھتیں

اِک کرشمہ اپنی قدرت کا دکھا

تجھ کو سب قدرت ہے اے ربّ الوریٰ

خدا تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق ان مضطرب دلوں کی آواز اس طرح قبول فرمائی کہ کچھ دنوں بعد ڈاکٹر نے اباجان کو بتایا کہ امریکہ سے ہارٹ سپیشلسٹ کی ایک ٹیم جناح ہسپتال کراچی میں آئی ہے جہاں کے کچھ ڈاکٹرز اُنہیں ربوہ بھی لارہے ہیں، آپ اپنی بیٹی کو اُنہیں دکھالیں۔ یہ سن کر میرے والدین شکرانے کے طور پر سربسجود ہوگئے۔

ڈاکٹروں نے بہن کا معائنہ کرنے کے بعد بتایا کہ اسے فوری کراچی لے آئیں۔ سفر میں نگرانی کے لیے ایک ڈاکٹر بھی ساتھ تھا۔ حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کی اجازت اور دعاؤں کے ساتھ کراچی کے لیے رخت سفر باندھا گیا۔ وہاں طویل قیام اور تمام انتظامات کے بعد میری بہن کی سرجری ہوگئی۔ اُن دنوں جناح ہسپتال کراچی کی عمارت زیرتعمیر تھی۔ وہاں کا عملہ ہمارے ابّاجان کو دعائیں کرتے ہوئے دیکھتا تو کہتا کہ امتل کے ابّا نہ اینٹ دیکھتے ہیں نہ پتھر، بس سجدے میں گرے رہتے ہیں۔ الغرض اخبار میں خبر شائع ہوئی کہ پاکستان میں پہلی بار اوپن ہارٹ سرجری کا کیس کامیاب ہوا ہے۔ شکرانے کے طور پر ہماری والدہ نے اپنی دوسری بیٹی کو نرس بننے کے لیے اسی ہسپتال میں بھیجا تاکہ وہ مریضوں کی خدمت کرے۔

آپریشن کے بعد میری بہن نے بی اے، بی ایڈ کیا اور سکول میں بطور ٹیچر اور پھر وائس پرنسپل ملازمت کرتی رہیں۔ لجنہ کی تاریخ لکھنے والی ٹیم کا بھی حصہ رہیں۔ دینی خدمت کے لیے ہر وقت تیار رہتیں اور سب کے لیے سراپا محبت تھیں۔

آپریشن کے سترہ سال بعد انہیں دوبارہ دل کی تکلیف ہوئی۔ چنانچہ دوسری بار سرجری کی گئی لیکن یہ کامیاب نہ ہوسکی اور صرف چھ ماہ بعد ہی ان کی وفات ہوگئی۔ اپنی طویل بیماری کا مقابلہ انہوں نے انتہائی صبر سے کیا۔

ربوہ میں ہمارا گھر فضل عمر ہسپتال کے عقب میں ہی ہے اور آج ہسپتال میں طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ کی شاندار عمارت نظر آتی ہے تو مجھے مضطرب دلوں کی وہ دعا یاد آجاتی ہے کہ اے اللہ!امریکہ کو یہاں لے آ۔

………٭………٭………٭………

جماعت احمدیہ امریکہ کے ماہنامہ ’’النور‘‘ مئی و جون ۲۰۱۴ء میں مکرم صادق باجوہ صاحب کا کلام شامل اشاعت ہے جو انہوں نے اپنے ایک جواں سال عزیز عبدالسلام بھٹی صاحب کی وفات پر کہا ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب پیش ہے:

بےیقینی کی خبر سننے میں آئی ہے ابھی
سوچتے حیرت سے ہیں، ہوتا نہیں ایسا کبھی
وسوسے اتنے تھے دل میں کچھ یقیں آتا نہ تھا
خوف لیکن تھا مسلّط دل سے جو جاتا نہ تھا
اِک جواں سالہ کی میت رونقِ بَر دوش ہے
امتحاں آیا ہے کیسا، اس کی کس کو ہوش ہے
درد میں ڈوبی ہوئی خاموشیوں کے درمیاں
رنج و غم سَوزِ نہاں کی اِک رقم ہے داستاں
ظاہری اسباب پر کیونکر کریں کچھ اعتبار
تیری حکمت تُو ہی جانے کون ہوگا رازدار
موت بَرحق ہے یہی جاری ہے اِک رسمِ قدیم
ہے دعا مسکن بنے فردوس میں دارُالنعیم

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button